- الإعلانات -

سمجھوتہ ایکسپریس کے ملزمان آزاد کیوں

فروری 2007 کو لاہور اور دہلی کے مابین چلنے والی سمجھوتہ ایکسپریس میں نئی دہلی سے 100 کلومیٹر دورسونی پت کے قریب دیوانہ ریلوے سٹیشن پر بم دھماکوں کے بعد آگ لگی۔ یہ آگ ٹرین کی پچھلی دو بوگیوں میں لگی جو فائر بریگیڈکے پہنچنے سے قبل جل کر راکھ ہوگئیں اور اس کے نتیجے میں 67 افراد جاں بحق اور بہت سے زخمی بھی ہوئے۔ جاں بحق ہونے والوں میں اکثریت پاکستانی مسافروں کی تھی۔

دہلی سے لاہور آنے والی ٹرین میںآتشزدگی سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ یہ منظم دہشت گردی اور تخریب کاری ہے جس میں ہندوؤں نے باقاعدہ منصوبہ بندی کے بعد پایہ تکمیل تک پہنچایا بھارتی انٹیلی جنس ایجنسی کی تفتیش کے دوران اس بات کاانکشاف ہوا ہے کہ سمجھوتہ ایکسپریس، حیدر آباد کی مکہ مسجد اور درسگاہ خواجہ حسین الدین چشتی پر بم دھماکوں میں بھارت کی انتہا پسند ہندو تنظیم آر ایس ایس ملوث ہے۔ ایک انتہا پسند ہندو اندریش کمار کے مطابق حیدر آباد کی مکہ مسجد میں بم دھماکہ آر ایس ایس نے کرایا ۔ اندریش کمار کے بیان کی روشنی میں ایک اوردہشت گرد ہندو سوامی آسم نند کو حراست میں لیا گیا ہے جو سمجھوتہ ایکسپریس سانحہ کا ماسٹر مائنڈ سمجھا جا رہا ہے۔ اب تک تو بھارتی حکام ان سانحات کی ذمہ داری مسلمانوں پر ڈالتے چلے آرہے تھے مگرپھر معلوم ہوا ہے کہ اس میں ہندو انتہا پسند تنظیم آر ایس ایس ملوث تھی۔ راجیو گاندھی کے بیٹے راہول گاندھی ایک بیان میں کہہ چکے ہیں کہ مسلمانوں سے زیادہ خطرناک تو ہندو انتہا پسند تنظیمیں ہیں۔ سمجھوتہ ایکسپریس کے چلنے سے قبل اس کی ایک ایک چیز چیک ہوتی ہے اوراس کی حفاظت اٹاری تک بھارتی حکومت کی ذمہ داری ہے۔ ٹرین چلنے سے قبل اسے تمام ایجنسیاں چیک کر کے کلیئر کرتی ہیں۔ یہ ٹرین راستے میں بھی کسی جگہ نہیں رک سکتی۔اسطرح یہی ظاہر ہوتا ہے کہ ٹرین میں دھماکہ خیز مواد دہلی ہی میں رکھا گیا جو راستے میں سونی پت کے علاقہ میں موضع دیوانہ کے قریب پھٹ گیا۔ اس سے بہت سے سوال جنم لیتے ہیں۔ ایک تو یہ کہ چلنے سے قبل ٹرین کو چیک نہ کیا گیا اور پھر بھارتی ایجنسیوں نے اسے کیسے کلیئر کر دیا؟

سمجھوتہ ایکسپریس ٹرین میں آتشزدگی کے بارے میں پاک بھارت دونوں ملکوں کی مشترکہ ٹیم کی جانب سے تحقیقات سے گریز سے یہ بات سامنے آئی کہ بھارتی حکومت ہرگز یہ پسند نہیں کرتی کہ اس آتشزدگی میں جو خفیہ ہاتھ کارفرما تھے وہ بے نقاب ہوں اور ساری دنیا سمجھوتہ ایکسپریس کی آتشزدگی میں ملوث انتہاپسند ہندو تنظیموں بشمول بجرنگ دل کا بھیانک چہرہ دیکھے۔بھارت اپنی دہشت گرد تنظیموں کے گھناؤنے کردار پر پردہ ڈالنا چاہتا تھا۔ بھارت کی انتہا پسند ہندو تنظیموں’ آر ایس ایس اور بجرنگ دل‘ نے سمجھوتہ ایکسپریس میں بم دھماکوں اور آتشزدگی کی ذمہ داری قبول کی اور مسلمانوں کے خلاف معاندانہ سرگرمیاں جاری رکھنے کا اعلان کیا لیکن اس کے باوجود بھارتی حکومت انتہا پسند ہندو تنظیموں کے چہرے سے نقاب ہٹانے سے انکار کر رہی ہے۔ سمجھوتہ ایکسپریس کے سانحہ کو لگ بھگ گیارہ سال گذر چکے ہیں عدالتی کمشن اور تحقیقاتی رپورٹوں کے مطابق ملزم بھی نامزد ہو چکے ہیں مگر ابھی تک کوئی گرفتاری یا سزا نہیں ملی کیوں؟ بھارت کے خود ساختہ ممبئی حملوں کے بعد تو بھارت نے پاکستان پر دباؤ ڈالے رکھا اور نام نہاد اجمل قصاب کو پھانسی تک دے دی مگر سمجھوتہ ایکسپریس کے ملزمان کا کیا کیا؟

بھارت صرف پاکستان کو نقصان پہنچانے کے درپے ہے۔ چاہے وہ سفارتی سطح پر ہو یا زمینی سطح پر۔ ہماری وزارت داخلہ کے مطابق بھارت بلوچستان میں دخل اندازی کرنے کے ساتھ ساتھ پاکستان کی مشرقی اور مغربی سرحد سے اسلحہ بھی دہشت گردوں کو سپلائی کر رہا ہے۔ کیا ہم میں اتنی سی سکت بھی نہیں کہ ہم اپنی سرحدوں کی حفاظت کرتے ہوئے ایسے خطرناک دشمن کے ہاتھ روک سکیں؟
سمجھوتہ ایکسپریس کے بعد پاکستانی ایجنسیوں کا نام لیا جانے لگا جبکہ بعد میں اس سانحے کا کرتا دھرتا فوج کا حاضر سروس لیفٹیننٹ کرنل پروہت نکلا جس نے کرائے کے چند افراد کے ساتھ یہ کارروائی کی تھی۔ عجیب بات ہے کہ اس سانحے کی تحقیقات کرنے والے اور بھارتی فوجی کو بے نقاب کرنے والے افسر کو گولی مار کر ہلاک کر دیا گیا۔
بھارت کا تو یہ حال ہے کہ وہ ممبئی حملے کرنے والے دس دہشتگردوں کوبھارتی نیوی نہ روک سکی اور نہ سیکورٹی ایجنسیاں حالانکہ انہیں دو ماہ قبل اس کارروائی کا علم ہو چکا تھا۔ دس آدمیوں پر تین ہزار بھارتی کمانڈوز سر توڑ کوشش کے باوجود قابونہ پا سکے۔ اگر دس لوگ بھارت کے قابو میں نہیں آسکے تو 13 صوبوں میں چلنے والی آزادی کی تحریکیں کیا قابومیںآئیں گی۔ اگر یہ لوگ بھارت کے ایٹمی اثاثوں پر قبضہ کر لیں تو پھر بھارت کا کیابنے گا۔ ممبئی دہشت گردی سے بھارتی سیکورٹی کی قلعی کھل گئی ہے۔ ساری دنیا کو معلوم ہوگیا ہے کہ ناکام ریاست کون ہے؟ پاکستان ، جس کا دہشت گردی کے خلاف کردار دنیا نے مانا ہے یا بھارت جو صرف دس دہشت گردوں کو نہ روک سکا۔
پاکستان نے بھارت کی طرف سے سمجھوتہ ایکسپریس دہشت گرد حملوں کی آزادانہ اور شفاف تحقیقات میں غیر ضروری تاخیرپر تشویش کا اظہار کیا جس میں 42معصوم پاکستانی شہری شہید ہوگئے تھے۔ بھارت کی جانب سے واقعہ میں ملوث کچھ ملزمان کو بلاجواز بری کرنے کی کوشش کی جارہی ہے جس نے ضروری قانونی کارروائی اور انصاف کی فراہمی کے حوالے سے سوالات کو جنم دیا ہے ۔ پاکستان نے بھارتی حکومت سے دہشت گرد حملے کی تحقیقات سے متعلق معلومات کا پاکستان سے تبادلہ کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔
*****