- الإعلانات -

وزیراعظم کی صحافیوں سے فکر انگیز گفتگو

adaria

تحریک انصاف کی حکومت کو جس قسم کے حالات درپیش ہیں اس حوالے سے کپتان نے تمام چیزوں کو بالکل کلیئر کردیا ہے جہاں انہوں نے یہ کہاکہ انتخابات قبل ازوقت ہوسکتے ہیں وہاں پر یہ بھی عندیہ دیا کہ چین نے کرپشن کی مد میں اپنے چار سو وزراء کو فارغ کیا لہذا وفاقی کابینہ کیلئے ایک قسم کا یہ ریڈ الرٹ ہے جو وزیر کارکردگی دکھائے گا وہی وزارت میں رہے گا، نیز اگر کسی کی بھی کرپشن پکڑی گئی تو وہ وزارت سے بھی جائے گا اور یقینی طورپر اس کو قرار واقعی سزا بھی ملے گی۔ ابھی تک کپتان نے جن خیالات کا اظہار کیا ہے اس سے واضح ہے کہ وہ اس وطن عزیز کیلئے کچھ نہ کچھ کرنا چاہتے ہیں ، ہمیں وزیراعظم کی نیت پر کسی طرح کے شکوک و شبہات نہیں لیکن جیسا کہ اس بات کو ہم پہلے بھی باور کراچکے ہیں کہ انہیں اپنی ٹیم پر نظرثانی کرنا پڑے گی اور یہ بات بھی ہم بتاچکے ہیں کہ جب تک ہر وزیر اپنی مرضی سے بیان دیتا رہے گا اس وقت تک اسی طرح کی وضاحتیں وزیراعظم کو پیش کرنا پڑیں گی۔ گزشتہ روز وزیراعظم عمران خان نے سینئر صحافیوں اور اینکر پرسن سے سیر حاصل گفتگو کی جس میں انہوں نے کہاکہ وفاقی کابینہ میں اکھاڑ پچھاڑ کا عندیہ دیتے ہوئے کہا کہ ملک میں قبل از وقت الیکشن ہوسکتے ہیں، ڈالر مہنگا ہونے کا پتہ میڈیا سے چلا، شہباز شریف کو پی اے سی کا چیئرمین نہیں بنائیں گے ، فوج ہمارے منشور کے ساتھ ہے،اسٹیٹ بینک نے حکومت کو اعتماد میں لیے بغیر روپے کی قدرکم کی، اسکے لئے میکنزم بنارہے ہیں،نیب میرے ماتحت ہوتا تو بڑے بڑے50کرپٹ لوگ آج جیلوں میں ہوتے،مولانا فضل الرحمان اپنی سیاسی دکان بچارہے ہیں، پاکستان میں ہیلتھ کارڈ لارہے ہیں،آئندہ ہمیں کسی کی جنگ کا حصہ نہیں بننا ، کرتارپور راہداری کھولنادھوکا، گگلی یا ڈبل گیم نہیں، سیدھا سادہ فیصلہ ہے،تمام ہمسائیوں کیساتھ اچھے تعلقات چاہتے ہیں، طالبان کو مذاکرات کی میز پر لانے کیلئے ٹرمپ نے مجھ خط لکھا، ہم تعاون کرینگے، میرے جواب کے بعد امریکا برابری کی سطح پر آگیا ہے۔امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا خط آیا جو بہت مثبت ہے، ٹرمپ نے افغان طالبان کو مذاکرات کی میز پر لانے کے لیے تعاون مانگا ہے، ہم ان کو پورا تعاون دیں گے، اس حوالے سے پاکستان اور امریکی حکام کے درمیان رابطہ ہے، افغانستان کے لیے امریکی حکومت کے خصوصی نمائندے زلمے خلیل زاد بھی پاکستان آرہے ہیں، ہم افغانستان میں امن لانے کیلئے خلوص کے ساتھ پوری کوشش کریں گے۔ ماضی میں امریکا سے معذرت خواہانہ رویہ اختیار کیا گیا اب ہم نے امریکا کو برابری کی بنیاد پر جواب دیا تو ٹرمپ نے خط لکھا، ہم پوری کوشش کریں گے کہ افغان مسئلے کا حل نکالنے کے لیے جو کردار ادا کرسکیں وہ کریں۔ وزیراعظم نے کرتار پور راہدری پر وزیر خارجہ کے گُگلی کے بیان کی وضاحت کرتے ہوئے کہاکہ شاہ محمود کا مطلب تھا کہ بھارت میں الیکشن آرہے ہیں، وہ پاکستان کے خلاف نفرت پھیلانے کی کوشش کررہا ہے لیکن ہم نے نفرت پھیلانیکا منصوبہ روکنے کے لیے کرتارپور کوریڈور کھولا ہے لہذا نفرت پھیلانے کا منصوبہ ناکام بنانے کو گُگلی کہہ سکتے ہیں لیکن اس کا قطعا یہ مقصد نہیں کہ ہم نے دھوکا یا ڈبل گیم کیا ہے۔ ہم مسئلہ کشمیر کے حل کے لیے پرعزم ہیں، اگر دونوں ممالک چاہیں تو یہ ہوسکتا ہے۔ وزیراعظم نے ڈالر کی قیمت بڑھنے سے متعلق بھی انکشاف کرتے ہوئے کہا کہ پہلے بھی جب ڈالر کی قیمت میں اضافہ ہوا تو ان کو علم نہیں تھا اور گزشتہ روز بھی انہیں اس حوالے سے ٹی وی سے پتا چلا، روپے کی قدر اسٹیٹ بینک نے گرائی تھی جو ایک اتھارٹی ہے اور خود یہ کام کرتے ہیں، اگر اپوزیشن کا تعاون نہیں رہا تو پی اے سی کا چیئرمین شہبازشریف کی بجائے اپنے طورپر کسی کو بنائیں گے۔ جنوبی پنجاب صوبے کے سوال پر واضح جواب نہیں دیا اور گزشتہ روز آصف زرداری کی تنقید پر انہوں نے سابق صدر پر شدید تنقید کی۔ جنوبی پنجاب کے معاملے میں ہماری دلچسپی ہے اور ہوسکتا ہے ملک میں قبل از وقت انتخابات ہوں جب کہ آنے والے 10 دنوں میں وزارتوں میں بھی تبدیلیاں ہوسکتی ہیں۔وزیراعظم نے کہا کہ منی لانڈرنگ پر سخت قانون لارہے ہیں، بڑے بڑے لوگ نام سامنے آنے سے ڈر رہے ہیں، گوسلو پالیسی والے افسران کو کامیاب نہیں ہونے دیں گے۔ ہو سکتا ہے کہ وقت سے پہلے انتخابات ہوں، کپتان اپنی حکمت عملی کسی بھی وقت بدل سکتا ہے، چھ ہزار سے قرض تیس ہزار ارب روپے تک پہنچانے والوں کا پہلے احتساب کریں گے جو ملک کو نقصان پہنچاتا ہے اور قانون کو توڑتا ہے اس کو جواب دہ ہونا ہو گا۔ پاکستان کے جو حالات ہیں اس میں 100 دن کی کارکردگی زبردست ہے۔ ملک میں چھوٹی اور درمیانی صنعتیں ختم ہو گئی ہیں، کاروبار میں آسانی پیدا کرنا بڑی کامیابی ہو گی۔

صحافیوں کی جانوں کاتحفظ یقینی بنایا جائے
دنیا بھر میں شعبہ صحافت پر ہر وقت کسی نہ کسی صورت میں خطرات منڈلاتے رہتے ہیں اور اکثر اوقات خبر دینے والا خود ہی خبر بن جاتا ہے۔ پاکستان میں بھی صحافیوں کے حوالے سے ماحول اتنا ساز گار نہیں ہے۔گزشتہ روزپشاور میں موٹرسائیکل سوار حملہ آوروں کی فائرنگ سے روز نیوز کے خیبرپختونخوا کے بیوروچیف نورالحسن شہیدہو گئے جبکہ کیمرہ مین شبیر زخمی ہوا۔وزیراعلیٰ کے پی کے نے واقعے کا نوٹس لے لیا۔ نوشہرہ سے تعلق رکھنے والے روز نیوز کے خیبرپختونخوا کے بیوروچیف نور الحسن گاڑی میں پیشہ ورانہ فرائض کی انجام دہی کیلئے حیات آباد سے پشاور جا رہے تھے کہ رِنگ روڈ پر نامعلوم موٹر سائیکل سوار حملہ آوروں نے ان کی گاڑی پر فائرنگ کر دی جس سے وہ موقع پر شہید ہوگئے جبکہ کیمرہ مین شبیرشدید زخمی ہوگیا۔ آئی جی پولیس صلاح الدین محسود نے بھی واقعے کا نوٹس لے لیا ہے۔ سی سی پی او قاضی جمیل الرحمان نے جائے وقوع کا دورہ کیا اور مقتول صحافی کی گاڑی کا معائنہ کیا۔ روز نیوز کے خیبرپختونخوا کے بیوروچیف نورالحسن کی شہادت کی خبر سنتے ہی ملک بھر کی صحافی برادری سراپا احتجاج بن گئی اورحکومت سے فوری طور پر قاتلوں کو گرفتار کرنے کا مطالبہ کیا۔ مقتول صحافی کے بھائی محمود خان نے کہا کہ ان کی کسی کے ساتھ ذاتی دشمنی نہیں، لیفٹیننٹ جنرل(ر)امجد شعیب نے نور الحسن کی شہادت پر گہرے رنج اورافسوس کا اظہارکرتے ہوئے انکے قاتلوں کو فوری گرفتار کرنے کا مطالبہ کیا جبکہ سینئر قانون دان احمد رضا قصوری نے بھی نور الحسن کی شہادت پر افسوس کا اظہار کیا۔ پاکستان میڈیا زون کی جانب سے بھی نورالحسن پر قاتلانہ حملے کی پرزور مذمت کی گئی اور مطالبہ کیا گیا کہ آئی جی فوری قاتلوں کو گرفتار کریں۔چیف ایڈیٹر پاکستان گروپ آف نیوز پیپرز اور سینئر اینکر پرسن ایس کے نیازی نے وزیراعظم سے واقعے کا نوٹس لینے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہاکہ شہید نور الحسن کے اہلخانہ کے غم میں برابر کے شریک ہیں ۔ بیوروچیف سینئر صحافی نورالحسن کے قتل کا وزیراعظم نوٹس لیں ۔انھوں نے کہا کہ شہید صحافی نور الحسن دلیر اور نڈر انسان تھے،نور الحسن ایک طویل عرصے سے روز نیوز کے ساتھ وابستہ تھے،اللہ تعالیٰ لواحقین کو صبرجمیل عطا کرے۔ حکومت کو چاہیے کہ وہ پوری صحافی برادری کی جانوں کے تحفظ کیلئے باقاعدہ پالیسی بنائے اور نورالحسن شہید کے قاتلوں کو فی الفور گرفتار کرکے قرار واقعی سزا دی جائے۔