- الإعلانات -

عالمی عدالتِ انصاف۔ غیر جانبدارانہ ساکھ پر حرف نہ آئے

دنیا بھر میں 20فروری کو ’سماجی و معاشرتی انصاف کا عالمی دن‘ منایا جاتا ہے سماجی انصاف‘ معاشرتی انصاف‘ سیاسی اور ثقافتی انصاف‘عالمی شعور وآگہی کے یہ وہ واسطے اور ایسے روابط ہیں جو قوموں کو احساس دلاتے ہیں کہ دنیا میں پائی جانے والی معاشرتی ناانصافیوں‘ناہمواریوں اور سماجی ونسلی تعصبات کا مکمل خاتمہ ہونا چاہیئے دنیا گلوبل ویلج بن چکی ہے، لہذا عالمی امن کا حقیقی قیام وقت کے ساتھ ساتھ کرہِّ ارض کی اشد ضرورت بنتا جارہا ہے دنیا امن کی مخالف ’ضد‘یعنی خوف بے اطمنانی اور معاشرتی انارکی کو اُس کی جڑوں سمیت اکھاڑ پھینکنا چاہتی ہے جتنا جلد ممکن ہو سکے اب یہ ہو جانا چاہیئے اگرآج عالمی امن کا قیام ممکن نہیں ہوسکا تو پھر کب ہوگا ؟انسانوں کے مابین پسند وناپسند کے عالمی امتیازات آج ختم نہیں ہونگے تو پھر کب ختم ہونگے اقوام متحدہ پر یہ ذمہ داری عائد ہوتی ہے اقوام متحدہ سلامتی کونسل سمیت عالمی ادارے سے وابستہ ہر ’عالمی ادارہ‘ کو عالمِ انسانیت کی فلاح وبہبود کے لئے رنگ و نسل اور مہذہبی تعصبات سے بالا ہوکر نسلی مخاصمت کی ریت روایات کی حدبندیوں کو توڑنا ہوگا تبھی ’عالمی سماجی ومعاشرتی انصاف‘ کے ساتھ حقیقی انصاف ہوتا ہوا دنیا کے ہرایک فرد کو نظرآئے گا اقوام متحدہ کے عالمی عدالتِ انصاف کی جانب دنیا کی نظریں اب بار پھر اُٹھ گئی ہیں اور دنیا پھر سے منتظر ہے ثقافتی سماجی ونسلی نفرتوں میں سرتاپا گھرا ہوا بھارت اپنی ضدپر اَڑا ہوا ہے جس نے اقوام متحدہ کے عالمی عدالتِ انصاف کو ایک اور ’امتحان‘ کی گھڑی میں لاکھڑا کیا ہے اب امید کی جاسکتی ہے کہ عالمی عدالتِ انصاف اپنی غیر جانبدارانہ ساکھ اور عالمی قوانین کے وقار پر کسی قسم کا کوئی سوالیہ نشان نہ آنے دے‘ رواں برس2019 ماہ فروری کی 18 اور 19تاریخوں کو اقوام متحدہ کے ادارہ ’عالمی عدالت انصاف‘ میں پاکستان کو بھارت نے غیر ضروری ہٹ دھرمی کا مظاہرہ کرتے ہوئے کھڑا کردیا جنوبی ایشیا کے دوپڑوسی ممالک(بدقسمتی سے بھارتی مذموم عزائم کی بناء پر گزشتہ71سے اب تک مسلسل لگاتار بداعتمادیوں کی فضاؤں کا شکار چلے آرہے ہیں ) عالمی عدالتِ انصاف کے فاضل ججز کی بینچ پاکستان اور بھارت کے درمیان ایک بہت اہم کیس کی سنوائی کرئے گی، عالمی عدالت انصاف میں یہ کیس بھارت لے کر گیا کیس کے مندرجات دنیا کے علم میں آچکے ہیں 18اور19فروری کو غالباً پہلے بھارت اپنے استغاثہ کے دلائل پیش کرئے گا جبکہ19فروری کوپاکستان عالمی عدالت انصاف کے سامنے اپنا قانونی نکتہ نظر پیش کرئے گا, مزید کسی قسم کی تمہیدی گفتگو میں جائے بنا اصل مدعا سن لیجئے ایک بھارتی فوجی افسر کلبھوشن یادیو نامی ایک شخص کو پاکستانی سیکورٹی ادارہ نے پاکستان اور ایران کے سرحدی علاقہ میں اْس وقت گرفتار کیاتھا جب وہ پاکستان کی سرحد میں داخل ہورہا تھا بھارتی نیوی کا یہ افسر کلبھوشن عرصہ دراز سے ایرانی ساحلی شہر چہاہ بہار میں ممبئی سے جاسوسی کی نیت سے اپنی شناخت کو بدل کر مسلم نام کے ساتھ پہلے ایران آیا، پھر اپنے جاسوسی مقاصد کو بروئے کار لاتے ہوئے اْس نے کراچی تا گلگت بلتستان اورخیبرپختونخواہ کے قبائلی علاقوں میں جاسوسی کا اپنا نیٹ ورک پھیلایا، دشمن ملک میں جاسوسی کرنا دشمن ملک کی دفاعی صلاحیتوں کی خبریں لے کر اپنے ملک کو دینا یہ دنیا بھر کے خفیہ ایجنٹوں کے پیشہ ورانہ امور سے متعلق اْن کی مہارتوں پر منحصر ہوتا ہے، جاسوسی دنیا بھر میں کل بھی ہوتی تھی آج بھی ہورہی ہے، لیکن پاکستان کا پوائنٹ آف ویوو یہاں ’جاسوسی‘ سے بالکل مختلف اور قابل توجہ ہے کہ کلبھوش کاش خالصتاً ایک جاسوس ہی ہوتا ؟ وہ تخریب کار نہ ہوتا دہشت گرد نہ ہوتا ،دس پندرہ برس قبل کراچی میں ہونے والی دہشت گردیوں کی کارروائیوں میں براہِ راست ملوث نہ ہوتا ‘بلوچستان کے صوبائی دارلحکومت کوئٹہ میں ہونے والے فرقہ ورانہ قتل وغارت گری کا وہ محرک نہ ہوتا، پاکستان سے براستہ ایران بغرض زیارت جانے والے زائرین کی بسوں کو بموں سے اڑانے اور زائرین کو بسوں سے اتار کر لائن میں کھڑا کرکے اْنہیں فائرنگ کی بوچھاڑوں سے بھون دینے جیسی انتہائی ہولناک کارگزاریوں میں وہ سہولتیں فراہم کرنے والا نہ ہوتا خاص کر تفتیشی انٹروگیشنز کورس میں اْس کے ملٹری عہدے کو ملحوظ خاطر رکھ کر کسی قسم کے جسمانی وذہنی پریشر ڈالے بغیر پاکستانی فوج کی کورٹ مارشل کے سامنے اْس نے اعتراف کیا کہ ’وہ تو ایک فوجی افسر تھا، اْسے بھارتی خفیہ ایجنسی را نے تاک کر اپنے نشانہ پر لیا اور کئی مراحل کی تربیت سے گزارنے کے بعد اْسے اسلامی نام حسین مبارک پٹیل دیدیا گیا اسی مسلم نام کا اْس کا پاسپورٹ بنوا کر اْسے دیا گیا ایرانی بندرگاہ چہاہ بہار میں جیولری کی شاپ کھلوائی گئی، اْسے پہلے جاسوسی کا ٹاسک دیا بعد میں پاکستان میں جاسوسی کرنے کے ساتھ پاکستان کواندرونی اعتبار سے عدم استحکام کرنا‘بلوچستان کے ناراض اور سرکش بلوچوں کو اسلحہ سپلائی کرنا اْنہیں پاکستان سے علیحدگی پر مسلسل اکسائے رکھنا اورُ ادھر کراچی تک اپنے دہشت گردی کے خونریز اثرات کو پھیلا کر کراچی میں لا اینڈ آرڈر کو تہس نہس کرنا بطور خاص گوادر بندر گاہ میں سی پیک منصوبے کو سبوتاژ کرنا یہ سب کلبھوشن یادیو کے ذمہ ’را‘ نے امور سونپے جو ایک پیشہ ور جاسوس کے زمرے میں کہیں نہیں آتے صریحاًً دہشت گردی کی تعریف میں آتے ہیں بلکہ کلبھوشن یادیو نے تو گوادر پورٹ پر کام کرنے والے چینی انجینئروں پر ہونے والے قاتلانہ حملوں میں اپنے ملوث ہونے کا اعتراف کیا ہے، بھارتی نیوی کے ملٹری افسر ہونے کے ناطے پاکستان میں اس کا باقاعدہ ’’کورٹ مارشل ‘‘ہوا، ثبوتوں اور اْس کے اعترافی بیانات کی روشنی میں اْسے واضح دہشت گرد ہونے کے جرم میں اور سینکڑوں پاکستانیوں کو قتل کرنے جیسے سنگین جرائم میں ملوث پانے کے بعد سزائے موت سنائی گئی تھی دوسری جانب کلبھوشن یادیو کو ملکی سیکورٹی فورسنز نے جب اپنی گرفت میں لیا یہ خبر بریکننگ نیوز بن کر د نیا میں پہنچی تو نئی دہلی میں ایک تہلکہ مچ گیا، بھارت نے اس خبر کے بریک ہوتے ہی یکے بعد دیگر کئی ’ٹرانس‘ بدلے پہلا کہا گیا یہ بھارتی نہیں ہے ‘پھر ملٹری افسر ہونے سے انکار کیا گیا پھر کہا گیا کہ ‘یہ ہندو نہیں مسلمان ہے کبھی کہا گیا کہ یہ ملٹری افسر تھا اب ریٹائرڈ ہوچکا ہے اور جب کچھ بس نہ چلا تو نئی دہلی نے ہتھیار پھینک دئیے ۔

(باقی:سامنے والے صفحہ پر)