- الإعلانات -

اقتصادی مشاورتی کونسل کے اہم فیصلے

adaria

وزیراعظم پاکستان عمران خان کی زیر صدارت ہونے والے اقتصادی مشاورتی کونسل کے اجلاس میں دیگر چیزوں کے ساتھ ساتھ چار اہم نکات زیر بحث آئے جن پراقتصادی مشاورتی کونسل نے اہم فیصلے بھی دئیے،پہلا نکتہ جو اجلاس میں زیر بحث آیا اس میں وزیراعظم نے پچاس لاکھ گھروں کے منصوبے کے آغاز کیلئے پانچ ارب روپے فنڈز کی منظوری دی جبکہ ساتھ ہی غربت مٹاؤ پروگرام کے تحت عالمی بینک سے 5.6 ارب روپے قرض لینے کی بھی منظوری دی گئی نیز یہ بھی فیصلہ کیا گیا کہ نیا پاکستان ہاؤسنگ منصوبے کیلئے رقم پی ایس ڈی پی کے تحت جاری کی جائے گی، یہ بہت اہم نکتہ ہے کیونکہ حکومت کے 100دن بھی پورے ہونے جارہے ہیں۔ ایسے میں جب وزیراعظم نے قوم سے خطاب کرنا ہے تو انہوں نے جو وعدے کیے تھے وہ کہاں تک پورے ہوئے اور جو منازل طے کی تھیں وہ کہاں تک حاصل کی گئیں ہیں ۔اس بارے میں آگاہ کیا جائے گا، 50لاکھ گھروں کی تعمیر سب سے اہمیت کی حامل ہے کیونکہ بے تحاشا عوام اس وقت بغیر چھت کے ہے بہت سارے تو ایسے بھی ہیں جو قطعی طورپر کھلے آسمان کے نیچے زندگی بسر کررہے ہیں، تاہم اس حوالے سے شیلٹر ہوم کا حکومت نے آغاز کیا ہے لیکن شیلٹر ہوم اپنی جگہ اور پچاس لاکھ گھر ایک بہت بڑا منصوبہ ہے اور یہ حکومت کا ایک امتحان ہوگا کہ وہ مقررہ مدت میں ان کو پایہ تکمیل تک پہنچا سکے، دوسرا نکتہ دیکھا جائے تو اس میں وزیراعظم نے کاروبار کو آسان بنانے ، درآمدات کو کم کرنے برآمدات بڑھانے کیلئے ایف بی آر کے اختیارات کم کرنے کا فیصلہ کیا ہے، نیزایف بی آر کے پالیسی ونگ کو بھی الگ کرنے اور ملک میں نیوٹریشن پروگرام فوری طورپر شروع کرنے کے بارے میں فیصلہ کیا گیا ہے۔ ایف بی آر کے حوالے سے بھی وزیراعظم کا اہم فیصلہ ہے بعض اوقات یہ دیکھنے میں آیا ہے کہ ایف بی آر اختیارات سے تجاوز کرجاتا ہے پھر عموماً ایسا بھی ہوتا ہے کہ ٹیکس جمع کرنے کے حوالے سے جو مختلف سہ ماہی، ششماہی اور نوماہی اہداف مقرر کیے جاتے ہیں انہیں حاصل کرنے میں بھی مسائل درپیش رہتے ہیں اور شاید جو ایف بی آر کے پالیسی ونگ کو الگ کرنے کافیصلہ کیا گیا ہے، وہ اسی سلسلے میں بنیادی اقدام ثابت ہوگا ۔جب پالیسی بہترین ہوگی تو پھر اہداف بھی حاصل ہوتے رہیں گے۔چونکہ اس وقت ملک کو معاشی اعتبار سے خاصا بحران درپیش ہے اور حکومت اس جانب کوشاں ہے کہ ملک اپنے پاؤں پر کھڑا ہو جائے ، اس سلسلے میں جہاں دیگر ممالک سے مالی معاونت کے سلسلے میں بات چیت چل رہی ہے وہاں پر آئی ایم ایف سے بھی مذاکرات پراسیس میں ہیں ،تاہم آئی ایم ایف کی شرائط کچھ اتنی سخت ہیں کہ ان پر پورا اترنا مشکل نظر آتا ہے۔ اسی وجہ سے وزیراعظم نے کہا ہے کہ دیگر پہلوؤں پر بھی غوروخوص کیا جائے ۔ اجلاس میں معیشت کیلئے درمیانے مدت کے ڈھانچہ جاتی اصلاحات فریم کے ضمن میں پالیسی سفارشات کی بھی منظوری دی گئی۔ ان کے تحت برآمدات میں اضافہ چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروبار کو مضبوط بنانے، ٹیکس اصلاحات، ملازمتوں کے مواقعوں کی فراہمی، اہم پالیسی اقدامات، سماجی تحفظ کی ترجیحات پر بھی بریفنگ دی گئی۔ معیشت کیلئے درمیانی مدتی ڈھانچہ جاتی اصلاحات فریم کا جہاں تک تعلق ہے تو اس پر بہت زیادہ توجہ دینا ہوگی کیونکہ اگر ان اصلاحات جن کیلئے ایک ٹائم فریم مقرر کیا گیا ہے حاصل نہیں ہو پاتیں تو اس میں مزید ایسی تبدیلیاں کرنے کی ضرورت ہے جس سے حکومت متعین کردہ اپنی منزل کو حاصل کرسکے۔ حکومتی پالیسیوں کو حتمی شکل دینے کا مقصد پائیدار ، جامع، روزگار کے مواقع کا حامل اور برآمدات پر مبنی اقتصادی ترقیاتی حکمت عملی کیلئے بنیاد کا قیام ہے جو کہ حکومت کے 100روزہ پلان کا حصہ ہے، وزیراعظم نے ہدایت کی ہے کہ آئی ایم ایف سے بات چیت جاری رکھی جائے لیکن وزارت خزانہ ایک متبادل اقتصادی پلان پر بھی غورکرے ۔ وزیر خزانہ اسد عمر نے اجلاس کو آئی ایم ایف سے ہونے والے مذاکرات پر بریفنگ دی ۔ انہوں نے کہاکہ بعض سخت ا قتصادی فیصلے کرنے پڑیں گے۔ بعض شرکا نے رائے دی کہ اگر حکومت نے سخت فیصلے کئے تو اس کے نتیجے میں حکومت کیلئے سیا سی مسائل پیدا ہوسکتے ہیں ۔ اس پر وزیر اعظم نے ہدایت کی کہ وزارت خزانہ متبادل حکمت عملی پر بھی ہوم ورک کرے اور پلان بی تیار کرے لیکن اس کا یہ مطلب ہر گز نہ لیا جا ئے کہ آئی ایم ایف سے پیکج نہیں لیا جا ئے گا۔وزیر اعظم نے مشاوتی کونسل کا اجلاس دو ہفتے بعد طلب کیا ہے جس میں حتمی فیصلہ کیا جا ئے گا کیا آپشن اختیار کیا جائے۔

مقبوضہ کشمیر میں بھارت کی وحشیانہ کارروائیاں
کرتارپور کوریڈور کا کھلنا نہایت خوش آئند اقدام ہے اور پاکستان بھارت کے مابین ایک امن کی فضا قائم کرنے کیلئے انتہائی اہم فیصلہ ہے لیکن بھارت نے مقبوضہ کشمیر میں جو وحشیانہ کارروائیاں جاری رکھی ہیں ان کو بھی کسی طور نظر انداز نہیں کیا جاسکتا، نہتے کشمیریوں پر گولیوں کی بوچھاڑ ، بے دریغ اسلحے کا استعمال، گرفتاریاں، قتل و غارت گریاںیہ کہاں کا انصاف ہے، کیا بین الاقوامی برادری کو نام نہاد جمہوریت نواز بھارت کا مکروہ چہرہ نظر نہیں آرہا ہے ، یہ وہی مودی ہے جس نے گجرات میں مسلمانوں کو مولی ،گاجر کی طرح کاٹ کر رکھ دیا تھا، اب جب وہ اقتدار میں ہے تو اس سے کیونکر امن کی امید کی جاسکتی ہے لیکن اقوام متحدہ کو چاہیے کہ وہ مسئلہ کشمیر کو اپنی قراردادوں کے مطابق حل کرائے ، یہاں پر اقوام متحدہ کا کردار نہ ہونے کے برابر ہے ، یوں تو دنیا بھر میں ہر جگہ مسلمانوں پر ہی ظلم ڈھائے جارہے ہیں اگر کسی یورپین ملک یا امریکہ میں کوئی ذرا سا بھی واقعہ پیش آجائے تو اس کو بنیاد بنا کر مسلم ممالک پر چڑھ دوڑنا شروع کردیا جاتا ہے لیکن مقبوضہ کشمیر میں جو ظلم کی انتہا ہے اس پر بین الاقوامی برادری کی خاموشی کسی مجرمانہ فعل سے کم نہیں، مقبوضہ کشمیر میں بھارتی فوج نے مزید آٹھ کشمیریوں کو شہید کردیا ۔گزشتہ تین روز کے دوران شہید ہونیوالے نوجوانوں کی تعداد 18ہو گئی، متحدہ حریت قیادت نے آج وادی میں ہڑتال کا اعلان کردیا ۔6 نوجوانوں کو اتوار کی صبح ضلع شوپیاں کے علاقے بٹہ گنڈ کاپرن میں تلاشی اور محاصرے کی کارروائی کے دوران شہید کیا ، دسویں جماعت کا طالبعلم مظاہرین پر فائرنگ کا نشانہ بنا جبکہ ضلع پلوامہ کے علاقے کھریو میں ایک اور نوجوان کوفائرنگ کرکے شہید کیا گیا۔ قابض انتظامیہ نے جنوبی کشمیرمیں انٹرنیٹ سروس معطل کر دی۔ ضلع شوپیاں کے علاقے کا پرن میں ایک حملے میں ایک بھارتی فوجی ہلاک اور ایک اور زخمی ہو گیا۔مقبوضہ کشمیر میں قابض فورسز نے مزید 8 نوجوانوں کو شہید کردیا۔شوپیاں میں تلاشی اور محاصرے کی کارروائی کے بعد 6 نو جو ا نو ں کی لاشیں تباہ ہونیوالے ایک مکان کے ملبے سے ملی ہیں۔ جبکہ ایک دسویں جماعت کے طالب علم نعمان اشرف بٹ کو فوجیوں نے شہادتوں پر احتجاج کرنے والے مظاہرین پر فائرنگ کر کے شہید کیا۔گو کہ پاکستان نے اس کی مذمت کی اور سفارتی سطح پر بھی ہمیشہ پاکستان مسئلہ کشمیر کو بہترین انداز میں اٹھایا لیکن آج جو امن کے ٹھیکیدار بنے بیٹھے ہیں وہ کیوں خاموش ہیں، وہ کیوں نہیں بھارتی بربریت کو رکواتے۔