- الإعلانات -

سوشل میڈیا پرمنافرت کے خلاف کریک ڈاؤن کاخوش آئندفیصلہ

adaria

سوشل میڈیا ایک شتربے مہارکی طرح چل رہاہے جس کا جو جی چاہتاہے وہ لکھ کرشیئرکردیتاہے ،بعض اوقات توچیزیں اس طرح وائرل ہوتی ہیں کہ وہ عذاب ہی بن جاتی ہیں خصوصی طورپر ہمارے ملک میں منافرت کے حوالے سے سوشل میڈیا کی سرگرمیاں یقینی طورپرقابل گرفت ہیں اور حکومت نے اسی وجہ سے منافرت پھیلانے والے عناصر کے خلاف گھیراتنگ کرنے کافیصلہ کیاہے کیونکہ پوری دنیا اس وقت ایک گلوبل ویلج بن چکی ہے اورصرف ایک کلِک پرپوری دنیا میں آپ کی پہنچ یقینی ہے ایسے میں اگر سوشل میڈیاپرمنافرت پھیلانے والی خبریںیاایسا موادوائرل کیاجائے تواس کے انتہائی خطرناک نتائج برآمد ہوتے ہیں اگر بعض عناصر کی جانب سے اس بات کو یہ کہاجائے کہ حکومت نے اظہارآزادی رائے پرقدغن عائد کرنے کی کوشش کی ہے تو ہم اس سے کسی صورت بھی اتفاق نہیں کریں گے کیونکہ مادرپدر آزادی کسی صورت بھی ممکن نہیں ہے جب تک رکاوٹیں اورپابندیاں نہ ہوں تو پھربے نتھے بیل کی مانند ہوجاتاہے اس کا جہاں جی چاہے منہ مارتارہتا ہے نہ اسے اپنے ملک کے مفاد سے تعلق ہوتاہے اورنہ ہی اس کی کوئی حدودوقیود ہوتی ہیں اس وقت خصوصی طورپر پاکستان میں سوشل میڈیا قطعی طورپر آزاد ہے ۔گزشتہ عرصے میں بعض کچھ ایسی مذہبی چیزیں اورصفحات سوشل میڈیا پروائرل کئے گئے جس سے ملک میں انارکی پھیلنے کاخدشہ پیداہوگیاتھا پھر حکومت نے اس حوالے سے ایکشن لیامذموم عناصر کو گرفتارکیالہٰذا اب جو حکومت نے منافرت بھرے سوشل میڈیا کے خلاف کریک ڈاؤن کاجو فیصلہ کیاہے وہ انتہائی احسن ہے ۔قوانین پر عملدرآمدکراناریاست کی ذمہ داری ہے پھر یہ بات بھی اہم ہے کہ اسلام میں شدت پسندی کاکوئی تصورنہیں۔پاکستانی قوم نے جس انداز سے دہشت گردی جیسے ناسورکامقابلہ کیا وہ قابل ستائش ہے اس کی واضح مثالیں آپریشن ضرب عضب اورآپریشن ردالفساد ہیں جس کے تحت دہشت گردوں کی بیخ کنی کی گئی پھروفاقی وزیراطلاعات ونشریات فواد چودھری نے کہاکہ انتہاپسندی کے خلاف قومی اوربین الاقوامی بیانیہ تشکیل دیناچاہتے ہیں دہشت گردی کی کسی بھی مذہب میں کوئی گنجائش نہیں انسانی جان انتہائی قیمتی ہے اوراگر وہ کسی کے ہاتھوں ضائع ہوجائے تو اسلام میں باقاعدہ اس کے قصاص اوردیت کے قوانین موجود ہیں ۔سوشل میڈیا پراگرکوئی شخص منافرت بھرامواد پھیلائے اوراس سے ملک کے حالات خراب ہوجائیں فرقہ واریت پھیل جائے لوگ دست وگریباں ہوجائیں کسی کی جان چلی جائے تو یہ جرم قابل دست اندازی ہے ہم اس حق میں ہیں کہ سوشل میڈیا کو بالکل آزاد نہیں چھوڑناچاہیے چیک اینڈبیلنس ہونا انتہائی ضروری ہے۔ نیزوفاقی حکومت نے نفرت پھیلانے والے سوشل میڈیا صارفین کے خلاف اگلے ہفتے سے سخت کریک ڈاون کا اعلان کردیا۔ وفاقی وزیر اطلاعات فواد چوہدری نے کہا ہے کہ کچھ گرفتاریاں ہوئی ہیں، بڑی کارروائی اگلے ہفتے ہوگی،آزادی اظہار کے نام پر کسی کو دوسرے کی آزادی چھیننے کا حق نہیں ہے، سوشل میڈیا پر انتہا پسندی کا پرچار کرنے کی قطعی اجازت نہیں ہوگی،سماجی رابطوں کی ویب سائٹس کی نگرانی کی ضرورت ہے، اس پر قوانین کی خلاف ورزی کرنیوالے صارفین کو سزا دینا ہوگی، ڈیجیٹل میڈیا کو ریگولرائز کرنے کی ضرورت ہے، اس کیلئے پاکستان میڈیا ریگولیٹری اتھارٹی کے نام سے نیا ادارہ قائم کررہے ہیں۔ سوشل میڈیا پر نفرت آمیز مواد کو کنٹرول کیا جائیگا،ایک نظام بنا لیا ہے جس کے ذریعے سوشل میڈیا پرنفرت کا پرچار بھی روکا جاسکے گا، دنیا میں ہر آزادی کی حد ہوتی ہے، پاکستان میں کچھ لوگ سمجھتے ہیں کہ انہیں بے لگام آزادی حاصل ہے۔ ریاست مکالمہ چاہتی ہے جو اس وقت نہیں ہوسکتا جب تک آپ دوسرے فریق کو اپنا موقف پیش کرنے کی اجازت نہ دیں، اپنے موقف کے خلاف بات کرنے والے کو گولی مارنے اور پھانسی دینے کی بات کی جاتی ہے، دنیا کے مختلف معاشرے کسی نہ کسی طرح کی انتہا پسندی کا شکار ہیں، بھارت میں مودی کے آنے سے انتہا پسندی میں اضافہ ہوا، پاکستان کو بھی انتہا پسندی اور دہشت گردی کا سامنا ہے، حالانکہ اسلام میں انتہا پسندی، دہشت گردی کا کوئی وجود نہیں۔ برصغیرمیں اسلام کی ترویج صوفیاء کرام کے ذریعے ہوئی،شدت پسندی ایک حالیہ لہر تھی ،ہمارے لئے مسئلہ اس وقت پیش آیا جب ہم افغان تنازع میں پھنس گئے۔ غیر متعلقہ تنازعات میں الجھنے سے شکوک و شہبات پیدا ہوتے ہیں۔ اس تنازع سے نکلنے کیلئے پاکستان کی افواج، عوام اور سب نے بہت قربانیاں دی ہیں لوگوں کو اپنے رائے کی آزادی کا مکمل حق ہے لیکن دوسرے کی آزادی سلب کرنے کا حق کسی کو نہیں ہے۔

پی اے سی معاملہ۔۔۔راجہ ریاض اورریاض فتیانہ کاموقف
پاکستان گروپ آف نیوزپیپرز کے چیف ایڈیٹراورروزنیوزکے چیئرمین ایس کے نیازی کے معروف ومقبول پروگرام ’’سچی بات‘‘میں شیخ رشید کے پبلک اکاؤنٹس کمیٹی میں جانے اوراس کاممبربننے کے حوالے سے پاکستان تحریک انصاف کے رہنما راجہ ریاض احمداورریاض فتیانہ نے انتہائی اہم گفتگوکی ہے ،پی ٹی آئی رہنما راجہ ریاض احمد نے کہا کہ مجھے شیخ رشید سے ذاتی اختلافات نہیں ہیں،جب بھی شہباز شریف کوئی غلط کام کریں گے ہم ان کو روکیں گے،میں صوبائی اسمبلی کاممبراوراپوزیشن لیڈر پنجاب اسمبلی بھی رہ چکا ہوں،پی ٹی آئی کے ممبر کو ہٹا کر شیخ رشید کو لانا ہم پرعدم اعتماد ہے،وفاقی وزیرپی اے سی کا ممبر نہیں بن سکتا،میں ان لوگوں میں سے نہیں ہوں غلط بات ہورہی ہو تونہ بولوں،عمران خان قانون کی خلاف ورزی کبھی نہیں کرتے،شیخ رشید نے اسپیکر قومی اسمبلی کیلئے جو الفاظ استعمال کیے ان پر معذرت کرنی چاہیے،اگر شیخ رشید کو ا تنا شوق ہے تو عمران خان کووزارت کا استعفیٰ دیں پھرآجائیں،پی ٹی آئی کی طرف سے فخر امام اورمیرے جیسے سینئرلوگ پی اے سی میں بیٹھے ہیں،ہم توچیئرمین تحریک انصاف کے حکم پر چلیں گے،شیخ رشیدکو چاہیے کہ ہماری تذلیل نہیں کریں، ریاض فتیانہ نے پروگرام سچی بات میں ایس کے نیازی سے گفتگوکرتے ہوئے کہا کہ کچھ جگہوں میں قانون خاموش ہوتا ہے،منسٹری چھوڑ کر شیخ رشید پی اے سی میں آجائیں ہم دونوں ہاتھوں سے قبول کریں گے،اگر حکومت درخواست کرتی ہے کہ شیخ رشید کو ممبر بنایا جائے تواپوزیشن بھی سعد رفیق کا نام لائی ہے،ہم پارلیمنٹ کو چلانے جارہے ہیں یا کشتی کرنے جارہے ہیں،پی اے سی میں اپنی اپنی پارٹی کے تجریہ کار لوگ موجود ہیں،شیخ رشید کیا دہلی کا قلعہ فتح کرنے آرہے ہیں،ہم نہیں چاہتے کہ کوئی ایسا کام کریں جس سے عوام میں شرمندہ ہوں،کیا شیخ رشید نئی روایات بنارہے ہیں، تقریباً سارے وزرا نہیں چاہتے کہ شیخ رشید پی اے سی میں آئیں،میں چھٹی بار قومی اسمبلی میں آیا ہوں،2013کے الیکشن میں میرا اور شیخ رشید کاریکارڈ دیکھ لیں،ہماراایجنڈا پی اے سی نہیں ،ہماراایجنڈپاکستان کانام روشن کرنا ہے،ہم نے جمہوریت کو درست سمت میں لے کرجانا ہے،وزیراعظم عمران خان ملک کے لئے بہت زبرست کام کررہے ہیں۔