- الإعلانات -

پاکستان مخالف لابی کی روزی روٹی

نصیر الدین شاہ بھارت کے مشہور اداکار اور ہدایتکار ہیں۔ ان کا شمار بھارتی سینما کے بہترین اداکاروں میں ہوتا ہے۔2003میں انہیں بھارتی سرکاری اعزاز پدم سے نوازا گیا۔یاست اترپردیش کے علاقہ بارابانکی میں پیدا ہونے والے نامور فنکار انیسویں صدی کے افغان جنگجو جان فشان خان کی نسل سے ہیں۔ کئی بین الاقوامی فلموں میں بھی کام کر چکے ہیں ۔ ایک انٹرویو کی وجہ سے ان دنوں ایک کڑی مشکل سے دوچار ہیں۔سترہ دسمبر کو انہوں نے ایک انٹرویو میں کہا تھا کہ بھارت میں رہ کر وہ اپنے بچوں کیلئے فکر مند ہیں کیونکہ یہاں گائے کی جان کسی بھی پولیس اہلکار کی جان سے زیادہ قیمتی ہے۔ان کی یہ تشویش ایک افسوسناک واقعہ کے بعد سامنے آئی جس میں رواں ماہ اترپردیش کے ایک نواحی علاقے میں گائے کے ذبح ہونے پر مشتعل ہجوم نے مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے آنے والی پولیس گاڑی پر حملہ کرکے ایک انسپکٹر کو ہلاک اور ایک کو زخمی کردیا تھا۔پولیس انسپکٹر سبودھ کمار سنگھ کی ہلاکت کے سلسلے میں اصل ملزم بجرنگ دل کے یوگیش کمار اور بی جے پی کے دوسرے لیڈروں کو پکڑا نہیں جا سکا ہے۔بھارت میں اقلیتوں کے ساتھ ناانصافی یا ظلم و ستم کوئی نئی بات نہیں ہے۔اگرچہ دنیا بھر میں اقلیتوں کو خدشات رہتے ہیں تاہم بھارت میں مودی کے بر سراقتدار آنے کے بعد پرتشدد سیاست اور ہجوم کی جانب سے عام لوگوں کو قتل کیے جانے کے واقعات میں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔اگر کوئی ذی ہوش ان پر تشدد واقعات پر زبان کھول دے تو پھر انتہا پسند حلقے وہ زبان کاٹنے کو دوڑتے ہیں۔نصیرالدین شاہ کے ساتھ بھی یہی ہو رہا ہے۔ان کے انٹرویو پر اچھا خاصاتنازعہ اٹھ کھڑا ہوا ہے۔انتہا پسند ہندو جماعتوں نے ان کو غدار قرار دیتے ہوئے دھمکانا شروع کردیا ہے اور کہا جا رہا ہے کہ اگر ان کو یہاں ڈر لگتا ہے تو وہ پاکستان چلے جائیں۔ بی جے پی ایم پی راکیش سنہا سمیت کئی بی جے پی رہنماؤں نے بھی ان کو پاکستان چلے جانے کا مشورہ دیا ہے اور کہا کہ اگر انھیں یہاں ڈر لگتا ہے تو انھیں یہاں رہنے کی ضرورت نہیں ہے۔حالانکہ نصیر الدین شاہ نے نہ تو یہ کہا ہے کہ انھیں ڈر لگتا ہے اور نہ ہی انھوں نے پاکستان کا نام لیا ہے۔ادھرلیجنڈ اداکار نے تین روزہ اجمیر لٹریچر فیسٹیول کے پانچویں ایڈیشن کا افتتاح کرنا تھا جسے انتہاپسند ہندوں کے احتجاجی مظاہرے کی وجہ سے منسوخ کردیا گیا۔ نصیرالدین شاہ کا کہنا ہے کہ میں بھی بھارتی شہری ہوں اور ایک فکرمند بھارتی کی حیثیت سے مجھے اپنے ملک کے بہتر مستقبل کے بارے میں جو بہتر لگا وہ میں نے کہہ دیا۔نصیرالدین کے ساتھ جو کچھ ہو رہا ہے وہ نیا نہیں اس سے قبل شاہ رخ خان اور عامر خان بھی کچھ اسی قسم کے بیانات دے کر شدید تنقید کا نشانہ بن چکے ہیں۔اس تمہید کا مقصد یہ ہے کہ جو سوچ بھارت میں پروان چڑھ چکی ہے اور جو کچھ اعتدال پسند حلقوں کے ساتھ ہو رہا ہے اگر ایسا کچھ پاکستان میں ہو رہا ہوتا تو ہم دیکھتے کہ کس طرح دنیا میں رواداری اور برداشت کے ٹھیکیدار تھنک ٹینکس اور این جی اوز اودھم مچا رہی ہوتیں۔اس وقت بھارت میں صرف اقلیتیں وبال سے دوچار نہیں بلکہ ہر طرح کی پروگریسو سوچ شدید دباؤ کا شکار ہے۔عالمی تو کیا کسی بھارتی تھنک ٹینک کو بھی زحمت نہیں ہو رہی ہے کہ وہ واشنگٹن یا لندن میں بیٹھ کر اس کے خلاف آواز اٹھائے۔جبکہ دوسری طرف بیرونی دنیا سامراج کی چھتری تلے بعض عناصر پاکستانی ہونے کے باوجود پاکستان کے خلاف منہ بھر کے غلاظت اگلنے میں عار محسوس نہیں کرتے۔جیسے کہ گزشتہ دنوں واشنگٹن میں نام نہاد اپنے تیءں لبرل پاکستانیوں کے ’ساتھ ‘فورم کا سالانہ اکٹھ ہوا۔اس پاکستان مخالف اکٹھ یا تقریب کے منتظم سابق پاکستانی سفیر برائے امریکہ حسین حقانی اور ڈاکٹر محمد تقی تھے۔یہ اس فورم کا ایسا تیسرا اجتماع تھا۔ اس سے پہلے دو اجتماع لندن میں منعقد ہو چکے ہیں۔ تقریب میں انسانی حقوق، آزادی اظہار رائے، سیاست میں شدت پسند تنظیموں کو شامل کرنے کی منصوبہ بندی، جبری گمشدگیوں، پشتون تحفظ موومنٹ، اٹھارہویں ترمیم ، ڈیموں کی تعمیر اور ان سے جڑے مسائل، سرائیکی صوبے کے وجود کی اہمیت، سی پیک، احتساب اور گلگت بلتستان کی آئینی حیثیت سمیت کئی موضوعات پر بات کی گئی جب کہ ان موضوعات پر ایک مشترکہ قرارداد بھی منظور کی گئی۔اس اجتماع میں کٹر اینٹی پاکستان امریکی کانگریس کے ڈیموکریٹ رکن بریڈ شرمن نے بھی خطاب کیا۔ شرمن امریکی کانگریس کی ایشیا کمیٹی کا ایک رکن بھی ہے۔موصوف پاکستان کے خلاف زہر اگلنے کا کوئی موقع ہاتھ سے نہیں جانے دیتے۔اس موقع پر انہوں نے کہا، پاکستان میں سویلین حکومت اور فوج اور دونوں کے آپس کے تعلقات اور طاقت کی کشمکش کو سمجھنا بہت مشکل ہے۔ سوشل میڈیا پر اس اکٹھ کو پاکستان کو کمزور کرنے کی ایک سازش قراردیا گیا ہے جب کہ اس اجتماع کے موقع پر واشنگٹن میں مقیم کئی پاکستانیوں نے اس کانفرنس کے ہال کے باہر مظاہرہ بھی کیا۔سوشل میڈیا پر اس اجتماع کے منتظمین کو آڑے ہاتھوں لیا جا رہا ہے۔حیرت ہے محترم حسین حقانی کو پاکستان اور اس کی حکومت نے ایک اعلیٰ عہدے پر تعینات کیا تاکہ وہ پاکستان کے مفادات کا تحفظ کریں لیکن وہ ذاتی مفادات کے اسیر نکلے۔بات ذاتی مفادات تک محدود رہتی تو برداشت کی جاسکتی تھی مگر موصوف نے پاکستان کی سلامتی کی قیمت پر ذاتی مفادات اٹھا کر خود کو اعلانیہ پاکستان مخالف لابی کی صف میں لا کھڑا کیا ہے۔اگلے روز وٹس اپ پر ان سے بھارتی اداکار نصیر شاہ کے خلاف جاری مہم اور بھارت میں انتہا پسندانہ رویے پر رائے مانگی تو ان کا کہنا تھا کہ بھارت میں ہونے والی ان باتوں پر یہاں شدید تنقید ہوتی ہے۔انسانی حقوق کی تنظیمیں بھی بھارت کو شدید تنقید کا نشانہ بناتی ہیں۔ مودی دور میں مسلمانوں اور مسیحیوں پر ہونے والے حملوں پر امریکی حکومت اور یورپین یونین بھی آواز اٹھا چکے ہیں۔ کشمیر میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں پر بھی سینکڑوں رپورٹیں یہاں آتی ہیں لیکن چونکہ آپ کے قومی بیانیہ میں صرف مسلمان مظلوم اور مسلمان کے ظلم پر تنقید مغرب کی سازش ہے اس لئے ان میں سے کوئی بات نہ آپ کو نظر آئے گی نہ اس کا آپ کو علم ہوگا۔میں نے گزارش کی ایسی رپورٹس سے آگاہ ہوں لیکن مجھے آپ کی ذاتی یا آپ کے تھنک ٹینک کی رائے درکار ہے لیکن انہوں نے ذاتی رائے دینے سے معذرت کر لی۔وہ ذاتی رائے دیتے بھی توکیسے کہ جن کے دم سے اور چھتری تلے بیٹھ کر پاکستان کو سینگوں لیے رکھتے ہیں ان کے خلاف کیسے لب کشائی کرتے۔تاہم انہیں سوچنا چاہیے کہ جس پاکستان کی مخالفت میں جُتے ہوئے ہیں یہ روزی روٹی بھی انکی اِسی پاکستان کے دم سے ہے۔
*****