- الإعلانات -

پاکستا ن میں اربوں ڈالر کی سعودی سرمایہ کاری

سعودی عرب کو اللہ تعالیٰ نے حرمین شریفین کی خدمت اور حفاظت کا شرف بخشا ہے جس میں کوئی دوسرا ملک اس کا ہمسر نہیں ہوسکتا۔ ایک مسلم ملک ہونے کے ناطے پاک سعودی تعلقات ہر قسم کی مصلحتوں سے بالاتر ہیں۔ سعودی عرب سے سب سے بڑا ہمارا رشتہ ایمان کا ہے۔ سعودی حکمران بھی پاکستان سے انتہا کی محب ہیت کرتےں۔ پاکستانی عوام نے ہمیشہ جوش اور جذبے سے سعودی حکمرانوں کا استقبال کیا۔ اب بھی سعودی ولی عہد کی آمد پر ہمارا جوش و جذبہ دیدنی ہے۔ سعودی ولی عہد محمد بن سلمان 16 فروری کو پاکستان آئیں گے لیکن ان کی آمد سے قبل ہی محمد بن سلمان کے وفد کے ارکان پاکستان پہنچنے لگے ہیں۔ ان میں ایڈوانس سکیورٹی ٹیم، ڈاکٹرز اور کوریج کرنے والے سعودی میڈیا کی ٹیمیں شامل ہیں۔ سعودی ولی عہد محمد بن سلمان وزیراعظم ہاؤس میں قیام کریں گے جبکہ سعودی وفد اسلام آباد کے نجی ہوٹلوں میں قیام کرے گا۔ جس کیلئے اسلام آباد کے 2 بڑے نجی ہوٹل مکمل اور 2 ہوٹل جزوی طور پر بک کر لئے گئے۔ سعودی ولی عہد کے ہمراہ ایک بڑا وفد آئے گا۔سعودی ولی عہد 4 طیاروں کے ساتھ لینڈ کریں گے۔ پاکستانی فضائی حدود میں معزز مہمان کے طیارے کو جے ایف 17 پروٹوکول حصار میں لیں گے اور پاکستان آمد پر انہیں جے ایف 17 تھنڈر سے سلامی بھی دی جائے گی۔ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کا پاکستان آنا بہت خوش آئندہے جو دو طرفہ تعلقات میں مزید بہتری کا باعث ہوگا۔ولی عہد اپنے دوسرے گھر پاکستان میں آرہے ہیں۔ ان کی آمد سے جہاں سابقہ پاک سعودی تعلقات کی تجدید ہوگی وہاں مستقبل میں دو طرفہ تعلقات کو نئی جہت ملے گی۔ اس تاریخی دورے سے پاک سعودی عرب برادرانہ تعلقات مزید مستحکم ہوں گے۔اس دفعہ یہ دورہ اس لئے بھی اہمیت کا حامل ہے کہ سعودی ولی عہد اپنے ساتھ اربوں ڈالر کی سرمایہ کاری بھی ساتھ لا رہے ہیں۔ سعودی ولی عہد کے 2 روزہ دورے میں 20 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری پاکستان آئے گی۔ان کے ساتھ سعودی عرب کی 20 سے 22 کاروباری شخصیات آرہی ہیں جن کی پاکستانی کاروباری افراد کے ساتھ میٹنگ رکھی ہے۔ اس سے سروسز اور آئی ٹی میں تعاون کو فروغ ملے گا۔ سعودی ولی عہد کے دور ہ میں تیل ،قابل تجدید توانائی اور معدنیا ت سیکٹر میں مفاہمت کی تین یادداشتوں پر دستخط ہوں گے۔ وزیر اعظم کے مشیر تجارت عبدالرزاق داؤد کا کہنا ہے کہ سعودی عرب سے پہلے 2سال میں 7 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری آئے گی۔سعودی عرب کی جانب سے آئل ریفائنری میں سب سے بڑی سرمایہ کاری ہوگی۔ سعودی عرب گوادر آئل ریفائنری میں 6 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کا خواہاں ہے۔ 5 سال میں ریفائنری مکمل ہوجائے گی۔ اس کے علاوہ سعودی عرب سندھ اور بلوچستان میں ونڈ انرجی اور سولر انرجی میں 2 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کرے گا جبکہ ان کی فوڈ اور ایگریکلچر میں بھی دلچسپی ہے۔ منرلز اینڈ مائنز میں بھی سعودی عرب کی کافی دلچسپی ہے۔سعودی عرب نے دیامر بھاشا اور مہمند ڈیم منصوبوں کے لیے فنڈز دینے کا فیصلہ کیا ہے۔محمد بن سلمان کے دورہ پاکستان میں ایم او یو پر دستخط ہوں گے جس میں بجلی کے 5 منصوبوں کیلئے ایک ارب 20 کروڑ 75 لاکھ ریال کے ایم او یو پر دستخط ہوں گے۔ دیامر بھاشا ڈیم کیلئے 37 کروڑ 50 لاکھ سعودی ریال، مہمند ڈیم کیلئے 30 کروڑ اور شونتر منصوبے کیلئے 24 کروڑ 75 لاکھ ریال ملیں گے جب کہ جامشورو پاور پراجیکٹ کیلئے 15 کروڑ 37 لاکھ اور جاگران ہائیڈرو پاور پراجیکٹ کیلئے 13 کروڑ 12 لاکھ ریال فراہم کیے جائیں۔ ایل این جی کے 2 بجلی گھر بھی سعودی عرب کو دینے پر بات چیت شیڈول میں شامل ہے۔ سعودی عرب نے حویلی بہادر شاہ اور بھکی پاور پلانٹ میں دلچسپی ظاہر کی ہے ۔ جن میں 2 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری متوقع ہے۔ شروع میں یہ کہا گیا کہ گورنمنٹ ٹو گورنمنٹ ڈیل ہونی چاہیے لیکن پھر فیصلہ ہوا کہ پرائیو یٹائیز یشن کے قوانین کے مطابق نجکاری ہوگی۔ اس کی کھلی نیلامی ہوگی اور اگر سعودی عرب زیادہ بولی دینے میں کامیاب ہوا تو اس کو پلانٹس دے دیے جائیں گے۔ہم گوادر میں سعودی حکومت کی طرف سے آئل ریفائنری لگانے کا پروگرام کا خیر مقدم کرتے ہیں۔یہ آئل ریفائنری ایشیا کی بڑی آئل ریفائنری میں سے ایک ہو گی اور نوکریوں کے مواقع پیدا ہوں گے۔ ملک کے دور دراز علاقوں پسنی اور گوادر میں ترقی کے مواقع پیدا ہوں گے۔ سعودی حکومت نے پاکستانیوں کیلئے ویزا فیس 2000 سے 300 ریال کی جس کیلئے سعودی حکومت کے شکر گزار ہیں۔ اسلامی ثقافت اور کلچر کے تحفظ کے لیئے سعودی عرب غیر معمولی کوششیں کر رہا ہے۔ جس پر ہم ان کے شکر گزار ہیں۔ سینٹ کے چیئرمین میر محمد صادق سنجرانی نے کہا ہے کہ تمام پاکستانی خوش ہیں کہ سعودی عرب پاکستان میں اتنی بڑی سرمایا کاری کر رہا ہے اس سے نئی ملازمتوں اور اور اس سے پاکستان کی معاشی حالت تبدیل ہو جائے گی۔ سعودی عرب ہمارا محسن ہے جس نے 1965اور 1971کی جنگوں میں کھل کر پاکستان کا ساتھ دیا۔ مسئلہ کشمیر کیلئے آواز اٹھائی۔ ہر بحران میں ہمارے ساتھ کھڑا ہوا۔ پاکستان پر جب بھی مشکل وقت آیا تو سعودی عرب نے سب سے پہلے پاکستان کا ساتھ دیا ہے اور دونوں ممالک کے عوام ایک دوسرے کے ساتھ کھڑے ہیں۔ او آئی سی کے بعد اگر کوئی اسلامی فورم بنا ہے تو وہ سعودی عرب نے اسلامی فوجی اتحاد بنایا ہے جس میں 41 ممالک شامل ہیں ہمیں اس کو سراہنا چاہیئے اس کے ذریعہ دہشت گردی کو ختم کرنے میں بڑی مدد ملے گی۔ جنرل (ر) راحیل شریف اس اتحاد کی سربراہی بھی کر رہے ہیں۔سعودی عرب نے وزیراعظم عمران خان کے اقتدار میں آنے کے بعد پاکستان میں تاریخ کی سب سے بڑی سرمایہ کاری کرنے کا فیصلہ کیا۔ اس کے ساتھ ساتھ سعودی عرب نے پاکستان کو ادائیگیوں کا توازن برقرار رکھنے کیلئے نرم شرائط پر 3 ارب ڈالرز فراہم کرنے سمیت اربوں ڈالرز کا مفت تیل بھی فراہم کرنے کا فیصلہ کیا۔ اس حوالے سے کچھ حلقوں نے اعتراض اٹھایا کہ کہیں پاکستان کو یمن جنگ میں دھکیلنے کیلئے یہ سرمایہ کاری نہ کی جا رہی ہے۔ اس حوالے سے وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کا کہنا ہے کہ پاکستان کو یمن جنگ میں جھونکنے کیلئے کسی قسم کی کوئی سازش نہیں کی گئی۔اس طرح کی پھیلائی جانے والی خبریں بے بنیاد ہیں۔

*****