- الإعلانات -

وزیراعظم کااقوام متحدہ کے جنرل سیکرٹری کوٹیلی فون

adaria

ملکی تاریخ میں جس طرح آج سفارتی سطح پرپاکستان تحریک انصاف کی حکومت مسئلہ کشمیر کواجاگر کررہی ہے ،ماضی میں اس کی مثال نہیں ملتی، اقوام متحدہ کے اجلاس میں بھی وزیرخارجہ شاہ محمودقریشی نے مسئلہ کشمیر کے حوالے سے بھرپورتقریرکرکے بھارت کامکروہ چہرہ پوری دنیا کے سامنے بے نقاب کیاتھا مگر چونکہ مقبوضہ کشمیرمیں ظلم وستم کانشانہ بننے والے مسلمان ہیں اور دنیابھر کے کسی بھی کونے میں سب سے ارزاں خون بھی مسلمان کا ہی گرداناجاتاہے اس لئے جہاں کہیں بھی دیکھاجائے امت مسلمہ کے گرد ہی گھیراتنگ کیاجارہاہے اس کی محض بنیادی وجہ آپس کانفاق ہے ،مسلمان آج تک ایک پلیٹ فارم پرجمع ہی نہ ہوسکے ، او آئی سی توبنالی مگر اس کاکرداربھی کوئی اتناقابل ذکرنہیں تاہم اقوام متحدہ کو دیکھاجائے کہ اگرکفارپر، اسرائیلیوں پر،امریکیوں پراوردیگرغیرمسلموں پر کوئی معمولی ساظلم بھی ہوجائے تواقوام متحدہ خودسامنے آجاتا ہے لیکن آج تک اس نے مسئلہ کشمیر کوحل کرانے کے لئے اپنی ہی قراردادوں پرعملدرآمدنہ کرایا۔ عمران خان ایک باصلاحیت اور حوصلہ مندوزیراعظم ہیں اور وہ بات کرنا اپنانقطہ نظر دوسرے تک پہنچانے کاخوب خاصا رکھتے ہیں بھارت نے مقبوضہ کشمیرمیں تو اب ظلم وستم کی توانتہاکررکھی ہے قابض فوج ہرطرح سے کشمیریوں کا قتل عام کررہی ہے ،بزرگ ،خواتین ،بچے غرض کہ کوئی بھی بھارتی مظالم سے محفوظ نہیں نہتے کشمیریوں کو روزانہ کی بنیاد پرشہید کیاجارہاہے اسی وجہ سے گزشتہ روز وزیراعظم پاکستان نے وزیراعظم عمران خان نے اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گیوتریز سے ٹیلیفونک رابطہ کیا اور کہا کہ جموں و کشمیر بین الاقومی تسلیم شدہ تنازع اور سلامتی کونسل کا تصفیہ طلب مسئلہ ہے، سنگین صورتحال کی تفتیش کیلئے انکوائری کمیشن بھیجا جائے اور خصوصی نمائندہ مقرر کیا جائے۔ وزیراعظم نے ٹیلی فونک گفتگو کے دوران اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل کے سامنے حالیہ واقعات میں 15 معصوم کشمیریوں کی شہادت اور 300 مظاہرین کے زخمی ہونے کا بھی ذکر کیا۔ وزیر اعظم نے کہاکہ مقبوضہ کشمیر کی موجودہ صورتحال ناقابل قبول ہے۔نیزوزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے کہا ہے کہ بھارت نے کولڈ اسٹارٹ نظریہ متعارف کرایا جو کہ حماقت تھی اس کے علاوہ نام نہاد سرجیکل اسٹرائیکس کی بھی بات کی ان کی سیاسی ضروریات اور مصلحتوں کو ہم سمجھتے ہیں لیکن ایٹمی قوتیں حادثاتی تصادم کی متحمل بھی نہیں ہو سکتیں کیونکہ ایسا تصادم خودکشی ہو گی مذاکرات ہی پاکستان اور بھارت کے درمیان تصفیہ طلب مسائل کے حل کا واحد راستہ ہیں پاکستان میں مذہبی آزادی پر کوئی پابندی نہیں لیکن پاکستان پر کیچڑ اچھالنے اور دباو ڈالنے کے لئے کبھی بلیک لسٹ اور گرے لسٹ میں شامل کرنے جیسے ہتھکنڈے استعمال کئے جاتے ہیں طالبان کو تسلیم نہ کرنے والا امریکا آج ان کے ساتھ مذاکرات کر رہا ہے ابوظہبی مذاکرات میں مثبت پیش رفت ہوئی ہے ہم پر نکتہ چینی اور چڑھائی کرنے والے آج ہماری تعریف کر رہے ہیں بھارت کو دہشت گردی کے خاتمے کیلئے پاکستان کی طرف سے ادا کی جانے والی قیمت کا احساس ہونا چاہیے کشمیر کا مسئلہ سیاست سے بالاتر ہے اور ہمیں کشمیر اور پاکستان کا جھنڈا ہاتھ میں تھام کر اظہار یکجہتی کرنا چاہیے ۔

سیاستدانوں کے کاروبارپرپابندی ہونی چاہیے
خواجہ سعدرفیق کے پروڈکشن آرڈرجاری کرنے کی پیشرفت پرچیئرمین پیپلزپارٹی بلاول بھٹو زرداری نے قومی اسمبلی سے خطاب کرتے ہوئے سپیکرقومی اسمبلی کاشکریہ ادا کیا اور کہاکہ مہنگائی کے حوالے سے ایوان میں بحث کرائی جائے کیونکہ مہنگائی کاایک سیلاب آگیا ہے پیپلزپارٹی نے پنجاب اسمبلی اورسینیٹ سے جنوبی پنجاب صوبے کی قرارداد منظورکرائی تھی تاہم حکومت اس معاملے میں سنجیدہ لگتی ہے لیکن حکومت ارکان اسمبلی کے نام ای سی ایل میں ڈال کرہراساں کررہی ہے ۔بلاول بھٹو زرداری کے تحفظات اپنی جگہ لیکن یہ مثبت پہلو ضرور سامنے آیاہے کہ پیپلزپارٹی سمجھ گئی ہے کہ حکومت جنوبی پنجاب کے صوبے کے معاملے میں سنجیدہ ہے۔ایوان میں صرف ایک دوسرے کی ٹانگیں گھسیٹنے اورپوائٹنگ سکورنگ کرنے سے کبھی بھی مسائل حل نہیں ہوتے اگرحکومت مثبت اقدام اٹھارہی ہے تو ان کو سراہناچاہیے اوراگرکوئی غلط قدم ہوتو اپوزیشن کاکا م ہے اس میں رہنمائی کرنی چاہیے۔ جہاں تک ای سی ایل میں نام ڈالنے اورنکالنے کامسئلہ ہے تو یہ پریکٹس ماضی میں بھی چلتی رہی ہے لیکن یہاں حکومت کو یہ ضرور کہیں گے کہ کسی بھی کام کے پیچھے سیاسی انتقام کاجذبہ کارفرمانہیں ہوناچاہیے جوکچھ بھی کیاجائے وہ ملک وقوم کی بہتری کے لئے کیاجاناچاہیے۔دوسری جانب خورشیدشاہ نے بھی اس امکان کااظہارکیاہے کہ موجودہ حالات میں نوازشریف اور آصف علی زرداری کی ملاقات ہوسکتی ہے ۔یہ ملاقات ماضی میں کیوں نہیں ہوئی اوراب کیوں ہورہی ہے ان حالات کو بھی دیکھنا پڑے گا جب بھی نون لیگ اور پیپلزپارٹی کے ذاتی مفادات کوذک پہنچی تو یہ ہمیشہ اکٹھے ہوگئے چونکہ اب بھی حکومت کرپشن کے حوالے سے کرپٹ افراد کے خلاف گھیراتنگ کررہی ہے شاید اس وجہ سے اپنے ذاتی مفادا ت کو تحفظ دینے کے لئے دونوں جماعتیں سرجوڑلیں ایسے میں حکومت کو مستقل مزاجی اور متانت سے آگے بڑھنے کی ضرور ت ہے جس نے بھی کرپشن کی چاہے وہ اقتدار میں ہویااپوزیشن میں کسی صورت بھی معافی کی گنجائش نہیں ہونی چاہیے۔حکومت کو کوئی نہ کوئی ایک ایسی مثال قائم کرنا ہوگی جس سے یہ بات واضح ہو کہ کہیں بھی اقرباء پروری کاعنصر نظرنہیں آرہا اپوزیشن یہ شورمچاتی نظرآتی رہتی ہے کہ اداروں کو سیاسی مقاصد کے حصول کے لئے استعمال کیاجارہاہے لیکن ہمارے خیال میں ایسی کوئی بات نہیں۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اگرملکی خزانے کوکسی نے بھی نقصان پہنچایا تو اسے حساب تودینا ہی پڑے گا۔ہم حکومت کو یہاں ایک مشورہ دینا چاہیں گے کہ ایوان سے ایسا قانون پاس کرایاجائے جس میں جب بھی کوئی شخص سیاست میں آجائے عوام اسے اپنے رہنما کے طورپرمنتخب کرلے تو اس پر کسی بھی قسم کاکاروبارکرنے کے لئے پابندی عائد ہونی چاہیے ۔حلف اٹھانے سے پہلے اپنے اثاثوں کی تفصیلات متعلقہ اداروں کے پاس جمع کرائے اور جب اس کے اقتدار کاوقت پوراہوجائے توجانے سے قبل پھراثاثوں کی تفصیلات جمع کرائی جائیں۔ کیونکہ جب سیاستدان کاروبارنہیں کرے گا تو پھرکرپشن کاسوال ہی نہیں پیداہوتا کرپشن تب ہوتی ہے جب کسی بھی شخص کااپناکاروبارہو، وہ بااختیار سیٹ پربیٹھاہوایسے میں اپنے کاروبارکو وہ فائدہ پہنچاتاہے دوسروں کی حقوق تلفی ہوتی ہے خزانے کو ناقابل تلافی نقصان ہوتاہے اور وہ کروڑوں اربوں کی مالیت تک جاپہنچتاہے۔