- الإعلانات -

’’واہے گروجی کاخالصہ ۔ واہے گروجی کی فتح‘‘

نومبر1984 میں بھارتی وزیراعظم اندرا گاندھی کو اْن کے گارڈزنے نئی دہلی وزیراعظم ہاؤس میں مشین گنوں سے بھون کر رکھ دیا تھا اس کی ایک معقول وجہ تھی کہ مقتول بھارتی وزیراعظم نے سکھوں کے مذہبی جذبات واحساسات کواس واقعہ سے ایک ماہ قبل بڑی بے رحمانہ سفاکانہ سے کچلا جس کا بھیانک نتیجہ یہی نکلنا تھا ممتاز برطانوی صحافی مارک ٹیلی اْن دنوں جب اندراگاندھی کا قتل ہوا نئی دہلی میں موجود تھا اپنی یادداشات میں وہ لکھتا ’ہے کہ اندراگاندھی کے ‘متوقع’قتل کے بعداْسی شام آل انڈیا انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز کی طرف جانے والی مرکزی شاہراہ پر میں نے دیکھا کہ‘ بپھرے ہوئے ہندو’ مختلف ٹولیوں کی شکل میں سکھوں پر ٹوٹ پڑے تھے، نئی دہلی میں آرایس ایس اور وشواہندوپریشد کے جنونی مہلک ہتھیاروں کو لہراتے ہوئے پاگل پن جنونی بنے جہاں بھی اْنہیں کوئی سکھ دکھائی دئیے وہ اْن پر ٹوٹ پڑے اور اْنہیں خاک وخون میں نہلا دیا وہ مقامی پولیس کی پرواہ نہ کرتے ہوئے سکھوں پرموت بن کرٹوٹ پڑے تھے دودن تک نئی دہلی کی گلیوں اہراوں پر سکھوں کا قتل عام ہوتا رہا ہندوغنڈوں کی ٹولیاں سکھوں کو قتل کرتی رہیں اْن کی دوکانیں اورتجارتی مراکز کو لوٹ کرنذرآتش کیا جاتا رہابقول مارک ٹیلی کے کچھ واقعات میں تو مقامی پولیس نے بھی جنونی تندہی سے سکھوں کے قتل وغارت گری میں حصہ لیا اور کچھ مقامات پر اْنہوں نے اپنی آنکھیں بند رکھیں ہندو اس قدر وحشی اوردرندہ بن چکے تھے جو سکھوں باقاعدہ سڑکوں پر ذبح کررہے تھے ایک مقام پر مارک ٹیلی نے سکھوں کے خلاف ہونے والی انسانیت سوز خونریزی نے ‘بٹوارے کے موقع پر جیسے سکھوں نے ریلوے اسٹیشنوں پر مسلمانوں کا قتل عام کیا تھا ایک مرتبہ پھر اْس کی لہورلاتی یادیں تازہ ہوگئی تھیں، آج ہندو ویسی ہی وحشت ناک خونریزی کے مرتکب ہورہے تھے اس شرمناک موقع پر ان موقع پرستوں نے جلتی پر تیل چھڑ کنے کاکام کیا اور ‘ ہندوؤں نے من گھرت اور جھوٹی افواہوں کو دیش بھر میں پھیلانا شروع کردیاکہ ‘مقتول وزیراعظم اندراگاندھی کے قتل پر سکھ قوم کے افراد خوشیوں سے بھنگڑے ڈال رہی ہیں ایسی جھوٹی اورمن گھڑت افواہوں کے نتیجے میں دیش کے اْن علاقوں کے ہندواور سخت اشتعال میں آئے جنہوں نے پرانی دہلی کے سکھوں کے ایک محلہ کا محاصرہ کرکے وہاں انسانیت کا بدترین مظاہرہ کیا ،سکھوں نے گو اْن کا مقابلہ کیا مگر تعداد کم ہونے کی بنا پر وہ لاچار ہوگئے جبکہ ہندوسکھوں کے گھروں میں دیواریں پھاند کر گھس گئے جوان مردوں بزرگوں اور بڑی عمر کی سکھ خواتین کو اْن کی جوان لڑکیوں کے سامنے قتل کیا گیا سکھ لڑکیوں کی اجتماعی بے حرمتیاں کی گئیں اْن کی آبرو لوٹی گئیں، دہلی کے ترلوک پوری محلہ میں تو درندگی کی حد کردی گئی سکھ خواتین کی بے حرمتی کرنے کے بعد اْنہیں زندہ جلادیا گیا ہندو بلوائیوں نے پرانی دہلی کے کئی گورداورے خاکستر کردئیے 2نومبر1984 کو شائع ہونے والے ‘انڈین ایکسپریس’ نے اپنی تواتر رپورٹس میں لکھا ہے کہ ‘ترلوک پوری محلہ’ کی ہولناکیوں پر پردہ ڈالنا انسانیت کی توہین کے مترادف ہے جس کے ذمہ داروں کواب تک نہ توگرفتار کیا گیا نہ کوئی ایف آئی آر درج کی گئی اس علاقہ میں سکھوں کی قتل وغارت گری 30 گھنٹے تک جاری رہی انسانیت کو شرما دینے والی بربریت نما فاک خونریزی کے دوران ‘انڈین ایکسپریس’ کے موجودہ نمائندوں نے سکھوں کی خونریزی کو رکوانے کی اپنی سی حتی الامکان کوششیں کی مگر اْن کی کوششیں بے سود ہی رہیں سکھوں پر گزری اس قیامت نما واقعہ کو 34 برس گزر چکے ہیں سکھ قوم نے اپنے آپ کو بھارتی دیش بھگت ثابت کرنے میں کیا کچھ کرکے نہیں دکھایا لیکن براہمن ہندو قیادت نے دیگر اقلیتوں کی طرح سکھوں پر بھی اپنے دیدہ ودل کے دروازے تقسیم ہند کے موقع پر جیسے بند رکھے تھے یہ سلسلہ مختلف صورتوں میں آج تک جاری ہے کیونکہ مسلمانوں کی طرح سے سکھ بھی ہندومعاشرے اور سماج سے بالکل جد ا قوم ہے جیسے قومیں تاریخی طور پر اپنا ایک مستحکم سماجی رشتہ رکھتی ہیں جن کی اپنی مشترکہ زبان ہوتی ہے مشترکہ خطہ زمین ہوتا ہے مشترکہ اقتصادی زندگی’مشترکہ ثقافت اور مشترکہ ذہنی خصوصیات ہوتی ہیں یہی اجزا ء تو ہوتے ہیں جو قوم کو قوم بناتے ہیں، تقسیم ہند کے بعد سکھ قوم کی شناخت کو ‘ہندوازم’میں ضم کرنے کیلئے نئی دہلی کی ہر مبینہ کوشش بْری طرح سے ناکام ہوئی تو سکھوں کو بھی نئی دہلی نے محکوم بنالیا کیا وہ کامیاب رہے اس سوال کا جواب ہے نہیں بلکہ نہیں بلکہ عظیم تاریخی روایات رکھنے والی سکھ قوم اب اور زیادہ بیدار ہوگئی ہے بھارتی زیر کنٹرل کشمیری مسلمانوں کی طرح اب سکھ غیور قوم بھی بھارتی تسلط کی عیارانہ چالوں کو بخوبی جان چکی ہے سکھ قوم کے افراد اب نئی دہلی کی غلامی کو جْوا اتارپھینکنے کیلئے متحد ہونے پر آمادہ ہوچکے ہیں حال ہی میں پاکستانی حکومت نے ‘کرتارپورہ راستہ’کیا کھولا سکھوں پر واضح ہوگیا کہ تقسیم ہند کے موقع پر اْن کے ساتھ بہت بڑا دھوکہ ہوا تھا جس کے ازالہ کا وقت اب آگیا ہے بھارتی حکومت نے خود ہی اپنی سفاکانہ حرکات وسکنات سے سکھ قوم کونیا راستہ دکھا دیا ہے جس ایک ثبوت بھارتی ملٹری انٹیلی جنس رپورٹ کے اس انکشاف کے بعد سامنے آیا ہے یہ رپورٹ آج کل سوشل میڈیا ہر کوئی دیکھ سکتا ہے جس میں ‘سکھ ریفرنڈم 2020 ‘کے ممتاز لیڈرسردار پتوتھ سنگھ کی باتیں سنی جارہی ہیں اس رپورٹ میں جو اہم باتیں کہی گئی ہیں اْن سے ایسا دکھائی دے رہا ہے کہ اب "خالصتان” کی منزل بھارتی حکومت کو صاف دکھائی دے رہی ہے رپورٹ کے مطابق سکھ فوج میں اب عملا بغاوت کی صورتحال پیدا ہوچکی ہے مکمل تفصیلات جاننے کیلئے سردارپتونگ سنگھ کی گفتگو سنیں وہ کیا کہہ رہے ہیں ’واہے گروجی کاخالصہ واہے گروجی کی فتح‘ کے نعرہ لگا کر وہ کہتے ہیں کہ’’ ہم ریفرنڈم 2020 کی مہم چلارہے ہیں پنجاب کو بھارت کے قبضے سے آزاد کرانے کیلئے’میرے سکھ بھائیوں کیلئے پیغام دیا جارہا ہے کیونکہ 3 دسمبر 2018 کوایک انٹیلی جنس رپورٹ عالمی میڈیا کو ملی ہے جس کے مطابق رپورٹ تیار کرنے والوں نے نئی دہلی کو سفارش بھیجی ہے کہ بھارتی فوج کے ایک ایک سکھ جوان اور افسر کی انٹیلی جنس یکجا کیا جائے تاکہ بھارتی آرمی چیف اور وائس آرمی چیف کو بتایا جائے کیا بتایا جائے کہ جتنے بھی سکھ چاہے افسر ہیں یا سپاہی وہ‘خالصتان تحریک’ حمایت کے بار ے میں اپنی کھلی حمایت کا اظہار کررہے ہیں پھر ایسی صورت میں سب سے خطرناک بات یہ ہے کہ اس بارے میں مذہبی متعصبانہ رویہ اپنا جارہا ہے کہ’’ جتنے سکھ سپاہی ہیں اس وقت بھارتی آرمی میں شامل ہیں اْن کے موبائل اْن کے خاندان کے افراداور جتنے اْن دوست احباب ہیں اْن کی معلومات اکٹھی کرلی جائیں اور اُن کی روزمرہّ کی زندگی کے امور کی کڑی نگرانی کی جائے اب اگر مغربی ممالک میں آباد کروڑوں سکھ قوم اگر آج اپنے سخت احتجاج پر یک آواز اور متحدہورہی ہے تو تعجب کی کیا بات ہے نئی دہلی کی استحصالی انتظامیہ نے سکھ قوم کو آج اس انتہائی مقام پر خود لاکھڑا کیا ہے سو یہ بات اب اور کھل کر عیاں ہوچکی ہے لہٰذا ’آزاد خود مختار خالصتان ‘ بہت جلد ایک عملی صورت میں دنیا کے نقشہ پر نمودار ہونے والا ہے نئی دہلی کو آج نہیں تو کل خود بخود یہ سمجھ آجائے گی کہ ’جو قوم دوسری قوموں کو محکوم بناتی ہے وہ خود بھی آزاد نہیں رہ سکتی‘۔
*****