- الإعلانات -

پی ٹی آئی کے5مطالبات اور سڑکوں پر نکلنے کا اعلان

آج مُلک میں غیرفرینڈلی رول اداکرنے والی اپوزیشن جماعت پی ٹی آئی کے چیئرمین اور اپوزیشن لیڈر عمران خان نے نوازشریف کی حکومت کے خلاف حالیہ پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں کم کرنے سمیت 5مزیدمطالبات کی عدم منظوری کی صور ت میں ایک بار پھر تحریک چلانے اور ایجی ٹیشن کا عندیہ دے دیاہے اَب اِس صورتِ حال میں ایسا لگتاہے کہ جیسے عمران خان المعروف مسٹرسونامی نے یہ تہیہ کرلیا ہے کہ اِنہوں نے اب کی بار نواز حکومت کا پانسہ نہ پلٹ دیاتو عمران خان المعروف مسٹرسونامی اِن کا نام نہیں ہے۔
اگر چہ پی ٹی آئی کے چیئرمین عمران خان نے حکومت کے خلاف ایجی ٹیشن کو حتمی شکل دینے کے لئے مُلک کے چاروں صوبوں سے رپورٹیں جمع کرنے کے ساتھ ساتھ اپنے کارکنا ن کو ہدایات بھی جاری کرنی شروع کردی ہیں کہ وہ نوازشریف حکومت کے خلاف آنے والے دِنوں میں چلائی جانے والی تحریک کے لئے اپنی تیار یوں کو مکمل رکھیں اور جیسے ہی کہاجائے کہ نوازحکومت کے خلاف تحریک اور ایجی ٹیشن شروع ہوگیاہے تو اِس پر فوراََ عمل کرنے کے لئے سڑکوں پر نکل جاو¿ پھر یہ کوئی نہ دیکھے کہ اِس راہ میں کیا کچھ کرناپڑے گا؟، بس کمر بستہ ہوکر حکومت مخالف تحریک کا حصہ بن جاو¿پھردیکھوکیاہوتاہے؟۔
اِس میں شک نہیں کہ پی ٹی آئی کے رہنما عمران خان نے اپنے سب سے بڑے مخالف نوازشریف کی حکومت کے خلاف دوسری مرتبہ پھر بھرپورطاقت سے ایجی ٹیشن کا فیصلہ کیا ہے اور ایسا لگتاہے کہ اگر اِس مرتبہ عمران خان اور اِن کے ساتھی حقیقی معنوں میں ثابت قدم رہے تو عین ممکن ہے کہ یہ نوازشریف کی حکومت کو ہلاکر ہٹانے اور گرانے میں کامیاب ہوجائیں گے ورنہ واپسی کا راستہ تو بندنہیں ہے۔
بہرحال، اِس مرتبہ پی ٹی آئی کے بانی و چیئرمین عمران خان اپنے سب سے بڑے سیاسی مخالف نوازشریف اور اِن کی حکومت کے خلاف انتہائی دانشمندی اور لومڑی جیسی چالاکی اور ہوشیاری کے ساتھ ایجی ٹیشن کرنے اور تحریک چلانے کا ارادہ رکھتے ہیں،پچھلی مرتبہ تو عمران خان کا نوازشریف حکومت کے خلاف 120کا دیاگیادھرنابہت ساری اندرونی اور بیرونی وجوہات کی بناپر نوازشریف کی حکومت کو ہٹانے میں ناکام ثابت ہواتھامگر اِس بار قوی اُمیدکی جاسکتی ہے کہ عمران خا ن ماضی کی غلطیوں اور کوتاہیوں سے ضرورسبق سیکھیں گے اور اپنے آج کو کل سے بہتر بناتے ہوئے نواز شریف کی حکومت کے خلاف ایجی ٹیشن کی جیسی تحریک چلائیں گے وہ پہلے ہی دن سے حکومت کے وجود پر کاری ضرب ثابت ہوگی۔
جیسا کہ اِس مرتبہ پی ٹی آئی کے چیئرمین عمران خان( المعروف مسٹرسونامی) نے خالصتاَ عوامی مسائل جن میں بالخصوص حالیہ پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میںمزیدکمی، گیس پرٹیکسز کا خاتمہ، ماضی و حال کے پی آئی اے واسٹیل ملز جیسے دیگر قومی منافع بخش اداروں کی نجکاری نہ کرنے، سرکاری ملازمین کو تنخواہوں کی بروقت ادائیگی، پاکستان کا(زرداری اور نوازشریف کے ہاتھوں) لوٹا ہواپیسہ بیرون مُلک سے واپس لانے کے لئے پانچ مطالبات پیش کردیئے ہیں اور اِنہیں پاکستانی قوم سمیت دنیا کے سامنے عیاں کرتے ہوئے حکومت کو واضح کیا ہے کہ اگر مطالبات پورے نہ ہوئے اور حکومت نے کسی قسم کی ہیچر مچر کا مظاہرہ کیا اور کسی قسم کی عدم منظوری اور بیزاری کا اظہار کیا تو ہم سڑکوں پر نکل آئیں گے اور پھر فیصلہ وہیں ہوگا “۔
اگرچہ اِس مرتبہ عمران خان کی زبان اور لہجے میں سختی کا تو بہت احساس ہوامگر پھر بھی کچھ نہیں کہاجاسکتاہے کہ نہ جانے کب عمران خان اپنے اِس کہے سے پلٹاکھاجائیں اور اِدھر اُدھر کی چھوڑنے لگیں مگر پھر بھی قوم خاطر جمع ضرور رکھے کہ اِس مرتبہ عمران خان اپنی ذات میں تھوڑابہت تو سنجیدہ ضرورہوں گے اور اَب جس ایجنڈے کو لے کر یہ وزیراعظم نوازشریف کی حکومت کے خلاف ایجی ٹیشن اور تحریک لے کر نکلیں گے اِس میں ثابت قدم رہ کر کامیاب ہوجائیں ورنہ پھر کچھ عرصہ سیاسی کھیل تماشہ رچا کر حسبِ عادت بنی گالہ واپس لوٹ جائیں گے۔
بہرکیف ،آئیں دیکھتے ہیں کہ گزشتہ دِنوں تحریک انصاف کے چیئرمین مسٹرعمران خان المعروف مسٹرسونامی نے ڈیرہ مرادجمالی میں جلسے میں خطاب کے دوران اورکیاکیاکہا؟اِس موقع پر عمران خان کا یہ بھی کہناتھاکہ وزیراعظم چلتے چلتے دستی بم کو ٹھوکرمارتے ہیں نوازشریف کے لئے 2018ئبہت دور ہے تب تک وزیراعظم کا چلنا مشکل ہے، سی پیک کے ذریعے پاکستان کو جوڑنے کا شاندار موقع تھا مگرلوگوں کو دھوکہ دیاگیااور اِسی کے ساتھ عمران خان کا اپنے اِس خطاب میں یہ بھی کہنا اپنے موجودہ وزیراعظم نوازشریف کی حکومت کے طویل سمندر میں طلاطم کے لئے کافی ہے کہ” مسٹرنوازشریف نے نجکاری کے نام پر لوٹ مارکابازار گرم کررکھاہے جواربوں روپے کمیشن ہڑپ کرجاتے ہیں، نوازشریف کے اقتدار کا سورج جلدغروب ہوجائے گااور اپنے مخصوص اور انتہائی تشویشناک انداز سے عمران خان کا اپنے خطاب میں یہ کہنا یقینا ہمارے اِن جمہوریت کے پجاری اور اپنی مطلب کی جمہوریت کی گھٹی کی چاشنی میں تر غیرت مندحکمرانوں کے سینوں کوچیڑتاہو ااِن کے دماغ کے خلیوں میں جاچھپاہوگااوراِن کے جسموں کو ضرور چھلنی کرگیاہوگاکہ”شریف خاندان نے مُلک میں جمہوریت کے بجائے بادشاہت قائم کررکھی ہے، نواز شریف نے مُلک کے غریبوں کی خون پسینے سے کمائی ہوئی قومی دولت جو 200ارب ڈالر ہے اِن 200ار ب ڈالرکو نوازشریف نے بیرون مُلک منتقل کئے اِن کو واپس لاکر مُلک کا قرضہ اتاراجائے“۔
اَب ایسے میں کیا قوم کواِس کا یقین کرلینا چاہئے کہ آج عمران خان جوکچھ کہہ رہے ہیں وہ سب سچ ہے؟؟ مگر کیا اپنے اِس کہے ہوئے اِس سچ پر عمران خان اُس وقت عمل کرواسکتے ہیںجب عمران خان نوازشریف حکومت کے خلاف دوسری مرتبہ تحریک چلانے اور ایجی ٹیشن کرنے کے لئے خود سنجیدگی کامظاہر ہ کریں؟؟ تواِس میں کوئی شک نہیں کہ ایساسوفیصد ممکن ہوسکتاہے کہ مسٹرسونامی یعنی کہ عمران خان نوازشریف کی حکومت کا تختہ پلٹنے میں کامیاب ہوجائیں ورنہ سابقہ 102دنوں کے دھرنے کی طرح عمران خان کی اگلی ایسی ویسی ایں ویں سیاسی حکمتِ عملی ایک بار پھر سیاسی مذاق اور عمران خان کے عمرانی سیاسی لطیفوں کی نظرہوکر نوازشریف کی حکومت کے لئے باعثِ تقویت ثابت ہوگی اور نوازشریف پہلے کی طرح اور زیادہ طاقتور انداز سے سامنے آئیں گے اورعمران خان اپنی رہی سہی سیاسی عزت اور وقار کا اپنے ہی ہاتھوں خود جنازہ نکال دیں گے۔ (ختم شُد)