- الإعلانات -

مسلکی منافرت پھیلانے میں ”را“ کا گھنائونا کردار

انڈیا کے ایک خفیہ ادارے کے اعلی افسر انجہانی ایم کے دھرانے ان اپنی ایک کتاب میں لکھا ہے کہ بھارت کی انٹیلی جنس ایجنسی کے ایک اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ پاکستان کو نقصان پہنچانے کا سب سے موثر طریقہ یہ ہے کہ مسلمانوں میں مسلکی اختلافات کے ذریعے آگ بھڑکائی جائے ۔
اس سلسلے میں طے کیا گیا کہ شدت پسند نظریات والے ہندو نوجوانوں پر مشتمل ایک ایسا گروہ تیار کیا جائے جو اس مقصد کے ساتھ انتہائی مخلص ہوں۔ ایسے ہندو نوجوانوں کا جب ایک گروپ تیار ہوگیا تو ان کی ٹریننگ اس طرح کی جانے لگی کہ وہ نہ صرف دین اسلام کے باریک سے باریک نکات سے واقف ہوگئے بلکہ ایک بہترین عالم کی طرح ہر موضوع پر بحث و مباحثہ بھی کر سکتے تھے ۔ ان کی ابتدائی تعلیم و تربیت دہلی میں موجود ایک فارم ہاو¿س پر ایک افسر شیام پروہت عرف مولوی رضوان نے کی۔ انٹیلی جنس کے محکمے میں آنے سے پہلے شیام پروہت ایک انتہاء پسند ہندو تنظیم کا بہت ایکٹو رکن تھا۔ اسے دین اسلام کے متعلق عام مسلمانوں سے زیادہ علم تھا۔ اپنے ایک شاگرد گوتم رے کی ٹریننگ کرنے کے بعد شیام پروھت نے اسے مزید اسلامی تعلیم کیلئے دارالعلوم دیوبند بھیج دیا۔ گوتم رے نے وہاں عام طالبعلم کے روپ میں اسلامی علوم میں قابل رشک مہارت حاصل کر لی۔ خاص طور پر مناظرہ کے میدان میں اس کی مہارت بے مثل تھی ۔دارالعلوم دیوبند کے علماءنے اپنے کچھ علماء کو بریلی کے علماء سے مناظرہ کیلئے بریلی بھیجا۔ ان علماءکے گروپ میں گوتم رے جو کہ اب ایک جید عالم سمجھا جاتا تھا، بھی شامل تھا۔ علماءکا یہ گروپ بریلی پہنچا ۔ مناظرے سے دو دن پہلے ایک رات گوتم رے اپنے اندر کی فطری خباثت سے مجبور ہوکر ایک طوائف کے کوٹھے پر چلا گیا۔ وہ طوائف یہ جان کر حیران ہوگئی کہ مسلمانوں کے نام والا وہ مولوی شخص بغیرختنے کے تھا۔ اس نے جب اس بات کا ذکر اس دلال سے کیا جو مولوی صاحب کو اس کے پاس لایا تھا تو دلال حقیقت جاننے کیلئے مولوی صاحب کے پیچھے چلا گیا۔ یہ جان کر دلال کے حیرت سے ہوش اڑ گئے کہ وہ مولوی صاحب علماءکے اس وفد میں شامل تھے جو دیوبند سے مناظرے کیلئے آیا تھا۔
دلال نے یہ بات جا کر بریلی کے علماءکو بتائی چند گھنٹوں میں یہ خبرہر طرف پھیل گئی کہ دیوبند سے آنے والے علماءکے وفد میں ایک بڑے عالم کے ختنے نہیں ہیںاور وہ طوائف کے پاس بھی گیا تھا گوتم رے تک یہ بات پہنچی تو وہ اسی وقت فرار ہوکر دلی پہنچ گیا۔ اس واقعہ کے بعد انٹیلی جنس چیف نے حکم جاری کیا کہ ایسے مشن پر جانے والوں کے ختنے کروائے جائیں۔
یہ صرف ایک مثال ہے اور صرف بھارت نہیں بلکہ دنیا بھر میں مسلمانوں کے خلاف یہ سازش انتہائی کامیابی سے جاری ہے۔ نواب شطاری کامشہور واقعہ ہے کہ لندن میں ایک بار ان کے ایک انگریز دوست ان کو ایک جگہ پر لے گئے جہاں بہت بڑی تعداد میں نوجوان جن کے سروں پر خوبصورت ٹوپیاں سجی ہوئی تھیں۔ ایک بہت بڑے ہال میں بڑی ہی خوش الحانی کے ساتھ تلاوت قرآن پاک کر رہے تھے۔ کچھ نوجوان ایک قاری صاحب سے سبق لے رہے تھے اور کچھ سبق دھرا رہے تھے۔ وہ صاحب کہتے ہیں وہ بیحد حیران ہوئے اس کے بعد ایک اور ہال میں لے جایا گیا۔ وہاں پر کچھ طلباء آپس میں دینی مسائل پر بحث کر رہے تھے۔ اپنی بحث کے دوران وہ احادیث اور قرآن پاک کے حوالے دے رہے تھے۔ ان کی مدلل گفتگو اور حوالہ جات اتنے متاثر کن ھوتے ہیں کہ وہ صاحب ان کے دینی علم کے اوپر عبور پر اش اش کر اٹھے۔ ان کے انگریز دوست ان کو ایک اور کمرے میں لے گئے۔ وہاں ان کو مختلف فرقوں کے علماء بیٹھے نظر آئے جو آپس کے فقہی اختلافات پر بحث کر رہے ھوتے ہیں ۔ ان کے انگریز دوست نے ان سے سوال کیا کہ کیا آپ ان کو جانتے ہیں یہ کون ہیں؟ وہ صاحب بولے کہ نہیں ۔ تب اس انگریز دوست نے انکشاف کیا کہ یہ سب عیسائی ہیں ان میں سے کوئی بھی مسلم نہیں۔
اس مقصد کیلئے انتہائی ذھین اور انتہائی متاثرکن شخصیت والے خوبصورت نوجوانوں کا انتحاب کیا جاتا ہے ان کو اسلام کے دینی امور کے متعلق ماہر بنایا جاتا ہے اس کے بعدان کو مختلف مکتبہ فکر کے لوگوں میں ایک بہترین عالم دین کے طور پر داخل کر دیا جاتا ہے ۔ یہ مدلل اور خوبصورت گفتگو کے ذریعے مسلمانوں کے آپس کے مذہبی اختلافات کو ہوادیتے ہیں۔ ان کی شخصیت دینی علوم پر مہارت اور گفتگو کی خوبصورتی کی وجہ سے لوگ ان کے خیالات سے متاثر ہوجاتے ہیں اور یوں جو کام بڑی سے بڑی فوج نہیں کرسکتی یہ آسانی سے کرسکتے ہیں۔
اس سارے معاملے میں سب سے خطرناک پہلو یہ ہے کہ ایسے لالچی افراد کو پاکستان میں سے بھی تلاش کیا جاتا ہے جو شدید قسم کی فرقہ پرستی کی بیماری کا شکار ھوتے ہیں ۔ ایسے افراد کو بھاری رقوم کے لالچ میں غیرملکی ایجنسیاں اپنے ساتھ ملا کر ان کی برین واشنگ کرتی ہیں یا اپنے مخصوص ایجنٹوں سے ان کو تیار کرواتی ہیں۔ ایسے افراد اپنے مخالف فرقے والوں کے خلاف کفر کے فتوے دیتے نظر آتے ہیں۔ امت مسلمہ کے ان دشمنوں کو پہچاننا اور ان کی حوصلہ شکنی کرنا آپ کا کام ہے۔