- الإعلانات -

راز اِس آتش نوائی کا مرے سینے میں دیکھ

قارئین کرام ! سافٹ ویئر اور الیکٹرانک میڈیا سے متعلقہ انٹر نیٹ، فیس بک ، ٹویٹر اور سکائپ وغیرہ کے میدانوں میں غیر معمولی ترقی کے باعث دنیا سمٹ کر ایک گلوبل ویلج یعنی آسان الفاظ میں کسی بھی ملک کے ایک گاﺅں کی مانند ہوگئی ہے جہاں ہر کوئی کسی بھی دوسرے کو جانتا ہے۔ چنانچہ دنیا بھر میں کسی بھی جگہ کوئی دہشت گردی کی واردات، حادثاتی یا سماوی آفت ظہور پزیر ہوتی ہے تو دوسرے ہی لمحے دنیا کے طول و ارض میں یہ خبر زبان زد عام ہو جاتی ہے۔ دریں اثنا سافٹ ویئر کی ترقی کےساتھ ساتھ میڈیا کی طاقت میں بھی خاطر خواہ اضافہ ہوا ہے جسے مختلف قومیں دنیا بھر میں ایک دوسرے کو نیچا دکھانے اور دنیا پر اپنا سیاسی تسلط قائم کرنے کےلئے بین الاقوامی ڈِس انفارمیشن کے ہنر کے ذریعے نفسیاتی طور پر انسانی ذہن پر اثر انداز ہونے کےلئے بھی استعمال کرنے سے گریز نہیں کرتی ہیں۔ چنانچہ بڑی طاقتوں کی باہمی چپقلش نے ہی دہشت گردی کے ایک نئے عفریت کو جنم دیا ہے ۔ دنیا بھر میں دہشت گردی کے واقعات کی روک تھام کےلئے انسداد دہشت گردی کے طریقہ کار کا تعین کرنا تو انتہائی اہمیت کا حامل تھا لیکن جب سے مخصوص مفادات کے حصول کےلئے کچھ قوموں نے انسداد دہشت گردی کے علوم میں جوابی دہشت گردی کو داخل کیا ہے تو دنیا بھر میں اِس کے منفی اثرات بھی سامنے آنے شروع ہوئے ہیں جس کے سبب نہ صرف دنیا کے پُرامن گلوبل ویلج کے تصور میں رخنہ پیدا ہوا ہے بلکہ ڈِس انفارمیشن اور جوابی دہشت گردی کو ہنر کے طور پر استعمال کرنے کی وجہ سے خود یورپ اور امریکہ کی انتہائی تہذیب یافتہ قومیں بھی انتشار اور سماجی خلفشار کا شکار ہوتی جا رہی ہیں۔ جہاں تک دہشت گردی کا تعلق ہے تو یہ منفی ہنر بھی چھوٹی قوموں کے خلاف مغرب کی ناانصافیوں اور مخصوص مفادات کے حصول کےلئے طاقت کے استعمال کے سبب ہی ایک مخصوص انتہا پسند طبقے میں پیدا ہوا ہے جسے مخصوص مفادات کی حامل کچھ قوموں نے مسلم دنیا کے وسائل پر اپنے قبضے کو مستحکم کرنے کےلئے جوابی دہشت گردی اور ڈِس انفارمیشن کے ذریعے مخصوص انتہا پسند گروپوں تک پھیلا دیا ہے جن کا اسلام کی میانہ روئی کی تعلیمات سے کوئی تعلق نہیں ہے ۔ دنیا بھر میں پچاس سے زیادہ مسلم ممالک نہ تو کسی بھی قسم کی دہشت گردی کے داعی ہیں اور نہ ہی دہشت گردوں کو کسی قسم کا ریاستی تحفظ دیتے ہیں بلکہ خود مسلم ممالک کے عوام ہی دہشت گردی کے عفریت کا سب سے زیادہ نشانہ بنے ہوئے ہیں۔
محترم قارئین ، درج بالا تناظر میں دنیا بھر میں مسئلہ کشمیر اور مسئلہ فلسطین ہی دو ایسے مسائل ہیں جنہیں اقوام متحدہ کی کوششوں اور بھارت و اسرئیل کی ہٹ دھرمی کے سبب چھ سات عشروں سے حل نہیں کیا جا سکا ہے ۔ یہی دو ایسے ممالک ہیں جو دنیا بھر کی رائے پر اثرانداز ہونے کےلئے بھارتی اور یہودی لابی کے زور پر ڈِس انفارمیشن اور جوابی دہشت گردی کے ہنر کو بخوبی استعمال کرتے ہوئے نہ صرف مسلم ممالک میں اندرونی خلفشار پھیلانے میں ملوث ہیں بلکہ اِن ممالک کی بے حکمتی کے سبب خود مغربی دنیا کو بھی اندرونی مسائل کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے ۔ القاعدہ کے بعد داعش کو جنم دینے میں بھی اِن ہی ممالک کی لابیاں پس پردہ کام کر رہی ہیں ۔ خود سپر پاور امریکہ کے صدر اُوبامہ نے بھی امریکی مسلمان اقلیت کے خلاف مبینہ طور پر بھارتی و یہودی لابی کی جانب سے پھیلائی جانے والی تعصب و نفرت کی مہم کا احساس کرتے ہوئے گذشتہ دنوں امریکی ریاست بالٹی مور میں ایک اسلامی مشن و مسجد کا دورہ کیا اور امریکی عوام کو یہ بتانے کی کوشش کی کہ اسلام امن و سلامتی کا مذہب ہے اور محض چند انتہا پسند وں کی کاروائیوں کے سبب مسلمانوں کے خلاف تعصب و نفرت کے جذبات پھیلانا کوئی احسن اقدام نہیں ہے۔ حقیقت یہی ہے کہ امریکہ میںمقیم پاکستانی تارکین وطن بھی بھارتی لابی کی یہودی لابی کی پس پردہ حمایت سے امریکہ میں جاری و ساری تعصب و نفرت سے لبریز اِس مہم جوئی سے حیرانی و پریشانی کے عالم میں ہیںجبکہ حسین حقانی جیسے غداران وطن جو بے حکمت رہنماﺅں کے ہاتھوں امریکہ میں ہی پاکستانی سفیر کے طور پر ملکی مفادات کو نقصان پہنچاتے رہے اب پاکستانی مفادات کے خلاف بھارتی لابی کی زبان استعمال کرتے ہوئے پاکستان کو ایف سولہ طیاروں اور دیگر حساس اسلحہ کی فراہمی کے خلاف ایک منظم مہم چلا رہے ہیں۔ اِس اَمر کو نظر انداز نہیں کرنا چاہیئے کہ حسین حقانی کے معاملے کو محض سفارتی ذمہ داریوںسے سبکدوش ہوجانے کے باعث طاق نسیاں میں نہیں رکھا جا سکتا ۔ چنانچہ میمو گیٹ سازش کے بعد قومی سلامتی کو زک پہنچانے کے حوالے سے اب افواجِ پاکستان کے خلاف اُن کی منظم ڈِس انفارمیشن کے حوالے جو شواہد سامنے آئے ہیں اُن پر ملکی آئین اور قانون کے مطابق کاروائی کی جانی چاہیے ۔
درحقیقت ، حسین حقانی کی بھارتی لابی کےساتھ معاونت اِس لئے بھی غداری کے زمرے میں آتی ہے کیونکہ بھارت افغانستان میں شمالی اتحاد کی سیاسی ، سفارتی اور انٹیلی جنس سہولتوں سے فائدہ اُٹھاتے ہوئے نہ صرف پاکستان اور امریکہ کے درمیان غلط فہمیوں کی دیوار کھڑی کرنے میں مصروف ہے بلکہ پاکستان میں دہشت گردی کو مہمیز دے رہا ہے جس کی تصدیق خود بھارتی وزیر دفاع اور بھارتی سیکیورٹی مشیر کے حالیہ بیانات سے ہوتی ہے جن میں وہ پٹھانکوٹ دہشت گردی کے خلاف پاکستان کو سبق سکھانے کی بات کرتے ہوئے یہ بھول جاتے ہیں کہ غیر ریاستی دہشت گردی کا سب سے زیادہ نقصان تو خود پاکستانی عوام کو برداشت کرنا پڑا ہے ۔ جبکہ پاکستان کے خلاف دہشت گردی کے ٹیلرڈ الزامات کے شواہد بنانے میں بھارتی ریاستی لیڈر نہ صرف پیش پیش ہیں بلکہ جنوبی ایشیا میں اپنے خفیہ وسعت پسندانہ ایجنڈے کو مہمیز دینے کےلئے افغانستان میں پشتون آبادی کے سیاسی حقوق کی بحالی کی جدوجہد کو پاکستان حمایت یافتہ دہشت گردی سے تعبیر کرتے ہوئے پاکستان کو نقصان پہنچانا چاہتے ہیں۔ ماضی قریب میں میں پاک امریکہ تعلقات انتہائی اعصاب شکن مرحلے سے گزرے ہیں جنہیں بہرحال جنرل راحیل شریف کے آپریشن ضرب عضب کے سبب نہ صرف پاکستانی عوام کے خلاف بھارتی حمایت یافتہ دہشت گردی کو محدود کرنے میں کامیابی ہوئی بلکہ امریکہ اور مغربی ملکوں میں بھی یہ احساس بیدار ہوا کہ افغانستان میں افغان طالبان کو اقتدار میں شریک کئے بغیر معاملات درست نہیں ہو سکتے جس کےلئے اب چار قومی ادارہ افغان طالبان سے بات چیت کے ذریعے معاملہ فہمی کی کوششوں میں مصروف ہے۔
قارئین کرام ، قوموں کی زندگی میں مشکل وقت ضرور آتے ہیں تب قوموں کو مشکل فیصلے کرنے پڑتے ہیں لیکن جمہوریتوں میں عوام یا پارلیمنٹ سے بالا تر ہو کر محض مخصوص مفادات یا کرپشن و بدعنوانیوں کو تحفظ دینے کےلئے ذاتی مفادات کے حامل فیصلے کسی بھی قوم کی مجموعی قوتِ ارادی ، عزت اور وقار کو ناقابل تلافی نقصان پہنچانے کا سبب بنتے ہیں۔اِسی طرح بے حکمت حکمران جب آئین ، قانون اور تاریخ کو روندتے ہوئے مستقبل سے بے نیاز ہو کر اغیار کی سازشوں کا شکار ہو جاتے ہیں تو پھر ریاستی معاملات بھی دِگرگوں ہو جاتے ہیں۔پاکستان کےلئے پریشان کن بات یہی ہے کہ صہیونی اور بھارتی لابی ایک گریٹر گیم پلان کے ذریعے خطے میں افغانستان اور بھات کو مضبوط تر اور پاکستان کو اندرونی انتشار میں مبتلا دیکھنا چاہتی ہے ۔ امریکہ اور دیگر مغربی ممالک میں اسرائیلی و بھارتی حمایت یافتہ بلوچ گروپس ، بلوچستان کی نام نہاد آزادی کی جدوجہد کے نام پر نہ صرف فنڈز جمع کرنے میں پیش پیش ہیںبلکہ بلوچستان میں تخریب کاری پھیلانے کےلئے امریکہ میںاحمد مستی خان بلوچ کی قیادت میں بلوچ یہودی اتحاد قائم کیا گیا ہے اور نارتھ امریکہ میں ڈاکٹر واحد بخش بلوچ اورسیز ہندو کمیونٹی کی مدد سے آزاد بلوچستان تحریک کےلئے کام کر رہے ہیں جس میں برہمداغ بگتی کی شرکت نے مزید تقویت پہنچائی ہے ۔ امریکہ میں والٹر لینڈری کی قیادت میں حق خوداختیاری کے تھنک ٹینک اور بھارتی سفارتی اداروں میں راءکے ریسرچ سکالرز ہندو شدت پسند تارکین وطن کے ہمراہ بلوچ شدت پسندی کو اُبھارنے میں پیش پیش ہیںجبکہ اسرائیل میں نام نہاد آزاد بلوچستان کے عارضی دفتر کو میر آزاد خان بلوچ چلا رہے ہیں۔ سوال یہی ہے کہ کیا پاکستان میں قومی یکجہتی کو ممکن بنائے بغیر اِن مسائل پر قابو پایا جا سکتا ہے ، یقینا یہ مرحلہ بہت ہی دشوار مرحلہ ہے جس کےلئے ملکی سیاسی قیادت کو اندرونِ ملک رہتے ہوئے قومی یکجہتی کےلئے اپنی کوششوں کو مہمیز دینی چاہیے اور دنیا کو بتا دینا چاہیے کہ پاکستان ایک ایٹمی طاقت ہے ، اِسے آزاد دنیا کی دیگر آزاد قوموں کی طرح ایک باوقار قوم کی طرح جینے کا حق حاصل ہے۔ بقول علامہ اقبال …….
راز اِس آتش نوائی کو مرے سینے میں دیکھ
جلوئو تقدیر میرے دل کے آئینے میں دیکھ