- الإعلانات -

بھارتی انتخابات میں پاکستان مخالف کارڈ

بھارت میں عام انتخابات اپریل یا مئی 2019 میں ہونے والے ہیں۔ یہ انتخابات بھارت کی 17ویں لوک سبھا کی تشکیل کے لیے ہوں گے جس میں 543 نشستوں سے امید وار منتخب ہو کر آئیں گے اور سب سے زیادہ نشستیں دکھانے والی جماعت حکومت بنائے گی۔ اب تک بھارت کے انتہا پسند ہندو قوم پرست سیاست دان اس غلط فہمی کا شکار رہے ہیں کہ کہ پاکستان کو کمزور کرکے وہ بھارت کو مضبوط اور سرخرو کرسکتے ہیں۔ بھارتی حکمران جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی اگلے عام انتخابات کوپاکستان بمقابلہ بھارت اوربھگوان بمقابلہ اسلام قراردیتے ہوئے کہاہے کہ اگر آئندہ الیکشن میں بی جے پی جیتی، تو بھارتی عوام خوش ہوں گے۔ بصورت دیگر اگر اپوزیشن کامیاب رہی، تو کامیابی کے ڈھول پاکستان میں بجیں گے۔ آئندہ انتخابات کے بعد لوگوں کو فیصلہ کرنا ہو گا کہ وہ بھگوان کے ساتھ ہیں یا اسلام کے۔بھارتی وزیراعظم نریندر مودی ابتدا سے ہی پاکستان کے مخالف رہے ہیں۔ ممبئی حملے ہوں یا کوئی اور کارروائی مودی کا ہدف ہمیشہ پاکستان ہی رہا ہے۔ بھارتی وزیر خارجہ سشما سوراج کی اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں حالیہ پاکستان مخالف تقریر اور بھارتی آرمی چیف کے اسلام آباد مخالف بیانات انتخابات جیتو پالیسی کا حصہ ہیں۔ مودی گجرات سے نئی دہلی بھی پاکستان مخالف پالیسی انتہاپسندوں کو خوش کرنے کے بعد پہنچے حالانکہ رافیل طیارہ ڈیل میں فرانس کے اس وقت کے صدر فرانسوا اولاند نے مودی کی کرپشن کے پول کھول دیئے ہیں۔ بھارت نے پاکستان کی مذاکرات کی پیش کش کو مسترد کرتے ہوئے نہایت گھمنڈ سے ایک طرف پاکستان کے سفارتی بائیکاٹ کے لئے عالمی کوششوں کا آغاز کیا تو دوسری طرف پاکستانی علاقے میں سرجیکل آپریشن کا شوشا چھوڑ کر پاکستان کو اشتعال دلانے اور حالات کو خراب کرنے کی کوشش کی۔ حالانکہ اس سے پہلے جنوری 2016 میں پٹھان کوٹ ائیر بیس پر دہشت گرد حملہ کے بعد پاکستان نے بھارت کی تشفی کے لئے جیش محمد کے خلاف غیر روایتی کارروائی کی تھی اور اس کے دفاتر بند کرنے کے علاوہ اس کے اکثر لیڈروں کو گرفتار کرلیا تھا۔ لیکن بھارت نے اس قسم کے اقدامات کو پاکستان کی کمزوری سمجھنے کی غلطی کرتے ہوئے یہ باور کیا کہ پاکستان پر دباؤ بڑھانے اور اس کی سفارتی کوششوں کو مسترد کرکے پاکستان کو کشمیر اور دیگر معاملات پر جھکنے پر مجبور کیا جاسکے گا۔ اگر ہم بھارت کے گزشتہ الیکشن پر نظر ڈالیں تو یہ بات واضح ہوتی ہے کہ 2014 کے عام انتخابات میں جن وعدوں کے سہارے بھارتیہ جنتاپارٹی نے لوک سبھا کی 282 سیٹیں جیتی تھیں‘ وہ اب پوری طرح فیل ہو چکی ہیں۔ مسلمان مخالف اور پاکستان مخالف کارڈ استعمال کر کے بی جے پی نے انتہا پسند ہندوؤں کی مدد سے لوک سبھا میں اکثریت حاصل کرلی تھی۔ بی جے پی نے انتخابات میں کسی مسلمان کو ٹکٹ جاری نہیں کیا تھا ۔ یوں اس نے واضح کر دیا کہ وہ مسلمانوں کے ووٹ کے بغیر بھی حکومت بنا سکتی ہے۔ لیکن 2019 کے انتخابات میں اب بی جے پی کا یہ کارڈ نہیں چلنے والا۔ بی جے پی کی مشکلات بڑھتی جا رہی ہیں کیونکہ عوام کو جو سنہرے خواب دکھائے گئے تھے وہ جھوٹے ثابت ہوئے ہیں۔ مسلمان تو ایک طرف مودی سرکار نے ہندو اقلیتوں کے ساتھ جو سلوک روا رکھا وہ اب بھاری پڑ رہا ہے۔ اپریل میں پورے ملک میں دلتوں کی طرف سے منائے گئے ’بھارت بند‘ کے دوران کم وبیش ڈیڑھ درجن لوگوں کی جانیں چلی گئی تھیں۔ کروڑوں کی املاک جلائی گئی اور احتجاج کرنے والوں نے یہ ثابت کردکھایا کہ اگر ان کے مفادات سے کھلواڑ کی گئی تو وہ طوفان مچادیں گے۔ دلتوں کے احتجاج نے حکومت کو یہ بھی بتا دیا کہ نچلی ذات کے لوگوں کو اعلیٰ ذاتوں کے ظلم وستم سے بچانے کے لئے بنائے گئے ایکٹ میں انہیں کوئی بھی ترمیم منظور نہیں ہے۔ اگر اس ایکٹ کو چھوا بھی گیا تو وہ سب کچھ تہس نہس کردیں گے۔ بھارت میں دلتوں اور مسلمانوں کی آبادی تقریباً برابر ہے۔ مجموعی آبادی میں دلت 19فیصد ہیں اور مسلمان 18فیصد۔ مودی حکومت نے دونوں اقلیتوں کے مذہبی اور نجی قوانین میں دخل اندازی کی کوشش کی۔ مودی سرکار نے مسلم پرسنل لاء میں مداخلت کی یعنی طلاق ثلاثہ پر قانونی پابندی کے بعد اب تعدد ازدواج اور نکاح حلالہ کے خلاف عدالتی کارروائی جاری ہے۔ ملک میں یکساں سول کوڈ نافذ کرنے کی کوششوں کے خلاف اور شریعت اسلامی کے حق میں مسلمان مسلسل صدائے احتجاج بلند کررہے ہیں۔اسی طرح ایس سی/ ایس ٹی ایکٹ میں ترمیم کی عدالتی پہل کے خلاف دلتوں کے غم وغصے کو دیکھ کر حکومت کے ہاتھ پاؤں پھول گئے اور وہ نظرثانی کی درخواست لے کر سپریم کورٹ پہنچ گئی۔ غرض آئندہ الیکشن میں بی جے پی کے پیروں تلے سے زمین اس لئے کھسک رہی ہے کہ اس نے 2014کے عام چناؤ میں مسلمانوں کو حاشیے پر پہنچا کر اور دلتوں و پچھڑوں کو اچھے دن کے خواب دکھا کر جو بازی جیتی تھی وہ 2019 میں پوری طرح الٹتی ہوئی نظر آرہی ہے۔ ایسا لگتا ہے کہ ہندو مسلم کی تفریق پیدا کرکے ذات پات کے جھگڑوں کو روکنے کا فارمولہ اب کامیاب ہوتا ہوا نظر نہیں آرہا ہے۔ اب ایسے میں بی جے پی کے پاس رام مندر کی تعمیر کے مسئلہ کو اچھالنے کے سوا کوئی نعرہ نہیں ہے۔ لیکن اس معاملے میں بھی خود سنگھ پریوار کے لوگوں میں ناراضگی بڑھ رہی ہے۔

***