- الإعلانات -

قائد اعظمؒ ، ایک قد آور سیاسی شخصیت

کہتے ہیں کہ قدرت جب کسی قوم پر مہربان ہوتی ہے اور اسے کسی قوم کی قسمت بدلنا مقصود ہوتی ہے تو اس قوم میں ایسے بے لوث قائد پیدا ہوتے ہیں جو اس قوم کی ڈگمگاتی کشتی کو ساحل مراد تک لے جاتے ہیں ،بلاشبہ ہمیں قائد اعظم کی شکل میں ایک زیرک، دانا ،معاملہ فہم اور بصیرت افروز قیادت نصیب ہوئی جس نے چند ہی سالوں میں ملت کے بکھرے ہوئے شیرازہ کو ایک سیسہ پلائی ہوئی دیوار کی صورت عطا کر دی ۔انہی آرزوؤں کی جذب دروں کی قوت سے مسلمانان برصغیر کے دوش بدوش قائد قوم مشکلات کے پہاڑ کو زیرو زبر کرنے کے قابل ہو گئے۔اسی لیلائے مقصود کی چشمک ناز نے ہمارے اجتماعی شعور کو حیات تازہ کی تڑپ اور خلش سے مالامال کیا اور یہی والہانہ عزائم ارض پاکستان کے حصول پر منتج ہوئے اور نشاۃ ثانیہ کے یہی بے لوث ولولے تھے جنہوں نے آخر ایک دن ہمیں آزاد قوموں کی صف میں لا کھڑا کیا ۔قائد اعظمؒ کو قدرت نے بے پناہ خوبیاں عطا کی تھیں ۔ان کی عظمت کے دوست تو قائل تھے لیکن ان کے بدترین دشمن اور غیر بھی ان کی خوبیوں کا اعتراف کرنے پر مجبور ہو گئے ۔نہرو خاندان کے چہیتے اور شیدائی لارڈ ماؤنٹ بیٹن نے قیام پاکستان کے کئی برس بعد بی بی سی کو انٹرویو دیتے ہوئے قائد اعظمؒ کی خوبیوں کا بر ملا اعتراف کیا اور کہا ’’ مجھے صرف اس مقصد کیلئے ہندوستان بھیجا گیا کہ میں ہندوستان کو کسی نہ کسی طرح سے متحد رکھ سکوں اور ایک متحدہ ہندوستان کو اقتدار منتقل کروں میں نے اس مقصد کیلئے بڑی کوششیں کیں ،دن رات ایک کر دیے ،راتوں کی نیند حرام کی لیکن میرے مقصد کی راہ میں ایک شخص حائل تھا جو پہاڑ کی طرح رکاوٹ بنا رہا ۔اور وہ تھا محمد علی جناح ؒ وہ شروع ہی سے نہیں کہتا چلا گیا اور اس کی نہیں کو ہاں میں بدلنے کیلئے میری ہر کوشش ناکام ہو گئی اور آخر کار مجھے جناح کی نہیں کے آگے جھکنا پڑا اور اس کی ضد کے سامنے ہتھیار ڈالنے پڑے‘‘۔پنڈت جواہر لال نہرو کی بہن وجے لکشمی نے بھی قائد اعظمؒ کو زبردست خراج تحسین پیش کرتے ہوئے کہا تھا کہ’’ اگر مسلم لیگ کے پاس ایک سو گاندھی اور ایک سو نہرو ہوتے اور کانگرس کے پاس ایک جناحؒ تو پاکستان کبھی نہ بنتا‘‘۔مشہور صحافی مسز آرتھر مور اپنے مقالہ میں جو ’’ہماری جنگ‘‘ کے عنوان سے ’’اسٹیٹس مین ‘‘سے شائع ہوا قائد اعظم کی عظیم فراست کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے لکھتا ہے ’’ایسے نازک وقت میں ایسا محکم اور اتنا جلد فیصلہ مسٹر جناح کے جوہر قیادت کی ایک ایسی دلیل ہے جس کا موازنہ اگر کیا جا سکتا ہے تو مسٹر چرچل کی اس تقریر سے جو انہوں نے جرمنی کے روس پر حملہ آور ہونے کے وقت کی تھی کہ ’’ کسی قائد کی قدوقامت اور اہمیت کا اندازہ خاص کر غیر جانبدارانہ تجزیہ و تبصرہ جو اس کی رحلت کے بعد سامنے آتا ہے بہت اہمیت کا حامل اور جامعیت لئے ہوتا ہے ۔خصوصاًپریس جب کسی عظیم شخصیت کا اس کی وفات کے بعد تجزیہ کرتا ہے وہ بڑا بر محل اور غیر جانبدارانہ ہوتا ہے ‘‘۔ اسی تناظر میں قائد اعظمؒ کی عظمت کو اس سیاق و سباق کے حوالے سے ’’ دی ٹائمز‘‘ نے یوں خراج تحسین پیش کیا ’’ ہفتہ کو ہز ایکسیلنسی گورنر جنرل پاکستان محمد علی جناحؒ کی 71سال کی عمر میں وفات نے اس ڈومینین کو عظیم قائد اعظمؒ سے محروم کر دیا جس کی جدوجہد میں ہندوستانی مسلمانوں کی بھر پور تائید بھی شامل تھی جس کے نتیجہ میں ڈومینین وجود میں آئی وہ گورنر جنرل ہونے کے ساتھ ساتھ پاکستان کی آئین ساز اسمبلی اور مسلم لیگ کے صدر بھی تھے جس میں مسلم لیگ کو انہوں نے حقیقتاًغالب بنا دیا وہ ہندوستانی عوام کے آئینی مقدر دل میں اپنے تاثرو کردار کے حوالے سے کسی طور بھی نہرو اور گاندھی سے کم قرار نہیں دیے جا سکتے ۔انہوں نے مہارت کے ساتھ کسی بھی وحدانی طرز حکومت میں ہندوؤں کی بالا دستی کے مسلمانوں کے خدشات کو ابھارا اور اس کے نتیجہ میں دوقومی نظریہ آخر کار غالب آ گیا ۔عصر حاضر میں شاید ہی کسی اور راہنما کو اتنے شاندار الفاظ میں خراج عقیدت پیش کیا گیا جن الفاظ میں قائد اعظم محمد علی جناحؒ کو پیش کیا گیا ۔ان کی تعریف ایسے لوگوں نے بھی کی جو ان کے نظریات کے سخت مخالف تھے ۔ڈاکٹر کیلاش ناتھ جو1948ء میں مغربی بنگال کے گورنر تھے ان کے بارے میں کہتے ہیں کہ وہ اس صدی کے ممتاز فرد تھے ۔آغا خان کا کہنا ہے کہ میں زندگی میں جتنے لوگوں سے ملا ہوں وہ ان سب سے عظیم تھے ۔ورڈ کٹ آف انڈیا کے بیورنی نکلس نے انہیں ایشیاء کا انتہائی اہم شخص قرار دیا ۔عرب لیگ کے سیکرٹری جنرل عبد الرحمٰن پاشا نے انہیں عالم اسلام کے عظیم راہنماؤں میں سے ایک قرار دیا ۔مفتی اعظم فلسطین نے ان کی موت کو تمام عالم اسلام کیلئے عظیم نقصان قرار دیا ۔قائد اعظمؒ کی ذاتی اور سیاسی کامیابیوں کو انڈین نیشنل کانگرس کے فارورڈ بلاک ونگ کے سربراہ چندر بوس نے نہائت جامع الفاظ میں ان کی خوبیوں کو سمو دیا ۔1948ء میں قائد اعظمؒ کی وفات پر انہوں نے کہا ’’مسٹر جناح ایک وکیل کی حیثیت سے عظیم تھے ،ایک عالمی سیاست دان اور مدبر کی حیثیت سے بھی وہ عظیم ترین تھے ،مسٹر جناح کے انتقال سے دنیا ایک عظیم ترین مدبر اور پاکستان اپنے خالق فلسفی سے محروم ہو گیا ۔

زمیں کی روح تیری عظمتوں سے گونج اٹھی
فلک کے دل میں تیرے عزم کا ٹھکانہ بنا
افق سے تا بہ افق زندگی ابھر آئی
تیرے خلوص کے ہاتھوں نیا زمانہ بنا
معزز و محترم قارئین قائد اعظم ؒ کے دن کی آمد ماضی کی تاریخ پاکستان کے حوالہ سے اطمینان و سکون کا باعث بنتی ہے لیکن قائد کے بعد حکمرانوں کی بے حسی ،عوام کی بے بسی ،غریب و امیر کا تفاوت ،مذہبی فرقہ واریت ،گروہ بندی ،نسلی و علاقائی اختلافات ،لسانی عصبیت ،دہشت گردی جیسے رونما ہونے والے عوامل دیکھ کر ندا مت وشرمندگی کا ہی احساس پیدا ہوتا ہے ۔حکمران طبقہ ،سیاست دان اور مذہبی قائدین نے بھی اپنے سیاسی ،گروہی مفادات کے حصول کیلئے بابائے قوم کی تعلیمات کو محض شہرت کا ذریعہ بنایا ۔اگر ایسا نہ ہوتا تو ابھی تک ملک کے عوام کی اکثریت محرومیوں اور مایوسیوں پر ماتم کناں نظر نہ آتی ۔سیاسی مفادات کے حصول کیلئے ہر نوع کا انتشار ،مذہبی انتشار ،افراتفری،روا داری کا فقدان ،خود کش حملے ،ہر قسم کی دہشت گردی ہمارا منہ چڑا رہی ہے ۔ہم نے ان دریچوں کو وا کرنے کی کبھی کوشش ہی نہیں کی ۔قائد اعظمؒ کا سماجی فلسفہ ،اخوت ،عدل وحکمرانی کے انسان دوست اصولوں سے عبارت تھا ۔انہوں نے دولت مندوں کو اپنا انداز فکر تبدیل کرنے کا مشورہ دیا ۔سرکاری افسروں پر زور دیا کہ وہ ایسی فضا کو جنم دیں ،ایسے جذبے اور لگن سے کام کریں کہ ہر شخص کے ساتھ انصاف ہو سکے اور ان کو اپنا حق مل سکے ۔انہوں نے پر زور انداز میں تلقین کی کہ پاکستان کی سر زمین سے ہر قسم کے استحصال کا خاتمہ کر دیا جائے مگر ہمارے یہاں جاگیر داروں ،سرمایہ داروں ،بیوروکریسی اور کرپٹ سیاستدانوں کی ملی بھگت نے بابائے قوم کے اس حسین خواب کا شیرازہ منتشر کر کے رکھ دیا ۔ قائد اعظمؒ کے آزاد ریاست کا مقصد یہی تھا کہ اس میں ہر شہری کو مکمل آزادی میسر ہوگی۔ہم نے ان کی رحلت کے بعد بالغ نظری ،وسیع القلبی، جمہوری و مذہبی رواداری کو یکسر فراموش کر دیا ۔ جس روشن خیالی ،عصبیتوں سے پاک عوامی حقوق و مفادات کی نگہبانی کا خواب قائد نے دیکھا تھا وہ ابھی تک ادھورا ہے ۔قائد اعظم کی آواز اقلیتوں کے حقوق کے تحفظ کیلئے سب سے طاقتور آواز تھی یہی وجہ ہے کہ قیام پاکستان کے اعلان کے ساتھ ہی ان کے بیانات اور پریس انٹرویوز میں اقلیتوں کے تحفظ کو کلیدی حیثیت نظر آتی ہے۔ایک وقت تھا ہمیں پاکستان کی ضرورت تھی خدا کے فضل و کرم سے یہ خطہ ہمیں مل گیا ۔آج کے دن ہمیں یہ عہد کرنا ہے کہ پاکستان کیلئے اپنے ذاتی مفادات کو ملکی مفادات پر قربان کر دیں گے ۔آج کا دن ہم سے یہ تقاضا کر رہا ہے کہ قائد اعظمؒ کے نظریات کی طرف لوٹ آنے کا عہد کریں ۔اسی طرح ہم اپنے ذمہ بابائے قوم کا قرض ادا کرنے کے ساتھ اپنی ذمہ داریوں سے عہدہ بر آ ہو سکتے ہیں ۔خدا کرے ہم قائد اعظم ؒ کے فرمودات پر عمل کر کے ان کی روح کو سکون پہنچانے کا سامان کر سکیں ۔
یہ اور بات ہے کہ اس پر کوئی چلے نہ چلے
لکیر چھوڑنے والا لکیر چھوڑ گیا
*****