- الإعلانات -

قائد اعظمؒ اور آئین پسندی

قائد اعظمؒ جنوبی ایشیاء کی ایک تاریخ ساز شخصیت تھے۔ان کا قانون کی بالا دستی پرپختہ یقین تھا اور انہیں بلا شبہ جمہوری اقدار کا ترجمان کہا جا سکتا ہے۔ قائد اعظم ؒ بحثیت قانون دان عدلیہ کی آزادی کی اہمیت کو جانتے تھے اسی لیے انہوں نے ہمیشہ قانون کا احترام کیا اور آزاد اور بے داغ عدلیہ کے حامی رہے۔دنیا بھر میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے ماننے والے 25دسمبر کو کرسمس ڈے کے طور پر مناتے ہیں کہ اس روز یسوح مسیح اس دنیا میں تشریف لائے مگر اہل پاکستان کیلئے اس دن کی دوہری اہمیت ہے کہ یہی دن بابائے قوم قائد اعظم محمد علی جناحؒ کا یوم پیدائش بھی ہے،جن کی دور بین نگاہوں نے بر صغیر کے مسلمانوں کیلئے الگ مملکت کی ضرورت کا احساس کیا اور پھر اس کے قیام کیلئے انتھک جدوجہد اور بے بدل قیادت سے اس تصور کو حقیقت میں تبدیل کر کے دم لیا۔بلاشبہ پاکستان کا معرض وجود میں آنا گزشتہ صدی کا نہائت اہم واقعہ ہے کہ کسی فوجی طاقت ،کسی مسلح جدوجہد کے بغیر ایک نئی مملکت وجود میں آئی،جسے اس وقت دنیا کی سب سے بڑی مسلم ریاست کا درجہ حاصل ہوا۔اس میں شک نہیں کہ پاکستان خالص جمہوری عمل اور برطانوی آئینی روایات کے دائرے کے اندر جدوجہد کے نتیجے میں معرض وجود میں آیا،یہ الگ بات ہے کہ اپنے قیام کے تھوڑا عرصہ بعد ہی ا سی جمہوری عمل سے پرے ہٹنے کا عمل شروع ہو گیا اور جمہوریت اس نئی مملکت کے امور سے پرے ہوتی گئی،تا ہم جمہوریت کی بے دخلی کا یہ عمل بانی پاکستان کے اس دنیا سے رخصت ہونے کے بعد شروع ہوا ۔اگر وہ کچھ عرصہ بقید حیات رہتے تو شائد معاملات کی شکل وہ نہ ہوتی جو ان کی وفات کے بعد بن گئی ۔علامہ اقبالؒ نے مرد مومن کی جن تین اہم شخصی خصوصیات یعنی یقین محکم ،عمل پیہم اور محبت فاتح عالم کا ذکر کیا ہے قائد اعظمؒ کی شخصیت انہی سے گندھی ہوئی تھی بلکہ ایسے لگتا ہے کہ جیسے یہ شعر کہتے وقت ان کے سامنے بابائے قوم کے کردار کا نمونہ ہی تھا ۔ان کی پوری زندگی میں جو کردار سامنے آتا ہے اس میں پختہ یقین اور عمل پیہم ابھر کر سامنے آتے ہیں جب انہوں نے اس حقیقت کا احساس کر لیا کہ مسلمان ہندوؤں سے ثقافتی طور پر الگ ہیں اور یہ کہ ہندو اکثریت کے غلبہ سے محفوظ ہونے کا ایک ہی راستہ ہے کہ مسلمانوں کیلئے الگ مملکت حاصل کی جائے تو انہوں نے اسے اپنا مقصد حیات بنا لیا اور پھر اس کیلئے جدوجہد میں لگ گئے اس دوران ان کا ارادہ کبھی متزلزل نہیں ہوا یہاں تک کہ 1936ء کے صوبائی انتخابات میں قائم ہونے والی کانگریسی حکومتوں نے اپنے اپنے صوبوں میں امور حکومت جس انداز میں چلائے اس نے ان کے اس یقین کو پختہ کر دیا کہ ہندو اکثریت کی حکومت میں مسلمان اقلیت کو انصاف ملنے کی امید نہیں کی جا سکتی۔ انہوں نے کانگریسی صوبائی حکومتوں کے امتیازی روئیے اور مسلمانوں کے ساتھ زیادتیوں پر مشتمل پیر پور رپورٹ تیار کرائی جس سے وہ باتیں جو پہلے خدشات اور اندیشوں کی صورت میں ذہنوں میں تھیں،تلخ اور گھناؤنی صورت میں سامنے آگئے،بعد میں 1940ء کی قرار داد لاہور میں کئے جانے والے الگ ریاست کے مطالبہ کی صورت اختیار کی۔پہلی بار آل انڈیا مسلم لیگ نے الگ مسلم ریاست کے قیام کو سیاسی نصب العین کے طور پر اختیار کیا اور پھر یکسوئی اور آہنی عزم کے ساتھ وہ اس منزل کے حصول میں لگ گئے۔قائد اعظم کے سیاسی کردار کی اہم خصوصیت ان کی آئین پسندی تھی جسے ان کے سیاسی طرز عمل میں مرکزی حیثیت حاصل ہے۔یہ درست ہے کہ ہندوستان کی قومی آزادی کی تحریک میں مختلف اور متنوع روئیے نظر آتے ہیں ،ان میں ایسے بھی ہیں جو پرتشدد طریقہ اختیار کرنے کو لازمی سمجھتے تھے،ان کے خیال میں انگریزوں کو ہندوستان سے نکالنے کا واحد راستہ طاقت ہے کہ طاقت سے ان کی طاقت کو توڑا جائے اور انہیں فرار پر مجبور کر دیا جائے۔کچھ ایسے تھے جو سیاسی جدوجہد کو عسکری طریقوں سے ملانے کے قائل تھے ان کا کہنا تھا کہ برطانوی طاقت کے حصار میں شگاف ڈالے بغیر کام نہیں بن سکتا پر امن جدوجہد بھی کی جائے مگر اس کے ساتھ دباؤ بڑھانے کیلئے تشدد اور طاقت کا استعمال بھی ضروری ہے اس کے بغیر انگریزوں میں یہ احساس پیدا نہیں ہو گا کہ ان کیلئے ہندوستان پر حکومت کرنا آسان نہیں رہا بلکہ مشکل سے مشکل تر ہوتا جا رہا ہے، مگر قائد اعظمؒ ابتدا سے ہی جدوجہد کے آئینی طریقہ کار کے قائل تھے اور اسی کو زیادہ سے زیادہ موثر بنانے کیلئے مصروف عمل رہے اور اس سے ہٹنے کے بارے میں انہوں نے کبھی سوچا بھی نہیں۔یہ بھی ان کے پختہ یقین کا ہی حصہ ہے کہ وہ سمجھتے تھے کہ آئینی دائرے کے اندر رہ کر کئے جانے والے عمل پیہم سے حصول منزل ممکن ہے اور اسے انہوں نے صحیح کر دکھایا اور اپنے عمل سے یہ ثابت کر دکھایا کہ اپنی سوچ میں وہ حق بجانب تھے۔ان کا یہ خیال درست ثابت ہوا کہ سلطنت برطانیہ کی طاقت سے ٹکرانے کی بجائے برطانوی فکر میں سامراجیت کے مقابلے میں لبرل اور روشن خیال اقدار کے ابھار پر تکیہ کرتے ہوئے ہندوستان کے عوام کو حکومت خود اختیاری کا حق دینے کی تحریک چلائی جائے تو اس کی کامیابی کے امکانات کہیں زیادہ ہیں ۔قائد اعظم ؒ نہ صرف آئین پسند تھے بلکہ عام انسانوں کے بارے میں یہ پختہ یقین کہ عمومی طور پر انسان عقل وفہم سے کام لیتا ہے اور عقل کی روشنی میں فیصلے کرتا ہے۔وہ انسان کی باطنی بدصورتی کی بجائے ان کی معقولیت پسندی کے زیادہ قائل تھے یہی وجہ ہے کہ تقسیم ہند کے نتیجے میں پیدا ہونے والی خونریزی اور بہیمانہ طرز عمل کا انہیں گمان بھی نہ تھا ۔ان کی استدلال پسندی انہیں یہ تسلیم کرنے سے روکتی رہی کہ جب فرقہ وارانہ نفاق کے حل کے طور پر فریقین تقسیم پر راضی ہو گئے ہیں اور اس پر عمل درآمد ہو رہا ہے تو پھر کسی قسم کی ہنگامہ آرا ئی کا جواز نہیں کہ وجہ نزاع باقی نہیں رہی۔یہی وجہ ہے کہ جب قیام پاکستان کے بعد پنجاب میں تاریخ کے بدترین فسادات شروع ہوئے اور اس کے نتیجہ میں انتقال آبادی کا سلسلہ شروع ہوا لٹے پٹے مہاجروں کے قافلوں کی وسیع پیمانے پر آمد ہونے لگی تو قائد اعظمؒ کو شاید زندگی کیلئے سب سے بڑے صدمے سے دوچار ہونا پڑا ۔والٹن کے پناہ گزین کیمپ کے دورے نے شاید پہلی بار ان کے فولادی اعصاب میں لرزش پیدا کی اور وہ اندر سے ہل کر رہ گئے ۔انسان اندر سے کتنا وحشی ہے اور وہ وحشت اور بربریت میں کس حد تک جا سکتا ہے اس بارے میں یہ ان کا شاید پہلا تجربہ تھا ۔وہ یہ تسلیم کرنے کیلئے تیار نہیں تھے کہ اب جب جھگڑے کی کوئی وجہ نہیں رہی تو آخر یہ سب کیوں ہوا ہے؟ اس لئے کہ انتقال آبادی ان کی سکیم کا حصہ نہیں تھی مگر ان کی وفات کے بعد پاکستان میں جو ہوا وہ بھی تو ان کی سکیم کا حصہ نہیں تھا ۔حقیقت تو یہ ہے کہ اگر قائد اعظم کو اپنے بنائے ہوئے ملک کی موجودہ شکل دیکھنے کا موقع نصیب ہو تو حالات کی موجودہ شکل دیکھ کر شائد انہیں اس صدمے سے کئی گنا بڑے صدمے سے دوچار ہونا پڑے جس سے وہ پناہ گزینوں کی حالت زار دیکھ کر دوچار ہوئے تھے۔قائد اعظمؒ کا یوم پیدائش حسب روایت جوش وخروش سے منانے کا اعلان تو ہو گا مگر یہ بات بدستور گلدستہ طاق نسیاں میں رہے گی کہ بابائے قوم پاکستان کو کیسا پاکستان بنانا چاہتے تھے؟کہ حکمران اسے بھلانے میں ہی عافیت سمجھتے ہیں۔ قائد اعظمؒ کی قیادت میں آل انڈیا مسلم لیگ کی سیاست اپنی نوعیت کے اعتبار سے اکثریت کے غلبہ کے مقابلے میں اقلیتوں کی حفاظت کی سیاست تھی۔یہی وجہ ہے کہ ہندوستانی سیاست کے تناظر میں قائد اعظم کی آوازاقلیتوں کے حقوق کے تحفظ کیلئے سب سے طاقتور آواز تھی۔قائد اعظمؒ پاکستان کو ایک ایسی جمہوری اور فلاحی ریاست بنانے کے خواہش مند تھے جس میں اقلیتوں کو مساوی حقوق حاصل ہوں انہوں نے قیام پاکستان کے بعد گورنر جنرل کی حیثیت سے کرسمس کی مرکزی تقریب میں شرکت کی ۔ہم کرسمس کے تہوار پر اپنے ہم وطن مسیحی بھائیوں کو مبارک باد پیش کرتے ہیں اور ان کی صحت ،خوشحالی اور سلامتی کیلئے دعا گو ہیں۔