- الإعلانات -

مذہبی آزادی اورامریکہ کادوہرامعیار

adaria

کفارکبھی بھی امت مسلمہ کے حامی، داعی اور دوست نہیں ہوسکتے انہیں جب بھی موقع ملتا ہے تو یہ بچھو کی طرح ڈسنے میں ذرا بھی دیرنہیں لگاتے ،حالانکہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پاکستان کی قربانیوں کو پوری دنیا سراہتی ہے مگر امریکہ نے اپنی آنکھوں پرپٹی باندھ رکھی ہے جہاں پر بھی مسلمانوں کوبے دریغ شہید کیاجارہاہے ان کے ساتھ ظلم وستم ہورہاہے ، جینادوبھرہے وہ اسے قطعی طورپرنظرنہیں آتا ایسے محسوس ہوتا ہے جیسے اس کرہ ارض پر خاکم بدہن صرف مسلمان ہی دہشت گرد ہیں اور ان کے ہی ممالک میں تمام مذاہب پر حدودوقیود عائد ہیں۔امریکہ کواپنی آنکھ کاشہتیرنظرہی نہیںآتا اور خاص کر مسلمانوں کی آنکھ کابال بھی تلاش کرنے میں لگارہتا ہے ۔آج اگرامت مسلمہ میں اتفاق ہوتا تو ان کفارکی ہمت ہی نہیں تھی کہ وہ کسی بھی مسلمان ملک کو بلیک لسٹ قراردیتے۔ اللہ رب العزت نے مسلم ممالک کوکس نعمت سے نہیں نوازا ،ہر چیز اُن کے پاس ہے سب سے بڑا اللہ کی جانب سے دیاہواتحفہ تیل ہے جو کہ مسلمان ممالک کے پاس وافرمقدار میں موجود ہے مگر محض آپس کی تفرقہ بازی سے اس ہتھیار کواستعمال نہیں کیاجاسکتا۔ آج یہاں پرذوالفقارعلی بھٹو کے دور میں بلائی ہوئی اسلامی سربراہی کانفرنس کاذکر بہت ضروری ہے جب اس میں یہ فیصلہ کیاگیاتھا کہ تمام مسلم ممالک ملکر اپنا ایک بڑا مالیاتی بنک قائم کریں گے جس میں کفار کے ممالک خصوصی طورپر امریکہ اور یورپ میں پڑا ہوا سرمایہ اس بنک میں رکھاجائے گا تو مسلم ممالک ترقی کرتے ہوئے کہاں سے کہاں تک چلے جائیں گے لیکن ایسا نہ ہوا ،سازشی عناصر کامیاب ہوئے اور ایک ایک کرکے اس اسلامی سربراہی کانفرنس کے اہم سربراہان کو کسی نہ کسی صورت میں موت کے گھاٹ اتاردیاگیا۔آج اسی نااتفاقی کانتیجہ ہے کہ امریکہ نے مذہبی آزادی کی مبینہ خلاف ورزیوں اور اقلیتوں سے نامناسب رویے کابہانہ بناتے ہوئے پاکستان کو بلیک لسٹ ممالک کی فہرست میں شامل کر دیا،واشنگٹن نے ایک سال قبل خبردار کرتے ہوئے پاکستان کو خصوصی واچ لسٹ میں شامل کیا تھا،امریکا اب پاکستان پر اصلاحات کیلئے دباؤ ڈال سکے گا۔غیر ملکی خبر رساں ادارے کے مطابق امریکی وزیر خارجہ مائیک پومپیو نے کہا کہ کانگریس کی مرتب کردہ سالانہ رپورٹ میں پاکستان کو ان ممالک کی فہرست میں شامل کیا گیا ہے جن کے حوالے سے خصوصی تحفظات کا اظہار کیا گیا ہے۔امریکا کی جانب سے بلیک لسٹ کیے جانے کے بعد اب واشنگٹن، مذہبی آزادی کے حوالے سے خلاف ورزیوں پر پاکستان پر اصلاحات کے لیے دباؤ ڈال سکے گا۔ امریکا کی بلیک لسٹ میں شامل دیگر ملکوں میں چین، ایران، سعودی عرب، ایری ٹیریا، میانمار، شمالی کوریا، سوڈان، تاجکستان اور ترکمانستان ہیں،ان ممالک پر الزام ہے کہ یہ باقاعدہ منظم طریقے سے مذہبی آزادی کی خلاف ورزی کر رہے ہیں۔ازبکستان کو بھی اس فہرست کا حصہ بنایا گیا تھا لیکن حالات کی بہتری اور اصلاحات کے بعد اسے بلیک لسٹ سے نکال دیا گیا ہے تاہم وہ اب بھی واچ لسٹ میں شامل ہے اور اس فہرست میں روس اور کوموروس بھی موجود ہیں۔یہ بات انتہائی قابل ذکرہے کہ جن ممالک کو بلیک لسٹ قراردیاگیا ہے ان میں زیادہ ترتعداد ا ن ممالک کی ہے جن سے امریکہ کی ٹھنی ہوئی ہے ۔دوغلے پن کی انتہاتو یہ ہے کہ ایک جانب امریکی صدرٹرمپ وزیراعظم پاکستان کو خط لکھ کرافغانستان کے حوالے سے مدد طلب کرتا ہے ،سعودی عرب سے اسلحے کے تاریخی معاہدے کرتا ہے مگر اس کے باوجود وہ اِن کے خلاف کمربستہ ہے امریکہ کو فلسطین میں اسرائیلی مظالم اوروہاں پرمذہبی پابندیاں نظرنہیںآتیں آئے روز اسرائیلی فوج بیت المقدس کی بے حرمتی کرتے نظرآتے ہیں فلسطینی خواتین اوربچے غیرمحفوظ ہیں نہتے فلسطینیوں پربمباری کی جاتی ہے سیدھی سیدھی گولیاں چلائی جاتی ہیں،مذہبی رسومات ادا کرنے کی اسرائیل اجازت نہیں دیتا ۔بھارت میں بھی اس سے زیادہ ابتر حالات ہیں بابری مسجد کوشہید کرکے مندربنانے جیسے اقدام کاسلسلہ چل رہاہے حتیٰ کہ مسلمانوں کو نمازتک ادا کرنے کی اجازت نہیں دی جاتی،عید تہوارکے موقع پر قربانی تک کرنامنع ہے ،اتہاتو یہ ہے کہ بھارت جیسے نام نہاد جمہوریت نواز مکروہ چہرے والے ملک میں گائے کی اہمیت انسانی جان سے زیادہ ہے وہاں پرمسلمانوں کابے دریغ خون بہایاجاتاہے ۔کسی قسم کی بھی مذہبی آزادی حاصل نہیں ہے کیا اس جانب امریکہ کو توجہ نہیں دیناچاہیے تھی،مقبوضہ کشمیر کے حالات بھی اس سے کچھ مختلف نہیں ہیں ،میانمار میں تو دیکھاجائے تووہاں پر الاماں الاماں ہی کہاجاسکتاہے ۔اس بے دردی سے میانمارمیں مسلمانوں پرعرصہ حیات تنگ کردیاگیا ہے کہ اس کی مثال اس کرہ ارض پر نہیں ملتی مگر یہ کفار قوتیں اس حوالے سے قطعی طورپر خاموش ہیں یہاں صرف امریکہ کو اپنامفادحاصل ہے جو اس کادشمن ہے اس کو اس نے ٹارگٹ بنارکھا ہے۔ امریکہ کے اندربھی مسلمانوں کوٹارگٹ کیاجاتاہے کبھی نمازیوں پرگاڑی چڑھادی جاتی ہے ،کبھی حجاب کامسئلہ کھڑاہوتاہے، مسلمان خواتین کے چہرے سے حجاب نوچ دیاجاتاہے اور انہیں بلاجوازدہشت گرد گرداناجاتا ہے جبکہ دراصل امریکہ کے اس اقدا م سے دہشت گردی ہی کو فروغ ملے گا اور یہ دنیا کی سپرپاور خودہی دنیا میں امن قائم نہیں رہنے دیتی۔امریکہ کی جانب سے مذہبی پابندیوں کے حوالے سے مندرجہ بالاممالک کو بلیک لسٹ کرنے کا کوئی جواز نہیں بنتا، بھارت کو لازمی اس امریکی فہرست میں شامل کیا جانا چاہیے۔ مذہبی آزادی کی خلاف ورزیوں پر امریکہ کی طرف سے پاکستان کو بلیک لسٹ کرنے کا اقدام غیر ملکی سرمایہ کاروں کیلئے منفی سگنل ہے ۔ امریکہ نے مذہبی آزادیوں کے حوالے سے قبل ازیں ایران اور شمالی کوریا کو بلیک لسٹ کیا تھا اور ٹرمپ کے اقتدار سنبھالنے کے بعد عراق سمیت سات ممالک کے شہریوں پر امریکہ میں داخلے کو بھی محدود کر دیا تھا لیکن پاکستان کے خلاف اس قسم کا اقدام پہلی مرتبہ ہوا ہے جس کا بظاہر کو ئی جواز نظر نہیں آتا۔بلیک لسٹ کرنے سے پاکستان کے خلاف اس طرح کی کوئی اقتصادی پابندیاں نہیں لگیں گی جس طرح ایران کے خلاف امریکہ نے عائد کر رکھی ہیں۔

حکومت کاغیرملکی سرمایہ کاروں کوسہولتیں فراہم کرنے کاعزم
وزیراعظم عمران خان نے تیل و گیس کے شعبہ میں اطالوی ملٹی نیشنل کمپنی ای این آئی کے سینٹرل ایشیاریجن کے ایگزیکٹو وائس پریذیڈنٹ لوکا وگناتی سے ملاقات میں گفتگو کرتے ہوئے کہاہے کہ حکومت آئل اینڈ گیس سمیت ملک کے تمام شعبوں میں بین الاقوامی سرمایہ کاری کیلئے سازگار ماحول فراہم کررہی ہے،کاروباری طبقے کو ہر سہولت مہیا کرنے اورکاروبار آسان بنانے کیلئے توجہ مرکوز ہے۔ کمپنی کی جانب سے پاکستان میں سرمایہ کاری میں توسیع کی خواہش حوصلہ افزا ہے، پاکستان میں تیل و گیس کے شعبہ میں وسیع تر سرمایہ کاری کے مواقع موجود ہیں، ملک میں ہائیڈروکاربن کے وسیع ذخائر اور توانائی کی بڑھتی ہوئی ضروریات سے بین الاقوامی کمپنیاں فوائد حاصل کرسکتی ہیں،کمپنی کے ایگزیکٹو نائب صدر سینٹرل ایشین ریجن لوکاوگناتی نے وزیراعظم عمران خان کو اپنی کمپنی کی جانب سے پاکستان میں سرمایہ کاری کے حوالے سے آگاہ کیا، انہوں نے بتایا کمپنی گزشتہ اٹھارہ سال سے پاکستان میں سرمایہ کاری کر رہی ہے،کمپنی کی جانب سے پاکستان میں مختلف منصوبے شروع کئے گئے جبکہ کمپنی کی جانب سے صحت، تعلیم، ماحولیات اور سماجی و معاشی ترقی میں بھی کردار ادا کیا جا رہا ہے،ای این آئی دیگر شعبوں سمیت ایل این جی میں بھی سرمایہ کاری کی خواہش مند ہے۔