- الإعلانات -

می ٹو مہم اور بھارت کا اصل چہرہ

گزشتہ ماہ ستمبرمیں اداکارہ تنوشوری دتہ کی جانب سے نانا پاٹیکر پر جنسی طور پر ہراساں کرنے کاالزام سامنے آیا تو اس کے بعد اب بھارت بھر کی خواتین اپنے ساتھ ہونے والی ہراساں کرنے کی وارداتوں پر کھل کربات کررہی ہیں۔ تنوشری دتہ کے بعد اداکارہ کنگنا رناوٹ نے بھی ہدایت کار وکاس بہل پر جنسی طور پر ہراساں کرنے کا الزام لگا دیا ۔یوں اس مہم کی زد میں اب تک سینئر اداکار الوک ناتھ، اداکار و ہدایتکار رجت کپور، گلوکار کیلاش کھر، انو ملک، گلوکار ابھیجیت بھٹاچاریہ، فلم ساز ساجد خان اور سبھاش گھئی سمیت کئی سیاسی و سماجی شخصیات ، بھارتی میڈیا کے کئی اہم صحافی،بھارتی کرکٹ بورڈ کے عہدیداروں پر بھی پر اس نوعیت کے الزامات عائد کئے گئے ہیں۔حتیٰ کہ بھارتی وزیر مملکت ایم جے اکبر کو گزشتہ روز خواتین صحافیوں کی جانب سے جنسی طورپر ہراساں کرنے کے الزامات لگنے پر استعفیٰ دینا پڑا ہے۔معلوم ہوا ہے کہ می ٹو مہم کے تحت اب تک20صحافی خواتین ایم جے اکبر کے خلاف ایسے الزام لگا چکی ہیں جبکہ ایم جے اکبر نے ایک خاتون صحافی پریارمانی کیخلاف ہتک عزت کا مقدمہ بھی کرا رکھا ہے ۔پریا رامانی نے ہی سب سے پہلے ایم جے اکبر پر جنسی طور پر ہراساں کرنے کا الزام عائد کرتے ہوئے دعویٰ کیا تھا کہ انہیں اسٹیٹ وزیر خارجہ نے اس وقت ہراساں کیا، جب ان کی عمر23سال تھی ۔انہوں نے گزشتہ برس فیشن میگزین ووگ میں لکھے گئے اپنے ایک مضمون کا حوالہ بھی دیا ۔پریا رامانی نے انکشاف کیا کہ مذکورہ مضمون انہوں نے ایم جے اکبر کی جانب سے ہراساں کیے جانے پر ہی لکھا تھا، مگر اس وقت انہوں نے انکا نام نہیں لکھا تھا۔اپنے مضمون میں پرایا رامانی نے اپنے مرد باس کی جانب سے جنسی طور پر ہراساں کیے جانے کا ذکر کیا اور آخر میں یہ بھی لکھا تھا کہ ایک دن وہ ان سب انصافیوں پر ان سے حساب لیں گی۔ایم جے اکبر پر جنسی طور پر ہراساں کرنے کے واقعات کا تعلق اس دور سے ہے جب وہ نئی دہلی میں انگریزی اخبار دی ایشین ایج اور کلکتہ میں دی ٹیلی گراف کے ایڈیٹر تھے۔موصوف سیاست میں آنے سے قبل ایک نامور صحافی تھے اور انہوں نے ہفت روزہ میگزین سنڈے گارجین کی بنیاد رکھی۔ان پر الزام لگانے والی زیادہ تر خواتین نے ان کی نامناسب حرکتوں سے پردہ اٹھایا ہے اور الزام عائد کیا کہ ایم جے اکبر انہیں جنسی طور پر ہراساں کرتے رہے۔ان پر لگائے جانے والے الزامات کے مطابق وہ انٹرویو کرنے والی زیادہ تر خواتین صحافیوں کو اپنے انتہائی قریب بیٹھنے، انہیں شراب نوشی کرنے اور بعد ازاں ان کے ساتھ رومانوی انداز میں بات کرنے سے گریز نہیں کرتے تھے۔خواتین صحافیوں کا کہنا ہے کہ ایم جے اکبر نے خاتون صحافی کے خلاف مقدمہ قائم کرکے اپنے ارادوں اور فعل کو مسترد کرنے کی ناکام کوشش کی، ان کی وجہ سے کئی برسوں سے متعدد خواتین متاثر ہوئیں اور وہ اس عرصے کے دوران بطور پارلیمانی رکن اور وزیر بن کر طاقت کا مزہ لیتے رہے ۔بھارت کی متعدد خواتین صحافی بڑے بڑے میڈیا ہاوسسز کے اعلیٰ عہدیدار مرد ساتھیوں کی جانب سے ہراساں کرنے سے متعلق اپنے تجربات سوشل میڈیا پر شیئر کر رہی ہیں۔ایسے الزامات کی وجہ سے ہی بھارت کا معروف اخبار ہندوستان ٹائمز بھی اپنے ایک سینئر صحافی کو ملازمت سے ہٹا چکا ہے۔ایم جے اکبر ریاست مدھیا پردیش سے رکن اسمبلی ہیں، وہ نریندر مودی کی حکومت میں وزیر مملکت برائے خارجہ کی ذمہ داریاں نبھا رہے تھے، وہ اس سے قبل بھی رکن اسمبلی رہ چکے ہیں۔67سالہ ایم جے اکبر نے بھارت کے پہلے وزیر اعظم جواہر لعل نہرو کی سوانح حیات لکھنے سمیت متعدد سیاسی و ادبی کتابیں لکھیں ہیں۔انہوں نے کشمیر کے حوالے سے بھی چند کتابیں لکھی ہیں۔ وزیر مملکت خارجہ پر خواتین کو جنسی طور پر ہراساں کیے جانے کے الزامات کے بعد بھارتی وزیر خارجہ سشما سوراج سے اسمبلی میں اس معاملے پر سوالات کیے گئے تو انہوں نے ایم جے اکبر پر لگائے جانے والے الزامات پر بات کرنے اور کسی بھی سوال کا جواب دینے سے گریز کیا۔ بنیادی طور بھارت خواتین کے حوالے سے جہنم بن چکا ہے ۔کوئی شعبہ حیات ایسا نہیں جہاں عورت محفوظ ہو ۔کیا میڈیا،کیاسیاست،کیا شوبز یا کھیل کے میدان جنسی بھیڑے بنت حوا کا سائے کی طرح پیچھا کرتے ہیں ۔ ابھی حال ہی(جون 2018میں کابل میں بھارتی سفارت خانے کے اعلیٰ عہدیدار الوکجا نے افغان خاتون پارلیمنٹیرین ناہید فرید کو سفارتخانے میں ایک ملاقات کے دوران سکولز کی کنسٹریکشن کے کام کا لالچ دے کر جنسی طور ہراساں کرنے کی کوشش کی تو انہوں نے سخت مزاحمت کرتے ہوئے اپنے ڈرائیور کو بلا لیا۔پھر یہ بات صدر اشرف غنی کے نوٹس میں لائی گئی جس پر مذکورہ بھارتی ڈپلومیٹ کو ملک بدر کر دیا گیا ۔جنسی بھیڑیوں کے ملک بھارت کا اصل چہرہ تھامسن رائٹرز فاؤنڈیشن کی گزشتہ سال کے سروے سے بھی واضح ہوتا ہے جسمیں ساڑھے پانچ سو ماہرین سے رائے لے کر رپورٹ جاری کی گئی کہ بھارت میں خواتین کوہراساں کرنے اور زیادتی کے واقعات ہوشرباء ہیں، دوہزارسات سے دوہزارسولہ کے درمیان خواتین کے خلاف جرائم میں ایک سو تراسی فیصد اضافہ ہواہے۔ یہاں ہرگھنٹے میں ریپ کے چارواقعات رپورٹ ہوتے ہیں ۔
***