- الإعلانات -

ایران امریکہ بڑھتے اختلافات خطے کیلئے خطرہ

ایران امریکہ جوہری معاہدے پر اختلافات کے بعد دونوں ممالک کے تعلقات کافی حد تک بگڑ چکے ہیں۔ وائٹ ہاؤس کا کہنا ہے کہ اس دفعہ ایران پر جو پابندیاں عائد کی جا رہی ہیں وہ 2015 کی پابندیوں سے زیادہ سخت ہوں گی۔ ان پابندیوں کا اطلاق نہ صرف ایران پر بلکہ ان تمام ممالک پر بھی ہوگا جو ایران سے تجارت کرتے ہیں۔ 2015 کے جوہری معاہدے کے بعد جو پابندیاں ختم ہو گئی تھیں وہ دوبارہ عمل میں آجائیں گی۔ امریکہ نے واضح کیا ہے کہ وہ ایرانی تیل کی فروخت پر بتدریج پابندیاں لگائے گا۔ ایک دم سے ایرانی تیل بند کرنے کی صورت میں عالمی منڈی میں تیل کی قیمت میں بہت زیادہ اضافہ ہو جائے گا جو کہ معیشت کیلئے کافی نقصان دہ ثابت ہو سکتا ہے۔ ٹرمپ کا یہ بھی کہنا ہے کہ اگر غور کریں تو ایرانی تیل کی کھپت آدھی رہ گئی ہے کیونکہ پابندیوں کے ڈر سے بہت سے ممالک نے ایران سے تیل لینا بند کر دیا ہے۔ تاہم امریکہ نے بھارت سمیت آٹھ ممالک ایران سے تیل خریدنے کی چھوٹ دی ہے۔ ان آٹھ ممالک میں امریکی اتحادی اٹلی ، جاپان، جنوبی کوریا اور ترکی بھی شامل ہیں۔ بھارت بھی ان چھوٹ حاصل کرنے والے ممالک میں شامل ہے مگر بھارت امریکہ کا اتحادی دوست نہیں۔ گو کہ بھارتی میڈیا ایڑی چوٹی کا زور لگا کر بھارت امریکہ دوستی اور اتحادی ہونے کا واویلا کرتے ہیں مگر ابھی تک امریکہ نے اسے باضابطہ طورپر شرف قبولیت نہیں بخشا۔ ایران پر امریکی پابندیوں کے اثرات گو بھارت پر بھی ہوں گے کیونکہ اعراق اور سعودی عرب کے بعد بھارت کو تیل فراہم کرنے والا تیسرا بڑ ا ملک ایران ہے۔ بھارت کی نیشنل آئل کمپنی اور ایم آر پی ایل کمپنی بھارت کی دو اہم کمپنیاں ہیں جو ایران سے زیادہ تیل درآمد کرتی ہیں جنہیں امریکہ کی جانب سے ایران مخالف پابندیوں سے چھوٹ ملنا یقیناًبڑی خوشخبری ہوگی۔متوقع پابندیوں کی وجہ سے ان کمپنیوں نے جولائی میں ایران سے بہت بڑی مقدار میں تیل خرید لیا تھا۔ اب تک تو بھارت نے ایران پر امریکی پابندیوں کے اثرات سے بچنے کیلئے کچھ انتظامات کر رکھے تھے جیسے ڈالر کی بجائے ریال اور روپے میں تجارت کا معاہدہ۔ اس کے تحت تیل کی قیمت بھارتی روپے میں بھی ادا کی جا سکتی تھی۔ اس کے علاوہ بارٹر سسٹم کے تحت تجارت ہورہی تھی۔ ایران بعض اجناس کے بدلے بھارت کو تیل فراہم کرتا تھا۔ 4 نومبر سے ایران پر لگنے والی پابندیوں کے باوجود بھارت ایران سے تیل درآمد کر رہا ہے۔ اس ضمن میں امریکہ نے بھارت کو خصوصی چھوٹ دی ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ امریکہ بھارت پر دباؤ بھی ڈال رہا ہے کہ ایران سے تیل کی درآمد ختم کر دے۔ ا مریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ایرانی جوہری معاہدے سے الگ ہونے کے اعلان کے چند ہفتے بعد بھارتی وزیر خارجہ نے کہا تھا کہ بھارت کسی کی پابندی کو تسلیم نہیں کرتا اور وہ صرف اقوام متحدہ کے ذریعے منظور کی گئی پابندیوں کے نفاذ کا پابند ہے۔یہ بھی حقیقت ہے کہ سابق امریکی صدر براک اوباما نے بھارت کو ایران سے تیل درآمد کرنے اور چاہ بہار کی تعمیر کے سلسلے میں استثنیٰ دے رکھا تھا۔چاہ بہار بندرگاہ کی تعمیر اور بھارتی کنٹرول صرف اور صرف گوادر بندرگاہ اور چینی اجارہ داری کی مخالفت کی وجہ سے امریکہ نے دیا۔ امریکہ نہیں چاہتا تھا کہ چین کی رسائی بحیرہ عرب تک ہو۔ افغانستان میں امریکی اقتدار میں بھارتی موجودگی اور پاکستان و چین کے خلاف اس کی کارروائیوں کو امریکہ کی تائید حاصل رہی ہے۔ اصل میں بھارت امریکہ گٹھ جوڑ پاکستان اور چین اور سی پیک کے خلاف ہے۔ اس وقت پاک امریکہ تعلقات سرد مہری کا شکار ہیں۔ دونوں کے درمیان افغانستان سے متعلق پالیسی پر اختلافات ہیں۔ امریکہ پاکستان سے مطالبہ کرتا رہا ہے کہ وہ طالبان پر اپنے اثرورسوخ کو بروئے کار لاتے ہوئے انہیں افغانستان سے مذاکرات پر آمادہ کرے۔ گو کہ پاکستان نے اس سلسلے میں کئی بار امریکہ کی مدد کی مگر امریکہ میں نہ مانوں کی رٹ لگائے ہوئے ہے۔ امریکہ جانتا ہے کہ بھارت دنیا میں سب سے زیادہ اسلحہ خریدنے والا ملک ہے۔ بھارت کے وزیر اعظم نریندر مودی کے جنگی جنون نے امریکہ کے لیے کئی آسانیاں پیدا کر دی ہیں۔ نریندر مودی کو افغانستان میں وسیع اور اہم کردار دینے کے وعدوں کے بدلے امریکہ کئی ارب ڈالر کے معاہدے کر چکا ہے۔ انہی معاہدوں اور خصوصی تعلقات کی بناپر بھارت اپنے آپ کو امریکی اتحادی گردانتا ہے۔ جب بھی پاک بھارت تعلقات کشیدگی کا شکار ہوتے ہیں امریکہ بھی پاکستان پر دباؤ بڑھانا شروع کردیتا ہے جس کا مقصد بھارت کو خوش کرنا ہے۔ امریکہ بھارت کو اپنے مفادات کے حصول کیلئے استعمال کر رہا ہے ۔وہ بھارت کو خوش کر کے چین کے ساتھ جنگ کی صورت میں بھارت کے اڈے استعمال کرنے کی راہ ہموار کر رہا ہے۔ جنگ کی صورت میں ملکوں کو فوجی معاونت کی ضرورت بھی ہوتی ہے اسی لئے دونوں ملکوں نے فوجی نظام کو بروئے کار لانے کا معاہدہ بھی کرلیا ہے ۔بہر حال بھارتی حکومت نے یہ فیصلہ کیا ہے امریکی پابندیوں کو ایک طرف رکھتے ہوئے نومبر میں ایران سے 9 ملین بیرل تیل خریدے گی۔اس لئے 4 نومبر سے ایرانی تیل کی خرید پر لگنے والی امریکی پابندی کے باوجود بھارت اسلامی جمہوریہ ایران سے خام تیل کی خرید کا سلسلہ جاری رکھے گا۔