- الإعلانات -

مقبوضہ کشمیرمیں خودکش حملہ۔۔۔بھارت کے لئے نوشتہ دیوار

adaria
پلوامہ میں خودکش کار بم حملے میں 44 بھارتی فوجی ہلاک جبکہ40زخمی ہوگئے۔دھماکہ میں بھارتی فوجیوں کی بس کو نشانہ بنایا گیا۔ ایک بس اور 5 دیگر گاڑیاں تباہ ہوگئیں۔ کار میں 350 کلوگرام دھماکہ خیز مواد استعمال ہوا۔ قافلے میں 70 گاڑیاں جبکہ 2500 اہلکار شامل تھے۔دھماکے بعد سرینگر جموں ہائی وے پر ٹریفک معطل ہو گئی ۔ بھارتی فوج نے پورے علاقے کا محاصرہ کر کے تلاشی کی کارروائی شروع کی ہے ۔بھارتی حکام نے الزام لگایا کہ حملے میں جیش محمد گروپ ملوث ہے۔ سینئر حریت رہنماؤں سیدعلی گیلانی اور حریت فورم کے چیئرمین میر واعظ عمر فاروق نے سرینگر میں جاری اپنے الگ الگ بیانات میں کپواڑہ اور پلوامہ کے اضلاع میں پراسرار دھماکوں میں ایک لڑکے کے قتل اور 28طلباکے زخمی ہونے پر شدید تشویش ظاہر کی ہے ۔ سیدعلی گیلانی نے پے درپے دھماکوں کو جدوجہد آزادی کشمیر کے خلاف ایک سوچی سمجھی سازش قراردیا ہے ۔ بھارت اپنے آئین کی دفعات 35Aاور370کے ساتھ چھیڑ چھاڑ کے ذریعے مقبوضہ علاقے کی بین الاقوامی طورپر تسلیم شدہ متنازعہ حیثیت کو تبدیل کرنے پر تلا ہوا ہے۔مقبوضہ کشمیرکے سابق وزیراعلی فاروق عبداللہ نے بھارتی ٹی وی چینل کو دیئے گئے ایک انٹرویو میں کہاہے کہ پلوامہ میں گزشتہ روز کے حملے کی ذمہ داری پاکستان پر عائد کرنا غلط ہے۔ کشمیریوں کی آزادی کی جدوجہدمقامی ہے لیکن بھارت نے کشمیرمیں تمام ترصورتحال کاہمیشہ پاکستان کوموردالزام ٹھہرایا۔ یہ درست اقدام نہیں ہے۔ اگر بھارت نے کشمیرکے دیرینہ تنازعہ کوحل نہ کیاتو اس طرح کے واقعات رونماہوتے رہیں گے۔ معاملہ طاقت کے اندھادھنداستعمال سے حل نہیں کیا جا سکتا۔ تنازعہ کشمیر کاپائیدارحل مذاکرات کے ذریعے ہی ممکن ہے۔ مقبوضہ کشمیر پلوامہ میں ہونیوالاخود کش حملہ بھارت کیلئے نوشتہ دیوارہے ، بھارت یہ جان لے کہ وہ کسی صورت بھی کشمیریوں کی حق آزادی کو سلب نہیں کرسکتا، تاریخ لکھی جاچکی ہے مقبوضہ کشمیر آزاد ہوگا ،دنیا کو بھی یہ بات سمجھ آجانی چاہیے کہ اب کشمیری مزید بھارتی جارحیت، ظلم وبربریت اور اس کی دہشت گردی کو برداشت نہیں کریں گے۔ مودی کو اپنے گریبان میں جھانک لیناچاہیے ۔ہمیشہ کی طرح روایتی انداز میں بھارت نے مقبوضہ کشمیرمیں ہونیوالے خودکش حملے کے بعد پاکستان کے خلاف ہرزہ سرائی شروع کردی ۔حالانکہ اس میں بھارت کااپناقصور ہے پاکستان تو ہمیشہ امن کاداعی رہا نامعلوم مودی کی آنکھوں پرکیوں دہشت گردی کاپردہ پڑا ہوا ہے ۔سابق وزیراعلیٰ فاروق عبداللہ کابیان ہی اس کیلئے کافی ہے کہ بھارت اپنے گریبان میں جھانکے نہ کہ پاکستان پرالزام تراشیاں کرے ۔اس سے کشمیریوں سے مذاکرات کرنے پڑیں گے سات دہائیوں سے لگاتارمقبوضہ کشمیر کی زمین انسانی خون سے رنگین کی جارہی ہے ساڑھے سات لاکھ کے لگ بھگ بھارتی دہشت گرد فوج نے ظلم کی انتہاکررکھی ہے پیلٹ گنز کے استعمال کی وجہ سے ہزاروں کشمیری اپنی بینائی کھوچکے ہیں نہ وہاں بزرگ محفوظ ہیں نہ خواتین اوربچے اورنہ ہی جوان ،بھیڑبکریوں کی طرح دیکھتے ہی گولی مار دی جاتی ہے کوئی پرسان حال نہیں ہے ۔بین الاقوامی برادری کی بھی آنکھیں بند ہیں جب ایک خطے پراتنی بربریت ڈھائی جائے گی تو وہاں آخرکارکیانتائج نکلیں گے یہی ہوگا جو گزشتہ روز مقبوضہ کشمیرمیں ہوا۔راج ناتھ نے جس طرح پاکستان کے خلاف زبان استعمال کی ہے اس پربھارت کو شرمندہ ہوناچاہیے خواہ مخواہ بھارتی حکا م نے بغیرتحقیقات کے حملے کی ذمہ داری جیش محمدپرڈال دی۔مودی حکومت کو اچھی طرح یاد ہوگا جب افضل گورو کو پھانسی دی گئی توبھارتی عدالت نے کہاکہ افضل گوروبے گناہ ہے ہم نے اپنی عوام کو مطمئن کرنے کے لئے اس کو پھانسی دیناہے ۔یہ بیان اس نام نہاد سیاہ چہرے والے بھارت کے لئے کافی ہے کہ اس نے صرف الزام تراشی کرناہوتی ہے اپنے گناہ دوسرے کے سرتھونپنے ہوتے ہیں اپنی کمزوریوں کو ڈھانپنا ہوتا ہے بھارتی اندرونی خلفشاراب بھارتی حکومت سے کنٹرول نہیں ہورہا یہ جو بھی دھماکہ ہوا ہے اس میں بھارت خود ملوث ہے جس طرح کہ اس نے ماضی میں سرجیکل سٹرائیکس کاڈرامہ رچایا، پارلیمنٹ پرحملہ خود کرایا، اجمل قصاب حملے کابھی یہ خود ہی ذمہ دار ہے ،سمجھوتہ ایکسپریس کاسانحہ بھی بھارت ہی کی جھولی میں جاتاہے چونکہ اس وقت آنے والے دنوں میں کلبھوشن یادیو کیس کی سماعت ہونے جارہی ہے پھربھارتی الیکشن بھی سرپرآن کھڑے ہیں اس وجہ سے بھارت یہ تمام تر مذموم کارروائیاں خود کرکے ذمہ داری پاکستان کے سرپرتھونپنے کی ناکام کوشش کررہاہے لیکن اسے اس میں کسی صورت بھی کامیابی حاصل نہیں ہوسکے گی۔بھارتی بنیے کو یہ جان لیناچاہیے کہ اگر اس نے کوئی بھی ایساناپاک قدم اٹھایا تو پاک فوج اسے ایسامنہ توڑ جواب دے گی کہ اس کی آنے والی نسلیں تک یادرکھیں گی اور یہ ان کیلئے ایک بھیانک خواب بن جائے گا۔لہٰذا مودی کو کسی بھول میں نہیں رہناچاہیے اپنے گریبان میں جھانکے ،اپنے ملک کے ا ندرونی حالات خودٹھیک کرے جتنی دہشت گردی آج بھارت میں اوربھارت سے ہورہی ہے اس کی مثال کہیں نہیں ملتی۔مقبوضہ کشمیرمیں یہ سب کچھ دہشت گردی کے زمرے میں آتاہے کشمیریوں نے کسی صورت بھی بھارت کو تسلیم ہی نہیں کیا اور انشاء اللہ وہ وقت قریب آنے والاہے جب کشمیری آزاد فضاء میں سانس لیں گے اب بھارت کی یہ ہرزہ سرائیاں کام آنیوالی نہیں ہیں۔
وفاقی کابینہ،سعودی عرب سے کھربوں کے منصوبوں کی توثیق
وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات فواد حسین چوہدری نے وفاقی کابینہ کے اجلاس کے بعد پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہاہے کہ وزیراعظم عمران خان خود سعودی عرب کے ولی عہد محمد بن سلمان بن عبدالعزیز کا استقبال کریں گے، سعودی ولی عہد کا دورہ غیر معمولی اہمیت کا حامل ہے۔ سعودی ولی عہد کا یہ دورہ اور اس دوران ہونے والے معاہدے گزشتہ دس سالوں کی بیرونی سرمایہ کاری سے زیادہ ہیں، صرف آئل ریفائنری کا 8ارب ڈالر کا منصوبہ ہے، پاکستان نے خارجہ محاذ پر بے پناہ کامیابیاں حاصل کی ہیں، سعودی عرب کیلئے ویزہ پالیسی میں بھی نرمی کر دی ہے۔ سعودی وفد میں کاروباری افراد، بڑی کمپنیوں کے سربراہان شامل ہوں گے پاکستان مسلم امہ کے حوالے سے مثالی کردار ادا کر رہا ہے۔ نیزوفاقی کابینہ کے اجلاس میں چیئرمین گوادرپورٹ، ای او بی آئی ، صدر زرعی بنک کی تعیناتیوں، آزاد کشمیر کوواٹرچارجز دینے کے لئے قائم کمیٹی کی سفارشا ت کی منظوری بھی دی گئی۔ سعودی عرب کے ساتھ معاہدوں کی تفصیلات پیش کی گئیں۔ سعودی عرب سے 4.18کھرب کے پانچ منصوبوں کی توثیق بھی کی گئی، سٹیٹ لائف کی تنظیم نو کافیصلہ اوریونین سرگرمیوں پر پابندی بھی عائد کرنے کی منظوری دی گئی۔کابینہ اجلاس میں وزیراعظم نے تمام سفارتکاروں کو ہدایت کی کہ معمولی جرائم میں قائد پاکستانیوں کی رہائی کے لئے اقدامات کئے جائیں۔مجموعی طورپر کابینہ کے فیصلے مستحسن ہیں۔اجلاس میں گزشتہ فیصلوں پرعملدرآمدکی پیشرفت کابھی جائزہ لیتے ہوئے اطمینان کااظہارکیاگیا۔