- الإعلانات -

سویا ہوا ضمیر

انسان دوست حلقوں کا کہنا ہے کہ مقبوضہ کشمیر میں بھارتی مظالم کا لامتناہی سلسلہ ایک عرصے سے جاری ہے اور اس میں کمی آنے کی بجائے مزید شدت آتی جا رہی ہے۔ بچوں اور حاملہ خواتین سمیت کئی کشمیری اس بھارتی بربریت کی بھینٹ چڑھ گئے۔ سبھی جانتے ہیں کہ سید علی گیلانی ، میر واعظ عمر فاروق ، یاسین ملک ، شبیر شاہ اور سبھی حریت قیادت ہر چند دنوں کے بعد گرفتار کر لی جاتی ہے اور ’’ بر ہان وانی ‘‘ کی شہادت بعد سے تو یہ سلسلہ تھمنے کا نام نہیں لے رہا بلکہ ہر آنے والے دن کے ساتھ تحریک آزادی کشمیر اک نئے مرحلے میں داخل ہوتی محسوس ہو رہی ہے ۔ یہ امر قابل ذکر ہے کہ کشمیریوں نے بھارت کی ہمیشہ ہمیشہ کیلئے نامنظوری پر ایک اور مہر ثبت کر دی ہے اور مقبوضہ کشمیر کے جعلی بلدیاتی انتخابات میں 95.73 فیصد کشمیریوں نے بائیکاٹ کر کے بھارت اور دنیا بھر کو روز روشن کی طرح واضح پیغام دے دیا ہے کہ وہ ہر قیمت پر آزادی حاصل کرنے کے خواہاں ہیں۔ یہ بات بھی دلچسپ ہے کہ یوں عالمی سطح پر کم سے کم ووٹ حاصل کرنے کا شرمناک ترین ریکارڈ بھی قائم ہو گیا ہے۔ کشمیریوں نے ان انتخابات کا ایسا بائیکاٹ کیا کہ امیدوار اپنے آپ کو خود ووٹ ڈالنے بھی نہیں آئے، ایک امیدوار تین ووٹ حاصل کر کے جیتا جبکہ بارہ مولا میں ایک امیدوار صرف ایک ووٹ حاصل کر کے جیتا، سری نگر کے ایک وارڈ میں کوئی امیدوار اپنے آپ کو بھی ووٹ ڈالنے نہ آیا جس کے بعد مقابلہ صفر، صفر، صفر سے برابر ہو گیا اور عالمی سطح پر کم سے کم ووٹ حاصل کرنے کا نیا ریکارڈ قائم ہو گیا۔ یاد رہے کہ بلدیاتی انتخابات کا ٹرن آؤٹ مقبوضہ وادی میں 1951 کے بعد اب تک کا کم ترین ریکارڈ ہے۔اس صورتحال کا جائزہ لیتے مبصرین نے کہا ہے کہ قابض بھارتی حکومت نے مقبوضہ کشمیر میں ظلم و زیادتی کا جو بازار گرم کر رکھا ہے اس سے بھلا کون آگاہ نہیں ۔ درندگی کی انتہا یہ کہ حالیہ مہینوں میں پیلٹ گنوں کے استعمال سے سینکڑوں نہتے کشمیریوں سے ان کی بینائی مکمل طور پر چھین لی گئی ۔ ایسی وحشت انگیز صورتحال کے اظہار کیلئے لفظ بھی ساتھ چھوڑ جاتے ہیں ۔ مقبوضہ کشمیر میں قابض بھارتی افواج کی جانب سے گذشتہ 71 سالوں سے غیر انسانی مظالم کی انتہا ہو چکی ہے مگر اسے عالمی برادری کی بے حسی ہی کہا جا سکتا ہے کہ اس جانب عالمی برادری نے ہنوذ خاطر خواہ توجہ نہ دی اور اسی وجہ سے مقبوضہ کشمیر میں بھارتی مظالم میں ہر آنے والے دن کے ساتھ مسلسل اضافہ ہوتا جا رہا ہے۔ واضح رہے کہ دوسری جانب قابض دہلی سرکار نے مقبوضہ وادی کے زیادہ تر حصے میں کرفیو نافذ کردیا ہے جبکہ انٹرنیٹ ، فون سروس بھی معطل ہے اور تعلیمی ، تجارتی سرگرمیاں ٹھپ ہیں ۔ماہرین کے مطابق مقبوضہ ریاست میں بھارتی قابض فوج کے ہاتھوں نہتے کشمیریوں کی ہلاکتیں کچھ عرصے سے ایک معمول سا بنتی جا رہی ہیں۔مظاہرہ کر رہے افراد پر بھارتی فوجیوں کی گولیوں کی بوچھاڑ روز مرہ کا معمول بن چکی ہے۔ سبھی جانتے ہیں کہ اس سلسلے میں شدت جولائی 2016 میں مقبوضہ وادی میں حریت رہنما برہان وانی کی شہادت کے بعد آئی تھی، اس دن کے بعد سے آج تک صورتحال کسی بھی وقت دہلی سرکار کے قابو میں نظر نہیں آئی۔ ہر دن کشمیری آزادی کی راہ میں اپنی جان جانِ آفرین کے سپرد کر رہے ہیں۔ بھارتی صحافی رام شرن تیاگی نے ایک بھارتی ٹی وی چینل کھوج خبر پر اظہار خیال کرتے کہا کہ دہلی سرکار دعویٰ تو کرتی ہے کہ وہ کشمیری نوجوانوں کے مستقبل کے لیے فکر مند ہے مگر دوسری طرف کشمیر (مقبوضہ) میں نسل کشی جاری ہے۔ حالانکہ اگر دو حریت پسند شہید ہوتے ہیں تو 10 نوجوان دہلی کی روش کے خلاف بندوق تھامنے کیلئے تیار ہوتے ہیں۔ یہ انتہائی خطرناک صورتحال ہے جسے حکومت ہند اپنی بیوقوفی سے مسلسل نظرانداز کر رہی ہے۔ سنجیدہ حلقوں کا کہنا ہے کہ بھارت میں زعفرانی دہشتگردی روز افزوں بڑھ رہی ہے۔ انتہا پسند ہندو رہنما اور مودی کے وزیر مملکت گری راج سنگھ کا کہنا تھا کہ ’’مسلمان مغلوں کے نہیں بلکہ رام کے جانشین ہیں، اس لیے انہیں بھی رام مندر کی حمایت کرنی چاہیے۔ اگر وہ رام مندر کی حمایت نہیں کریں گے تو انہیں معلوم ہونا چاہیے کہ ان کا حشر کیا ہو گا۔ مسلمان ان نتائج کا تصور بھی نہیں کر سکتے ۔‘‘ یاد رہے کہ وزیر موصوف بابری مسجد کی جگہ پر رام مند ر کی تعمیر کی ضرورت پر خطاب کر رہے تھے۔ اس نے مزید کہا کہ ’’اس وقت رام مندر کا معاملہ دوسرے مرحلے میں پہنچ جانے والے کینسر کی طرح بن چکا ہے۔اگر اس کا علاج ابھی نہیں کیا گیا تو پھر یہ مستقبل میں لاعلاج ہوجائے گا اس لئے ہندوؤں کو اس ضمن میں ہر حد تک جانا چاہیے۔‘ ۔ ایسے میں امید کی جانی چاہیے کہ عالمی برادری کے ایک ’’بڑے حلقے‘‘ کا سویا ہوا ضمیر کشمیر میں جاری ریاستی دہشتگردی کیلئے اپنی اخلاقی اور انسانی ذمہ داریاں پوری کرنے کے حوالے سے فعال کردار ادا کرے گا۔