- الإعلانات -

پھر وہی الزامات ۔ ۔ ۔ ۔ ؟

پاکستانی حکومت ، عوام اور قومی سلامتی اداروں کے خلاف بے بنیاد الزام تراشیوں کی روش اگرچہ مغربی میڈیا کا دیرنہ شغف رہا ہے مگر حالیہ دنوں میں ایک بار پھر اس سلسلے میں کچھ زیادہ شدت آ گئی ہے اور افواج پاکستان اور آئی ایس آئی کے خلاف ایسے ایسے افسانے تراشے جا رہے ہیں جن کا نہ کوئی سر ہے نہ پیر ۔ اسی سلسلے کی تازہ کڑی کے طور پر برطانوی صحافی ” کالوٹا گال “ نے سات فروری کے نیو یارک ٹائمز میں یہ گوہر افشانی کی ہے کہ ” پاکستان عالمی دہشتگردی کو فروغ دے رہا ہے ۔ ایک جانب افغانستان میں شدت پسندی کی سرپرستی کی جا رہی ہے“ ۔ دوسری جانب داعش کی ” پیدائش اور پرورش “ کو بھی موصوفہ نے وطنِ عزیز کے کھاتے میںڈالنے کی بھر پور کوشش کی ہے ۔
اس صورتحال کا جائزہ لیتے ہوئے غیر جانبدار تجزیہ نگاروں نے رائے ظاہر کی ہے کہ در حقیقت پاکستانی کے ازلی مخالفین گذشتہ نصف صدی سے بھی زائد عرصہ سے ملکِ عزیز کے خلاف منظم مہم چھیڑے ہوئے ہیں ۔ اور اس کے پسِ پردہ نہ صرف بھارت اور اسرائیل کے حکومتی طبقات ہیں بلکہ امریکہ اور یورپ کے کچھ حلقے بھی اس مکروہ مہم میں حصہ بقدرِ جثہ ڈال رہے ہیں ۔ کار لوٹا گال “ کی حالیہ افواہ سازی بھی اسی سلسلے کا حصہ ہے کیونکہ اگر اس کی ٹائمنگ کا جائزہ لیں تو بہت سے حقائق خود بخود سب کے سامنے آ جاتے ہیں مثلاً اس تحریر کی اشاعت کے لئے عین اس دن کو چنا گیا جب افغانستان ، پاکستان ، چین اور امریکہ کے مذاکراتی عمل کا تیسرا دور اسلام آباد میں جاری تھا ۔ اور ان مذاکرات کا مقصد ہی افغانستان میں بد امنی کا خاتمہ کر کے وہاں امن قائم کرنے کے طریقوں کا عملی جائزہ لینا ہے اور اس ضمن میں ٹھوس اور قابلِ عمل راستہ تلاش کرنا ہے ۔
دوسری جانب عین اسی دن ایک بھارتی عدالت نے ممبئی حملوں کے حوالے سے ” رچرڈ ہیڈ لی “ کا ” بیان “ بذریعہ ویڈیو کانفرنس لیا اور اس حوالے سے آٹھ فروری کو سارا دن بھارتی پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیا اپنی شہہ سرخیوں میں ہیڈلی کے مبینہ بیانات کو نمک مرچ لگا کر نشر کرتا رہا اور اس ضمن میں پاک قومی سلامتی کے اداروں کو ملوث کرنے کی ہر ممکن سعی کی گئی ۔ بھارتی عدالت میں اس نام نہاد مقدمے کے سرکاری وکیل ” اجول نکم(Ujjwal Nikam ) “ بھارت کے تمام ٹی وی چینلوں پر چھایا رہا۔
اس تناظر میں اعتدال پسند قلم کاروں نے رائے ظاہر کی ہے کہ بد قسمتی کی بات یہ ہے کہ مغربی یا بھارتی میڈیا اس جانب ذرا سی بھی توجہ نہیں دے رہا کہ عالمی دہشتگردی کے خلاف حالیہ لڑائی میں پاکستان سب سے زیادہ قربانیاں دینے والا ملک ہے اور دنیا کو دہشتگردی سے پاک کر نے کے لئے پاکستانی قوم گذشتہ چند برسوں میں اپنی 65 ہزار شہریوں اور سیکورٹی فورسز کے جوانوں کی قربانی دے چکی ہے اور یہ سلسلہ ہنوذ جاری ہے اور یہ امر بھی کسی سے پوشیدہ نہیں کہ ماضی قریب میں امریکی وزیر خارجہ ہیلری کلنٹن اس امر کا ایک سے زائد مرتبہ اعتراف کر چکی ہیں کہ پاکستان کو آج جن مشکلات کا سامنا ہے وہ در حقیقت امریکی پالیسیوں کا منطقی نتیجہ ہے ۔
کسے علم نہیں کہ سوویت یونین کے افغانستان پر قبضے کے دوران اگر پاکستان امریکہ کا ساتھ نہ دیتا تو صورتحال قطعاً مختلف ہوتی ۔ تب تو امریکی صدر ” رونالڈ ریگن “ اور دیگر زعماءانھی افغان شدت پسندوں کو ” وائٹ ہاﺅس “ میں بلا کر باقاعدہ دعوتیں دیتے رہے اور انھیں آزاد دنیا اور انسانی قدروں کے ہیرو قرار دیتے رہے مگر بعد میں سارا ملبہ پاکستان پر ڈال دیا گیا ۔ بہر حال توقع کی جانی چاہیے کہ بین الاقوامی سطح پر اس حقیقت کا ادراک زیادہ موثر ڈھنگ سے کیا جائے گا کہ پاک فوج ، حکومت اور عوام عالمی دہشتگردی کے خاتمے کے لئے لا زوال قربانیاں دے رہے ہیں اور اپنی اس جدو جہد میں پاک فوج کے ایک جوان سے لے کر لیفٹیننٹ جنرل کی سطح تک کے افسران جامِ شہادت نوش کر چکے ہیں ۔ ایسے میں ” کار لوٹا گال “ اور اس جیسے دوسرے عناصر کی حقائق سے طوطا چشمی کے رویہ کے پیشِ نظر یہی کہا جا سکتا ہے۔
لو ، وہ بھی کہہ رہے ہیں بے ننگ و نام ہے
یہ جانتا اگر ، نہ لٹاتا گھر کو میں