- الإعلانات -

عالمی عدالت غیرجانبداری کا ثبوت دے

سی پیک جنوبی ایشیاء میں معاشی محرومی سے نجات اور امن و خوشحالی کے نئے دور کا آغازہے ۔ سی پیک پاکستان کے ساتھ ساتھ پورے خطے کیلئے ’’گیم چینجر ‘‘ ثابت ہوگا۔اسی وجہ سے پاکستان اور چین اس منصوبے کو بہت اہمیت دیتے ہیں۔ یہاں تک کہ سی پیک اوراس پر کام کرنے والوں کی حفاظت کا ذمہ پاک فوج نے لیا ہے ۔ جہاں اس منصوبے سے پاکستان، چین اور دیگر ممالک فائدہ حاصل کریں گے وہاں کچھ ممالک جن میں بھارت سرفہرست ہے ، سی پیک منصوبے کو سبوتاژ کرنے پر تلا ہوا ہے۔ اس ضمن میں بھارت نے سی پیک منصوبہ کے خلاف ’’را‘‘ کے ماتحت ایک سیل قائم کیا ہے۔ بھارت کا مقصد ہی یہ ہے کہ جس طرح بھی ممکن ہو پاکستان کو غیرمستحکم کیا جائے۔ پاکستان کی دہشت گردی کے خلاف جنگ میں جیت بھی بھارت کیلئے ایک مسئلہ بنی ہوئی ہے۔ پاکستان اور چین کو خدشہ ہے کہ بھارت بلوچستان میں موجود حکومت مخالف عناصر کو استعمال کر کے سی پیک منصوبے کو نقصان پہنچا سکتا ہے۔ اس ضمن میں چین نے بھارت کو واضح الفاظ میں خبردار بھی کیا کہ اگر اس نے بلوچستان یا پاک چین اقتصادی راہداری کی طرف میلی آنکھ سے بھی دیکھا تو چین بلا تاخیر اسے منہ توڑ جواب دیگا۔ کچھ عرصہ سے ہمارا بڑا مسئلہ دہشت گردی رہا ہے جس میں بھارت پیش پیش ہے اور اس کے متعددثبوت بھی ہمارے پاس موجود ہیں۔ اس بات کے بھی ثبوت ملے ہیں کہ بلوچ علیحدگی پسند تنظیموں کے را سے رابطے ہیں اور ان کو بھارت سے فنڈنگ ہوتی ہے۔ بلوچستان میں بھارتی مداخلت کا ایک ٹھوس ثبوت جو آج بھی ہمارے پاس موجود ہے وہ بھارتی بحریہ کا حاضر سروس افسر کلبھوشن یادیو ہے جو سی پیک کے خلاف دہشت گردی کی غرض سے پاکستان میں داخل ہوا اور پاک حساس اداروں کے ہاتھوں پکڑا گیا۔ کلبھوشن گزشتہ کئی سالوں سے تخریب کاری کی کارروائیوں میں مصروف تھا۔ وہ بلوچ علیحدگی پسند تنظیموں سے بھی رابطوں میں تھا۔ گرفتاری کے بعد کلبھوشن نے اعترافی بیان میں کہا ’’ میں کلبھوشن یادیو اعتراف کرتاہوں کہ میں ہندوستان نیوی کا حاضر سروس افسر ہوں اور بطور کمیشنڈ افسر میری ریٹائرمنٹ 2022 میں ہوگی۔میں نے 1987 میں نیشنل ڈیفنس اکیڈمی اور 1991 میں بھارتی نیوی میں شمولیت اختیار کی جہاں دسمبر 2001 تک فرائض انجام دیئے۔میں نے 2003 میں انٹیلی جنس آپریشنز کا آغاز کیا اور چاہ بہار(ایران )میں کاروبار کا آغاز کیا۔میں نے 2004 اور 2005 میں کراچی کے کئی دورے کیے جن کا مقصد ’’را‘‘ کیلئے کچھ بنیادی ٹاسک سرانجام دینا تھا۔2013 کے آخر میں ’’را‘‘کیلئے ذمہ داریاں پوری کرنا شروع کیں۔میں 2016 میں ایران کے راستے بلوچستان میں داخل ہوااور فنڈنگ لینے والے بلوچ علیحدگی پسندوں سے ملاقاتیں کیں اور گھناؤنی کارروائیوں میں انکی مددکرتارہا۔اگر آپ ہندوستان کو میری گرفتاری کا بتانا چاہتے ہیں تو انہیں خفیہ کوڈ ’’your monkey is with us‘‘ (آپ کا بندر ہمارے پاس ہے) بتائیں تو وہ سمجھ جائیں گے کہ کون گرفتار ہوا ہے۔ہندوستان، پاکستان میں دہشت گردی میں ملوث ہے اور میری گرفتاری اس بات کا ثبوت ہے۔ ریاستی دہشت گردی کا اس سے بڑا ثبوت کوئی اور نہیں ہوسکتا۔ میں گوادر میں چینی انجینئرز کے ہوٹل پر بم دھماکے اور مہران بیس پر حملے میں ملوث ہوں۔سی پیک اور گوادر بندرگاہ میرے بڑے اہداف تھے۔ میں ’’را‘‘ کیلئے دہشت گردی کا نیٹ ورک بنانے، اپنے کارندوں کو فنڈنگ اور اسلحہ مہیا کرنے میں بھی ملوث ہوں‘‘۔دوران تفتیش کلبھوشن نے انکشاف کیا ہے کہ ’’را‘‘سی پیک منصوبے کو تباہ کرنے کیلئے گوادرپورٹ کو نشانہ بنا نا چاہتی ہے۔ اسی لئے مکران کوسٹ کی ساحلی پٹی پر دہشت گردانہ کارروائیوں کیلئے30 سے 40 را اہلکاروں کو گھسانا اس کے ذمہ تھا۔ ‘کلبھوشن یادیو کا حسین مبارک پٹیل کے فرضی نام سے بھارتی پاسپورٹ نمبر L9630722 بناہوا ہے اور اس پر ایران کا ویزا لگا ہوا ہے۔ پہلے پہل تو بھارت نے اسے اپنا ایجنٹ ماننے سے ہی انکار کر دیا مگر اس کا پاسپورٹ منظرعام پر آنے کے بعد بھارتی دفتر خارجہ نے بھارتی شہری اور بحریہ کا سابق اہلکار تسلیم کیا۔ مگر ساتھ ہی یہ کہہ کر الٹا الزام پاکستان پر ڈالنے کی کوشش کی کہ کلبھوشن بلوچستان سے نہیں پکڑا گیا بلکہ اسے ایران سے گرفتار کیا گیا ہے۔ گرفتاری کے بعد کلبھوشن کیخلاف فیلڈ جنرل کورٹ مارشل کی طرف سے پاکستان آرمی ایکٹ 1952ء کی دفعہ 59 اور آفیشل سیکرٹ ایکٹ 1923ء کی دفعہ 3 کے تحت مقدمہ چلایا گیا جس میں اسے تمام الزامات کا مرتکب قرار دیاگیا اور اس کیلئے سزائے موت تجویز کی گئی۔ سزائے موت سنائے جانے کے بعد بھارت آگ بگولہ ہوگیا اور کیس عالمی عدالت انصاف میں لے گیا۔ بھارت نے دی ہیگ میں واقع عالمی عدالت انصاف سے رجوع کرتے ہوئے اس معاملے میں مداخلت کی درخواست کی تھی۔ جس پر عدالت نے اپنے ابتدائی حکم میں کہا تھا کہ اس معاملے کا فیصلہ آنے تک کلبھوشن جادیو کو پھانسی نہیں دی جا سکتی۔ بھارت کی قانونی ٹیم نے عالمی عدالت انصاف میں کلبھوشن کی سزائے موت رکوانے کا مطالبہ کیا۔ بھارتی قانونی ٹیم نے دلائل کاآغازکرتے ہوئے عالمی عدالت انصاف میں کلبھوشن کی سزائے موت رکوانے کا مطالبہ کیا۔ قید کے دوران پاکستان نے کلبھوشن یادیو کی اہلیہ کو اس سے ملاقات کی پیشکش خالصتاً انسانی بنیاوں پر اور اسلامی روایات کے تحت کی لیکن بھارت نے حسب معمول پاکستان کے جذبہ خیرسگالی کو غلط رنگ دینے کی کوشش کی۔ بھارتی میڈ یا نے اس معاملے کو غلط رنگ دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان نے عالمی عدالت کے دباؤ پر کلبھوشن یادیو کو بیوی سے ملاقات کی اجازت دی ہے۔ جبکہ ہمارے دفتر خارجہ کے مطابق عالمی عدالت کا اس پیشکش سے متعلق پاکستان پر کوئی دباؤ نہیں تھا۔ پاکستان نے صرف انسانی ہمدردی اور اسلامی اقدار کے تحت بھارتی جاسوس کی والدہ اور اہلیہ کو ملنے کی اجازت دی۔رواں ماہ 18 تاریخ کو عالمی عدالت انصاف مقدمے کی سماعت کررہی ہے۔ کیس میں 18 فروری کو بھارت اور 19 فروری کو پاکستان دلائل دے گا جبکہ دوسرے مرحلے میں 20 کو بھارت اور 21 فروری کو پاکستان دلائل دے گا۔ جرح کی مکمل کارروائی بین الاقوامی عدالت انصاف کی ویب سائٹ پر براہِ راست نشر کی جائیگی۔ پاکستانی وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کا کہنا ہے کہ پاکستان کے پاس کلبھوشن کے خلاف ٹھوس ثبوت موجود ہیں اورامید ہے کہ ہم یہ مقدمہ جیت لیں گے۔ لیکن ساتھ ہی یہ خیال بھی رہے کہ ہمیں بھرپور تیاری اور دلائل کے ساتھ اپنا مؤقف بیان کرنا ہے۔ کیونکہ ہمارے مقابل بھارت ہے جس کا ماٹو ہے کہ جھوٹ اتنا بولو کہ سچ لگے۔ لہٰذا ہمیں نہ صرف عدالت کو اپنے حق میں مطمئن کرنا ہے بلکہ بھارت کے منہ پر بھی طمانچہ مارنا ہے اور دنیا کو بھارت کا اصل چہرہ دکھانا ہے جو صرف اور صرف تخریب کاری اور دہشت گردی کا چہرہ ہے۔