- الإعلانات -

وزیراعظم کاقبائلی اضلاع میں صحت کارڈز کی تقریب سے خطاب

adaria

پاکستان معاشی مشکلات سے کافی حد تک نکل آیا ہے اور معیشت بنیادوں پرکھڑی ہونے جارہی ہے ، ملک کے دیگرعلاقوں کو سہولیات پہنچانے کے ساتھ ساتھ قبائلی علاقوں پرحکومت کی خصوصی توجہ ہے اسی سلسلے میں وزیراعظم نے جب قبائلی علاقوں کا دورہ کیا تو انہوں نے وہاں پر سب سے پہلے متعلقہ اراکین اسمبلی کو ہدایت کی کہ وہ علاقے کے لوگوں سے رابطے رکھیں اور ترقی کے ثمرات کو بھی عوام تک پہنچانے کے لئے یقینی بنائیں۔ نیز انہوں نے صحت کی سہولیات کے حوالے سے بھی خصوصی طورپرکہاکہ ان علاقوں میں تمام بنیادی سہولیات فراہم کی جائیں گی۔یہ بات بالکل درست ہے کہ قبائل ہمارے ملک کے محافظ ہیں اورقائداعظمؒ نے بھی ان کے حوالے سے خصوصی طورپر کہاتھا کہ قبائلی لوگ ہماری سرحدوں کے محافظ ہیں ۔ان لوگوں نے ہمیشہ پاکستان کاساتھ دیا اور کوئی بھی مشکل وقت آیا تو شانہ بشانہ کھڑے رہے ۔یہاں پر ترقیاتی امور کا ہوناانتہائی ضروری ہے ،تعلیم،صحت جیسی بنیادی سہولیات ہوں گی تو علاقہ ترقی کرے گا۔وزیراعظم عمران خان نے قبائلی اضلاع میں صحت کارڈز کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ سعودی ولی عہد کے دورہ سے پاکستان میں تاریخی سرمایہ کاری ہو گی۔ ملکی دولت بڑھے گی تو قرضے ادا ہونگے، جب حکومت سنبھالی تو قرضوں میں ڈوبے ہوئے تھے تاہم اب مشکل وقت سے اس حد تک نکل چکے ہیں کہ سر پانی سے اوپر آگیا ہے۔ اب جس طرح کے حالات ہیں اور سعودی ولی عہد کا جو دورہ ہے وہ کسی بھی سعودی عرب یا کسی بھی سربراہ کا اتنا بڑا دورہ نہیں ہے جہاں اتنی بڑی سرمایہ کاری ہوگی، لوگوں کے لیے روزگار ہوگا اور عوام میں سرمایہ کاری سے دولت میں اضافہ ہوگا، ہمیں سب سے بڑی خوشی یہ ہے کہ اس مہینے کے آخر میں غربت کم کرنے کے لیے مکمل منصوبہ لے کر آرہے ہیں صحت کارڈ اس کا ایک حصہ ہے، پاکستان میں کبھی بھی اس طرح کا پروگرام نہیں آیا جس کا اعلان کروں گا جس میں غربت کو کم کرنے والے اداروں کو ایک ہی سربراہ کے تحت مل کر کام کریں گے۔ یہ پروگرام سب سے پہلے قبائلی علاقوں میں لے کر جائیں گے۔ یقین دلاتا ہوں قبائلی علاقے کے لوگوں پر جو مشکلات پڑی ہیں اس کا سب سے زیادہ احساس تحریک انصاف کو تھا کیونکہ میں بار بار کہتا گیا کہ قبائلی علاقے میں ہمیں ملٹری آپریشن نہیں کرنے چاہئیں اور مجبوراً جو کیے گئے مجھے پتہ تھا کہ جو نقصانات ہوں گے تو لوگوں پر مشکل پڑے گی۔ قبائلی عوام کی پاکستان کیلئے بے پناہ خدمات ہیں۔ بہادر قبائل نے دہشت گردی کا مقابلہ کرتے ہوئے مشکل وقت گزارا۔ قبائلی عوام نے حکومت اور سکیورٹی فورسز کا بھرپور ساتھ دیا۔ قبائل کی بحالی اور بہتر سماجی حالات ریاست کی ذمہ داری ہے۔ قبائلی عوام کی بحالی کا وعدہ پورا کریں گے۔سعودی عرب کے ولی عہد شہزادہ محمدبن سلمان کے دورے کے موقع پر پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان دفاع و سلامتی کے شعبہ میں مزید سمجھوتے کئے جائیں گے اور اربوں ڈالر کے معاہدے ہونگے۔ پاکستان کے اندر سعودی عرب کی مجوزہ سرمایہ کاری کے حجم سے بھی زیادہ اہم بات یہ ہے کہ عمدہ معاشی ویژن رکھنے والے ولی عہد پاکستان میں سرمایہ کاری، معاشی تعاون اور اعانت اس انداز میں کرنا چاہتے ہیں کہ پاکستان جلد اپنے پاؤں پر کھڑا ہو جائے۔ اس دورہ کے نتیجہ میں سعودی عرب باضابطہ طور پر پاک چین معاشی راہداری منصوبہ سی پیک کا شراکت دار بن جائے گا جس کی بدولت ایک طرف پاک سعودی تعلقات کے اقتصادیات پر استوار تعلقات کے نئے باب کا آغاز ہو گا۔

بھار ت کے بے بنیادالزامات۔۔۔پاکستان کاشدیداحتجاج
بھارت نے روایتی انداز میں بغیرکسی ثبوت کے پاکستان پرنہ صرف الزام تراشی عائد کی بلکہ ہرزہ سرائی کرتے ہوئے پاکستان کاپسندیدہ ملک کادرجہ ختم کردیاہے ۔بھارت کی خوداپنی کیاحیثیت ہے اس نے یہ ایک انتہائی بھونڈا کھیل کھیلاہے وہ سوچ رہاہے کہ اپنے ہی فوجی خود مرواکرانہیں انتخابی مہم میں استعمال کرے گا۔یہ بھارت کاپراناوطیرہ رہاہے کہ جب بھی اس کے ملک میں کوئی بھی واقعہ پیش آئے تو بغیر سوچے سمجھے پاکستان پر الزام عائد کردیتاہے ۔ پلوامہ میں ہونے والے خود کش حملے کے بعد پاکستان نے احتجاج کرتے ہوئے بھارتی ڈپٹی ہائی کمشنر گورو آلو والیا کو دفتر خارجہ طلب کرکے احتجاجی مراسلہ بھارتی ڈپٹی ہائی کمشنر کے حوالے کیا۔ احتجاجی مراسلہ میں کہا گیا ہے کہ بھارت نے واقعہ کی تحقیقات بھی نہیں کی اور پاکستان پر الزام دھر دیا۔ احتجاجی مراسلہ میں کہا گیا ہے کہ جیش محمد کالعدم جماعت ہے اور پاکستان سے کوئی تعلق نہیں۔ کالعدم جماعت کے مبینہ حملہ آور بھارت کے زیرتسلط علاقے میں موجود تھے۔مبینہ حملہ آور کا پاکستان سے کوئی تعلق نہیں۔ بھارت ہمیشہ غیر ذمہ داری کا مظاہرہ کرکے بغیر تحقیقات کے پاکستان پر الزام تراشی کرتا ہے۔ پاکستان نے ہمیشہ بھارت سے مثبت بات چیت کی پالیسی رکھی ہے۔ پلوامہ میں بھارتی فوجی قافلے پر خودکش کار بم حملے کے بعد بھارت بوکھلاہٹ کا شکار ہو گیا ہے۔ وزیر اعظم نریندرا مودی نے ہمیشہ کی طرح اپنی انتظامی اور سکیورٹی کوتاہیوں کا ملبہ پاکستان پر ڈال دیا جو کہ سراسرناانصافی ہے ۔ پاکستان ہمیشہ امن کاداعی رہاہے اور بھارت نے ہی ان کوششوں کو سبوتاژ کیا۔ بھارت نے وطیرہ بنا لیا ہے کہ واقعہ کر کے پاکستان پر الزام لگا دو ،کشمیرمیں بھارتی فوج ظلم ڈھارہی ہے۔ مقبوضہ کشمیرواقعہ مودی کی الیکشن جیتنے کی چال ہے، بھارت پاکستان کوعالمی سطح پرتنہاکرنیکی کوشش کر رہا ہے، مودی کی پالیسیوں کی وجہ سے کشمیرکے حالات خراب ہیں۔اب بھارت کسی صورت بھی تحریک آزادی کشمیر کو روک نہیں سکتا اسے سمجھ جاناچاہیے کہ حالات کروٹ بدل چکے ہیں جب فاروق عبداللہ سے پاکستان کے خلاف زبردستی بیان لیناچاہا تو انہوں نے بھی مخالفت کی نووجوت سنگھ سدھو نے بھی پاکستان پرالزام عائد کرنے سے گریز کیا حالانکہ بھارتی میڈیا زبردستی پاکستان کو اس مسئلے میں گھسیٹنے کی ناکام کوشش کررہاہے اوپر سے مودی کایہ پاگل پن کہ فوج کو پاکستان سے بدلہ لینے کی مکمل آزادی ہے یہ مودی کی بھول ہے کہ اگر اس نے کوئی بھی مذموم قدم اٹھایا تو اس کو ایسا دندان شکن جواب ملے گاکہ بھارت کی نسلیں تک یاد رکھیں گی۔ پاک فوج کے جری جوان اور پوری قوم وطن کے استحکام ،سرحدوں کی حفاظت اور آزادی کے لئے سیسہ پلائی ہوئی دیوارثابت ہونگی۔بھارت کی کوئی بھی ناپاک سازش کسی صورت بھی کامیاب نہیں ہوسکتی۔اب بھارتی ڈرامے نہیں چل سکتے پوری بین الاقوامی برادری جان چکی ہے کہ بھارت جو خود کو کہتاہے کہ وہ دنیا کا سب سے بڑاجمہوری ملک ہے دراصل یہ جمہوریت کے ماتھے پرایک کلنک کاداغ ہے وہاں پرمذہبی،لسانی اورعلاقائی فسادات کی بھرمار ہے ۔دوسرو ں پرانگشت نمائی کرنے والامودی اپنے گریبان میں جھانکے،اس کادامن تارتارہے وہ کس منہ سے پاکستان پرالزام عائد کرسکتاہے۔