- الإعلانات -

افغانستان اور امریکی فوج۔۔۔۔!

khalid-khan

افغانستان غیر ملکی افواج کیلئے دلدل ہے۔جس لشکرنے بھی اس دلدل پر قدم رکھا ،وہ دھنستا چلا گیا۔افغانستان سے کو ئی بھی عسکر فاتح یاب ہوکر اپنے ملک واپس نہیں لوٹا۔برطانیہ ، روس اور امریکہ سمیت سب نے قسمت آزمائی کی لیکن ناکامی کا سامنا کرنا پڑا۔امریکہ اور اتحادیوں کی افواج کم وبیش انیس سالوں سے ہر قسم کا اسلحہ استعمال کرنے کے باوجود اپنے اہداف حاصل کرنے کے قریب ہی نہ پہنچ سکی۔ افغانستان میں روس کے سفیر الیگزنڈرمیئنسکی نے حالیہ ایک انٹرویو میں بتایا کہ افغانستان کے کم ازکم پچاس فیصدعلاقوں پرابب بھی طالبان کاقبضہ ہے۔ طالبان کا قبضہ ان علاقوں میں زیادہ ہے جہاں افغانی حکومت کی مکمل رٹ نہیں ہے اور یہ علاقہ پچاس فیصد ہے۔ افغانستان میں امریکی فوج کے ترجمان کرنل ڈیوڈبٹلر نے کہا کہ امریکی فوج ابھی افغانستان سے نہیں جارہی اور نہ ہی امریکی فوج کی تعداد میں کمی کی جارہی ہے۔ ہماری سپورٹ افغان سیکورٹی فورسز کے ساتھ ہے۔ امریکی صدر ٹرمپ نے بھی یہی کہا ہے کہ ابھی ہم افغان سیکورٹی فورسز کی معاونت کررہے ہیں۔امریکی نمائندہ خصوصی زلمے خلیل زاد نے کہا ہے کہ ہم یہاں پر ہیں اور افغانستان فورسز کے ساتھ روز جنگ میں حصہ لے رہے ہیں اور امریکی فوج کی تعداد میں کمی کرنے کا بھی کوئی ارادہ نہیں ۔ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں افغان عوام کے ساتھ ہمارے مشترکہ مفادات وابستہ ہیں۔ امریکی صدر ٹرمپ، افغانستان میں امریکی فوج کے ترجمان کرنل ڈیوڈبٹلر اور امریکی نمائندہ خصوصی زلمے خلیل زاد کے بیانات سے ایسا محسوس ہورہا ہے کہ وہ افغان حکومت کو صرف تسلی دے رہے ہیں کیونکہ امریکی صدر ٹرمپ نے ایک اور انٹرویو میںیہ واضح کیا ہے کہ ” میں نے دیکھا ہے کہ ہمارے لوگوں کے ساتھ کیا ہوا ہے۔ میں نے دیکھا کسی کی ٹانگ نہیں ، کسی کا ہاتھ نہیں اور میں نے یہ بھی دیکھا کہ انکی دماغی حالت کیا ہوئی ہے کیونکہ وہاں انھوں نے ایسے حالات کا سامنا کیا کہ واپس آکر وہ ذہنی طور پر بالکل ہی مفلوج ہوچکے ہیں۔ جن کی بیویاں اور والدین ہم سے کہتے ہیں ہائے! ہمارے بیٹوں اور بیٹیوں کے ساتھ یہ کیا ہو گیا۔ یہ خوفناک صورت حال ہے۔ہم وہاں انیس سال سے حالت جنگ میں ہیں۔اب وقت آگیا ہے ۔اب طالبان امن چاہتے ہیں۔ وہ تھک گئے ہیں۔ہم سب تھک چکے ہیں۔ میں کھبی نہ ختم ہونی والی جنگ نہیں چاہتا۔”اس انٹرویو سے واضح ہوتا ہے کہ امریکہ افغانستان میں بری طرح پھنس چکا ہے اوراس جنگ سے ان کانا قابل تلافی نقصان ہورہا ہے۔اب امریکہ اس جنگ سے کسی نہ کسی صورت میں جان چھڑانا چاہتا ہے اور افغانستان سے نکلنے کی تگ و دو کررہا ہے۔اسی سلسلے میں امریکہ نے افغانستان کے طالبان سے مذاکرات کا تسلسل جاری رکھا ہے ۔ اس سلسلے میں قطر میں امریکہ کے ساتھ حتمی مذاکرات کے لئے علامہ شیر محمد عباس استاکز ئی کی سربراہی میں مولوی ضیاء الرحمن مدنی ، مولوی عبدالسلام حنفی ، شیخ شہاب الدین دلاور، ملا عبدالطیف منصور، ملا عبدالمنان قمری ، مولوی عامر خان ، ملا محمد فضل مظلوم ، ملاخیر اللہ، مولوی مطیع اللہ ، ملا محمد انس حقانی ، ملانور اللہ نوری،مولوی محمد نبی عمری اور ملا عبدالحق واثق پر مشتمل افغان طالبان کی چودہ رکنی ٹیم ہے۔ان مذاکرات کا کیا نتیجہ برآمد ہوتا ہے؟ سب کو مثبت نتائج کا انتظار ہے کیونکہ افغانستان گذشتہ چالیس پچاس برس سے جنگ کی حالت میں ہے۔ افغانستان تباہ حالی کا شکار ہے۔افغانستان کے باسی پریشانی کے عالم میں ہیں۔ افغانستان کے لاکھوں مہاجرین در بدر ہیں۔پاکستان میں کم وبیش پچاس لاکھ افغانی مہاجرین رہتے ہیں ،گوکہ پاکستان ان کی ہرقسم کی مدد کرتا ہے۔ان کو آزادنہ گھومنے پھرنے اور کاروبار کی اجازت دے رکھی ہے۔جو افغانی خالی ہاتھ آئے تھے ،اب وہ کروڑوں اور اربوں روپے کی بزنس کرتے ہیں ۔ افغان مہاجرین پاکستان میں خوش ہیں۔ وہ پاکستان میں امن و سکون سے رہ رہے ہیں لیکن پشتو کا ایک قول ہے کہ دوسروں کے بستر پر سونے والے کو آدھی رات بستر چھوڑنا پڑتا ہے۔افغان مہاجرین اس شش وپنچ میں ہیں کہ کسی بھی وقت ان کو افغانستان واپس بھیجا جاسکتا ہے۔وہ اس اضطراب میں مبتلا ہیں کہ وہ کسی بھی گھڑی اپنے ملک واپس جاسکتے ہیں۔ وہ اس سبب یہاں اپنے مستقبل کیلئے بہتر منصوبہ بندی نہیں کرسکتے ۔علاوہ ازیں افغان مہاجرین سے پاکستان اور پاکستانیوں کو بھی معاشی اور معاشرتی مسائل سمیت متعدد پریشانیوں کا سامنا ہے۔سب سے بڑا مسئلہ یہ ہے کہ افغان مہاجرین کی مہمان نوازی کا سلسلہ بہت زیادہ طویل ہوگیا ہے۔اب افغان مہاجرین کواپنے ملک واپس جاکر افغانستان کی ترقی اور خوشحالی میں اپنا کردار ادا کرناچاہیے اور اپنا قیمتی وقت مزید ضائع نہیں کرنا چاہیے۔ قارئین کرام! امریکہ اور طالبان کے کامیاب مذاکرات کی صورت میں افغانستان میں قیام امن کا امکان پیدا ہوجائے گا۔ افغانستان میں قیام امن کی صورت میں افغانیوں کے مسائل کم ہوجائیں گے۔امن سے خوشحالی اور ترقی کے چشمے پھوٹتے ہیں۔ پاکستان کی ہمیشہ یہی خواہش رہی ہے کہ افغانستان اوردیگر پڑوسی ممالک میں امن اور شانتی ہو۔