- الإعلانات -

’انڈو امریکن لابیسٹ‘ ۔ شکست خوردگی سے دوچار

قرآن مجید ہدایت کاسرچشمہ انسانی رہنمائی کا واحد ایسا راستہ ہے جسے اختیارکرکے ہم ’حق‘ کو’ باطل ‘کے ساتھ خلط ملط باہم گڈ مڈنہیں کرسکتے اس آفاقی کتابِ مبین میں اصولی ہدایات کے لامحدود پیمانے بابصیرت تفکر کرنے والی عقلوں کے لئے اشارات اور کنایات میں کئی مقامات پر تکرار کے ساتھ موجود ہیں جن میں زندگی کے سبھی شعبوں کاتذکرہ ہے، فی زمانہ چونکہ ابلاغِ عامہ کی بہت بات ہوتی ہے اورابلاغِ عامہ یعنی ذرائعِ ابلاغ میں ’ٹیکنالوجی‘ کی بڑھتی ہوئی ضروریات نے امورِ حیات پر اپنے یقینی غلبہ کو منوالیا ہے ذرا سی ’چِپّ‘میں کیا سے کیا پل بھر میں سما نہیں جاتا دنیا کا ہر ذی نفس نئی سے نئی جدید سے جدید معلومات کا متلاشی ہمہ وقت اپنے کان کسی ’ڈرائیو‘میں اور اپنی آنکھیں کسی ’اسکرین‘ پر جمانے کی تگ ودو میں لگا ہوا ہے دنیا کا چاہے وہ کتنا ہی بڑا کاروبار ہو ایک ہلکی سی ’کلک‘ پر جاری وساری ہے دنیا کے لئے جہاں یہ ایک نعمت وہیں پر دنیا کی بااثر اور مالدار قوموں نے اپنی بیش بہا دولت کے خزانوں کے منہ کھول کر ذرائع ابلاغ کے اِسی ’کِلک‘کو اپنے مکمل قبضہ میں رکھنے کے لئے کیا کچھ نہیں کیا ذرائع ابلاغ کے اِس منہ زور گھوڑ ے کی لگام کی کھینچا تانی میں ایک دوڑ سی لگی ہوئی ہے صحافی بک رہے ہیں دانشور خرید ے جارہے ہیں دنیا کے ہر خطہ کے صحافیوں کی کھیپ بلکہ اخبارات کے مالکان تک بکتے چلے گئے ،میڈیا کاکنٹرول بڑی طاقتوں کی خفیہ ایجنسیوں کے ہاتھوں میں آگیا اور پھر خیر سے ترقی پذیر ممالک خصوصاًمسلم دنیا سمیت دنیائے اسلام کے واحد ایٹمی ملک پاکستان تو اُن کا ہدف بن چکا ہے، یہی وجوہ ہے کہ اس ملک میں خود ساختہ دانشور بنے پھرنے والے کس کس کا یہاں نام لیا جائے ایک سے بڑھ کر ایک کئی چہرے رکھنے والے صحافی کئی نقابیں پہنے جن کی شناخت نہیں ہوتی ‘لبرل ہیں تو وہ موجود’اعتدال پسند ہی تو وہ ہی ہیں وہ کیا ہیں نہیں ؟ انسانیت کا درس دیتے ہوئے انسانی حقوق کی قلابیں ملاتے ہوئے انسانیت کی وہ تذلیل بھی کرتے ہیں اور انسانی حقوق کو غصب کرنے والوں کے قصیدے بھی اُن کی زبانی سن لیجئے، مگر حق اور انصاف کی وہ بات نہیں کرتے بس یہیں سے اْن کی شناخت ہمیں قرآن کریم کے عمیق گہرے مطالعہ سے ملتی ہے، اسی لئے کل سے زیادہ ضرورت آج ہے۔
ہم پاکستانیوں کو قرآن حکیم کو باترجمہ پڑ ھنے کی‘ قرآن پاک نے جس طرح ‘دوغلے’ بہروپیوں کو بے نقاب کیا ہے اْن کے اندر چھپے ہوئے عناد اور تعصب پر پڑے پردوں کو کھینچا ہے یہ قرآن کریم کا بڑا کرم ہے کہ اب دوست دشمنوں کی تمیز قرآنِ پاک پڑھنے اور سمجھنے والوں باآسانی ہوسکتی ہے قرآن حکیم کے چھٹے سورہ الانعام کی ایک سوبانوے آیت مبارکہ کے آخری حصہ میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ‘اور جب بات کہو انصاف کی کہوخواہ معاملہ رشتہ داروں ہی کا کیوں نہ ہو’ ایک حدیث مبارکہ فرماتے ہیں نبی کریم ﷺ ‘ میرے رب نے مجھے حکم دیا ہے کہ غضب اوررضا دونوں حالتوں میں انصاف کی بات کہوں’ قرآن پاک پڑھنا ثواب ‘ سمجھ کر پڑھنا مزید ثواب قرآن پاک پر عمل پیرا ہونا ثواب کے بلند درجات پر فائز ہونا ہے اسی طرح سے پروردگارعالم سورہ المائدہ کی دوسری آیت مبارکہ کے آخر میں ارشاد فرماتا ہے’جوکام نیکی اور خدا ترسی کے ہیں اْن میں سب سے تعاون کرو اورجوگناہ اور زیادتی کے کام ہیں اْن میں کسی سے تعاون نہ کرو‘‘قرآن پاک اور حدیث کے حوالے سے بین السطور تذکرہ آج یوں ضروری یہاں پیش آیایہ ہر صاحب قلم کی ذمہ داری بھی ہے جس کے دل میں اپنے معاشرے کے تحفظ اور بقاء کا درد ہمہ وقت رہتا ہے زیادہ تمحید کیا کی جائے یہی مقامِ فکرہے ہمارے معاشرے کے حوالے یقیناًاور بلاشبہ غور طلب مقام ہے کچھ ژولید ہ فکر ‘ آلودہ نظر‘ اور بدبودار اورپراگندہ مہیب رویوں کے آسیبوں نے اپنی اَن دیکھی بلاؤں اور آفتوں کے فکری وذہنی اندھیروں کے حصار میں قوم کو گمراہ کرنے کے لئے جھوٹ کی دنیا بسانی شروع کردی ہے۔
یہ بڑے پْرفتن منصوبے ہیں جنہیں بروئے کار لاکر حقائق کومغلوب اور باطل پرست سیاسی عقائد کو دوام بخشنے کی مذموم کوششیں ہورہی ہیں ابتداء میں قرآنی آیات کے ترجمہ میں یہی عرض ہوا ہے کہ ‘بات’ تو کررہے ہیں گھوما پھرا کربات کرتے ہیں لگتا ہے وہ عوام کے مفاد میں ‘ معاشرے کی رہنمائی کی بات کررہے ہیں جبکہ اصل میں اُن کا منتہاٰ اور مقصود ’اسٹیٹس کُو‘ کو دوام بخشنا ہے یوں وہ مگر ‘انصاف کی بات’ نہیں کرتے اُن کی باتوں میں واضح کجی صاف نظرآتی ہے جبکہ قرآن پاک کا واضح حکم ہے کہ ‘نیکی اورخداترسی میں’ باہم تعاون کرو اور ‘گناہ اور زیادتی کے کاموں میں’ایک دوسرے کے مددگار نہ بنو’ معاشرے کی تطہیرصفائی اگر ہورہی ہے جنہوں نے قوم کے ساتھ اپنے عہدِ حکمرانی میں نیکی اور خداترسی نہیں کی تو کیا ایسے ماضی کے حکمران ’گناہ و زیادتی‘ کے مرتکب نہیں ہوئے ؟احتساب اِسے ہی کہتے ہیں ملک میں آج اگر احتساب ہورہا ہے تویہ نیکی کاکام ہوا خداترسی کاکام یہی ہے کل کے حاکموں نے ملک کے پسے ہوئے محروم طبقات کے انسانی حقوق کو سلب کرکے اقرباپروری کے جرائم کیئے قومی خزانہ ملک کے پسے ہوئے محروم طبقات کا حق ہوتا ہے، جس پر کل کے حکمران طبقات نے ڈاکے ڈالے ۔بعض انگریزی اخبارات میں کالم نویسی کی آڑمیں امریکا اور سی آئی اے کی اشتراک سے حال ہی میں ’آن ائیر‘ہونے والے ایک نجی میڈیا کے دانشور نے یہ عجب وطیرہ اختیار کیا ہوا ہے ’انڈوامریکن بیانیہ‘کے پیاز کے چھلکے کب تک اتارے جاتے رہیں گے، افسوس ہے کہ ایسوں کو کل کے حکمرانوں سے اچانک ہمدردی پیدا ہوگئی؟یہ جمہوریت کی دہائیوں کے نام پر کھلا ڈاکہ ڈالا جارہا ہے ،اتنی دیدہ دلیری؟ انہوں نے کھلم کھلا ملکی عدلیہ اور ملکی سیکورٹی انتظامیہ پر’تنقید برائے تنقید‘ کی غیر مناسب روش اپنالی ہے۔ایک صحافی یا دانشور کو بعض ملکی حلقے لبرل اورسوشلسٹ تصور کرتے ہیں۔ یہاں یہ سوال پیداہوتا ہے کہ ماضی کے حکمران اپنے کرپشنز کیس عدالتوں میں بھگت رہے ہیں۔موصوف خود جواب دیں کیا نواز شریف اور آصف علی زرداری طبقات کا شمار ملک کے مظلوم ترین طبقات میں ہوتا ہے؟ پاکستان کی جمہوریت کی نمائندگی کی واحد شناخت کیا نواز شریف اور آصف علی زرداری کی شکلوں میں باقی ہے؟ ماضی کے کرپشن زدہ حکمرانوں کو عدالتوں میں بلایا جائے تو ملک کی جمہوریت ڈگمگا جاتی ہے؟ معروف صحافتی انداز کے برخلاف انداز ہے آپ کا۔ آپ اپنے تجزیوں اورتبصروں میں حق پر باطل نظریات کی قلعی کیسے چڑھا سکتے ہیں ؟ابھی انصاف ہونا باقی ہے ماضی کے حکمرانوں کو عدالتوں میں صفائی پیش کرنے دیجئے ، ایسی کیا جلدی ہے۔
تحریک انصاف کی موجودہ حکومت جمہوری فیصلے کرنے میں کوئی ‘ڈکٹیشن’ نہیں لے رہی، جمہوریت کو کسی جانب سے خطرہ لاحق نہیں ہے ملک کا کوئی ادارہ دوسرے آئینی ادارے کے فرائض میں دخل اندازی نہیں کررہا ہے۔ دنیا کی معروف اور معتبر جمہوریتوں کی طرح پاکستان کی جمہوریت رواں دواں ہے پائیدار بنیادوں پر مستحکم ہورہی ہے، قومی خزانے میں آئے روز پکڑی جانے والی میگا کرپشنز کے احتساب میں جمہوریت کے ‘نام نہاد خطرے’ کی خدارا دہائیاں نہ دیں مہربانی ہوگی آپ کی، اس لئے کہ عالمی سطح پر کرپشن سے پاک جمہوری ترقی یافتہ پاکستان کا چہرہ اب اورزیادہ کھل کر متعارف ہونے لگا ہے ۔پاکستان کے روشن جگمگاتے ہوئے اِس جمہوری چہرے کو دیکھیں آپ کی ‘یکی رنگی تثلثی ٹیم’ یہ سب محسوس کیوں نہیں کررہی ہے؟ پاکستان سفارتی تنہائی سے نکلتا جارہا ہے ‘برطانیہ نے پاکستان کے ساتھ اپنا فلائٹ آپریشن شروع کرنے کا اعلان کردیا ہے۔ آپ امریکا کو سامراج کہتے تھے آپ کا وہ سامراج کہہ رہا ہے کہ افغانستان سے نکلنے میں سوائے پاکستان کے کوئی اور ملک اُس کی مدد نہیں کرسکتا ’انڈوامریکن لابسٹ‘اس موقع اگر زچ ہوئی ہے تو اُسے ذرا اپنے گربیانوں میں خود جھانکنا ہوگا ۔
*****