- الإعلانات -

دلی کے جبر سے پلوامہ تک۔۔۔؟

ہندوستان نے سات لاکھ ریگولر فوج مقبوضہ کشمیر میں تعینات کررکھی ہے جبکہ تین لاکھ پیرا ملٹری بھی ہے پاکستان کی کل فوج کی تعداد چھ لاکھ ہے کشمیر میں ہندوستان کی کل دس لاکھ فوج کے روزانہ کے اخراجات کا تخمینہ اربوں میں ہے ہندوستانی افواج کا کام کشمیریوں کی نسل کشی کرنا اور روازانہ کی بنیادوں پر ان کو ٹارچر کرنا ہے ہندوستان نے مقبوضہ کشمیر کی سیز فائر یا لائن آف کنٹرول پر ان تمام راستوں کو خار دار تاروں سے بند کررکھا ہے جنکے اندر بجلی کا کرنٹ ہے اور چھونے سے انسان کی فوری طور پر موت واقع ہو جاتی ہے آزاد کشمیر کے ساتھ ملنے والے تقریباً تمام راستوں پر دیواریں تعمیر کر رکھی ہیں تاکہ آزاد کشمیر سے انسان تو کیا کوئی پرندہ بھی مقبوضہ علاقے میں داخل نہ ہو سکے جب کہ سیز فائر لائن پر جگہ جگہ بھارتی افواج کی چوکیاں بنائی گئی ہیں آزاد کشمیر سے اگر کوئی مقبوضہ کشمیر پہنچ جائے تو اسے نشان عبرت بنا دیا جاتا ہے لائن آف کنٹرول پر بھارتی افواج کی بلااشتعال فائرنگ سے آر پار کشمیریوں کی شہادتیں کوئی ڈھکی چھپی بات نہیں کشمیر کے دونوں اطراف میں کشمیریوں کی نسل کشی کرنے کا لائنس ہندوستان نے لے رکھا ہے جبکہ شہری آبادی میں کرفیو لگا رہتا ہے اور ساری کشمیری قیادت تقریباً پابند سلاسل رہتی ہے ان کی نقل وحرکت پر پابندی ہے ایسے حالات میں پلوامہ میں ہندوستانی فوجیوں پر تازہ حملہ اور بڑے پیمانے پر ہلاکتیں بظاہر کوئی بہت بڑی پلاننگ لگتی ہے یہ کھلم کھلا دہشت گردی ہے جس کی جتنی مذمت کی جائے کم ہے مودودی حکومت نے پلوامہ میں دہشت گردی کے اس حملے کے دس منٹ بعد ہی الزام حسب معمول پاکستان کے سر تھوپ دیا ۔سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اتنی بڑی افواج کی موجودگی میں ہندوستانی فوجیوں پر حملہ اگر کیا گیا تو نریندرمودی کو پاکستان کی طرف دیکھنے کے بجائے اپنی فوج کو کھیتی باڑی پر لگا دینا چاہئے دوسری طرف ہندوستانی میڈیا پاکستان کے خلاف زہر اگل رہا ہے پاکستان نے بھارتی ڈپٹی ہائی کمشنر کو بلا کر دفتر خارجہ نے نہایت مناسب جواب دے دیا ہے کہ پاکستان کا اس سے کوئی واسطہ نہیں۔ وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے جرمنی کے شہر میونخ میں مودی حکومت کو خوب آڑے ہاتھوں لیا ہے کہ ہندوستان کو چاہیئے کہ پہلے تحقیقات کرلے یوں ہی پاکستان پر الزام نہ لگائے شاہ محمود قریشی نے ایک نہایت اہم بات یہ کی ہے کہ انہوں نے اپنے روس کے دورے کے دوران یہ انکشاف کیا تھا کہ ہندوستانی الیکشن سے پہلے اس طرح کا کوئی واقعہ خدانخواستہ رونما ہوسکتا ہے سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ ایسے وقت میں جب پاکستان میں سعودی کراون پرنس محمد سلیمان دورہ کر رہے ہیں اور تیس ارب ڈالر کی سرمایہ کاری سعودی عرب پاکستان میں کرنے جارہا ہے اور دنیا کا مرکز اور محور اس وقت پاکستان ہی ہے پاکستان کی اہمیت بڑھ گئی ہے پاک چین اقتصادی راہداری، قطر ملائیشیا اور متحدہ عرب امارات سے سرمایہ کاری پاکستان آ رہی ہے پاکستان ترقی کی منزلیں طے کرنا چاہتا ہے اور وزیراعظم عمران خان نے غربت جہالت کے خلاف اعلان جنگ کر رکھا ہے وہ پورے برصغیر میں غربت کے خاتمے کے خواب اپنی آنکھوں میں سجائے ہوئے ہیں وہ امن اور پیار کی بات کرتے ہیں اور اپنی محبت کا عملی طور اظہار کرتارپور کا بارڈر کھول کر دیا ہے اسی لئے وزیراعظم نے اپنی الیکشن میں کامیابی کے بعد پہلے خطاب میں ہی امن کی بات کی اور بھارت کو مفاہمت اور مزاکرات کی دعوت دی تھی وزیرخارجہ شاہ محمود قریشی عالمی سطح پر جس بھی فورم پر گئے ہیں انہوں نے پاکستان کی جانب سے پاکستان کا موقف کو واضح کیا اور امن اور مفاہمت اور مذاکرات کے ایجنڈے کو آگئے بڑھایا پاکستان کو اس حملے سے فائدہ نہیں بلکہ نقصان ہوا ہے تو پھر پاکستان یہ حملہ کیوں کروائے گا۔ بھارت مقبوضہ وادی میں اپنا کنٹرول کھو چکا ہے اپنے تمام تر مظالم کے باوجود کشمیریوں نے بھارتی تسلط کے آگئے سر جھکانے سے صاف انکار کیا ہوا ہے بھارت عالمی سطح پر کشمیر کے مسئلے پر حمایت کھو رہا ہے ڈائسپورہ بیرون ملک پوری طرح متحرک ہے اور آئے دن پرامن مظاہرے ہوتے ہیں اور کشمیریوں کے ساتھ اظہار یکجہتی کیا جاتا ہے بھارتی مظالم کو بے نقاب کیا جاتا ہے جون 2018 میں اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے ادارے نے کشمیریوں پر بھارتی مظالم کے متعلق جو رپورٹ شائع کی ہے اس سے بھارتی جمہوریت اور اس کا سیکولرزم چہرہ بے نقاب ہوگیا ہے دوسری جانب پاکستان کی افواج نے کراچی، فاٹا خیبرپختونخوا اور بلوچستان میں دہشت گردی پر قابو پالیا ہے سیکورٹی بہتر ہونے اور سیاسی استحکام کے ساتھ ہی دنیا کی ملٹی نیشنل کمپنیاں پاکستان میں اپنا اپنا نیٹ ورک قائم کرنے جا رہی ہیں۔پلوامہ کا واقعہ جس نے بھی کروایا نْقصان کشمیر کی تحریکِ آزادی کو پْہنچا اور فائدہ بھارت اور مودی کی سیاست کو ہوا ،جموں میں ابھی تک مْسلمانوں کی تو پچاس کے قریب گاڑیاں جلا دی گئی مسلمانوں کی املاک پر پورے ہندوستان میں حملے کئے گئے آر ایس ایس اور دیگر انتہا پسند ہندوستانی اس اشتعال کو بڑھاوا دیں گے لندن میں ہفتے کے روز پاکستان کے ہائی کمیشن کے باہر مودودی کے پیروکاروں نے ایک مظاہرہ بھی کیا اور یہ مظاہروں کا یہ سلسلہ شاید دیگر یورپین ممالک میں بھی پھیلے جس سے لگتا ہے کہ نریندرمودی کے چیلوں نے یہ پہلے سے پلان کیا ہوا تھا لگتا یہ ہے کہ پلوامہ کے حملے سے نریندرمودی اپنے سیاسی فائدہ حاصل کرنا چاہتا ہے اور لوگوں کو بے وقوف بنایا جا رہا ہے لیکن جس طرح ہندوستان سے کشمیر کی تحریک کو کچلا نہیں جاسکا ویسے ہی ہندوستان پاکستان کی ترقی کا راستہ نہیں روک سکتا۔