- الإعلانات -

بابا نانک کی مہاراج اور سکھ مسلم دوستی (2)

مشہور مورخ سوہن لعل بٹالوی اپنی تالیف عمدۃالتواریخ دفتر اول کے ص 13پر رقمطراز ہیں
’’ در مکہ معظمہ تشریف آورند ،زیارت آں مکان تلطف نشان و انواع انبساط و اصناف نشاط و گوناں گوں فرحت والاف مسرت حاصل ساختند ۔باساکنان آں جا مباحثہ و مناظرہ در باب معرفت و وحدانیت بدلائل و براہین ایں متصلہ موافق قانون ایں فیہ عالیہ علمایان ظہور آمدند ‘‘ص 12دفتر اول عمدۃالتواریخ
ترجمہ : گورو نانک جی ،مکہ معظمہ تشریف لے گئے ۔وہاں جا کر اس مقدس مقام کی زیارت کی جو اﷲ تعالیٰ کی مہربانی کا نشان ہے اور اس طرح مختلف قسم کی خوشیاں اور قسم قسم کا سرور اور رنگا رنگ کی فرحتیں اور ہزار ہزار مسرتیں حاصل کیں اور علمائے اسلام کے بلند پایہ گروہ کے طریقہ پر وہاں کے لوگوں سے معرفت الٰہی اور توحید باری تعالیٰ کے اہم مسائل پر دقیق دلائل اور مشکل براہین کے ساتھ تبادلہ خیالات کیا۔تلونڈی رائے بوئے ،جو گوردوارہ جمنستان ،ننکانہ سے مغرب جنوب میں ایک ’’بھڑ‘‘ کی شکل میں موجود ہے بہت بڑی شہری ریاست تھی اور علوم و فنون کی وہاں کئی درسگاہیں تھیں جن سے بابا جی نے عربی اور فارسی زبان میں کی مکمل تعلیم پائی کیونکہ مکہ معظمہ اور بغداد میں جس زبان میں تبادلہ خیال ہوا وہ عربی اور فارسی زبانیں ہی ہو سکتی ہیں ۔ویسے بابا جی پنجابی سنسکرت اور متحدہ ہندوستان میں بولی جانے والی کئی اور زبانوں پر عبور رکھتے تھے جو ان کی لسان دانی کی دلیل ہے مگر ایک بات واضع ہے کہ آپ کی عقیدتوں کا مرکز پیغمبر اسلام جناب محمد مصطفی صلعم کی ذات تھی چنانچہ مشہور بھارتی سکالر ڈاکٹر تارا چند کو اعتراف کرنا پڑا کہ It is clear that nanak took teh prophet of Islam as a model and his teaching was naturly deeply coloured by this fact -pp169: influence of Islam on Indian culture
یہ ایک واضع حقیقت ہے کہ گورو نانک جی مہاراج پیغمبر اسلام صلعم سے بے حد متاثر ہونے کی وجہ سے انہوں نے اپنے آپ کو ان کے رنگ میں پوری طرح رنگین کر لیا ۔مشہور بھارتی فلسفی بنارس یونیورسٹی کے رہ چکے وائس چانسلر اور بھارت کے سابقہ صدر ڈاکٹر ایس رادھا کرشنن اس کی مزید وضاحت یوں کرتے ہیں ’’ گورو نانک جی اسلام کے مسئلہ توحید سے بے حد متاثر تھے اور انہوں نے بت پرستوں کو بہت پھٹکارا ۔خدا تعالیٰ واحد یگانہ ہے اور وہ پیار بھرا انصاف کرنے والا ہے اور نیک ہے غیر مجسم ہے اور غیر محدود ہے نیز عالم کائنات کا خالق ہے اور پیار اور نیکی کی پرستش چاہتا ہے ۔(ریاکاری اسے پسند نہیں) یہی عقیدہ سکھ دھرم میں مقدم ہے ۔ص 19: گورو نانک ،جوت تے سروپ
ہندی ساخت اور ادب میں بھی بابا جی مہاراج کے بارے میں انہی خیالات کا اظہار کیا گیا ہے ۔چنانچہ ایک مشہور ہندی سکالر لکھتے ہیں کہ گورو نانک (جی ) مسلمان بھاؤ ناؤں پریا پت پر بھاوت معلوم ہوتے ہیں ‘‘ ص 84:ہمارا ہندی ساہت اور ہندی پریوار ،اسی کتاب میں وہ مزید رقمطراز ہیں کہ
’’ نانک(جی) کا مسلمانوں کی اور ادھک جھکاؤ تھا ۔۔۔لیکن کہیں کہیں تو نانک(جی) قرآن(مجید) ہی کے شبدوں کا پریوگ کر بیٹھتے ہیں جیسا کہ پرماتما کا (کوئی) دوسرا ساتھی نہیں ‘‘ص85:ہمارا ہندی سیاست اور ہندی پریوار یہی وجہ ہے کہ ہندی سکھ سکالر اس بات کا برملا اظہار کرتے ہیں ’’ اسلامی صوفی فقیروں نے گورو نانک جی کے دل پر بہت گہرا اثر ڈالا تھا ۔صوفی جیون اور سکھی مارگ میں متعدد باتیں مشترک ہیں ۔ گورو نانک جی کی تعلیم اور صوفی مذہب ایک ہی شکل میں ہیں ‘‘ ص 147: گورو مت درشن
اس کے برعکس ہندو دھرم کے بارے بابا کیا سوچتے تھے اور سکھ دھرم اس کے بارے میں کیا وچار رکھتا ہے اس کا اندازہ اس سے بخوبی ہو سکتا ہے ’’ گوربانی میں سب سے زیادہ ہندو مذہب کا رد ہے ۔ہندوؤں کے توہمات اور رسومات کی لاگ سے بچانے کیلئے بہت اپدیش ہے ‘‘ص 257: سکھ قانون
ہندو دھرم کی بنیاد ذات پات نیچ اونچ اور بت پرستی پر ہے ۔گورو جی نے ذات پات کے سارے بت ایک ٹھوکر سے زمین بوس کر دیے ۔تمام ہندووانہ رسوم کا کھنڈن کیا ۔ہندو سے دوستی کو کوڑ قرار دیا اور اس کا نتیجہ بھی کوڑ ہی ہے چنانچہ آپ فرماتے ہیں
نال کراڑاں دوستی کوڑئے ،کوڑ ہی پاء
مرن مرن جاپے مولیا آوے کتے تھا ، ص993کلام نانک ڈاکٹر جیت سنگھ سیتل
ان واضح تعلیمات کے باوجود بابا نانک جی اور ان کے جانشین گورو صاحبان کی وچار دھارہ کو گورو صاحبان کے جیون میں بگاڑنے کی کوشش کی گئی چنانچہ مشہور سکھ سکالر پروفیسر پریت سنگھ ببانگ دہل اقرار کرتے ہیں کہ اسیں جان دے ہاں کہ گورو صاحبان دے جیوندے جی جاں پچھوں گورو منڈل دے اندر وار کئی سنپر داواں نے اپنے گھس مسے خاکے الیکے۔کیہ ایہہ گورو مت وچ واپر رہے کسے جمود وردھ بغاوت دے سوچک بن جاں جمود کارک تے اتیت مکھی شکتاں دے سوچک؟ بھائی گورداس ،ہور سب سکھ سکھ سیانیاں نے رہت نامیاں نے گورو منڈل دے اندر سر چکن والے سبھ د۔متاں دا کھنڈن تے ورد کیتا ہے ایتھوں تک اونہاں نا’’ روٹی بیٹی دی سانجھ توں وی ورورجیا ہے ۔ ایس لئی سکھ ودواناں پرتی میری بنیتی ہے کہ سکھ منڈل دے گھیرے دے اندر دے د۔متیا ں دی رچناں نوں اچھی طرح در ول کے دسن گیکہ ایس وچ کیج کتھے ہے ؟ کیہہ ایہہ سدھانت کر کے گتی ۔رودی سی جاں ایس وچ ہور ’’ اون‘‘ سی ص 480: کل تارک دراصل یہی ’’اون‘‘ سکھی کو اب تک نقصان پہنچاتی آ رہی ہے جس کی ایک مثال سکھ مسلم دوستی ہے جو قدرتی اور گورو نظریات کے مطابق ہے ۔