- الإعلانات -

پاکستان دشمنی کی بد طینتی میں مبتلا

برطانوی صحافی کارلوٹا گال نے پاکستان کے خلاف اپنے ازلی ذہنی تعصب کا اظہار کرتے ہوئے 6 فروری کو نیویارک ٹائمز میں اپنی ادھوری ‘ نامکمل معلومات پر مبنی ایک کالم جن بوگس‘ تصوراتی شرپسندی کے افسوس ناک مندرجات پر لکھا ہے کوئی بھی با شعور اور غیر جانبدار صاحب ِ قلم اُس کا یہ کالم کو پڑھنے کے بعد اپنی ہی پہلی نظر میں فوراً اندازہ لگا لے گا کہ یہ برطانوی صحافی مس گال جو اپنے آپ کو 9/11 سے لیکر آج کے افغانستان کے ماضی وحال اور مستقبل کی اپنے طور پر ثقہ بند یا جانکار دیدہ ور دانشور سمجھتی ہے اُس نے اپنے کالم میں پاکستان پر ایک ایسا بے تکا ‘ من گھڑت اور سراسر جھوٹا الزام عائد کیا جسے ہم پاکستانی کیا جھٹلائیں؟ ہمیں یقین ہے کہ اس کا کالم مغربی اور بعض امریکی حلقوں نے بھی ناپسندیدگی کی نظروں سے ہی دیکھا ہوگا ،مس گال نے اپنے کالم کی شہ سرخی میں دنیا کو یکدم اور بغیر کوئی دم لیئے گمراہ کرنے کی جو گھناونی اور شرمناک کوشش کی یعنی اُس کا یہ لکھنا کہ ”پاکستان :عالمی جنونی مذہبی جنگ کا حامی ہے‘ ‘ یہ دنیا کا سب بڑا سفید جھوٹ ہے، دنیا کے کسی بھی خطہ کا کوئی بھی صاحب ِ علم غیر جانبدار شخص جسے جنوبی ایشیا سمیت ایشیا میں تیزی سے فروغ پاتے امن وترقی کے اقدامات پر دلچسپی ہوگی وہ ضرور اِس حقیقت سے انکار نہیں کرسکتا کہ 9/11 کے بعد سے جہاں افغانستان نے تباہی وبربادی دیکھی وہاں پاکستان کی معاشرتی وثقافتی اور تہذیبی انفراسٹر یکچر کی بھی بنیادیں ہل گئیںپورا ملک عالمی سازشوں کے نتیجے میں دہشت گردی کے شکنجے میں جکڑتا چلا گیا پاکستان نے 9/11 کے بعد امریکی اور نیٹوافواج کے افغانستان میں اترنے کے بعد سے اب تک جس وحشیانہ دہشت گردی کا تن ِ تنہا مقابلہ کیا دنیا میں شائد ہی اِس کی کوئی ایک مثال کہیں دیکھنے کو ملے گی یہ بڑے افسوس اور ستم ظریفی کا مقام ہے کہ مس گال نے ایک عورت ہوتے ہوئے پاکستانی عورتوں کی اجڑتی ہوئی گودوں کا لمحہ بھر بھی کوئی خیال نہیں کیا وہ خیال کرتی بھی تو کیوں ؟ ’کارلوٹا گال ‘ یہ وہ برطانوی خاتون صحافی ہیں، جنہوں نے اپنے پیشہ کی حرمت وتقدس کا بھی ذرا احترام نہیں کیا اپنی ایک کتاب جس میں یہ فرماتی ہیں کہ’ 9/11 کے بعد سے اب تک امریکا بہادر افغانستان میں ایک ’غلط ‘ دشمن کے ساتھ نبرد آزما رہا ‘ اُن کا واضح اشارہ پاکستان کی طرف ہی تھا کہ امریکا کو اپنے دشمن پاکستان میں تلاش کرنے چاہیئے تھے، مطلب یہ کہ افغانستان میں اُس کا کوئی دشمن نہیں تھا مس گال کے سوچنے سمجھنے اور اُن کی تہہ تک پہنچنے کے متعصبانہ طرز ِ عمل ہمیں یہ نتیجہ اخذ کرنا پڑے گا، مس گال پاکستان کو کسی اور کی نظر سے نہیں بلکہ بھارتی استبلیشمنٹ کی نظروں سے دیکھنے کی غالباً عادی معلوم ہوتی ہیںمس گال کی لکھی گئی کتاب سے اُن کے حالیہ مضمون تک ہمیںاُن کے اندرونی مذموم عزائم کو جاننے بغیر یہ کہتے ہوئے کوئی عار محسوس نہیں ہورہی ہے کہ وہ یہودیوں کے میڈیا کے سرکش گھوڑوں پر سوار افغانستان میں امریکا کی ہار ہوئی جنگ پر ’بدگمانیوں ‘ کی پلاسٹک سرجری کا کام کرنے کی ذمہ داری اُٹھا ئے لگتی ہیں 6 فروری کو نیویارک ٹائمز کے اپنے کالم میں’کارلوٹاگال‘ نے تیونس میں افغان صدر مسٹر غنی کے دئیے گئے ایک ٹی وی انٹرویو کو اپنی تحریر کا بنیاد ی نکتہ بنایا جس انٹرویو میں مسٹر غنی نے تاش کے پتوں کی طرح اپنے ہی ادا کیئے ہوئے لفظوں کو اور اپنی پیشانیوں کے تیوروں کو بارہا تبدیل کیا ہمارے لیئے یہ باتیں یقینا اب ایک ماضی بن چکی ہیں ، دنیا کو اب تو سمجھ لینا چاہیئے چونکہ مسٹر غنی اور اُن کی کابینہ سمیت افغان انٹیلی جنس ایجنسی کے فکرونظر کے رویوں میں تبدیلی آچکی ہے یقینا اِن نازک اور حساس لمحوں میں جبکہ دونوں طرف سے افغان طالبان کے مذاکرات غالباً اِسی ماہ کرانے پر کچھ مثبت کوششیں کی جارہی ہیں، ہم اپنے اِن سطور میں افغان قیادت کو ایک جانب رکھتے ہوئے خاص طور پر مغرب‘ امریکا اور بھارت پر اپنی توجہ مزکوررکھیں گے کہ وہ مغربی میڈیا میں پاکستان اور افغانستان کے مابین ہونے والے مذاکرات کو سبوتاژ کرنے کی اپنی ایسی مذموم مہم جوئیوں سے باز رہیں انسانیت نوازی ‘ امن پسندی کے نام پر جنوبی ایشیائی ممالک کے یقینی امن کی خاطر دشمنی پر مبنی مفروضات گھڑ کر ایسے مضامین اور تحریریں شائع کروانے سے اپنے آپ کو علیحدہ کرلیں، جن کی اشاعت کے باعث دنیا بھر میں پاکستان کی بدنامی ہو،کارلوٹا گال کا تازہ ترین مضمون اِس کا منہ بولتا ثبوت ہے ‘پاکستان گزشتہ کئی برسوں سے دہشت گردی چاہے وہ کسی لبادے میں ہو اُس کی جڑ بیخ کو اکھاڑپھینکے کی جنگ میں مصروف ِ عمل ہے، دہشت گردی کے خلاف ایک ایسی جنگ‘ جسے دنیا بھر میں تحسین وآفرین کی نظروں سے دیکھا جارہا ہے، پاکستان تو خود افغانستان میں ہونے والی دہشت گردی کا بھی خاتمہ چاہتا ہے، تاکہ پاکستان اور افغانستان کے عوام کے مابین باہمی اعتماد کی فضاءہموار ہوسکے، پاکستان اور افغانستان دونوں پڑوسی ملک باہم یکسو ہوکر سرحدوں کے دونوں جوانب امن کی یقینی فکر اور ماحول کو پروان چڑھانے کی سعی و جدوجہد میں اپنا اپنا رول بخوبی ادا کریں دنیا کا کوئی ملک کوئی طاقت پاکستان کو ڈکٹیٹ کرئے نہ ہی افغانستان کو‘ یہ دو نوں قومیں آزاد و خود مختار اقوام کی مانند بین الااقوامی حیثیت کی حامل ہیں’ ’ امریکا نے افغانستان میںغلط دشمن کا انتخاب کیا‘ ‘ اُس موقع پر جبکہ امریکی اور نیٹو کے فوجی دستوں کی واضح اکثریت افغانستان سے اپنا بوریا بستر بغل میں دبائے نکل گئیں مس کارلوٹا گال کا یہ کہنا کیا معنیٰ؟ یعنی یہ سمجھیں کہ 2001ءسے2014ءتک امریکا اور نیٹو افواج ’سانپ ‘ کی لکیر ہی پٹتے رہے، جبکہ اصل دشمن کہیں اور تھا ؟دراصل اِس میں قصور مس گال کا بھی نہیں ‘جس سرزمین سے اُن کا خمیر اُٹھا ،سارا قصور اُس سامراجی واستبدادی ذہنیت کا ہے اُس سرزمین کا ہے ماضی میں جسے ہم ’فرنگی سامراج‘ کے نام سے پکارا کرتے تھے افغانستان کے اِن سنگلاخ و سیسہ پلائے درّوں میں برطانیہ نے کم ذلت وخواری کی مٹی نہیں چاٹی دنیا کے کمزور مگر قدرتی دولت سے مالا مال خطوںمیں اپنا ’یونین جیک ‘ لہرانے کی آروز میں نجانے کہاں کہاں برطانیہ نے شکست و خواری کا سامنا نہیں کیا جیسا کہ افغانستان میں آج ہورہا ہے ،جن کا خمیر افغانستان سے اُٹھا نہ پاکستان کی سرزمین سے اُن کا کوئی تعلق نہیں‘ اُنہیں کوئی حق نہیں دیا جاسکتا کہ وہ اِن دونوں پڑوسی مسلم ممالک پاکستان اور افغانستان کے درمیان غلط فہمیاں اور بدگمانیاں پیدا کریں ،مغربی دنیا کو یقینا اِس خبر نے چونکا دیا ہوگا کہ افغان حکومت اور طالبان کے درمیان مذاکرات کرانے پر 4 ملکی گروپ کا اتفاق ہوچکا ہے اِیسے نازک اور حساس مو اقع پر طالبانزیشن کے فروغ کے نام پر کارلوٹا گال جیسی مسلم دشمنی کی طینت والی صحافیوں کے طنز کے تیروں سے چھلنی کردینے والے مضامین شائع کروانا یہ کسی کو زیب دیتا ہو یا زیب نہ دیتا ہو مگر ہم یہ جانتے ہیں کہ سی آئی اے اور مغربی ایجنسیوں سمیت بھارتی خفیہ ایجنسی ’را‘ کے پیٹوں میں پڑنے والے مروڑوں کا علاج کارلوٹا گال جیسے نسلی تعصب کے پیکروں میں ڈھلے قلمکاروں کی تحریروں سے ضرور ہوتا ہوگا ۔