- الإعلانات -

بھارت کشمیریوں کے دل نہیں جیت سکتا

adaria

14 فروری کو مقبوضہ کشمیر میں ہونے والے خود کش دھماکے بعد بھارتی دھمکیوں اور الزام تراشیوں کے ردعمل میں وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے ایک بار پھر پاکستان کے اصولی موقف کی وضاحت کرتے ہوئے بھارت سرکار سے کہا ہے کہ تشدد ہماری حکومت کی پالیسی نہیں۔جرمنی کے شہر میونخ میں سیکیورٹی کانفرنس میں شرکت کے موقع پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ جو واقعہ ہوا ہے میں اس کی مذمت کرتا ہوں لیکن بھارت نے بغیر کسی ثبوت کے فوری طور پر پاکستان پر الزام لگا دیا۔انہوں نے کہا کہ پاکستان پر الزام لگانا ایک منٹ کی بات ہے، آپ اپنا ملبہ بھی ہم پر پھینک دیجیے لیکن دنیا اس سے قائل نہیں ہوگی، دنیا نے اس کی مذمت کی ہے اور کرنی بھی چاہیے تھی کیونکہ جانوں کا ضیاع ہوا ہے۔تاہم شاہ محمود قریشی نے کہا کہ بھارت سے آوازیں آرہی ہیں، جیسا کے جموں اور کشمیر کے سابق وزیر اعلیٰ فاروق عبداللہ نے کہا کہ پاکستان پر الزام لگانا آسان راستہ ہے لیکن بھارتی انتظامیہ یہ بھی تو دیکھے کے مقبوضہ کشمیر میں کیا ہورہا ہے‘۔بلاشبہ مقبوضہ کشمیر میں بھارتی رویے کی وجہ صورتحال پیچیدہ اور تشویش ناک ہو چکی ہے بجائے اسکے کہ بھارت سرکار بے قابو ہوتے حالات پر سرپکڑ کر بیٹھے اور کوئی راستہ نکالے وہ پاکستان پر الزام لگا کر جلتی پر تیل ڈال رہا ہے۔ وزارتِ خارجہ ان الزام تراشیوں کو پہلے ہی مسترد کرتے ہوئی کہہ چکی ہے کہ تفتیش کئے بغیر واقعہ کی ذمہ داری پاکستان پر ڈالنا بھارتی وتیرہ ہے ،اور یہ کہ پاکستان دنیا میں کسی بھی جگہ ہونے والے ایسے واقعات کے خلاف ہے ان کی مذمت کرتا ہے اور پلوامہ کے دھماکے کو انتہائی تشویش کی نگاہ سے دیکھتا ہے۔قابض بھارتی فوج پر ہونے والا حملہ گذشتہ 20 سالوں میں سب سے بڑا حملہ تھا جس میں بھارتی قابض فوج کو بھاری نقصان اٹھانا پڑا ہے ،لیکن سوچنے کی بات ہے کہ ایسا کیوں ہوا۔آخر کشمیر میں یہ نوبت کیوں آن پہنچی ،کب بھارت کی آنکھیں کھلیں گی۔مقبوضہ کشمیر کے سابق وزیر اعلیٰ فاروق عبداللہ نے سوفیصد درست کہا ہے کہ اس معاملے میں آگے چلنے کا راستہ نہ ڈھونڈا گیا تو پلوامہ جیسے واقعات مستقبل میں بھی ہوتے رہیں گے۔وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے بھی بھارتی مظالم کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ وہاں انسانی حقوق کی خلاف ورزیاں ہورہی ہیں اور روز جنازے اٹھ رہے تو کیا اس کا ردعمل نہیں آسکتا؟انہوں نے اس بات کے خدشے کا بھی اظہار کیا کہ میں روس کے وزیر خارجہ سمیت کئی وزرائے خارجہ سے ملا اور کہا کہ مجھے خدشہ ہے کہ بھارت میں انتخابات سے پہلے سیاسی مقصد کے لیے کوئی واقعہ ہوسکتا ہے۔اس میں اب دو رائے نہیں ہے کہ بھارت میں الیکشن جیتنے کیلئے پاکستان دشمنی ایک خاص حربہ بن گیا ہے،اب جب بھارت میں چند ماہ بعد الیکشن ہونے جا رہے ہیں اور مودی سرکار پر شکست کے بادل منڈلانے لگے ہیں، پاکستان کے سنجیدہ حلقے اس بات کا خدشہ ظاہر کر رہے تھے کہ ’’مودی دول‘‘ گٹھ جوڑ رائے عامہ کو اپنے حق میں ڈھالنے کیلئے کشمیر میں کوئی بڑا کھیل رچا سکتا ہے۔وزیر خارجہ شاہ محمود نے بھی اپنی گفتگو میں اس جانب اشارہ کیا ہے۔پلوامہ واقعہ کی اب تک جزیات کے تجزیے سے اس خدشے کو تقویت ملتی دکھائی دیتی ہے۔پھر اہم بات یہ ہے مودی انتظامیہ کے موقف کو تمام جماعتوں کی تائید بھی حاصل نہیں ہو سکی ہے۔پلوامہ واقعہ پر گزشتہ روز نئی دہلی میں ہونے والی کل جماعتی کانفرنس اس مقصد کیلئے بلائی گئی تھی تاکہ تمام جماعتوں کی تائید حاصل کی جا سکے لیکن مذکورہ کانفرنس اختلافات کا شکار ہو گئی۔سماج وادی پارٹی اور پیپلز ڈیمو کریٹک پارٹی سمیت کئی جماعتوں نے اے پی سی میں شرکت نہیں کی ۔مسلم کانفرنس کے فاروق عبداللہ فلائٹ کا کہہ کر کانفرنس کے درمیان سے ہی اٹھ کر چلے گئے ۔اسی طرح قرارداد میں پاکستان کا نام شامل کرنے پر بھی اتفاق نہ ہوسکا ۔سابق وزیراعلیٰ نے کل جماعتی قرارداد کو مایوس کن قرار دیتے ہوئے کہا کہ وہ کل جماعتی اجلاس کے بعد امن کی اپیل کی توقع کررہے تھے۔یہ نکتہ قابل توجہ ہے کہ جب پاکستان کے حق میں عالمی رائے بہتر ہونے لگتی ہے یا کوئی اہم پیش رفت ہونے والی ہوتی ہے تو کوئی نہ کوئی ایسا واقعہ بھارت میں رچا دیا جاتا ہے کہ جس کی آڑ میں بھارتی حکومت پاکستان پرالزام تراشی شروع کر دیتی ہے۔ کلبھوشن کیس کی عالمی عدالت انصاف میں سماعت جو دو روز بعد شروع ہونے والی ہے اور سعودی ولی عہد کی پاکستان آمد اور اربوں ڈالر کی سرمایہ کاری ایسے معاملات ہیں جوبھارت کو ٹھنڈے پیٹوں ہضم نہیں ہو رہے ہیں۔ جہاں تک بھارت کی گیدڑ بھبکیوں کا تعلق ہے تو وہ کسی مغالطے نہ رہے۔اسے ایک ایٹمی قوت اور پروفیشنل آرمی سے واسطہ ہے جس کا ایک ایک سانس ملک کی سالمیت کے لیے وقف ہے۔اسی طرح مودی کی یہ دھمکی کہ وہ سفارتی طور پر پاکستان کو تنہا کردے گا تو یہ اسکی خام خیالی ہے،یہ کوشش وہ پہلے بھی کر چکے اور ناکام ہوئے،اب بھی کوشش کرکے دیکھ لے ناکام ہوں گے۔وزیر خارجہ نے یہ درسیت کہا کہ بھارت کو دیکھنا چاہیے کہ مقبوضہ کشمیر میں کیا ہورہا ہے اور آج یہ نوبت یہاں تک کیوں پہنچی، آج کشمیری ان سے نالاں ہیں تو اسکی کیا وجہ ہے، کیا ہزاروں عورتیں جو احتجاج کرتیں ہیں،جو شہدا کے جنازوں پر ہزاروں کا مجمع ہوتا کیا یہ پاکستان کرتا ہے۔ایسا ممکن نہیں ہے ۔ہندوستان اپنے جابرانہ رویے اور اپنی پالیسیوں کی وجہ سے کشمیر کو کھو چکا ہے اس کا قبضہ صرف جغرافیہ تک محدودرہ گیا ہے کشمیریوں کے دل و دماغ اسکے قبضے سے نکل چکے ہیں۔مودی انتظامیہ ہوش کے ناخن لے وہ اپنی توانائی پاکستان مخالف پروپیگنڈہ پر صرف کرنے کی بجائے کشمیریوں کی آواز سننے پر صرف کرے۔پاکستان دشمنی سے ہو سکتا ہے وہ الیکشن جیت جائے مگر کشمیریوں کے دل نہیں جیت سکتا۔

ویزہ فیس میں نمایاں کمی۔شکریہ سعودی عرب
سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کی پاکستان آمد سے قبل ہزاروں پاکستانیوں کیلئے یہ خوشخبری سامنے آئی ہے کہ اب پاکستانی شہریوں کیلئے ’وزِٹ ویزا‘کی فیسوں میں کمی کی منظوری دے دی گئی ہے، جس کا اطلاق15 فروری2019سے ہوگا۔اس سلسلے میں بتایا گیا ہے کہ سنگل انٹری وزٹ ویزا فیس2 ہزار سے کم کر کے338 ریال، جبکہ ملٹی پل انٹری وزٹ ویزا فیس3ہزار سے کم کے675 ریال کر دی گئی ہے۔اس میں کوئی شک نہیں کہ قبل ازیں خطے دیگر کئی ممالک کے مقابلے یہ فیس بہت زیادہ تھی۔مثلاًبھارت کیلئے یہ 200ریال اور انڈونیشیا کے لیے یہ 250ریال تھی مگر پاکستان کیلئے فیس 2000ریال تھی۔جس سے ہزاروں پاکستانیوں خصوصاً کاروباری افراد کے سفری اخراجات میں بے پناہ اضافہ ہو جاتا تھا۔اب جب سعودی حکومت نے اس میں نمایاں کمی کا اعلان کیا ہے تو اس سے جہاں باہمی تعلقات میں وسعت آئے گی وہیں باہمی کاروباری سرگرمیوں میں بھی اضافہ ہو گا۔موجودہ حکومت نے سعودی حکومت سے اپنے اچھے تعلقات سے فائدہ اٹھاتے ہوئے ویزہ فیس میں کمی کروا لی ہے تو یہ ایک قابل تحسین کوشش ہے۔ہمیں امید ہے کہ ولی عہد کے دورے سے بڑے بڑے معاہدوں کے علاوہ اس قسم کے کئی دیگر چھوٹی چھوٹی رکاٹوں اور مسائل کو بھی حل کر لیا جائے گا۔پوری پاکستانی قوم کی نظریں اس دورے پر لگی ہیں کیونکہ سعودی ولی عہد کے دورے میں پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان مختلف شعبوں میں کئی معاہدوں اور مفاہمت کی یادداشتوں پر دستخط کیے جائیں گے جبکہ دونوں ممالک، دوطرفہ تعاون کے مختلف شعبوں میں موثر اور فوری پیشرفت یقینی بنانے کے مختلف طریقوں پر بھی بات چیت کریں گے۔