- الإعلانات -

حکومت کے 100دن

Muhammad Azam Khan

الیکشن سے پہلے اور اس کے بعد بہت سارے دوستوں نے اپنی توپوں کے رخ نئی قیام پذیر ہونے والی حکومت کے خلاف رکھا اور حکومت کی جانب سے ہر اقدام پر نہ صرف کھل کر بلکہ بڑھ چڑھ کر تنقید کی، میں بھی حکومت کے حوالے سے لکھنا چا رہا تھا لیکن یہ سوچ کہ رک جاتا تھا کہ ایک طرف 70سال کا طویل سفر اور دوسری جانب اس حکومت کو بنے جمعہ جمعہ آٹھ دن ہوئے ہیں تو اس حوالے سے کیا لکھا جائے مگر اب چونکہ اس حکومت کو وجود میں آئے 100دن پورے ہوچکے ہیں اس لئے میں یہ سطور تحریرکررہا ہوں۔ وزیراعظم عمران خان نے حکومت میں آنے سے قبل اس خواہش کا اظہار کیا تھا کہ نئی بننے والی حکومت ریاست مدینہ کی طرز پر بنے گی اور اس کے تمام تر احکامات اور اقدامات ریاست مدینہ کی روشنی میں اٹھائے جائیں گے۔100دن کا پلان دیتے وقت وزیراعظم عمران خان نے ایک نیا صوبہ اور کئی لاکھ گھروں کی تعمیر اور باصلاحیت ہنر مند نوجوانوں کو نوکریاں دینے کا اعلان کیا تھا، ان 100دنوں میں یقیناً عمل کرنا مشکل بلکہ ناممکن سا کام ہے مگر حکومت نے اپنے تئیں اپنے پلان کو ہر ممکن بہتر بنانے کی کوشش کی ہے ، موجودہ حکومت کو جو مسائل ورثے میں ملے وہ کوئی ایک دو دن کے نہیں بلکہ ان کے پیچھے 70سالہ تاریخ ہے، ہر حکومت نے حلوائی کی دکان پے نانا جی کی فاتحہ والا کام کیا ،بیرون ملک سے بے دریغ قرضے حاصل کیے اور پھر اپنے اخراجات کم نہ کیے اور پھر ان قرضوں سے حاصل ہونے والی رقم کو اپنے ذاتی مفادات اور ذاتی خواہشات کیلئے استعمال کیا چنانچہ موجودہ حکومت سے یہ توقع کرنا کہ وہ ان 70سالوں میں حاصل کیے جانے والے قرضوں کے بوجھ کو صرف چھو کے ذریعے ختم کردینگے بیوقوفی کے مترادف ہوگا ۔ ان 100دنوں میں حکومت نے اپنے اخراجات نہایت کم کرنے کی کوشش کی ہے جو یقیناً خوش آئند اقدام ہے اس کے ساتھ ساتھ وزیراعظم کی جانب سے بے گھر لوگوں کیلئے شیلٹر ہوم کی تعمیر ایک بالکل نیا کام ہے،70سالوں سے ہمارے فٹ پاتھوں پر،ریلوے اسٹیشنوں پر اور لاری اڈوں پر بے گھر اور بے سہارا لوگ رہتے چلے آرہے تھے ان پر نہ تو کسی ضلعی انتظامیہ کی توجہ پڑی اور نہ ہی کسی صوبائی حکومت کی نظر پڑی مگر وزیراعظم عمران خان کے حکم پر نہ صرف شیلٹر ہوم بنانے کا اقدام اٹھایا گیا بلکہ عارضی طورپر ان افراد کی رہائش اور طعام کیلئے سرکاری طورپر بندوبست اٹھایا گیا یقیناً یہ عمل وزیراعظم اور اس کی کابینہ کیلئے عمل خیر کے طورپر یاد رکھا جائے گا، ملک کی ڈانواں ڈول معیشت کو سہارا دینے کیلئے وزیراعظم نے سعودی عرب، عوامی جمہوریہ چین اور ملائیشیاء جیسے دوست ممالک کے ساتھ رابطہ کرکے ایک اچھا اقدام اٹھایا حالانکہ اگر وہ چاہتے تو سابقہ حکمرانوں کی طرح آئی ایم ایف ، ورلڈ بینک کے سامنے کشکول کو پھیلا سکتے تھے مگر ایک جرأت مند اور غیرت مند سیاستدان کی طرح ایک تاریخی فیصلہ کیا اسی طرح پنجاب میں وزیراعلیٰ کے تقرر کے موقع پر انہوں نے ایک بالکل نیا چہرہ متعارف کروا کر یہ پیغام دیا کہ سیاست میں روٹیشن کا عمل جاری رہنا چاہیے، بھارت کے ساتھ معاملات کا انہوں نے نہایت دلیری کے ساتھ جواب دیا، پانی ایک فطری ضرورت ہے، اس حوالے سے دو نئے ڈیموں کی تعمیر کا جرأت مندانہ فیصلہ بھی وزیراعظم کے حصے میں ہے ،جہاں تک بات ہے نئے صوبے کے قیام کی اس حوالے سے استدعا ہے کہ جنوبی پنجاب صوبے کے قیام کے ساتھ ساتھ پوٹھوار کو بھی صوبائی درجہ دیا جانا چاہیے اور اسی طرح ریاست بہاؤلپور کو بھی اگر صوبائی اسٹیٹس دے دیا جائے تو یہ بھی حکومت کا ایک اچھا اقدام ہوگا۔ گزشتہ70سالوں کا مقابلہ 100دنوں میں نہیں کیا جاسکتا، وزیراعظم عمران خان اور ان کی کابینہ کو ایک موقع دیا جانا چاہیے کہ وہ اس ملک کی ترقی کیلئے اپنے پروگرام پر عملدرآمد کریں۔ کم ازکم ایک سال تک حکومت کو آزادانہ، غیرجانبدارانہ کام کا موقع ملنا چاہیے اس کے بعد عوامی کٹہرے میں انہیں کھڑا کرکے ان سے سوالات کیے جاسکتے ہیں۔