- الإعلانات -

ڈاکٹر خورشید نسرین ۔۔۔ شخصیت اور علمی و ادبی خدمات!

syed_sherazi

علم و ادب کے حوالے سے بین الاقوامی سطح پر متعارف ڈاکٹر خورشید نسرین، عرف امواج الساحل کا تعلق پاکستان سے ہے، وہ ایم اے عربی (گولڈ میڈل ) اور(سلور میڈل) ہیں، انہوں نے اردو سے عربی افسانوں کا ترجمہ بھی کیا۔ دونوں زبانوں میں اپنے افسانے بھی لکھے۔مشہور عربی جرائد، الرایہ ، الشرق ، الوطن ، العرب، الجوہرہ ، العروبہ (قطر) میں اور کتابات (بحرین) میں انکی تخلیقات شائع ہوچکی ہیں۔اور انہوں نے پی ایچ ڈی کا مقالہ خلیج عرب کے دور کے شاعر عبد الرحمن المعاودہ کی شاعری پر1985 میں لکھا، قطر کے اعلیٰ تعلیم کے مختلف اداروں میں عربی زبان و ادب پڑھاتی رہی ہیں ان کی تدریس کا دورانیہ (1978 سے 2005 )تک ہے۔پہلے تو پاکستان سے پرائمری مکمل کی، پھروالد نے قطر میں عربی اسکول میں داخل کروادیا۔ کیونکہ اردو یا انگلش کا کوئی بندوبست نہ تھا، صرف ایک عربی اسکول تھا۔ شروع میں تو رٹا مار کر پاس ہوتی رہی، پتہ نہیں کیسے چوتھی پانچویں پوزیشن لے لیتی تھی۔ شاید اچھی یاد داشت کی بنا پر۔ چھٹی میں بورڈ کے پرائمری امتحان میں ٹاپ کر لیا۔ کچھ عربی سمجھ بھی آنے لگی۔ ساتویں میں عربی زبان کا لطف آنے لگا۔ خصوصاً قرآن کا۔ڈاکٹر امواج الساحل نے عربی میں افسانہ نگاری اور شاعری کے علاوہ مختلف شعراء سلطان باہو ، شاہ حسین ، ڈاکٹرمحمد اقبال پرمضامین بھی لکھے اور اقبال کی شاعری کا عربی اشعارمیں ترجمہ بھی کیا، غالب کے بھی کچھ اشعار کا ترجمہ عربی اشعار میں کیا۔ ثلاثیات (ھائیکو)انکا میدان سخن ہے ، اور پورے عالم عرب میں اس صنف میں پہلی شاعرہ ہونے کا اعزاز بھی انہیں حاصل ہے ، قطر میں سب سے پہلے رباعیات ان کی ہی شائع ہوئیں۔ اردو اور پنجابی میں بھی شاعری کی۔سن 2002 میں انہوں نے منسٹری آف ایجوکیشن قطر کیلئے تعلیمی سی ڈی بنائی تھی ، جو کہ قطر میں پہلی تعلیمی سی ڈی تھی۔ اس سی ڈی پران کو منسٹری آف ایجوکیشن قطر نے بیسٹ ریسورس کا ایوارڈ دیا۔ ریڈیو قطر کی اردو سروس میں پروگرام ” برگِ گل ” سے بھی ان کا تعلق رہا ہے۔ عربی سے اردو ترجمہ شدہ افسانوں کا ایک مجموعہ زیر طبع ہے۔اپنا خاندانی پس منظر بیان کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ ہم لوگوں کے بزرگ مشرقی پنجاب ضلع جالندھر کے رہنے والے تھے۔ محنت مزدوری کرنے والے لوگ تھے۔ میرے پردادا کی دوستی ایک زمیندار سے تھی۔ فیصل آباد میں پتہ نہیں کس سلسلے میں ان کو انگریزوں نے کچھ مربعے زمین عطا کی۔ہمارے گھرانے میں تعلیم عام تھی، جو ان پڑھ تھے وہ رات کو پڑھے لکھوں سے سنتے تھے۔ میاں محمد بخش کا کلام، اکرام محمدی اور قصے سنے جاتے۔ جس لڑکی کی آواز اچھی ہوتی وہ پڑھتی، باقی سنتے اس طرح بچیوں کی تعلیم و تربیت بھی ہوتی جاتی۔ نانا حکمت کرتے تھے، بعد میں بڑے ماموں کو بھی انبالہ انسٹیٹیوٹ سے حکمت کروائی۔ ساتھ ساتھ گاؤں والوں کے اصرار پر مسجد میں خطیب کا عہدہ سنبھالا، اور بیس سال تک نبھایا ، پھر ضعیفی کی وجہ سے ہم نے چھڑوادیا۔ دادا جو کہ نانا کے بھائی تھے، درس میں پڑھنے لگ گئے، اور قرآن حفظ کرنا شروع کر دیا۔ بینائی چلی گئی تو گاؤں والوں نے ان کو امام مسجد رکھ لیا، یوں زندگی کی گاڑی چلتی رہی، والد صاحب پڑھنے میں بے حد لائق تھے۔ میٹرک تک وظیفہ لیتے رہے۔ مزید پڑھنے کیلئے پیسے نہیں تھے۔ چھوٹے تین بھائی اور بھی تھے۔ مجبوراً مونگ رسول میں اوورسیر اور ڈرافٹسمین کا ڈپلومہ کیا۔ یہ 1949 کی بات ہے۔ ملک کو کام کرنے والوں کی سخت ضرورت تھی، فورا ان کی تقرری اوورسیر کے طور پر محکمہء انہار میں ہو گئی۔ میری پیدائش بھی اسی سال ہوئی، والدین کی شادی 1947 میں ہوچکی تھی۔ قطر کی طرف سے اخبارات میں ضرورت ملازمیں کے اشتہار آرہے تھے، پٹرول دریافت ہو چکا تھا، ترقیاتی منصوبوں کو عملی جامہ پہنانا مقصود تھا۔ والد صاحب نے درخواست دی تو انہیں بلوالیا گیا، یوں 1958 میں یہاں آگئے، اور 1959 میں مجھے اور والدہ کو لے آئے۔ یہاں زندگی کا نیا باب شروع ہوا۔1974 میں۔ بی اے کر چکی تھی۔ایم اے بعد میں کیا، اور ڈاکٹریٹ دو بچوں کے ساتھ کی۔ شادی بڑے ماموں کے بیٹے سے ہوئی، جو الحمد للہ نبھی جا رہی ہے۔ 44 سال ہوگئے۔میری شادی کیلئے پہلے تو والدین نے انتخاب کیا میرے لئے تعلیم یافتہ ایم کام لڑکے کا پھر مجھے بھی پوچھا میں نے امی پر موافقت ظاہر دی۔ اتنی عربی پڑھ کر سمجھ تو آہی گئی تھی برے بھلے کی۔میرے شوہرریٹائرڈ اکاؤنٹنٹ نے علمی اور ادبی خدمات میں بہت زیادہ تعاون کیا، یا پھر میرے والد نے سٹینڈ لیا تھا جب سب نے کہا تھا اسے ہٹالو کیا ضرورت ہے پڑھائی کی۔ میں نے اپنا تھیسز ان دونوں کے نام منسوب کیا ہے۔میرے تین، بڑا بیٹا ایم بی اے ہے، بیٹی بچوں کی ڈاکٹر ہے، چھوٹا بیٹا آئی ٹی میں ہے۔ تینوں صاحب اولاد ہیں الحمد للہ۔والد نے درویشی سکھائی، تو جو بھی ملے کھا لیتی ہوں اور پہن لیتی ہوں فیشن وغیرہ کا کوئی خاص اہتمام نہیں کرتی۔ عربوں کو اردو کے اور پاکستانیوں کو عربی کے قابل ذکر واقعات سناتی رہتی رہتی ہوں۔ ملنے والے پسند کرتے ہیں اورنرم خو جانتے ہیں مجھے، انہیں شاک تب لگتا ہے جب میں مذہبی اصولوں پر عملی طورپر اڑ جاتی ہوں۔ حیران ہو کر سوچتے ہیں اسے کیا ہوگیا؟ یہ تو خاموش طبیعت تھی۔ انہیں غیرت دین کا نہیں پتہ۔ جلدی ناراض نہیں ہوتی کسی سے، مگر جب ہوجاؤں تو پھر منانے والا کوئی نہیں۔ مجھے اعتراض ہے ان مردوں پر جو کھانے میں نقص نکال نکال کر عورت کو پکانے میں ہی مصروف رکھتے ہیں اور نماز کا ٹائم نہیں ملتا اسے۔ یہ سب حساب دینا پڑے گا۔اپنا کام خود کرتی ہوں دستی پمپ سے پانی نکالنے سے لیکر ویکیوم کلینر تک کر لیتی ہوں۔ کھانے خود بناتی ہوںِ پلاؤ، بریانی، حلوے، قورمہ، مچھلی، شامی کباب، تکے، روٹی، پراٹھے۔ اور بھی کافی کچھ بناتی رہی ہوں، عربی کھانے بھی ٹرائی کئے، ہریسہ، عربی پلاؤ، سویٹ ڈشز وغیرہ۔ اوراپنے کپڑے بھی خود سیتی رہی ہوں، مگر اب ساٹھ سال کی عمر سے بیماریوں نے عاجز کر دیا ہے، کچھ نہیں ہوتا۔ شریعت دین کی بنیاد ہے جیسے ارکان اسلام و ایمان کا علم، قرآن وحدیث کا۔ طریقت محبت کا مختصر ترین راستہ ہے شریعت کا علم بے حد ضروری ہے تاکہ طریقت کے احوال کو برداشت کر سکے۔ یہ راستہ شیخ بتاتا ہے۔جیسے سونے کو سنار پہچانتا ہے ایسے ہی شیخ کو مرید پہچان لیتا ہے۔ ہر دعویٰ کرنیوالا شیخ نہیں ہوتا۔سیاست کی اہمیت یہ ہے کہ اگر سر سلامت ہو تو جسم بھی سلامت رہتا ہے۔ ادبی اصناف میں ان کوشاعری اور افسانے پسند ہیں اوریہی ان کے پسندیدہ مشاغل ہیں اور افسانوں کا ترجمہ، اردو سے عربی اور عربی سے اردوکا ترجمہ کیا ہے۔مجھے لکھنے کا شوق کیسے پیدا ہوا،پتہ نہیں بس پڑھتے پڑھتے دل میں آیا کہ میرا نام بھی کسی بک پر چھپے۔میں نے قطر میں سب سے پہلے رباعیاں لکھیں، عرب دنیا کو ہائیکو سے متعارف کروایا۔مصروفیت کی وجہ سے باقاعدہ لکھنا مشکل ہے میرے لئے۔ عربی اخبار کی طرف سے باقاعدہ کالم نگاری کیلئے پیشکش تو آئی تھی۔لا تعدادلکھا، روزانہ تو لکھتی رہی ہوں زیر طبع” ہماری زندگی” ہے۔ قلم میں بہت طاقت ہے اس میں یہ قوموں کی زندگی کا رخ موڑ دیتی ہے۔ اسے کے زور پر انگریزوں سے نجات حاصل کی قوموں نے۔ یہی انسانی تہذیبوں کی بنیاد ہے۔انسانی سماج کی ترقی کا راز کیا ہے؟ان کا کہنا تھا کہ کسی بھی چیز کا اگر غلط استعمال کریں گے تو وہ خراب ہو جائے گی۔ صحیح استعمال اسکی گائیڈ بک میں واضح کیا ہوا ہوتا ہے۔ ہماری بھی گائیڈ بک اللہ نے اتاری ہے اگر اس پر عمل کریں گے تو سب کچھ ٹھیک رپے گا ورنہ سب گڑبڑ ہو جائے گی۔ادب میں وہ اعلیٰ مثالیں ہوتی ہیں جن پر نسلیں عمل پیرا ہوتی ہیں۔ وہ زندگی کا آئینہ ہے۔شعر و ادب میں طنز و مزاح کی اہمیت بیان کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ تفریح کے ساتھ ساتھ سبق آموز بھی ہوتا ہے۔ اورالیکٹرانک میڈیا پرنٹ میڈیا پہ اثر انداز ہو رہا ہے اور آثار بتا رہے ہیں کہ پرنٹ تو ناپید ہوتا جا رہا ہے۔ اورسوشل میڈیا وقت ضائع کر رہا ہے یا اس کا فائدہ بھی ہے۔ہر ایجاد کے فائدے بھی ہوتے ہیں نقصان بھی۔ مثل مشہور ہے کہ علم دو دھاری تلوار ہے۔سوشل میڈیا کا کردار مثبت بھی ہے۔

(باقی:سامنے والے صفحہ پر)