- الإعلانات -

بھارتی میڈیا اور اسکی ہرزہ سرائی

جنوبی ایشیا کی دھرتی پر بسنے والوں کو حقیقی اور دیرپا امن کیسے اور کیونکر میسرآسکتا ہے؟ جبکہ بھارت جیسا ایک ایسا دیش جس نے اپنے قیام کے فورابعد اپنی مغربی سرحدکے پار وجود میں آنے والی نوزائیدہ اسلامی ریاست پاکستان کو مغلوب کرنے اور اسے ہمہ وقت ہراساں کیئے رکھنے پر اپنی کمرباندھ لی تھی، بھارت نے یہیں بس نہیں کیا، بلکہ برٹش ایمپائرکی واپسی کے پْرامن پلان کے طے شدہ منصوبہ کی دھجیاں اْڑاتے ہوئے کشمیر کی واضح مسلمان اکثریت کے حق کوبھی تسلیم نہ کیا اور کشمیر میں کشمیری مسلمانوں کی مرضی ومنشاء کو اپنی طاقت کے زور پرغصب کیا آزاد وخود مختاروادی کو ‘مقبوضہ وادی’ میں بدل دیا مطلب یہ کہ تقسیم ہند کی پہلی اینٹ پر انسانی حقوق کو’لہو رنگین’ کردیا گیا جبکہ پاکستان کو ایک آزاد وخود مختار ملک ماناہی نہ گیا آزادی کے ابتدائی مراحل میں پاکستان اور بھارت باہم الجھ پڑے کیونکہ جموں وکشمیر میں بھارت نے اپنی فوجیں اتار کر’آزادی پلان’ کوچیلنج کردیا تھا رہی سہی کسر نئی دہلی نے 1971 دسمبر میں مسلم دشمن عالمی طاقتوں کی سازبار سے پاکستان کوایک بڑی خوفناک انسانی تباہی کو بروئے کار دولخت کردیا تھا، پاکستان کے مشرقی حصہ کو پاکستان سے علیحدہ کرکے بنگلہ دیش کے قیام کو ممکن بنایا گیا پاکستان کو دولخت کرنے میں بھارتی خفیہ ایجنسی ‘را’ نے بڑابہیمانہ کلیدی رول ادا کیا تھا، دسمبر1971 میں انسانی تاریخ کی تباہ کن لرزہ خیز اور وحشت ناک وسفاکیت کی ذمہ داری کسی شک وشبہ کے بغیر بھارتی خفیہ ایجنسی’را’ پر عائد ہوتی ہے یہاں اپنے قارئین پر ہم یہ باورکرادیں کہ خفیہ ایجنسیوں کے مقاصد کبھی یہ نہیں ہوتے کہ وہ اپنے مخالف ممالک کے خلاف ہی کام کریں جہاں اپنے ممالک کے مفادات ظاہر ہے کہ اپنے ممالک کے مفادات چاہے وہ تجارتی ہوں عسکری ہوں یا ثقافتی مفادات ہوں وہ ایک ‘دائرے’ میں ہوتے ہیں کسی بھی پْرامن ممالک کی دفاعی جاسوس ادارے کبھی مخالف ممالک پر جھوٹے اورلغوالزامات کی بنیاد پر بے سروپا اور بوگس کاروائی نہیں کرتیں یہ دفاعی انٹیلی جنس کہلائی جاتی ہے ‘دفاعی انٹیلی جنس’ کی بیان کردہ انتہائی مختصر تعریف کے بعد یقیناًسوچنے والوں کے ذہنوں میں یہ سوال اْٹھے گا کہ ‘جارحانہ انٹیلی جنس’ کیا ہوتی ہے؟ جارحانہ انٹیلی جنس ‘جارحانہ مذموم مقاصد’جارحانہ عزائم انسانیت کے خلاف جرائم دوسروں کے حق آزادی کو غصب کرنے کی ظالمانہ سوچ کی عکاس کہلاتی ہے ‘جاسوسی کی دنیا’ پر اگر تفصیلاً بحث کی جائے تو اخباری مضمون کی نہیں بلکہ مفصل کتاب کی ضرورت ہے ظاہر ہے دنیا میں جاسوسی کی تعریف کے موضوع پر کافی کچھ لکھا جاچکا ہے پْرامن انسانی احترام پر صدق دل سے یقین رکھنے والی مہذب اقوام کے ممالک میں بھی ‘انٹیلی جنس’کا محکمہ ہوتا ہے قرون وسطی میں بھی قومیں جاسوسی کے امور میں ایک دوسرے سے بڑھ کر اپنی اپنی اقوام کے مفادات کو لاحق خطرات سے نمٹتی رہی ہیں بیسویں صدی کے نصف کے لگ بھگ 1947 میں برٹش ایئمپائر شکست خوردہ گی کے نتیجے میں جب یہاں سے انگریزواپس گئے پاکستان کے نام سے نئی اسلامی ریاست وجود میں آئی اورمحکموں کی طرح یہاں بھی انٹیلی جنس کے محکمے قائم ہوئے’سویلین انٹیلی جنس’ کے اداروں کے ساتھ ملک میں ‘عسکری انٹیلی جنس’ ادارے قیام پاکستان سے سرگرم عمل ہیں وقت کے ساتھ جدید سائنسی حرکیاتی تبدیلیوں سے تکنیکی انداز میں یہ ادارے خود کو برابر لیس کررہے ہیں پاکستان کے یہ سبھی جاسوسی ادارے خالصتاً دفاعی جاسوسی ادارے ہیں جو اپنے حدووقیود میں ملکی مفادات پر کسی صورت ‘کمپرومائز’کرنے پر آمادہ نہیں ہوتے جہاں یہ سچائی ہے وہاں پاکستانی انٹیلی جنس ادارے سویلین انٹیلی جنس ادارے ہوں یا عسکری ادارے‘ کبھی اپنی سرحدوں پارپڑوسی ممالک میں کسی نوع کی کارروائی کے مرتکب نہیں ہوتے پاکستان کی مشرقی سرحد پار چونکہ بھارت ہمارا پڑوسی ملک ہے اْس نے اگست 1947 سے اب تک کھلے اور خلوص دل سے پاکستان کے عالمی وجود کو تسلیم کیا ہی نہیں کھلے بندوں ‘اکھنڈ بھارت’کا داعی بناہوا ہے، کوئی دن ایسا شائد ہی گزرتا ہو جب پاکستان مخالف کوئی خبر سرحد پار سے نہ آئے بھارتی میڈیا نے 28اکتوبر2018 کو جیسے بیان ہوا بین السطور ‘جارحانہ انٹیلی جنس’ کاتذکرہ ہوا’را’ بھارتی خفیہ ایجنسی کے اخبارات اور الیکڑونک میڈیا نے ایک فرضی شور وشرابا مچایا ہوا ہے جھوٹا دعویٰ کیا گیا کہ پاکستانی پنجاب کے علاقہ فیروزپورسیکٹر سے بھارتی سرحد میں داخل ہونے والے پاکستانی مسلح افواج کی’ 30 بلوچ رجمنٹ’سے تعلق رکھنے والے فوجیوں کو بھارتی بارڈرسیکورٹی فورسنز نے رنگے ہاتھوں گرفتارکرلیا ہے؟ جن کے پاس سے ‘الہ ماشاء اللہ’ پاکستانی شناختی کارڈز ‘بی ایس ایف’ نے برآمد کرلیئے ؟ ۔
***