- الإعلانات -

متحد ہ عرب امارات کی امداد۔۔۔پاکستا ن کی معیشت بہتری کی جانب گامزن

adaria

پاکستان کے معاشی حالات بہتری کی جانب گامزن ہیں، تحریک انصاف کے حکومت میں اقتدارآنے سے پہلے پاکستان کی معیشت بری طرح تباہ تھی،ماضی کے قرضوں کی وجہ سے حالات بہت گھمبیرشکل اختیار کرگئے تھے ۔ اس وقت حکومت کوشش کررہی ہے کہ قرضوں سے بچا جائے اور آئی ایم ایف کے پاس نہ جایاجائے کیونکہ قرضے واپس کرنا بہت مشکل کام ہے اگر ماضی میں قرضوں کا صحیح استعمال کیا جاتا تو آج یہ حالات نہ ہوتے۔سعودی عرب کے بعد متحدہ عرب امارات مشکل وقت میں پاکستان کے ساتھ کھڑا نظرآیاہے ۔گزشتہ روزمتحدہ عرب امارات کے ابو ظہبی ڈویلپمنٹ فنڈ نے اعلان کیا ہے کہ وہ پاکستان کو 3ارب ڈالرز کا مالی تعاون فراہم کریگا، یہ رقم اسٹیٹ بینک میں رکھوائی جائے گی،رقم منتقلی سے پاکستان کی مالی صورت حال اور زرمبادلہ کے ذخائر بہتر، معیشت پر دباؤ کم ہو گا جبکہ تعلقات و تعاون کو مزید شعبوں میں بھی فروغ دیا جائے گا ۔ ذرائع کے مطابق متحدہ عرب امارات سے 3ارب ڈالرزکا ادھار تیل بھی ملنے والا ہے ا ور اسکے امکانات پختہ ہوگئے ہیں جبکہ چین سے بھی رواں ماہ 2ارب ڈالرز امداد ملنے والی ہے ۔ متحدہ عرب امارات کے خبر رساں ادارے کے مطابق آنے والے دنوں میں یہ رقم منتقل کردی جائے گی جس سے پاکستان کو زرمبادلہ کے ذخائر بہتر بنانے میں مدد حاصل ہوگی،یہ ذخائر 11ارب ڈالرز سے بڑھ جائیں گے۔ اس مالی تعاون کا فیصلہ دونوں برادر ممالک کے دیرینہ تعلقات اور تاریخی عوامی تعاون کو مدنظر رکھ کر کیا گیا ہے، ان تعلقات اور تعاون کو مزید شعبوں میں فروغ بھی دیا جائے گا۔ ابوظہبی فنڈ پہلے بھی پاکستان میں توانائی، صحت، تعلیم اور انفراسٹرکچر شعبے کے 8 ترقیاتی منصوبوں کیلئے ڈیڑھ ارب درہم فراہم کرچکا ہے، اس میں 93 کروڑ درہم گرانٹ کی شکل میں دیئے ہیں۔ 3ارب ڈالرزکی اسٹیٹ بینک پاکستان میں جمع ہونے والی رقم کا مقصد پاکستان کی مالیاتی اور مانیٹری پالیسی کو مضبوط کرنے کے علاوہ پاکستان کے مالیاتی استحکام میں مدد دیناہے، پاکستان کو متحدہ عرب امارات کی مدد دونوں ممالک کے عوام کے تاریخی رشتے اور ان سماجی و ثقافتی تعلقات کی بنیا د پر ہیں جن کے ذریعے دونوں ممالک صدیوں سے آپس میں جڑے ہوئے ہیں جبکہ باہمی تعلقات مختلف شعبوں میں وسیع البنیاد تعاون کی عکاسی کرتے ہیں۔دوسری جانب وزیراعظم عمران خان نے متحدہ عرب امارات کی جانب سے پاکستان کیلئے 3ارب ڈالرز کے اعلان کا خیرمقدم کیا ہے۔ وزیراعظم عمران خان نے سوشل میڈیا بیان میں کہا کہ آزمائش کی گھڑی میں نہایت فراخدلی سے پاکستان کا ساتھ دینے پر متحدہ عرب امارات کی حکومت کا مشکور ہوں، اماراتی حکومت کا تعاون ہماری دوستی اور دہائیوں پر محیط تعلقات کا عکاس ہے۔ادھر وزارت خزانہ کے اعلامیہ میں کہا گیا ہے کہ متحدہ عرب امارات کی جانب سے 3 ارب ڈالرکی رقم کی وصولی سے پاکستان کے غیر ملکی زرمبادلہ کے ذخائر میں اضافہ ہو گا ، وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے بھی سوشل میڈیا پیغام میں3ارب ڈالرز کی مالی معاونت پر ولی عہد شہزادہ محمد بن زید کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہاکہ یہ معاونت، پاکستان اور متحدہ عرب امارات کے مابین دوطرفہ گہرے برادرانہ تعلقات کا مظہر ہے، متحدہ عرب امارات نے ہمیشہ مشکل وقت میں پاکستان کا ساتھ دیا ہے ۔ بلاشبہ ملک میں اقتصادی مسائل موجود ہیں اور فنڈز کی کمی ہے تاہم قوموں کی زندگی میں مشکل وقت اور اونچ نیچ آتی رہتی ہے لیکن یہ وقت زیادہ دیر نہیں رہے گا۔حکومتی کاوشوں کی وجہ سے غیرملکی سرمایہ کاری ملک میں آئے گی اس کے لئے ضروری ہے کہ امن وامان قائم رہے۔جب ملک میں امن قائم ہوتا ہے تو معیشت بھی مضبوط ہوتی ہے اور سرمایہ کاربھی پاکستان میں آتے ہیں جس کاسارافائدہ ملک کی معیشت کو ہوتا اورجب معیشت مضبوط ہوتی ہے تواس کے ثمرات عام آدمی تک بھی پہنچتے ہیں۔

امریکہ کاشام سے آدھی فوج واپس بلانے کافیصلہ
شام کے بعد افغانستان سے بھی آدھی فوج واپس بلانے کا فیصلہ کرلیا گیا جبکہ نیٹو نے اختلاف کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ شام سے امریکی فوج کے انخلاکے باوجود داعش کیخلاف اتحادی ممالک کے تعاون سے کارروائی جا ری رکھے گا۔روسی صدر کی جانب سے ایک بیان میں کہاگیا ہے کہ شام میں امریکی فوج کی موجودگی غیر قانونی ،امن کے حصول میں رکاوٹ تھی، امریکہ وہاں اقوام متحدہ کی حمایت کے بغیر موجود ہے، نہ ہی انھیں حکومت شام نے دعوت دی ہے۔ داعش کو شکست کے معاملے پر ٹرمپ سے اتفاق کرتے ہیں ، ادھر افغان قومی سلامتی کے ترجمان کے مطابق امریکی فوجیوں کے نکلنے سے افغان فوج کے حوصلے پر اثر نہیں پڑے گا۔ٹرمپ کی جانب سے افغانستان سے امریکی فوج کے انخلا پر کوئی بات نہیں کی گئی ۔ امریکی میڈیاکے مطابق ٹرمپ انتظامیہ نے افغانستان میں اپنی پالیسی میں واضح تبدیلی لاتے ہوئے اپنے فوجیوں کی تعداد میں قابل ذکر کمی کرنے کا حکم دیا ہے۔امریکہ کی جانب سے افغان پالیسی میں واضح تبدیلی کا فیصلہ ایک ایسے وقت کیا گیا ہے کہ جب 17 برس میں پہلی بار اس نے افغان طالبان سے براہ راست بات چیت کی ہے جس کے بارے میں افغان طالبان کے ترجمان کا کہنا تھا کہ اس میں امریکی فوج کے انخلا پر بات ہوئی ہے۔ افغانستان میں اس وقت موجود 14ہزار امریکی فوجیوں میں سے پانچ ہزار کو واپس بلایا جا رہا ہے۔ صدر ٹرمپ کی جانب سے یہ اعلان 17 سالہ افغان جنگ کی پالیسی میں اچانک تبدیلی کے طور پر دیکھا جا رہا ہے کیونکہ امریکہ اور افغان طالبان کے درمیان پہلی بار براہ راست مذاکرات ہو رہے ہیں تاکہ تنازع کا پرامن حل نکالا جا سکے۔امریکہ میں 2001میں نائن الیون کے شدت پسند حملوں کے بعد اس نے اپنی فوج افغانستان میں اتاری تھی تاکہ القاعدہ اور اس کے سربراہ اسامہ بن دلان کے خلاف کارروائیاں کی جاسکیں اور افغانستان کو پرامن ملک بنایا جا سکے تاکہ مستقبل میں یہاں سے مغربی اہداف کو نشانہ بنانے کی منصوبہ بندی نہ کی جا سکے۔17 برس تک جاری رہنے والی اس لڑائی میں 24 سو امریکی فوجی مارے جانے کے باوجود امریکہ کو خاطر خواہ کامیابی نہیں ملی اور حالیہ برسوں میں افغان طالبان کے زیر قبضہ علاقے میں قابل ذکر تک اضافہ ہوا ہے اور کئی محاذوں پر افغان فوج کو شکست کا سامنا کرنا پڑا۔ادھر افغانستان اور شام سے امریکی فوجوں کے انخلا کے بعد امریکی سیکرٹری دفاع جم میٹس نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے نقطہ نظر سے اختلاف کو وجہ قرار دیتے ہوئے اپنے عہدے سے استعفیٰ دے دیا۔جم میٹس وائٹ ہاؤس گئے اور امریکی صدر کو شام میں فوجیں رکھنے پر قائل کرنے کی کوشش کی جس میں ناکامی پر انہوں نے استعفیٰ دیا۔