- الإعلانات -

بھارت حقائق سے نظریں نہ چرائے

پاکستان کے ایک اہم اور حساس صوبے بلوچستان سے پکڑے جانے والے بھارتی جاسوس کلبھوشن یادیو کا کیس ان دنوں عالمی عدالت انصاف میں زیر سماعت ہے ۔پاکستان نے اس کے لیے تیاریاں مکمل کر لی ہیں۔ جاسوس یادیو کے کیس کی سماعت18سے 21فروری تک ہوگی۔ عالمی عدالت انصاف کی جانب سے جاری ہونے والے اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ18فروری کو بھارت اور19فروری کو پاکستان کے وکلا دلائل دیں گے۔کیس کی سماعت چار روز تک جاری رہے گی۔ دوسرے مرحلے میں 20فروری کو بھارت اور21فروری کو پاکستانی وکلا جوابی دلائل دیں گے۔ پاکستان کا پانچ رکنی وفد عالمی عدالت انصاف میں کیس کی سماعت کے لیے ہیگ پہنچ گیا ہے ۔پاکستان کی جانب سے مقدمے کی پیروی ملکہ برطانیہ کے وکیل خاور قریشی کریں گے۔ بھارتی جاسوس کلبھوشن یادیو کو تین مارچ2016کو حساس اداروں نے بلوچستان کے علاقے ماشکیل سے گرفتار کیا تھا۔بعد ازاں ان کا فیلڈ جنرل کورٹ مارشل نے پاکستان آرمی ایکٹ کے تحت کلبھوشن یادیو کا ٹرائل کیا اور10اپریل2017کو جاسوسی،کراچی اور بلوچستان میں تخریبی کارروائیوں میں ملوث ہونے پر سزائے موت کا اعلان کیا تھا۔تاہم بھارت نے یادیو کی سزائے موت کو عالمی ثالثی عدالت میں چیلنج کرتے ہوئے سزا پر عمل درآمد رکوانے کی اپیل کی تھی۔عالمی عدالت نے کلبھوشن کی سزائے موت کے خلاف بھارت کی درخواست پر فیصلہ سناتے ہوئے کہا تھا کہ حتمی فیصلہ آنے تک کلبھوشن کو پھانسی نہیں دی جاسکتی۔ کلبھوش نے گرفتاری کے بعد ویڈیو بیان میں اعتراف کیا تھا کہ اس نے 2003 میں انٹیلی جنس آپریشنز کا آغاز کیا تھا۔اس مقصد کے لیے اس نے چابہارایران میں کاروبار کا آغاز کیا جہاں اس نے شناخت خفیہ رکھی۔اس نے یہ بھی اعتراف کیا تھا 2003 اور2004 میں کراچی کے دورے بھی کیے۔ یادیو نے یہ بھی مانا کہ2013کے آخر میں بھارتی خفیہ ایجنسی را کے لیے ذمہ داریاں پوری کرنا شروع کیں ۔اس نے یہ بھی مانا کہ کراچی اور بلوچستان میں کئی تخریبی کارروائیوں میں کردار بھی ادا کیا۔بھارتی جاسوس اور ’را‘ کے ایجنٹ کلبھوشن یادیو کیس میں عالمی عدالت انصاف میں پاکستان اور بھارت کی جانب سے 2،2 جوابات جمع کرائے جا چکے ہیں۔پاکستان نے پہلا جواب 13 دسمبر 2017اور دوسرا جواب17جولائی 2018 کو جمع کرایا جس میں پاکستان نے بھارت کے تمام اعتراضات کے جواب دیے ۔بھارت نے 9مئی 2017کو عالمی عدالت انصاف میں جاسوس یادیو کی پھانسی کے خلاف اپیل دائر کی تھی، جس پر عالمی عدالت انصاف نے حکم امتناع جاری کر رکھا ہے۔بھارتی نیوی کے حاضر سروس افسر نے پاکستان میں دہشت گردی کی متعدد کارروائیوں کا اعتراف کیا تھا جس پر فوجی عدالت نے ضابطے کی تمام قانونی کارروائی کے بعد کلبھوشن کو سزائے موت سنائی تھی۔یادیو کو سزا سنائے جانے کے بعد22جون 2017 کو آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ سے رحم کی اپیل کی جو مسترد کر دی گئی۔قانون کے مطابق، کلبھوشن یادیو آرمی چیف کی طرف سے سزا کے خلاف اپیل مسترد ہونے کے بعد صدر پاکستان سے بھی رحم کی اپیل کر سکتے ہیں۔ کلبھوشن پر پاکستان میں دہشت گردی اور جاسوسی کے سنگین الزامات ہیں۔ بھارت ان الزامات کو ماننے کو تیار نہیں۔پاکستان کا موقف مضبوط ہے کیونکہ اسکے پاس سب سے بڑا ثبوت اسکے دو الگ ناموں سے پاسپورٹ ہیں جو اسکو جاسوس ثابت کرنے کے لیے کافی ہے، دوسرا وہ ایران سے نہیں پاکستانی علاقے سے گرفتار ہوا ۔تیسرا اسکا اقبالی ویڈیو بیان ایک اہم ثبوت ہے ان تمام باتوں کے بعد اسکا ’را‘ کا ایجنٹ ہونے اور پاکستان کی سالمیت کو نقصان پہنچانے کو رد کیسے کیا جا سکتا ہے۔’را‘ کے ایجنٹ کلبھوشن یادیو کی ریٹائرڈ منٹ کے حوالے سے بھارت نے ابھی تک کوئی ثبوت فراہم نہیں کیے، جبکہ مبارک حسین پٹیل کے نام سے جاری پاسپورٹ پر بھی تسلی بخش جواب نہیں دیا گیا، جبکہ کلبھوشن یادیو نے مبارک حسین پٹیل کے نام سے17بار دہلی کا دورہ کیا۔بھارت نے دعوی ٰکیا ہے کہ یادیو ایک بے قصور تاجر ہے جسے ایران سے اغوا کرنے کے بعد زبردستی ’را‘ ایجنٹ ہونے کا اعتراف کروایا گیا، لیکن بھارت اغوا کیے جانے کے کوئی بھی ثبوت پیش نہ کرسکا۔اسی طرح بھارت یہ ثابت کرنے میں بھی ناکام رہا کہ وہ بھارتی بحریہ سے ریٹائرڈ ہوچکا تھا ، کیوں کہ پکڑے جانے کے وقت کلبھوشن کی عمر47برس تھی۔ بھارت کو اس بات کی وضاحت دینے کی ضرورت ہے کہ یادیو کے پاس جعلی مسلمان شناخت کیساتھ اصلی پاسپورٹ کیسے آیا، جس کو اس نے17مرتبہ بھارت آنے جانے کے لیے استعمال بھی کیا اور اس میں اسکا نام حسین مبارک پٹیل درج تھا۔بھارت سے یہ سوالات متعدد مرتبہ کیے گئے حتیٰ کہ خود بھارتی صحافیوں پروین سوامی اور کرن تھاپڑ کی جانب سے بھی یہ سوال اٹھائے گئے لیکن کسی ایک کا بھی جواب نہ دیا گیا۔ بھارت پاسپورٹ کو جعل قرار دیتا ہے لیکن برطانیہ کے غیر جانبدار ماہر کی جانب سے پاسپورٹ کو اصلی قرار دیا گیا ہے۔ نئی دہلی نے آئی سی جے سے مطالبہ کیا تھا کہ پاکستان کو کلبھوشن یادیو کی واپسی کا حکم دیا جائے لیکن عالمی عدالت نے واضح کیا کہ یہ جرائم کی عدالت نہیں ہے اگر قونصلر رسائی نہیں دی گئی تو مقامی عدالت سے رجوع کیا جائے۔ماہرین کا کہنا ہے کہ کلبھوشن یادیو اور ان کے اہلِ خانہ آئینِ پاکستان کی دفعہ 199 کے تحت اعلیٰ عدالت سے رجوع کرسکتے تھے لیکن ایسا نہیں کیا گیا۔پاکستان اور بھارت کے درمیان 21 مئی 2008 کو قونصلر رسائی کے حوالے سے کیا گیا معاہدہ موجود ہے، جو بھارت نے تیار کیا تھا، اسکی دفعہ 4 کے تحت ریاست کو اختیار دیا گیا تھا کہ قومی سلامتی کے امور میں ملوث شخص کے خلاف اسکا اطلاق نہیں ہوگا لیکن بھارت یہ ماننے کو تیار نہیں کہ کلبھوشن نے ایسا کیا وہ ہر چیز کو پروپیگنڈہ قرار دے کر عالمی عدالت کی آنکھوں میں دھول جھونک رہا ہے لیکن ہمیں امید ہے کہ وہ اپنے مذموم مقاصد میں ناکام ہو گا۔