- الإعلانات -

اے پی ایس سانحہ میں بھارت ملوث

بھارت افغانستان میں موجود اپنے قونصل خانوں کے ذریعے امریکی شہ پر سازشیں کر رہا ہے اور علیحدگی پسند تحریکوں کو منظم کررہا ہے۔ یہ بھارت کی کشمیر، مشرقی پاکستان والی سازشوں کا ہی تسلسل ہے اور ہمیں ان سازشوں سے محتاط رہنا اور انکا تدارک کرنا ہو گا۔ بھارت پاکستان میں دہشت گردی اور فرقہ واریت کو پروان چڑھا رہا ہے۔ پاکستان کی مخالفت میں بھارت افغان فوجیوں کو تربیت دے رہا ہے۔ ملا فضل اللہ افغانستان میں بیٹھ کر پاکستان میں کارروائیاں کر تارہا ہے اسے سابق افغان صدر حامد کرزئی اور ’’را‘‘ کی سپورٹ حاصل تھی۔ ’’را‘‘ فضل اللہ کو سپورٹ اور فنڈ مہیا کرتی تھی اور سابق صدر کرزئی بھی اس میں ملوث تھے جبکہ سی آئی اے کو بھی اس کا پوری طرح علم تھا۔ بچوں کو شہید کرنا انسانیت نہیں حیوانیت ہے۔ بھارت دہشت گردوں کو تربیت دے کر پاکستان بھیج رہا ہے۔ پشاور میں دہشت گردی کی المناک کارروائی کے کچھ سنگین پہلو بھی سامنے آئے ہیں۔ دہشت گردوں کی جانب سے سکول میں منی کلاشنکوفوں سے برسٹ ایسے مارے جا رہے تھے جیسے انکا ہدف زیادہ سے زیادہ بچوں کو قتل کرنا ہے۔ وہ کسی نمبر گیم کو پورا کرنے کے ٹارگٹ کو حاصل کرنے کے جنون میں مبتلا تھے۔ بچے جس کمرے میں جاتے یا بنچوں کے نیچے چھپنے کی کوشش کرتے انہیں دہشت گرد کھینچ کر سر پر گولیاں مارتے۔ بچوں کو بے دریغ قتل کر نے کی اس کارروائی کو دیکھیں تو یہ بہر طور ایک بیرونی سازش لگتی ہے جس کے تانے بانے سرحد پار سے ملتے ہیں۔ دہشت گردوں کو اس بات سے کوئی غرض نہ تھی مرنے والے کون ہیں یا انکا نشانہ معصوم بچے ہیں وہ تو اپنا ٹارگٹ سمجھ کر جذبات سے بے نیاز روبوٹ کی مانند کارروائی کر تے رہے۔ 7دہشت گردوں کے جسموں پر دھماکہ خیز مواد تو بندھا تھا مگر سب نے اپنے آپ کو اڑانے کی کوشش نہیں کی جس کا مطلب ہے وہ منصوبے کے مطابق اس کارروائی کو آسان ہدف سمجھتے تھے اور واپس جانے کی امید رکھتے تھے۔ایک برطانوی ویب سائٹ نے اپنے ٹویٹ میں دعویٰ کیا تھا کہ پشاور میں آرمی اسکول پر دہشت گردحملے کے ماسٹر مائنڈ بھارتی قومی سلامتی کے مشیر اجیت دوول ہیں۔ اجیت دوول بھارتی انٹیلی جنس کے افسر ہیں جو وزیراعظم نریندر مودی کے مشیر برائے قومی سلامتی کے طور پر 30 مئی 2014 سے اپنی ذمہ داریاں انجام دے رہے ہیں۔ جہاد ہمیشہ ظلم کے خاتمہ اور امن و امان کے قیام کیلئے ہوتا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے جہاد کے دوران کفار کے بچوں اور عورتوں کے قتل سے بھی منع کیا ہے۔ بچوں کو قتل کرنے والے جہاد نہیں فساد برپا کر رہے ہیں۔ ایسی کاروائیوں کو جہاد اور مجاہدین کے کھاتے میں نہ ڈالا جائے اور نفرتوں کے بیج بو کر دشمنوں کوسازشوں کا موقع نہ دیا جائے۔ ہم سانحہ مشرقی پاکستان سے پہلے کی سازشوں کاجائزہ لیں توہم واضح طور پر دیکھتے ہیں کہ آج بھی وہی سازشیں کی جارہی ہیں۔ وہ خود کو حق پر سمجھتے تھے اور کلمہ پڑھنے والے ہی ایک دوسرے کا قتل کر رہے تھے۔ وہ شعور نہیں رکھتے تھے کہ ان سازشوں میں بھارت ملوث ہے۔ ہم برملا کہتے ہیں کہ اس میں بھارت ملوث ہے۔ دکھ اس بات کا ہے کہ ہمارے حکمران بھارت کا نام نہیں لے رہے۔ وہ بتائیں کیا انہیں ان سازشوں کا ادراک نہیں ہے۔ سقوط ڈھاکہ کے سانحہ والے روز سفاک دہشت گردوں نے صوبہ خیبر پی کے کے دارالحکومت پشاور کے انتہائی حساس کینٹ ایریا میں وارسک روڈ پر واقع آرمی پبلک سکول میں معصوم بچوں کے ساتھ انسانی خون کی ہولی کھیل کر پوری قوم کو کرب و سوگ میں مبتلا کر دیاتھا۔ کالعدم تحریک طالبان کی درہ آدم خیل تنظیم نے اس بربریت اور سفاکانہ دہشت گردی کی ذمہ داری قبول کرتے ہوئے اسے شمالی وزیرستان میں جاری فوجی اپریشن کا ردعمل قرار دیاتھا۔پاکستانی طالبان نے اعتراف کیا تھا کہ ہمارے چھ حملہ آور سکول میں داخل ہوئے۔ طالبان کے ملا فضل اللہ گروپ جس نے ملالہ پر بھی حملہ کیا تھا، نے کہا کہ یہ آپریشن ضرب عضب کا جواب ہے۔بے شک آپریشن ضرب عضب میں سکیورٹی فورسز کو نمایاں کامیابیاں حاصل ہوئی ہیں اور دو ہزار سے زائد ملکی اور غیرملکی دہشت گردوں کو انکے محفوظ ٹھکانوں اور گولہ بارود سمیت نیست و نابود کرکے قوم کو دہشت گردی کے ناسور سے مستقل نجات کی آس دلائی گئی ہے مگر اس آپریشن کے ردعمل میں دہشت گردی کی کارروائیاں ہوتی رہیں۔ ملک میں سیاسی استحکام اور قومی یکجہتی کی فضا قائم کرکے سکیورٹی فورسز کو آپریشن کیلئے یکسو کرنا ضروری تھا۔ان سفاک دہشتگرد آپریشن ضرب العضب میں سکیورٹی حکام کے دہشت گردوں کی کمر توڑنے کے دعوے کا جواب نیول ڈاکیارڈ اور پشاور ایئرپورٹ کے بعد پشاور کے ملٹری پبلک سکول میں اپنی ظالمانہ دہشت گردی کے ذریعے سینکڑوں معصوم بچوں کو خون میں نہلا کر دیا تو قوم بجا طور پر سراپا سوال ہو گی کہ ہماری سیاسی‘ حکومتی‘ عسکری قیادتیں ملک و قوم کے دفاع کی کتنی اہل ہیں اور ایسے سکیورٹی لیپس کیوں ابھی تک موجود ہیں کہ دہشت گرد کسی بھی حساس علاقے اور ادارے کا سکیورٹی حصار توڑ کر دندناتے ہوئے اندر گھس جاتے ہیں اور متعینہ ہدف پورا کرلیتے ہیں۔آج دہشت گردوں کے حملوں اور کارروائیوں میں کافی حد تک کمی آچکی ہے۔ دہشت گردوں کو بیرون اور اندرون ملک سے تعاون اور پشت پناہی حاصل ہے۔ اگر عالمی برادری خصوصی طور پر پڑوسی ممالک اور اندرون ملک سے حکومت اور فوج کو سپورٹ ملتی تو اب تک دہشت گردی کا مکمل خاتمہ ہو چکا ہوتا۔