- الإعلانات -

تذبذب کی کیفیت

Mian-Tahwar-Hussain

آجکل اس بات کا بہت چرچہ ہے کہ پی ٹی آئی کے سربراہ نے کہا تھا کہ آئی ایم ایف قرضہ حاصل کرنے سے بہتر ہے کہ میں خودکشی کرلوں۔ لیکن یہ سوچنا چاہیے کہ یہ بات انہوں نے الیکشن جیتنے سے پہلے کہی تھی الیکشن میں کامیابی کے بعد جب پی ٹی آئی کی حکومت بنی تو انہیں اندازہ ہوا کہ پاکستان میں حکومت کرنا کانٹوں کی سیج پر بیٹھنا ہے۔ اتنے گمبھیر مسائل ہیں کہ انکو پلک جھپکتے حل نہیں کیا جا سکتا اور نہ ہی کوئی جادو کی چھڑی ہاتھ میں ہے کہ منتر پڑھکر چھڑی گھمائیں اور مسئلہ حل ہوجائے۔ ایک طویل عرصے سے ملک قرضوں کی تہہ در تہہ لپیٹ میں ہے قرضوں کو اتارنے کیلئے بھی قرضے لیے جاتے ہیں اور پھر خوشنما دعوؤں اور سنہرے خواب قوم کو دکھانے کے باوجود اس عذاب سے نجات کا راستہ نظر نہیں آتا۔ آئی ایم ایف سے قرضے تو ہر حکومت لیتی رہی اور پھر قرض دینے والا ہمیشہ اپنی شرائط پر رقم مہیا کرتا ہے۔ قرض لینے والا تو کچھ کہنے کے قابل ہی نہیں ہوتا۔ ملک کیوں کہ قرض کی لہروں پر ہچکولے کھا رہا ہے لہذا عوام پر ٹیکس لگا کر ہی آمدنی میں اضافہ کیا جا سکتا ہے۔ حکومت کے بس میں نہیں ہوتا کہ وہ عام آدمی کو فوری ریلیف پہنچانے کیلئے فیصلے کرے۔ حکومت کیلئے مشکل یہ ہوتی ہے کہ ایک طرف عوام کے غصے کا سامنا ہوتا ہے اور دوسری طرف قرض دینے والے ادارے اپنے نخرے دکھا رہے ہوتے ہیں۔ وزیرخزانہ نے صحیح کہا کہ ڈار صاحب بھی مجبورا یہی کچھ کر رہے تھے اس کے بغیر کوئی چارہ نہیں۔ یہ بھی سوچنا چاہیے کہ ایک طویل عرصے سے ملک حالت جنگ میں ہے روزانہ کروڑوں روپے کا خرچہ اپنے دفاع کی جنگ میں لگا رہا ہے اس فریضے سے غافل نہیں رہا جا سکتا اگرچہ بیرونی امداد بھی ملتی رہی لیکن پاکستان بھی اسمیں حصہ دار ہے۔ لامحالہ ملک کے خزانے پر اس کا بوجھ پڑرہا ہے۔ وہ پیسہ جو ترقیاتی اسکیموں پر خرچ ہوسکتا ہے مجبورا جنگ میں جھونکنا پڑ رہا ہے۔ ملک کی معاشی حالت اسی وجہ سے کمزور ترین ہے۔ بنگلہ دیش جو پاکستان سے الگ ہو کر ہندوستان کی مدد سے معرض وجود میں آیا اس کی معاشی حالت اور ریزرو اس لیے بہتر ہیں کہ ان کے کندھوں پر جنگ کا بوجھ سوار نہیں۔ ملک کی اندرونی اور بیرونی تجارت کابل رشک بھی اسی وجہ سے ہے کہ انہیں زرکثیر افراتفری کے حال میں صرف نہیں کرنا پڑ رہا۔ تحریک انصاف کی غلطی یہ ہے کہ یہ ملک کی معاشی حالت کا صحیح معنوں میں احاطہ کیے بغیر کنٹینر پر بیٹھ کر ٹی وی ٹاک شوز میں بڑھکیں مارتے رہے۔ اس وقت ملکی قرضے اربوں تک جا پہنچے سونا کی اب فی تولہ قیمت باسٹھ ہزار روپے ہے۔2016ء میں ہمارے زرمبادلہ کے ذخائر جوبیس ارب ڈالرز تھے اب آٹھ ارب ڈالرز ہیں۔ سرمایہ دار اپنے پیسے کا تحفظ چاہتا ہے اور اسی غیریقینی صورت حال کو دیکھتے ہوئے وہ اپنا پیسہ مختلف طریقوں سے ملک سے باہر منتقل کرنا ضروری سمجھتا ہے ایسی صورتحال اس وقت ہے۔ حکومت نے اگرچہ دوست ممالک کے سامنے جھولی پھیلائی لیکن اس سمت میں کی جانے والی کوششوں کے حوصلہ افزا نتائج سامنے نہیں آئے۔ تذبذب کی کیفیت ہے۔ مہنگائی کا گراف اوپر ہی اوپر جا رہا ہے۔ عام آمدنی والا پریشان حال ہے۔ آمدنی اور اخراجات میں تناسب نہیں۔ بیل آؤٹ پیکج کی اشد ضرورت ہے ورنہ تین ماہ کے ریزرو کے ساتھ ملک چلانا حکومت کیلئے مشکل ہوگا۔ اس صورت حال میں حکومت کو چاہیے کہ وہ اپوزیشن کی جماعتوں سے معاشی ماہرین کے ساتھ ایک ٹیم تشکیل دے اور ملک کو معاشی بے یقینی سے جلد از جلد نکالنے کا طریقہ تلاش کیا جائے حکومت کی کچھ پالیسیوں سے انتقام کی بو بھی آرہی ہے اس کیفیت سے حالات اندرونی طور پر مزید الجھنے کا سبب بنیں گے۔ گاڈ فادر کے جیل جانے کے بعد بڑی بڑی سیاسی شخصیتوں کو اپنی جان کے لالے پڑ گئے سیاسی کٹھ جوڑ بننے کے مواقوں میں اضافہ ہوگیا۔ حکومت کو جیسے تعاون کی امید اپوزیشن سے ہوسکتی ہے وہ فرینڈلی فضا نہیں بن پا رہی راستے دھندلا رہے ہیں۔ افسوس کا مقام ہے کہ جونوجوان پی ٹی آئی کی چھتری تلے قومی اسمبلی کیلئے منتخب ہوئے ان میں ابھی تک میچورٹی نہیں جذباتی تقاریر اور ٹی وی بیانات وہ اپنی شناخت سمجھتے ہیں جو مناسب بات نہیں۔ تنقید برائے تنقید نہ ہو بلکہ برائے اصلاح ہونی چاہیے۔ کسی کے اچھے یا برے کارنامے بیان کرنے کیلئے بھی الفاظ کا مناسب انتخاب ضروری ہوتا ہے۔ کسی کے سر پر لٹھ مارنے کی بجائے زبان سے الفاظ کا اظہار مناسب طریقے سے ہونا چاہئے۔ حکومت کو یہ یاد رکھنا چاہیے اقتدار کے دن سدا نہیں رہتے جو کجھ یہ دوسروں کیلئے کر رہے ہیں ان کو بھی انہی راہوں پر چلنا پڑے گا۔ عوام اسی تاثر میں ہیں کہ موجودہ حکومت کے پاس ایک اچھی اور باصلاحیت معاشی مسائل کو سمجھنے اور ان کا حل تلاش کرنے والی ٹیم موجود ہے لیکن انکی امیدوں کے برعکس حالات منظر پر ابھرے۔ حکومت میں آنے سے بہت پہلے اس ٹیم کو ملک کے معاشی حقائق کا بخوبی علم ہونا چاہیے تھا اور حل بھی آنے چائیں تھے لیکن معلوم ہوتا ہے انہوں نے ہوم ورک نہیں کیا وزیراعظم نے بیرون ملک پاکستانیوں سے یہ اپیل کی تھی کہ فی کس ایک ہزار ڈالر بھجوائے جائیں تاکہ ملک کی معاشی اور آبی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے ڈیمز بھی تعمیر کیئے جا سکیں اس جانب کیا حوصلہ افزا نتائج سامنے آئے قوم کو معلوم ہوناچاہئے۔ قوم جانتی ہے عمران خان بہت کچھ کرنے کا عزم لیئے ہوئے ہیں اور بہت کچھ کرنے کی داغ بیل ڈالدی ہے لیکن تمام حالات سے قوم کو باخبر رکھنا بھی ضروری ہے بیرون ملک سے سرمایہ کاری بھی ایسے حالات میں متاثر ہوتی ہے۔ ہمارے سفارتخانوں کو اور کمرشل اسٹاف کو ہدایت دینے کی ضرورت ہے کہ وہ ملکی تجارت کو بڑھانے کی بھرپور کوششیں کریں اپنی کارکردگی کی معمول کے مطابق ہرماہ رپورٹ وزارت تجارت کو نہ بھیجیں بلکہ تجارت کا توازن ہوسٹ ملک میں بڑھانے کی بھرپور کوشش کریں جو نظر بھی آئے اور ملک کے زرمبادلہ میں اضافے کا سبب بن سکے۔ لہذا عوام کو خوشحال بنانے کے اور ملک کو کنگال سے مالا مال بنانے کیلئے جو خواب پی ٹی آئی نے دکھائے تھے انہیں پورا کرنے کی کوشش میں مزید اضافے کی ضرورت ہے۔ ورنہ عوام یہی کہیں گے کہ سانوں خوشحالی دیاں اڈ یکاں لائیاں تے تہاڈ یاں مراداں برآیاں۔ مختصرا یہ کہ قرض لینے سے اگرچہ ملکی قرضوں میں اضافہ ہو جائیگا لیکن کوئی قیامت نہیں آ جائیگی۔ آنے والا وقت بہترین ہوسکے گا۔ آج دکھ ہے تو کل انشاللہ سکھ بھی ہوگا۔ حوصلہ رکھیں ملائیشیا، ترکی، چین اور کوریا کی مثال ہمارے سامنے ہے۔