- الإعلانات -

اساتذہ کے تبادلوں میں میرٹ کی پامالی

وطن عزیز کے تمام اداروں میں کرپشن اپنی انتہائی شکل میں گھر کر چکی ہے اور شائد ہماراسماج بھی اسے شرف قبولیت بخش چکا ہے ۔کرپشن کے متعلق بر صغیر کے قدیم ترین فلسفی چانکیہ نے ہزاروں برس قبل اس وقت کے حالات کی منظر کشی کرتے ہوئے اپنی کتاب ’’ آرتھ شاستر‘‘ میں لکھا تھا کہ ’’ خطے میں رعایا کی حالت بہت خراب ہے ،سرکاری عمال پیسہ لئے بغیر کوئی کام نہیں کرتے اس درجہ مالی کرپشن ہے کہ عام لوگ بدحال ہو چکے ہیں ،لگتا ہے کہ سرکاری ملازم کیلئے کرپشن ایسی اہم ہے جیسے مچھلی کیلئے پانی ‘‘۔چانکیہ جس کرپشن کا ذکر کر رہا تھا اگر آج وہ زندہ ہوتا تو شائد ہمارے حالات دیکھ کر باؤلا ہو جاتا۔ہمارے ہاں تو قانون و ضابطے کی دھجیاں اڑانا عام امر ہے ۔صاحب اختیار یہ دیکھنے سے عاجزہوتا ہے کہ میرٹ کا قتل کر کے وہ کتنے مستحق امیدواروں کے خون سے اپنے ہاتھوں کو رنگ رہا ہے اور کتنوں کے حقوق غصب کر رہا ہے۔بے حساب ایسی ہی داستانیں ہیں جو ملکی تاریخ میں تواتر سے سامنے آتی رہتی ہیں ہم تو یہ سمجھتے ہیں کہ ایسے لوگ کسی طور اہم مناصب کے اہل قرار نہیں دیے جا سکتے جو دوسروں کا استحصال کر کے دھونس، دھاندلی سے کام لیتے ہوئے من مانی کریں ۔یہاں تو کوئی کام میرٹ پر نہیں ہوتا ،مستحق لوگ سڑکوں پر رلتے رہتے ہیں ۔اس بد نظمی اور بد انتظامی میں رشوت دینے سے قاصر اپنے حق سے محروم ہونے والے بدقسمت اسے ’’قسمت کی بات‘‘ کہہ کر اپنے تئیں مطمئن کرنے کی کوشش کرتے ہیں ۔معزز قارئین اس تمہید کا مقصد و محور راقم کے ضلع سیالکوٹ میں اساتذہ کے بوجوہ الیکشن 2018ء رکے ہوئے تبادلوں سے پابندی ہٹنا اور حکومت کی طرف سے تعلیمی ٹرانسفر پالیسی کے تحت اس عمل کی انجام دہی تھا ۔ڈپٹی کمشنر سیالکوٹ سید بلال حیدر نے عوام کی طرف سے محکمہ ایجوکیشن میں تبادلوں کے پراسیس میں گھپلوں اور رشوت کی متعدد شکایات سامنے آنے پر 4دسمبر 2018ء کو تبادلوں کے عمل کو فوری روکنے کا سرکولر جاری کیا ہے لیکن یاد رہے کہ ان احکامات کی آمد اور وصولی سے قبل ہی تھوک کے حساب سے سیکڑوں خواتین اور مرد اساتذہ کے تبادلے کر دیے گئے تھے ۔راقم کی معلومات کے مطابق ان تبادلوں کے عمل کے دوران لاکھوں روپے کا لین دین ہوا ۔ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ کی طرف سے جاری تبادلہ پالیسی پر عملدرآمد کہیں دور دور تک نظر نہیں آیا ۔وہ اساتذہ جنہوں نے ٹرانسفر کیلئے درخواستیں بھی نہیں گزاری تھیں ان سے کلرک بادشاہوں نے فوری نئی درخواستیں وصول کر کے ہزاروں روپے فی کس رشوت کے عوض ان کے تبادلے مطلوبہ فیورٹ سکولوں میں کر دیے ۔سالہا سال سے ایجوکیشن دفتر کی زینت بنے اور اپنے عہدوں پر براجمان رہنے والے یہ کلرک ان نئی درخواستوں کو لیگل کرنے کے ہنر میں بھی یکتا ہیں ۔یہ ڈائری رجسٹر کے خانے خالی رکھ لیتے ہیں اور بعد ازاں نوزائیدہ یعنی نئی درخواستوں پر ان خالی چھوڑے گئے خانوں پر نمبر لگا لیتے ہیں ۔اگر اس امر کی انکوائری کی جائے تو ٹرانسفر پالیسی پر میرٹ بنانے کیلئے مقرر کی گئی کمیٹیوں کو وصول کی گئی درخواستوں کی تفصیل مل سکتی ہے۔اساتذہ کی تبدیلی کے عمل کے دوران پالیسی کو مکمل نظر انداز کرتے ہوئے سائنس کی خالی ہونے والی آسامیوں پر آرٹس کے اساتذہ کوتعینات کر دیا گیا۔ماضی میں وطن عزیز کا یہ المیہ رہا کہ مختلف عہدوں پر اس عہدہ کیلئے مطلوبہ اہلیت و قابلیت سے محروم افراد کی تعیناتیاں کی جاتی رہیں ۔انہی دنوں ضلع میں PSTان سروس اساتذہ کو بطور ESTترقی دی گئی ۔انہیں بھی آرٹس اور سائنس کی تخصیص کے بغیر خالی اسامیوں پر تعینات کر دیا گیا ان خالی آسامیوں پر پہلے ہی اساتذہ نے تبادلے کیلئے درخواستیں جمع کروا رکھی تھیں ۔چاہیے تو یہ تھا کہ ان آسامیوں پر ترقی پانے والے اساتذہ کی تعیناتیاں نہ کی جاتیں ۔اگر کسی استاد کی ان سروس پروموشن ہوتی ہے تو دہائیوں سے اسی سکول میں تعینات استاد کو دو چار میل دور کے کسی بھی سکول میں تعینات کر دیا جاتا تو وہ بخوشی وہاں جانے کیلئے تیار ہوتالیکن یہاں بھی پیسے کی چمک کام دکھا گئی ۔حالیہ تبادلوں کے دوران راقم کو عجیب بد نظمی اور افراتفری نظر آئی ۔بعض اہلکار جیبیں بھرتے نظر آئے اور فقط ایک رات میں سیکڑوں کی تعداد میں پچھلی تاریخیں ڈال کر تبادلوں کی منڈی میں خریدو فروخت ہوتی رہی اس کی وجہ شائد سی او ایجوکیشن ٹرانسفر ہو چکے تھے اور وہ یہاں صرف ایک روز کے ہی مہمان تھے ۔عام آدمی یہ سمجھنے سے قاصر ہے کہ اگر ٹرانسفر کیلئے ہزاروں روپے جرمانہ دینا ہی مقدر ہے اور یہ کام رشوت کے بغیر میرٹ پر نہیں ہو سکتا تو پھر رشوت کو جائز قرار دے کر اس کے ریٹ مقرر کر دینے چاہئیں تا کہ نہ دینے والے کو تکلیف ہو اور نہ لینے والے کو زحمت اٹھانی پڑے ۔ریٹ کارڈ پبلک کی سہولت کیلئے ضلعی ایجوکیشن کے آفس کے گیٹ پر چسپاں اور ساتھ رشوت وصولی کا ایک کمرہ بھی مختص کر دیا جائے۔آج سرکاری محکموں میں جو رشوت ،بدعنوانی اور افراتفری کی کیفیت دیکھنے کو ملتی ہے اس کی بڑی وجہ گورننس کے معاملہ میں برسوں سے برتی گئی غفلت ہے جو قوانین سے بلا امتیاز گریز اور میرٹ کی پامالی کی صورت میں نظر آتی ہے ۔حقیقت میں جب سرکاری دفتر سے کسی شہری کا کام قانون اور قاعدے کے مطابق بغیر رشوت کے ہوجائے تو یہ قابل ذکر بات ہوتی ہے ورنہ جائز کام نہ ہونا ،ناانصافی ،میرٹ کا قتل اور بلاوجہ تاخیر اور اس قسم کے دیگر حربے تو معمولات کا حصہ ہیں ۔خیال اغلب تھا کہ تبدیلی کی دعوے دار پی ٹی آئی کے اقتدار میں آنے سے مستقبل بمقابلہ ماضی اداروں سے کرپشن کا بتدریج خاتمہ کر دیا جائے گا ۔ماضی میں تو پریکٹس یہی تھی کہ حکومتی ایم این ایز اور ایم پی ایز ہمیشہ تبادلوں اور تقرریوں پر اثر انداز ہو کر میرٹ پالیسیوں کو سبو تاژ کرتے اور مختلف محکموں کے سربراہان بھی (حصہ بقدر جثہ) اگر ان کے دس غلط کام کرتے تو تین اپنے بھی اس میں شامل کر لیتے ۔ایک دیانت دار ذمہ دار افسر تو قانون اور ضابطوں کا پابند ہوتا ہے جبکہ اس کے بر عکس ایک سیاستدان ہر پابندی سے بے نیاز ہو کر اپنے ووٹروں کو خوش کرنے والے ضابطوں اور روایات کی ہی پابندی کرتا ہے یہیں سے اختلاف پیدا ہوتا ہے اور سرکاری افسر عموماً باوجود قانون اور ضابطوں کی پابندی کے سیاستدان کے مقابلے میں ہار جاتا ہے ۔ایسے سخت جان افسر بہت کم ہوتے ہیں جو اپنا ملازمانہ کیرےئر داؤ پر لگانے کو تیار ہو جاتے ہیں اور اس نظام میں ہمیشہ وہی اپنے عہدوں پر برقرار رہتے ہیں جن کو سیاسی اکابرین کی طرف سے جو حکم ملے ایک اچھے غلام کی طرح چپ چاپ اس پر عمل کریں ۔راقم کے ضلع میں قومی الیکشن میں حکمران جماعت پی ٹی آئی کے صرف ایک ایم پی اے کامیاب ہوئے ۔اس ایک ایم پی اے نے ضلع میں حالیہ اساتذہ کے ہونے والے تبادلوں میں کتنی مداخلت کر لینی تھی ۔اس بار ضلعی افسران تعلیم تعلیمی ٹرانسفر پالیسی پر یقینی عملدارآمدکیلئے مکمل آزاد اور خود مختار تھے لیکن بجائے اس کے کہ اس بار کرپشن پر قابو پایا جاتا ،اساتذہ کی صلاحیت و قابلیت اور محنت کو ترجیح دیتے ہوئے ان کو اپنا جائز حق ملتا لیکن افسوس کہ سیاسی زعما کی طرف سے کسی قسم کی مداخلت کے نہ ہوتے ہوئے بھی ضلعی کارپردازان تعلیم نے میرٹ کو ایک طرف رکھتے ہوئے اپنا گھر ہی سنوارا۔ڈپٹی کمشنر سیالکوٹ سید بلال حیدر کا فوری تبادلوں کے عمل کو روکنا ایک راست اقدام ہے۔راقم کی ڈی سی صاحب سے بالمشافہ تو ملاقات نہیں لیکن شنید ہے کہ وہ ایک منجھے ہوئے اور تجربہ کار ضلعی سربراہ ہیں ۔وہ ابھی ولولہ تازہ رکھنے والے نوجوان ہیں ۔سیالکوٹ کو اس نوجوان شخصیت کا عطا ہونا عطیہ خدا وندی ہے ۔امید ہے یہ یہاں اپنی تعیناتی کے دوران اصلاحی اقدامات سے تبدیلی کی مثبت لہر پیدا کریں گے ۔راقم کی ان سے استدعا ہے کہ ضلع سیالکوٹ میں حالیہ میرٹ کے برعکس ہونے والے تبادلوں پر نظر ثانی کرتے ہوئے ایک بے لاگ انکوائری کمیٹی تشکیل دی جائے اور ایجوکیشن آفس میں دہائیوں سے تعینات کلرکوں کو فوری طور پر تبدیل کرنے کے احکامات صادر فرمائے جائیں تاکہ حقداران اساتذہ کو ان کا حق مل سکے اور مستقبل میں کرپشن کا خاتمہ ہو ،رولز کے مطابق میرٹ بنے اور اس میرٹ لسٹ کے مطابق اساتذہ کی ٹرانسفر اور ترقی ہو ،اس لسٹ میں اچانک کوئی شامل نہ ہو سکے اور کسی خاص پروسیجر کے بغیر فہرست سے خارج نہ ہو سکے۔