- الإعلانات -

پلوامہ خود کش حملہ، کشمیریوں پر بھارتی جبر و تشدد کا ردعمل

مقبوضہ کشمیر میں بھارتی فوجیوں کی جانب سے انتہائی جبر و تشدد اور قتل و غارت کے ردعمل میں دو روز قبل مقبوضہ کشمیر کے علاقہ پلوامہ میں خودکش کار بم حملے میں بھارتی فوجیوں کی بس کو نشانہ بنایا گیاجس سے 49 بھارتی فوجی ہلاک جبکہ 45 زخمی ہوگئے۔ تبا ہ ہونے والی بس میں 35 اہلکار سوار تھے۔ کار میں 350 کلوگرام دھماکہ خیز مواد استعمال ہوا۔ قافلے میں 70 گاڑیاں جبکہ 2500 اہلکار شامل تھے۔ بھارتی حکام نے الزام لگایاکہ جیش محمد گروپ ملوث ہے۔ 2016 میں آرمی کیمپ پر حملے کے بعد مہلک ترین کارروائی ہے۔بھارت نے حسب معمول سارا الزام پاکستان کے سر ڈال دیا۔ بھارت ہمیشہ غیر ذمہ داری کا مظاہرہ کرکے بغیر تحقیقات کے پاکستان پر الزام تراشی کرتا ہے۔ پاکستان نے ہمیشہ بھارت سے مثبت بات چیت کی پالیسی رکھی ہے۔ بھارت کو مذاکرات کی پیشکش، کرتارپور معاملے پر بات پاکستان کا مخلص ہونا ظاہر کرتا ہے۔ سفارتی کشیدگی بڑھانے سے کوئی فائدہ نہیں ہوگا۔ابھی گزشتہ ہفتے مودی انتخابی مہم کے سلسلے میں مقبوضہ کشمیر کے دورے پر گئے لیکن کشمیریوں نے بھارتی وزیراعظم نریندر مودی پر اپنے دروازے بند کردیئے۔ انتخابی ڈرامے کیلئے نریندر مودی کی ڈھٹائی مہم پر وادی سنسان رہی۔ اس کے فوراً بعد ہی پلوامہ کا واقعہ ہوگیا ۔بھارتی الیکشن سے پہلے مقبوضہ کشمیر میں خود کش حملہ میں بڑے پیمانے پر بھارتی فوجی جوانوں کی ہلاکت سے بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی نے بے جان الیکشن مہم میں رنگ بھرنے کا جواز ڈھونڈ نکالا۔ راجستھان، چھتیس گڑھ اور مدھیا پردیش سمیت دیگر کئی ریاستوں میں شکست کے بعد بی جے پی کو عام انتخابات میں شکست سامنے نظر آ رہی تھی۔ ایسے میں سرجیکل سٹرائیکس کے گیڈر بھبکیوں سے بات نہ بنی تو مقبوضہ وادی میں حریت پسندوں کی کارروائی کا الزام پاکستان پر لگا دیا گیا۔ مقصد واضح ہے کہ کسی بھی قیمت پر مودی سرکار کو بھارت کے عام انتخابات جیتنے ہیں۔ پلوامہ میں بھارتی فوجی قافلے پر خودکش کار بم حملے کے بعد بھارت بوکھلاہٹ کا شکار ہو گیا ۔ اس نے پاکستان سے پسندیدہ ملک کا درجہ واپس لے لیا جبکہ پاکستانی ہائی کمشنر کو دفتر خارجہ طلب کر کے حملے کا بے بنیاد الزام بھی دھر دیا۔وزیر اعظم مودی نے الزام لگایا کہ دہشت گردوں کی پشت پناہی کرنے والے پڑوسی ملک نے بڑی غلطی کی ہے جس کی انہیں کڑی سزا بھگتنی ہوگی۔ مودی نے ہرزہ سرائی کرتے ہوئے کہا کہ اگر پڑوسی ملک یہ سمجھتا ہے کہ وہ اس طرح کی حرکتوں اور سازشوں سے ہمارے ملک کو غیرمستحکم کر لے گا تو وہ یہ خواب دیکھنا چھوڑ دے۔ بھارتی وزیراعظم کے اس بیان کی بڑی وجہ حالیہ انتخابات بھی ہیں جس میں بی جے پی کو شکست دکھائی دے رہی ہے اور وہ ہندو ووٹرز کے جذبات کو اپنے مقصد کے حصول میں استعمال کرتے ہوئے اپنی جیت یقینی بنانے کے پرانے حربے آزما رہی ہے۔ جہاں تک اس خود کش کار بم حملے کا تعلق ہے تو یہ کشمیریوں پر بھارتی فورسز کی طرف سے روا رکھے جانے والے انتہائی بہیمانہ سلوک کا ردعمل ہے۔ خودکش حملے میں49 بھارتی فوجیوں کو مارنے والا نوجوان عادل احمد تھا جو جنوبی ضلع پلوامہ کا رہنے والا تھا۔ حملے کے بعد عادل کی ایک ویڈیو بھی جاری کی گئی جس کے آغاز میں ہی وہ کہتا ہے یہ ویڈیو آپ تک پہنچنے تک وہ جنت میں پہنچ چکا ہوگا۔ ایک سال قبل وہ جیش محمد کے فدائین دستے میں شامل ہوگیا تھا اور وہ آج کے دن کا ہی انتظار کررہا تھا۔خود کش دھماکہ کرنے والے کشمیری عادل احمد کے والد کا کہنا ہے کہ بھارتی فوج کے تشدد اور غیر انسانی رویے نے میرے بیٹے کو شدت پسند بنادیا۔ ہم بہت تکلیف میں ہیں۔ بھارتی فورسز نے میرے بیٹے اور اس کے دوستوں پر بہیمانہ تشدد کیا۔ ان پر پتھر پھینکنے کے الزامات لگائے اور ہراساں کیا۔ جس کی وجہ سے عادل احمد نے اسلحہ اٹھانے کی ٹھان لی۔ عادل کی والدہ نے بتایا کہ بھارتی فوجیوں کے تشدد کے باعث میرا بیٹا ان سے نفرت کرنے لگ گیا تھا۔ پاکستان نے بھارتی الزام مسترد کرتے ہوئے پلواما خود کش حملے پرگہری تشویش کا اظہار کیا ۔پاکستان نے دنیا کے کسی بھی حصے میں پرتشدد کارروائی کی ہمیشہ مذمت کی ہے۔ پاکستان کی جانب سے واضح کہا گیا کہ جیش محمد کالعدم جماعت ہے اور پاکستان سے کوئی تعلق نہیں۔ کالعدم جماعت کے مبینہ حملہ آور بھارت کے زیرتسلط علاقے میں موجود تھے۔ مبینہ حملہ آور کا پاکستان سے کوئی تعلق نہیں۔بھارتی وزیر اعظم مودی نے اپنے ایک انتخابی جلسے میں تقریر کرتے ہوئے یہ اعلان کیا کہ ایسی کارروائیوں سے بھارت میں خلفشار پیداکرنے کی پاکستان کی کوئی سازش کامیاب نہیں ہو سکتی۔انہوں نے مقبوضہ کشمیر میں ہی بھارتی فوجیوں کو کشمیریوں کے عملاً قتل عام کی بھی ترغیب دی۔ چنانچہ ان کی بھڑکائی ہوئی اس آگ کے نتیجہ میں گزشتہ روز مقبوضہ کشمیر میں نہیں‘ بھارت میں بھی مسلم کش فسادات شروع ہو گئے۔ان اعلانات اور بڑھکوں کے نتیجے میں ہندو انتہاپسندوں نے ان مظاہروں کے دوران مسلمانوں کی بیسیوں گاڑیاں اور دوسری املاک نذرآتشں کر دیں اور مختلف مکاتب زندگی کی مسلم شخصیات پر حملوں کا سلسلہ شروع کر دیا ۔ چنانچہ مودی سرکار اس وقت مسلمانوں اور پاکستان کے خلاف ہندو جنونیت کی آگ بھڑکا کر پاکستان کے ساتھ ہر سطح کے مذاکرات کے دروازے دوبارہ عملاً بند کر چکی ہے۔مقبوضہ کشمیر کے علاوہ پاکستان سے ملحقہ آزاد جموں و کشمیر اور پاکستان کے شمالی علاقہ جات میں بھی انپا حق جتایا جا رہا ہے۔ اس طرح مودی سرکار نے لوک سبھا کے انتخابات سے پہلے پہلے پاکستان کے ساتھ دشمنی کی فضا اس قدر گرما دی ہے کہ اس کی کسی بھی جارحانہ حرکت سے علاقائی اور عالمی امن کی تباہی کی نوبت آسکتی ہے۔