- الإعلانات -

دہشت گردی کی تازہ لہر اورا نسداددہشت گردی قوانین

کراچی میں چینی قونصلیٹ پر حملے اور اورکزئی ایجنسی میں ہونے والے دہشت گردی کے حالیہ واقعات کے بعد ایک ہلکی سی تشویش کی لہر ضرور پیدا ہوئی ہے کہ ابھی اس ناسور کا مکمل خاتمہ نہیں ہوا ہے۔یقیناًاس مقصد کیلئے جاری اقدامات کو مزید تیز کرنے کی ضرورت ہے ،اس کے ساتھ سکیورٹی اداروں کی استعداد کار بڑھانے کے لیے درکار وسائل کی فراہمی اور عدالتوں سے ایسے عناصر کو سزا دلوانے کے عمل کو مزید تیز کرنا بھی ضروری ہے۔یہ ایک کھلی حقیقت ہے کہ نیشنل ایکشن پلان اور اس کے تحت بننے والی ملٹری کورٹس نے دہشت گردی کے جن کو قابو کرنے میں اہم کردار ادا کیا ہے جبکہ قبل ازیں انسداد دہشت گردی قوانین کی بھر مار کے باوجود بڑھتی دہشت گردی مغربی میڈیا کو ہربار پاکستان کی ساکھ خراب کرنے کا موقع دیتی رہتی تھی ۔ تمام حکومتوں نے اپنے اپنے ادوار میں دہشت گردی کو روکنے کے لیے قوانین بنائے لیکن پھر بھی امن و امان قائم کرنے میں ناکامی کا سامنا کرنا پڑا۔انسداد دہشت گردی قوانین حکومت کے وہ ہتھیار ہوتے ہیں جن کی بدولت وہ امن دشمن عناصر کو گرفت میں لا کر امن و امان کا سلسلہ قائم رکھتی ہے لیکن اگر ان قوانین پر عدالتوں کے ذریعے عمل نہیں کروایا جا سکتا یا ایسا نہیں ہوتا تو پھر بعض خصوصی اقدامات کو مستقل نہ سہی لیکن ایک لمبے عرصے کی پالیسی کے طور پر اپنانا بھی مجبوری ہو جاتا ہے تاکہ ایسے سانحات قوم کا مقدر نہ بن جائیں۔جن دنوں کراچی قونصلیٹ کا واقعہ پیش آیا اس سے چند دن قبل پشاور ہائیکورٹ نے فوجی عدالتوں سے سزا یافتہ پھانسی اور عمر قید کے 74 ملزمان رہا کرنے کا حکم دیا تھا۔معزز عدالت کے اس فیصلے کے خلاف حکومت نے سپریم کورٹ سے رجوع کر کے اس فیصلے کو معطل کروا دیا۔ سپریم کورٹ نے پشاور ہائیکورٹ کے فیصلے پر عمل درآمد روکتے ہوئے وفاق کی اپیلوں پر حتمی فیصلے تک مبینہ دہشت گردوں کو رہا نہ کرنے کا حکم دیا جو لائق تحسین ہے۔ اٹارنی جنرل کی جانب سے موقف اختیار کیا گیا کہ بری کیے گئے ملزمان دہشت گردی کے سنگین واقعات میں ملوث تھے،فوجی عدالتوں میں مجرمان کے خلاف دہشت گردی کے واقعات میں ملوث ہونے کے ناقابل ترید شواہد پیش کیے گئے۔ علاوہ ازیں مجرمان نے مجسٹریٹ کے سامنے اقبال جرم کا بیان بھی رکھا ہے۔انھوں نے کہا کہ مجرمان کو فوجی عدالتوں سے ملنے والی سزائیں حقائق اور شواہد کو سامنے رکھتے ہوئے دی گئی ہیں۔انہوں نے سپریم کورٹ سے استدعا کی کہ ہائیکورٹ کے فیصلے کو کالعدم قرار دیکر فوجی عدالتوں کے فیصلے بحال کیے جائیں۔ان فیصلوں کے بعد کئی حلقوں میں نئی بحث شروع ہو گئی ہے کہ آیا یہ دہشت گرد کسی رو رعایت کے حقدار ہیں کہ جنہوں نے ہزاروں گودیں اجاڑیں اور بیس کروڑ عوام کی زندگی اجیرن کئے رکھی۔اِسی طرح یہاں سوال بھی پیدا ہوتا کہ کیا ملٹری کورٹس کے نتائج سے دہشت گردی پر قابو پانے میں مدد نہیں ملی؟ تو ایسا بالکل نہیں ہے، بلکہ ان عدالتوں نے بہت کام اورانتہاپسندی کی طرف راغب ہونے والوں کیلئے خوف کی علامت بن چکی ہیں۔سیدھی بات ہے جب مجرم کو اپنے کیے کے انجام کا خوف نہ ہو تو پھر معاشرہ جہنم بن جاتا ہے۔

21ویں آئینی ترمیم کے تحت قائم ہونے والی فوجی عدالتوں سے اب تک دہشت گردی میں ملوث کئی مجرموں کو سزائے موت سنائی جا چکی ہے، جن میں سے کئی دہشت گردوں کو تختہ دار پر لٹکایا بھی جاچکا ہے۔جنوری 2015میں پارلیمنٹ نے 21ویں آئینی ترمیم منظور کرکے فوجی عدالتوں کے دائرہ اختیار میں توسیع کرتے ہوئے دہشت گردوں کے کیسز کی خصوصی فوجی عدالتوں میں سماعت کی منظوری دی تھی، جبکہ پہلے فوجی عدالتوں کو صرف فوجی اہلکاروں کے جرائم کی پاکستان آرمی ایکٹ پی اے اے1952 کے تحت سماعت کا اختیار تھا۔پانچ اگست 2015 کو سپریم کورٹ آف پاکستان کے سترہ رکنی بینچ نے ملک بھر میں فوجی عدالتوں کے قیام کے فیصلے کو کثرتِ رائے سے برقرار رکھا۔یوں ان عدالتوں نے اپنا کام باقاعدگی سے شروع کردیا۔اس کی بنیادی وجہ اے پی سی کا سانحہ بنا۔16 دسمبر 2014 کو آرمی پبلک سکول پر حملے کا واقعہ تھا ہی اتنا وحشت ناک کہ حکومت کو غیر معمولی اقدام اٹھانا پڑااس وقت وزیر داخلہ چوہدری نثار علی خان نے پارلیمان کو بتایا تھا کہ یہ غیر معمولی حالات ہیں اور یہ کورٹس پاکستان کے کسی عام شہری کیلئے نہیں ہیں۔یہ کینگرو کورٹس نہیں ہونگی یہاں تمام قانونی تقاضے پورے کئے جائیں گے۔ملٹری کورٹس کے قیام کو چار سال مکمل ہونے کو ہیں۔ایک بار توسیع کے بعد اگلے ماہ جنوری میں شاید ان کی مدت مکمل ہونے والی ہے۔یہاں پھر یہ سوال اٹھتا ہے کہ کیا ان کو مزید توسیع دی جائے گی اور یہ بھی کہ کیا ہماری سول عدالتوں کے لیے ماحول ساز گار ہو گیا ہے ؟یہاں تک سول عدالتوں کیلئے ماحول کا تعلق ہے تو ایسا بالکل نہیں ہے اگرچہ قدرے بہتری ہوئی ہے تاہم کتنے مقدمے اس امر کے گواہ ہیں کہ ایسے خصوصی کیسز کی سماعت سے اکثر جج اس لئے معذرت کرلیتے ہیں کہ کٹہرے میں کھڑے مجروں کے نیٹ ورک انہیں انکی ذات اور خاندان کے حوالے سے سنگین نتائج کی دھمکیاں دیتے ہیں، خوف کے ماحول میں گواہ تک پیچھے ہٹ جاتے ہیں۔جس کا فائدہ مجرم اٹھا کر عدالتوں سے بری ہوجاتے ہیں اور پھر معاشرے میں فساد برپا کرتے ہیں۔ کمزور قانونی گرفت کے باعث سول عدالتوں کے لئے ابھی بھی مسائل پیدا ہو رہے ہیں۔ جسکا نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ دہشت گردوں کے حوصلہ و ہمت میں اضافہ ہوتا ہے۔لہٰذا حالات اس بات کے متقاضی ہیں کہ ان دہشت گردوں کے مقدمات فوجی عدالتوں میں ہی چلنے چاہئیں ۔دوسری طرف یہ بھی حقیقت ہے کہ سول عدالتیں مقدمات کا فیصلہ کرنے میں خاصہ وقت لگاتی ہیں، کبھی کبھی پانچ سے دس سال بھی لگ جاتے ہیں، جس کافائدہ عسکریت پسندوں کو ہوتا ہے۔اگر کسی کو جیل بھی ہو جائے تو ہماری جیلیں بھی عسکریت پسندوں کے لیے محفوظ پناہ گاہیں سمجھی جاتی ہیں ۔ 1997میں جب انسداد دہشت گردی کا قانون متعارف کروایا گیا تھا تو اس کا مقصد بھی یہی تھا کہ سماعت تیزی سے سات دنوں میں ہو اور اعلیٰ عدلیہ میں اپیلیں30دنوں کے اندر نپٹادی جائیں، جسکے بعد آخری اپیل سپریم کورٹ میں جائے۔یہ فوجی عدالتوں کا بہترین نعم البدل قانون ہے۔تاہم روایتی رکاٹوں کے سبب یہ قانون غیر موثر ہو کر رہ گیا ہے ،یہاں تک کہ اب انسداد دہشت گردی عدالتوں کے فیصلوں کے خلاف اپیلیں بھی غیر معینہ مدت تک چلتی ہیں۔اس لیے ملک کا امن جو ہزاروں قربانیوں کے بعد لوٹا ہے اسے داؤ پر لگانا دانشمندی نہیں ہو گا۔