- الإعلانات -

اقلیتوں کیلئے خطرناک ترین ملک

اقلیتوں اور خاص کر مسلمانوں کے لئے بھارت ایک انتہائی مشکل ملک بن گیا ہے۔بھارتی معاشرے میں جڑ پکڑتی انتہاپسندی کی وجہ سے مسلمانوں کے خلاف تشدد کے واقعات تواتر سے سامنے آتے رہتے ہیں۔ تشدد کا نیا واقعہ ریاست کیرالہ میں پیش آیا جہاں تئیس سالہ شبیر موٹر سائیکل پر اپنے دوست کے ساتھ جارہا تھا کہ اچانک چار غنڈوں نے انہیں روک کر ڈنڈوں سے مارنا شروع کر دیا۔نوجوان نے بھاگنے کی کوشش بھی کی لیکن وہ کامیاب نہ ہوسکا، خونی ہندو انتہاپسندوں نے اسے سڑک پر الٹا لٹا کر سر پر ڈنڈوں کی بھرمار کرتے ہوئے بے دردی سے قتل کردیا۔درندگی کا یہ ہولناک واقعہ کیمرے میں محفوظ ہوکر سوشل میڈیا پر پھیل گیا جسے اب تک لاکھوں افراد دیکھ چکے ہیں۔اقلیتوں کی ایک تازہ جھلک گزشتہ ماہ کے آخری ہفتے میں دیکھنے کو ملی ہے جب ایک دلت طالب علم نے حیدر آباد یونیورسٹی انتظامیہ کے رویے پر خود کشی کرلی۔اس پر نامور ادیب و شاعر اشوک واجپائی نے حیدرآباد سنٹرل یونیورسٹی کی جانب سے انہیں دیئے گئے ڈی لیٹ اعزاز کو مخالف دلت رویہ کے خلاف بطوراحتجاج واپس کر دیا ہے ،اشوک واجپائی نے کہا کہ اگرچہ وزیراعظم نریندر مودی نے روہت ویمولہ کی خودکشی پر افسوس کا اظہار کیا لیکن انہوں نے دلت مسئلہ کی اہمیت کو کم کیا ہے۔انہوں نے کہا کہ ملک میں عدم رواداری کی سطح کافی بڑھی ہوئی ہے۔ جئے پور لٹریری فیسٹیول کے موقع پر خطاب کرتے ہوئے اشوک نے کہا کہ عدم رواداری کی سطح کافی بڑھ اور پھیل گئی ہے۔ اس ضمن میں دلت طالب علم کی خودکشی کے واقعہ کا نمایاں مثال ہے۔ اسی طرح ہندوستان میں خواتین پر تشدد کے حالیہ واقعے میں ریپ کا شکار ایک کم عمر لڑکی کو ہسپتال میں علاج کے دوران دوبارہ ریپ کا نشانہ بنائے جانے کا انکشاف ہوا ہے۔اے ایف پی کے مطابق 15 سالہ لڑکی نے پولیس کو بتایا کہ اسے ہسپتال کے سیکیورٹی گارڈ نے بھی ریپ کا نشانہ بنایا ڈلا ہے۔مذکورہ لڑکی کو ریاست جھارکنڈ کے شہر جمشید پور کے ہسپتال میں علاج کی غرض سے داخل کیا گیا تھا۔ اس سے قبل لڑکی نے پولیس کو بتایا تھا کہ شہر کے مضافات میں ا±سے اس کے ایک کم عمر پڑوسی نے ریپ کا نشانہ بنایا تھا جس کے بعد علاج اور بحالی کے لیے لڑکی کو ایم جی ایم ہسپتال میں داخل کروایا گیا۔ ہندوستان میں خواتین اور لڑکیوں کے ساتھ جنسی تشدد کے واقعات میں گزشتہ کئی سالوں میں اضافہ دیکھا جارہا ہے تاہم 2012ءمیں دہلی میں بس میں سفر کے دوران ایک طالبہ کے ساتھ ہونے والے گینگ ریپ اور بعدازاں دورانِ علاج لڑکی کی ہلاکت نے عالمی توجہ ہندوستان میں خواتین پر بڑھتے ہوئے جنسی تشدد کے واقعات کی جانب مبذول کروائی۔ اس واقعے کے بعد ہندوستان بھر میں احتجاجی مظاہروں کا سلسلہ شروع ہوگیا اور حکومت سے مطالبہ کیا گیا کہ ریپ میں ملوث ملزمان کو سخت سے سخت سزا دینے کے لیے قانون سازی کی جائے تاہم ان سب کے باوجود ریپ کے واقعات میں کمی نہیں آئی۔اگر گزشتہ 68برس کا جائزہ لیا جائے تو ثابت ہوجاتا ہے کہ بھارت میں انتہا پسندی کا لیول تیزی کے ساتھ بڑھ رہا ہے۔ بھارت کی بروٹل اکثریت، روز اقلیتوں کی جان کو آئی ہوتی ہے۔جبری مذہب کی تبدیلی بھی معمول کی بات ہے۔ابھی گزشتہ ماہ ہی جھارکنڈ میں ہونے والی ایک ایسی نمائش پرشیوسینا کے غنڈوںنے اس لئے حملہ کردیا تھا کہ جس میں پاکستانی مصنوعات کے سٹال لگے ہوئے تھے۔ ادھر وشوا ہندو پریشد کے رہنما پراوین توگڑیا نے دعویٰ کیا ہے کہ ان کی تنظیم نے گزشتہ دس برس کے دوران ۵ لاکھ سے زیادہ عیسائیوں اور اڑھائی لاکھ سے زیادہ مسلمانوں کو ہندو بنایا ہے۔ توگڑیا نے بھارت میں ہندو مذہب کو بچانے کے لئے گھر واپسی کی مہم جاری رکھنے پر زور دیتے ہوئے کہا کہ ہم ہر سال تقریباً پندرہ ہزار افراد کو ہندو مذہب میں شامل کرتے ہیں۔ انہوںنے یہ بھی کہا کہ ا گر ہندو بھارت میں اکثریت میں رہنا اور اپنے مذہب کوبچانا چاہتے ہیں تو ہمیں لاکھوں لوگوں کو ہندو مذہب میں شامل کرنے کیلئے گھر واپسی کی مہم جاری رکھنا ہوگی۔مذہبی تعصب بھی بھارت کی گھٹی میں پڑا ہے۔مقبوضہ کشمیر میںتو یہ سلسلہ عروج پر ہے۔اس حوالے سے کل جماعتی حریت کانفرنس (گ) کے چیئرمین علی گیلانی نے اگلے روز انکشاف کیا ہے کہ بھارتی فوج نے مقبوضہ کشمیر میں پر اسرار سروے شروع کر دیا ہے جس میں دوسری معلومات کے علاوہ لوگوں سے ان کا مسلک بھی معلوم کیاجارہا ہے انہوں نے لوگوں سے اپیل کی ہے فوج کے سروے میں مسلک کے خانے میں صرف مسلم لکھوایا جائے۔ علی گیلانی نے سروے پر زبردست تشویش اور فکرمندی کا اظہار کیا ہے۔بیان میں کہا گیا کہ بھارت اگرچہ کشمیریوں کے جذبہ آزادی کو ختم کرانے میں کلی طور پر ناکام ہوگیا ہے، البتہ اب وہ ان کو توڑنے کے لئے فرقہ واریت کا ہتھیار استعمال کرنے کے منصوبے پر عمل کررہا ہے اور اس سلسلے میں دلی والے ایک زر کثیر خرچ کررہے ہیں۔ اسلام کے روح سے بے بہرہ مولویوں کو یا تو براہِ راست اپروچ کیا جاتا ہے، یا بالواسطہ طور ان کے ساتھ رابطے بڑھائے جاتے ہیں۔ انہوں نے عوام سے اپیل کی ہے کہ وہ اس قسم کا فارم پ±رکرتے وقت مسلک کے کالم میں صرف لفظ مسلم لکھیں اور حکومتِ ہندوستان کو پیغام بھیجیں کہ فرقہ اور مسلک کے نام پر کشمیریوں کو تقسیم کرانے اور لڑانے کے دن اب گزرگئے ہیں اور آج کی تاریخ میں پوری قوم بھارت کے قبضے کے خلاف یک آواز اور متحد ہے۔ بیان میں انتظامی اداروں پر زور ڈالا گیا کہ وہ فورا سے بیشتر اس عجیب وغریب سروے کے بارے میں وضاحت کریں کہ اس کا مقصد کیا ہے اور کسی شہری کے مسلک کے بارے میں جاننا حکومت کے لئے کیوں ضروری ہوگیا ہے۔