- الإعلانات -

سیکولر انتہا پسندی کے فکری تضادات

سیکولرزم اگر واقعی انسان دوستی، محبت، پیار، احترام انسانیت ، برداشت، تحمل اور بقائے باہمی کا نام ہے تو سر آنکھوں پر، ان اعلی قدروں سے کس کو اختلاف ہو سکتا ہے ۔ہم ان اقدار کو اسوہ ِ حسنہ کہتے ہیں،آپ بھلے انہیں سیکولرزم کا نام دے لیں ہمیں کوئی اعتراض نہیں لیکن امر واقع یہ ہے کہ سیکولرزم انسان دوستی، محبت، پیار، احترام انسانیت ، برداشت، تحمل اور بقائے باہمی کا نہیں ردعمل کی غیر متوازن نفسیات اوڑھے ایک لادین انتہا پسندی کا نام ہے۔۔۔۔۔۔سوال یہ کہ مذہبی انتہا پسندی سے گھائل سماج دیکھتی آنکھوں سے لادین انتہا پسندی کی مکھی کیسے نگلے؟
سیکولر انتہاپسندی کے فکری تضادات بہت خوفناک ہیں۔اب چونکہ احباب کی جانب سے اس موضوع پر مکالمے کا اذنِ عام ہے اس لیے چند گذارشات پیش خدمت ہیں۔سیکولرزم کے بارے میں میرے گذشتہ کالم پر یہ تنقید سامنے آئی کہ سیکولرزم کے معانی لغت سے تلاش کرنا کوئی علمی رویہ نہیں ہے۔فکری برتری کے جھوٹے احساس میں ڈوب کر ایک صاحب نے گرہ لگائی المیہ یہ ہے کہ اس ملک میں ننانوے فیصد لوگوں کو پتا ہی نہیں سیکولرزم کیا ہوتا ہے اور وہ خواہ مخواہ اس پر تنقید کرتے رہتے ہیں۔یہ انتہا پسندانہ اسلوبِ گفتگو بہت سوں کو گد گدا گیا۔حیرت بھی ہوئی کہ یہ احباب خود کہہ رہے ہیں ننانوے فیصد لوگوں کو سیکولرزم کے معانی ہی معلوم نہیں اوراس گوہر نایاب کے جوہر تو صرف اس ایک فیصد طبقے پر آشکار ہوئے ہیں جو سول سوسائٹی تخلص کرتا ہے لیکن اس کے باوجود انہیں ضد ہے کہ ان ننانوے فیصد حشرات الارض کو اپنے لیے نظام اختیار کرنے کا کوئی حق نہیں اور انہیں سیکولر ہو جانا چاہیے ۔سوال یہ ہے وہ نظام ِ حیات قوم پر کیسے مسلط کر دیا جائے جس کے معانی ہی ابھی تک صرف ایک فیصد طبقے پر آ شکار ہوئے ہوں؟یہ ایک فیصد طبقہ بھی سیکولر زم کی کسی ایک تعریف کا قائل ہوتا تو کوئی بات ہوتی یہاں تو احباب با جماعت سیکولرزم کے عارض و رخسارپرمضامین باندھ رہے ہیں اور ہر ایک کے پاس ا پنا ا پنا ، الگ الگ سیکولرزم ہے اور اس کا اصرار ہے اسی کے سیکولرزم کو حقیقی سیکولرزم مانا جائے۔میرے جیسا طالب علم ان تضادات کو دیکھ کر سوچتا ہے:
” کس کا یقین کیجیے ، کس کا نہ کیجیے
لائے ہیں بزمِ ناز سے یار خبر الگ الگ‘ ‘
انتہائی عزیز دوست وجاہت مسعود تو سیکولرزم کا ’سافٹ امیج ‘ ہیں،سیکولرزم وہی ہے جو وجاہت بیان کرتے ہیں تو اس کا غالب حصہ قدرِ مشترک قرار دے کر اختیار کیا جا سکتا ہے لیکن لاہور ہی میں،ان کے قرب و جوار میں، سیکولرزم کی بالکل مختلف تشریحات رکھنے والے بھی موجود ہیں ، پھرچکوال سے اٹھتے سیکولر فکری بیانیے کا کیا کریں جو لاہور کی تتلیوں اور خاص مشروب کے تذکرے سے بلند ہونے سے یکسر معذور دکھائی دیتا ہے۔جب ایک لفظ کی متضاد شرح بیان کی جا رہی ہے تو ایسے میں مغرب کے فکری ماخذ سے رجوع کر کے سیکولرزم کے معانی تلاش کرنا غلط کیسے ہو گیا؟جن لغات اور انسائیکلو پیڈیاز سے سیکولرزم کے معانی میں نے نقل کیے ،کیا وہ میری مرتب کردہ ہیںکہ مزاجِ یار برہم ہو گئے ؟یہ کیسا نظام ہے جس کے لغت میں دیے معانی نقل کر دیے جائیں تو اس کے داعی خفا ہو جاتے ہیں ۔آ پ اس ملک میں سیکولرزم لانا چاہتے ہیں،یہ فکری تکبر بھی آ پ کے ہمراہ ہے کہ ننانوے فیصد لوگ سیکولرزم کے معانی نہیں جانتے، آ پ ہمیں لغت اور انسائیکلو
پیڈیا سے رجوع بھی نہیں کرنے دیتے ،آپ کا دعوی ہے سیکولرزم کی صرف اس تعبیر کو حتمی سمجھا جائے جو آ پ کے منہ سے ادا ہو۔کیا علم کی دنیا میں اس رویے کا کوئی اعتبار ہے؟