- الإعلانات -

امریکا طالبان امن مذاکرات اور پاکستان (2)

rana-biqi

گزشتہ سے پیوستہ
اِس حقیقت سے انکار نہیں کیا جا سکتا کہ افغانستان کے صدر اشرف غنی کے پاکستان کے سرحدی علاقوں میں پشتون قومیت کے حوالے سے حالیہ غیر سفارتی متنازع ٹویٹ اور وزیرستان میں حالیہ دنوں میں اُبھرنے والی پشتون تحفظ تحریک کی قیادت کی جانب سے نام نہاد خیرمقدم کئے جانے کے بعد خطے میں بھارتی ایجنسیوں کی مداخلت مزید واضح ہوکر سامنے آئی ہے جس سازش کا انکشاف بھارتی ایجنسی RAW سے تعلق رکھنے والے تخریب کار ایجنٹ نیول کمانڈر کل بھشن جادیو کے بلوچستان کے علاقے سے رنگے ہاتھوں گرفتاری کے بعد ہوا تھا۔ چنانچہ پاکستان کے وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کی جانب سے اشرف غنی کے متنازع ٹویٹ کی مذمت کئے جانے کے بعد طالبان امریکا مذاکرات کے محرک زلمے خلیل زاد اور امریکی صدر ٹرمپ کی جانب سے امن مذاکرات میں پاکستان کے کردار کی تعریف کئے جانے پر اشرف غنی بھارت گٹھ جوڑ کو یقیناًضعف پہنچا ہے چنانچہ اشرف غنی نے گزشتہ روز طالبان کو قندھار یا ننگرہار میں دفتر کھولنے کا عندیہ دیا ہے جبکہ طالبان کے نمائندے نے وضاحت سے کہا ہے کہ کیونکہ امریکا افغانستان میں امن مذاکرات چاہتا تھا اِس لئے طالبان نے کسی ملک کے دباؤ کے بغیر براہ راست امریکا سے مذاکرات کا راستہ اختیار کیا ہے چنانچہ قطر میں طالبان امریکا مذاکرات میں پیش رفت کے بعد طالبان کے نمائندے نے اشرف غنی کی پیشکش مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ فی الحال طالبان کا دفتر قطر کے دارالحکومت دوحہ میں ہی قائم رہے گا ۔ اِسی حوالے سے یہ اَمر انتہائی خوش آئند ہے کہ طالبان کے نمائندے ذبیح اللہ مجاہد نے اِس اَمر کی بخوبی وضاحت کی ہے کہ ضرورت پڑنے پر طالبان، کابل، قندھار یا ننگرہار میں دفتر کھول سکتے ہیں لیکن افغانستان میں امن کے معاملات کو آگے بڑھانے کیلئے قطر کا دفتر اپنی جگہ اہمیت رکھتا ہے جبکہ طالبان افغانستان میں اقتدار میں آنے پر پاکستان کیساتھ پڑوسی ملک ہونے کے ناتے باہمی مفادات پر مبنی جامع تعلقات قائم کریں گے۔ دریں اثنا مغربی سرحدو ں پر افغان شمالی اتحاد اور اشرف غنی کی حمایت سے بھارتی ایجنسیوں کے مداخلت کار افغانستان میں بیٹھ کر پاکستان کے مغربی سرحدی علاقوں میں جو تخریب کاری کر رہے ہیں اُسکا معروضی جائزہ لینا ضروری تھا چنانچہ پاکستانی سیاسی و عسکری قیادت کی جانب سے قبائیلی علاقوں میں انتشار پیدا کرنے کیلئے بیرونی مداخلت کو ختم کرنے کیلئے نہ صرف یہ کہ پاک افغان سرحد پر باڑ لگانے کا سلسلہ شروع کیا گیا ہے جو سال کے اختتام تک مکمل ہو جائیگا، بلکہ سرحدی علاقوں میں تخریب کاری کو روکنے کیلئے پاکستانی قبائل کو برطانوی حکومت ہند کے سیاہ قوانین سے نجات دلانے اور پاکستانی آئین و قانون کے تحت اُن کے سیاسی و سماجی حقوق کو بحال کرنے کیلئے اُنہیں قومی دھارے میں لایا جا رہا ہے۔ حالیہ فیصلوں کے مطابق قبائلی علاقوں میں سپریم کورٹ کی حاکمیت بحال کی گئی ہے اور پہلے مرحلے میں ڈسٹرکٹ سیشن اور سول کورٹس کا قیام عمل میں لایا جا رہا ہے جبکہ قبائلی عوام کو خیبر پختون خواہ میں سیاسی نمائندگی دیتے ہوئے صوبائی اسمبلی کے انتخابات کی تیاریاں مکمل کی جا رہی ہیں۔ ا،س حکمت عملی کے باعث ملکی خارجہ پالیسی اور قبائلی عوام کی خواہشات کے درمیان پیدا ہونے والی خلیج کو پاٹا جا رہا ہے کیونکہ اِس سیاسی تضاد کے باعث قومی یکجہتی کو ضعف پہنچ سکتا تھا ۔ اِس امر پر بھی غور کیا جانا چاہئے کہ مغربی سرحدوں کے حوالے سے پیدا ہونے والے مسائل کی اِس کڑی دھوپ میں ہم کہاں کھڑے ہیں ؟ ہمارے عوام یہ بھی جاننا چاہتے ہیں کہ مستقبل میں اِن قومی اُلجھنوں سے نکلنے کیلئے ہمارے اربابِ اختیار مزید کیا لائحہ عمل اختیار کرنا چاہتے ہیں اور یہ کہ پشتون تحفظ تحریک کو بیرونی اثرات سے پاک کرنے اور قومی دھارے میں لانے کیلئے کیا حکمت عملی اختیار کی جاتی ہے ؟ یہ درست ہے کہ پاکستان کے سرحدی علاقوں میں بیرونی قوتوں کی پیدا کردہ داخلی خلفشار کی کیفیت کو کنٹرول میں لانے کیلئے افواج پاکستان کے جوانوں اور آفیسرز نے قربانیاں دیکر اپنے دشمنوں پر یہ واضح کر دیا ہے کہ پاکستان کے غیور عوام ایک ہیں اور پاکستان کی مغربی سرحدوں پر بھی دشمن کے ناپاک عزائم کو کبھی کامیاب نہیں ہونے دینگے ۔ سوال یہ بھی ہے کہ پاکستان کی کچھ سیاسی قوتیں اور اُن کے حاشیہ بردار چند مادر پدر آزاد صحافی پاکستانی عوام کے اتحاد میں رخنہ ڈالنے کیلئے ڈان لیکس جیسی بھارت نواز پیلی صحافت کے ذریعے عوام کے ذہن پراگندہ کرنے میں کیوں مصروف ہیں؟ البتہ پاکستانی عوام حیران پریشان اور مضطرب ہیں کہ عمران خان کی قیادت میں پاکستان کی نئی حکومت اور عسکری قیادت کے ایک پیج پر ہونے کے باوجود بیرونی اثرات اور بدعنوانی میں ملوث چند سیاستدان ملک میں بے یقینی کی کیفیت کو مہمیز دینے میں کیوں مصروف ہیں؟ خطے میں امن و امان قائم کرنے کیلئے پاکستان کی جانب سے بھارت کو بات چیت کے ذریعے مسائل کو حل کرنے کی دعوت دئیے جانے کے باوجود بھارت ، پاکستان کے خلاف سازشوں کے جال بچھا رہا ہے۔ اگر سوچ کے دھاروں کو کھولا جائے تو بھارتی RAW ایجنٹ کلبھوشن جادیو کی گرفتاری کے حوالے سے ایسے ہی عوامی محسوسات 1971 میں اگرچہ سازش کے حوالے سے سابق مشرقی پاکستان میں بھی دیکھنے میں آئے تھے جب کچھ سیاستدان اندرونی طور پر بھارت کیساتھ ملے ہوئے تھے یہی کھیل بھارت کے موجودہ مسلم دشمن وزیراعظم نریندرا مودی نے نواز شریف کیساتھ دوستی کا کھیل ،کھیل کر پاکستان فوج اور عدلیہ کے خلاف ڈان لیکس ایسے پروپیگنڈے کو ہوا دینے کی کوشش کرکے کی تھی جسے پاکستانی عوام نے الیکشن 2018 میں اپنے ووٹ کی قوت سے شکست دیکر ناکام بنا دیا تھا۔اِس اَمر کو بھلانا نہیں چاہیے کہ مغربی سرحدوں پر تخریب کاری کو ہوا دینے کیلئے بھارت نے افواج پاکستان کو مشرقی سرحدوں پر مصروف رکھنے کیلئے نہ صرف ایک تسلسل کیساتھ وادئ کشمیر میں ظلم و تشددکا بازار گرم کیا ہوا ہے بلکہ کشمیر کنٹرول لائن اور ورکنگ باؤنڈری پر روزمرہ کی خلاف ورزی اور بھارتی سیاسی قیادت باالخصوص بھارتی آرمی چیف کی جانب سے بار بار سرحد پار فوجی آپریشن کرنے اور جنگ کی دھمکیوں دینے کی سامراجی پالیسی اپنائی ہوئی ہے ، جس کا افواج پاکستان نے منہ توڑ جواب دیا ہے۔البتہ بھارت افغانستان میں طالبان امریکا امن پیشرفت کے باوجود افغان شمالی اتحاد اور اشرف غنی کی مدد سے مغربی سرحدی علاقوں میں اپنے نئے گیم پلان کے تحت کچھ بدگمان سیاسی افراد میں ڈالر کی تقسیم کے ذریعے پاکستانی سرحدی علاقوں میں نہ صرف اندرونی خلفشار کو ہوا دینے کیلئے تخریب کاری کو ہوا دے رہا ہے بلکہ کچھ بدگمان قبائلی حلقوں اور فوج کے مابین تصادم کی حوصلہ افزائی کرنے کی پالیسی پر بدستور گامزن ہے ۔ چنانچہ بھارت کے معروف تھنک ٹینک اور ریاستی حمایت یافتہ کچھ بھارتی کالم نگار اپنی تحریروں میں ایک منظم ڈِس انفارمیشن مہم کے ذریعے پاکستان میں بے چینی پھیلانے کے مرتکب ہو رہے ہیں ۔ حیرت ہے کہ اِن پاکستان مخالف سرگرمیوں میں کچھ پاکستانی صحافی بھی ملوث ہیں جبکہ امریکہ میں پاکستان کے سابق سفیر حسین حقانی جو آج بھی میمو گیٹ اسکینڈل میں سپریم کورٹ آف پاکستان کو مطلوب ہیں اور جنہیں سابق صدر آصف علی زرداری اورسابق وزیراعظم نواز شریف کی حمایت حاصل تھی، عدالت کے سامنے اپنی صفائی پیش کرنے کے بجائے ایک مرتبہ پھر بھارتی ٹیلی یژن چینلز پر پاکستانی فوج اور عدلیہ کے خلاف منظم پروپیگنڈے میں مصروف نظر آتے ہیں۔اندریں حالات، عوام کا اپنے قومی اداروں ، سیاسی و عسکری قیادت اور عدلیہ سے یہی سوال ہے کہ بھارت کی پاکستان دشمنی اپنی جگہ لیکن پاکستان مخالف تخریب کاری میں ملوث کچھ پاکستانی سیاسی تنظیموں اور ماضی میں اہم عہدوں پر کام کرنے والے حسین حقانی ایسے لوگوں کو کب قانون کے دائرے میں لایا جائیگا؟ (۔۔۔ختم شد)