- الإعلانات -

تھر میں موت کا رقص

تھر میں ایک دفعہ پھر موت نے ڈیرے ڈال لیے ہیں۔ ننھے منے خوبصورت پھول مرجھا رہے ہیں۔ روزانہ غذائی قلت، بھوک اور بیماری سے پانچ چھ بچوں کی موت واقع ہو رہی ہے۔ پچھلے ڈیڑھ ماہ کے دوران 150 سے زائد بچے موت کا شکار ہوئے ۔ تھر کا حسن سینکڑوں مور، رانی کھیت بیماری کا شکار ہوئے تھے۔
تھر سے قحط کی خبریں نکلیں تو ملک بھر سے لوگ مٹھّی کے کشمیر چوک پہنچے۔ بڑے بلند بانگ دعوے کیے گئے۔ مٹھی کے ہسپتال میں ڈاکٹروں کی بھرتی کی گئی۔ گندم کی فراہمی ممکن بنائی گئی مگر تھر کے غریبوں کی قسمت نہ بدلی۔ انگریز نے ڈیڑھ سو سال پہلے گائیڈ لائن دی تھیں کہ اگر تھر میں 15 اگست تک بارش نہ ہوتی تو تھر اور راجستھان کو قحط زدہ قرار دے کر وہاں خچروں کے ذریعے جانوروں کے لیے چارہ اور انسانوں کے لیے گندم کی فراہمی یقینی بنائی جاتی اور یوں قحط کی صورت حال کبھی پیدا نہ ہوتی۔ کاش اسی پہ عمل کر لیا جاتا تو تھر کے باسیوں کی یہ حالت نہ ہوتی۔
پچھے سال مہیا کی گئی گندم گوداموں میں پڑی خراب ہوگئی لیکن تقسیم نہ ہو سکی اس کے ساتھ گندم کی اچھی خاصی تعداد میں بوریوں میں گندم کی جگہ مٹی نکلی اور جس بے چارے فوڈ انسپکٹر نے اس کی نشاندہی کی اسے شاباش دینے کی بجائے اسے معطل کر دیا گیا۔ جہاں بدانتظامی اور بے حسی کا یہ حال ہو تو وہاں حالات کیسے ٹھیک ہو سکتے ہیں۔ آج تھر کے مکین پھر بھوکے ہیں۔ پیاسے ہیں۔ ہم وطنوں کی طرف دیکھ رہے ہیں۔ مٹھی سے روزانہ خبریں آ رہی ہیں کہ روز 5، 6 بچے غذائی قلت اور بیماری کی وجہ سے داعی اجل کو لبیک کہہ رہے ہیں۔ تھر پارکر کے مختلف گوٹھوں سے ہزاروں خاندان اپنے جانوروں سمیت مٹھی سے نقل مکانی کر چکے ہیں۔ خطرہ ہے تھر کا حسن ”مور“ اور اونٹ بھی جلد یہاں سے ختم ہونا شرع ہو جائینگے۔ آج کل تھر کے ریگزاروں میں گھومتے ہوئے تھر کے خوبصورت بیل اور اونٹ بہت کمزور اور لاغر نظر آتے ہیں۔ پہلے موروں کی ڈاریں نظر آتی تھیں اب مور بہت کم نظر آتے ہیں۔
تھر (سندھ) میں سب سے زیادہ مسئلہ وہاں کے مکینوں کو میٹھے اور صاف پانی کی فراہمی ہے۔ قحط سالی کی وجہ سے وہاں بھوک، پیاس، ننگ، افلاس، بیماری اور موت نے ڈیرے ڈالے ہوئے ہیں۔ گزشتہ 2 سال مٹھی سے لیکر تھرپارکر کے گوٹھ گوٹھ اور نگر نگر پھرتے ہوئے یہی محسوس کیا کہ اگر تھرپارکر کے مکینوں اور ان کے جانوروں اور وہاں کے خوبصورت موروں اور دوسرے جنگلی پرندوں کو پینے کے صاف پانی کی فراہمی کو یقینی بنا دیا جائے تو ان کے آدھے مسائل تو صرف اسی سے حل ہو جائیں گے۔ تھرپارکر کا سارا علاقہ صحرا پہ مشتمل ہے۔ دور دور تک ریت ہی ریت نظر آتی ہے۔ چند گوٹھوں میں کہیں کہیں پانی کے کنوئیں موجود ہیں۔ کئی گوٹھ ایسے ہیں جن کی عورتیں صبح سویرے اٹھتی ہیں اور کئی کلو میٹر کا فاصلہ طے کر کے پانی لاتی ہیں۔
ڈاکٹر آصف جاہ اور ان کی ٹیم نے علاج اور خدمت کا کام کرتے ہوئے کسٹمز ہیلتھ کیئر سوسائٹی کی ٹیم کے ساتھیوں سے مشورے کے بعد یہ فیصلہ کیا کہ دور دراز کے گوٹھوں میں سروے کر کے پرانے کنوﺅں کی مرمت اور نئے بنوانے کا کام فوری طور پر شروع کیا جائے اور جن مساجد میں وضو کے لیے پانی کا انتظام نہیں ہے وہاں گہرے بور والے ہینڈ پمپ لگوائے جائیں۔ادھر سوشل میڈیا کے ذریعے اور مخیر حضرات سے رابطہ شروع ہوا۔ جس جس نے کنوئیں بنوانے کا سنا۔ بڑی خوش دلی سے ساتھ دینے کا وعدہ کیا۔ تھر میں کنوﺅں کی کھدائی کا کام صدیوں پرانی طرز پر جاری ہے۔ نہ کوئی ڈرل مشین نہ کوئی اور مکینیکل طریقہ کار ساری کھدائی اوپر سے نیچے بندے خود کرتے ہیں۔ روزانہ پانچ چھ فٹ کھدائی ہوتی ہے اور ساتھ ساتھ دیواروں کو پکا کیا جاتا ہے۔
مشینوں اور کمپیوٹر کے اس دور میں جہاں کھدائی کے لیے بڑی بڑی مشینیں اور کرینیں استعمال ہوتی ہیں۔ تھرپارکر کے مستری اور مزدور سارا کام اپنے ہاتھوں اور معمولی اوزاروں سے کرتے ہیں جنہیں وہ بناتے بھی خود ہیں۔ اللہ کے سہارے یہ کنوئیں میں 200 سے 300 فٹ تک نیچے اترتے ہیں۔ کئی جگہوں سے 100 سے 150 فٹ بعد پتھروں کی تہہ آ جاتی ہے۔ کنویں بنانے میں یہ مرحلہ سب سے مشکل اور سخت ہوتا ہے۔ اندھے کنوئیں میں 200 ۔ 300 فٹ جا کر پتھر توڑنا بڑی جاں جوکھوں کا کام ہے۔ مگر سلام ان محنت کشوں پہ جو یہ کام کرتے ہیں۔ پتھروں کو توڑ کر باہر بھیجتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ ان کی محنت کا یوں صلہ دیتا ہے کہ پتھروں کے بعد پانی آ جاتا ہے۔ جب پانی آنے لگتا ہے تو لکڑی سے بنا فریم اندر ڈالتے ہیں جس کی فٹنگ اندر جا کر ہوتی ہے۔ لکڑی کا یہ سانچا جیو ممبرین Geo membrane کا کام کرتا ہے۔ اس کی وجہ سے پانی فلٹر ہو کر اوپر آتا ہے اور پانی فنگس وغیرہ سے بھی پاک ہوتا ہے۔گزشتہ مارچ سے لیکر اب تک مٹھی، ننگرپارکر، نواں کوٹ، اسلام کوٹ اور دور دراز کے گوٹھوں میں کسٹمز ہیلتھ کیئر سوسائٹی کی جانب سے 100 سے زائد گوٹھوں میں میٹھے پانی کے کنوئیں بنائے جا چکے ہیں۔ کنوﺅں کے ساتھ مختلف گوٹھوں میں چھوٹے اور بڑے ہینڈ پمپ بھی لگائے گئے اور وہاں خلوص نیت سے کام کریں تو اللہ بھی مدد کرتا ہے۔ ان کنوﺅں سے میٹھا پانی نکل آیا ہے۔ روزانہ ان کنوﺅں سے عورتیں سینکڑوں گھڑے پانی بھر کر لے جاتی ہیں۔ ہر کنوئیں کے ساتھ جانوروں، موروں اور دوسرے پرندوں کے لیے پانی کے علیحدہ حوض بھی بنائے گئے ہیں۔
تھر میں ایک کنوئیں پر جو 200۔ 350 فٹ تک گہرا ہوتا ہے تقریباً 2لاکھ روپے خرچ آتا ہے۔ صحیح طریقے سے بنا ہوا کنواں 40۔ 50 سال تک پانی دیتا رہتا ہے۔ روزانہ اس سے سینکڑوںگھڑے بھرے جاتے ہیں اور لاتعداد جانور اس سے پانی پیتے ہیں۔ اس لیے اس صدقہ جاریہ میں جو بھی حصہ لے گا اس کے لیے اجر عظیم ہے اور جنت کا وعدہ ہے۔
کسٹمز ہیلتھ کیئر سوسائٹی کا یہ طُرّہ امتیاز ہے کہ جہاں بھی کوئی آفت ہوتی ہے وہاں علاج اور خدمت کا سلسلہ شروع کر دیا جاتا ہے۔ اس وقت کسٹمز ہیلتھ کیئر سوسائٹی کی ٹیمیں تھر میں بھی مصروف عمل ہیں۔ تھر میں نئے کنوئیں بھی بن رہے ہیں گوٹھ ڈھونچ تھر پارکر اور بدین میں قائم 3ڈسپنسریوں میں اب تک ایک لاکھ سے سے زیادہ مریضوں کا علاج کیا جا چکا ہے۔ جب سے تھر میں دوبارہ سے قحط کے آثار پیدا ہوئے ہیں اور بچوں کی اموات شروع ہوئی ہیں۔ دوبارہ سے ریلیف کا کام شروع کر دیا گیا ہے۔ مٹھی سے ڈھونج اور ننگر پارکر اور اسلام کوٹ تک مختلف گوٹھوں میں لاکھوں روپے کی ریلیف اشیاءتقسیم کی جا چکی ہیں اور روزانہ کی بنیادوں پر اشیائے خورد و نوش کی تقسیم جاری ہے۔ جن جن گوٹھوں سے کنوﺅں کی درخواست آ رہی ہے۔ وہاں کنوئیں بنوائے جا رہے ہیں غریب اور نادار مریضوں کے علاج کا سلسلہ بھی جاری ہے۔
اللہ کے رسولﷺ نے میٹھے پانی کے عوض کے کنوئیں کے عوض حضرت عثمانؓ سے جنت کا وعدہ کیا تھا اور آج بھی پیاسے انسانوں اور جانوروں اور خوبصورت موروں کی پیاس بجھانے کےلئے کنواں بنوانا بہت بڑا صدقہ جاریہ ہے۔ اس صدقہ جاریہ میں جو بھی حصہ لے گا اس کے لیے اجرِ عظیم ہے اور جنت کا وعدہ ہے۔ اس لیے ہر صاحب ثروت کو کم از کم ایک مرتبہ تھر یا ایسے غریب ترین علاقوں میں ضرور جانا چاہےے وہاں اپنی آنکھوں سے درد اور دُکھ کے مناظر دیکھ کر ان لوگوں کی مدد کرنا چاہےے۔ ہمیں یہ نہیں بھولنا چاہےے کہ معاشرے اسی لیے وجود میں آتے ہیں کہ ایک دوسرے کی مدد کی جائے۔