- الإعلانات -

باتوں سے خوشبو آئے

Mian-Tahwar-Hussain

ایک بزرگ کسی درویش کی زیارت کیلئے گئے صبح کی نماز کا وقت تھا اور وہ بزرگ جن کے ہاں یہ گئے تھے انہوں نے جماعت کرائی،مہمان بزرگ پہلی صف کے آخر میں کھڑے تھے انہوں نے محسوس کیا کہ جو بزرگ جماعت کروا رہے ہیں انکا تلفظ صحیح نہیں ۔ مہمان بزرگ نے نیت توڑی اور الگ ہوکر نماز پڑھنے لگے کیونکہ امامت کروانے والے بزرگ جو ہوسٹ تھے انہوں نے عربی زبان کے صحیح الفاظ ادا نہیں کیے تھے یعنی قرات صحیح اور درست نہیں تھی اور پھر وہ بزرگ جنہوں نے الگ ہوکر نماز ادا کی تھی ہوسٹ بزرگ سے ملے بغیر چلے گئے ۔ وہ جنگل کے راستے سے گزررہے تھے کہ ایک شیر انکی طرف آتا ہوا محسوس ہوا وہ بزرگ بہت گھبرا گئے اتنے میں وہی بزرگ جو امات کروارہے تھے ان کے پاس پہنچے اور شیر پر ہاتھ پھیر کر کہنے لگے انکی خدمت اور دیکھ بھال کرتے ہیں شیر نے انکی باتیں سنیں اور سر جھکا غراتا ہوا ایک طرف چل دیا۔ مہمان بزرگ میزبان بزرگ سے پوچھنے لگے سرکار یہ طاقت کہاں سے ملی کیا وظائف کیے کتنے چلے کاٹے۔ میزبان بزرگ فرمانے لگے تجھے طاقت اور چلوں سے کیا غرض تم اپنا تلفظ درست رکھو اور اپنی نماز الگ پڑھو یہ مہمان بزرگ حضرت داتا گنج بخشؒ تھے ۔ بات یہ ہے کہ روح کا تلفظ اور ہے قلب کا اورزبان کا بہت ہی مختلف ۔ یہ واقعہ میں ایک اللہ والے کی محفل میں مودب بیٹھا سن رہا تھا کہنے لگے اللہ تو تمہاریپاس ہے تم اسے تلاش کرنے کہاں جاتے ہو جہاں تم ہووہیں اللہ بھی ہے تم جتنا اس کے قریب جاتے وہ اتنا ہی وہ قریب ہے۔ جہاں دعا کرنے والا ہے وہیں دعا سننے والا بھی موجود ہوتا ہے ۔ دعامانگنا اللہ کا قرب ہے۔ اللہ کے قرب کو تم لوگ ترک کئے بیٹھے رہتے ہو جب مشکل پڑی تو اللہ کو یاد کرلیا جب ضرورتیں بڑھیں تب اللہ کو یاد کرلیا،ہم اللہ سے مانگتے ہی رہتے ہیں کبھی انہی خواہشات کی حد بندی کی ہے ہمیں دنیا کی ساری ضرورتیں چاہئیں ایک بندہ اللہ سے تمام دنیاوی ضرورتوں کی تکمیل کیلئے لمبی چوڑی دعائیں مانگ رہا تھا ایک فرشتے کا اس کے قریب سے گزر ہوا اس نے بندے سے کہا میں فرشتہ ہوں اور اللہ کی بارگاہ میں عرض کردوں گا کہ آپ کا فلاں بندہ یہ دعا کررہا تھا کہ مجھے اپنے سوا سب کچھ عنایت کردے۔ انسان بس یہی کچھ مانگتا رہتا ہے۔ وہ پیسہ مانگتا ہے مرتبہ عزت اولاد اسکی ترقی ، خوشحالی چار آدمی اسے سلام کرتے رہیں اسکی انا کی تسکین ہو ہر طرح کی آسودگی اسے ملتی رہے یعنی دنیا علوم ملتے رہیں سکون قلب کا علم چاہے ملے یا نہ ملے ۔ اللہ ایسا وقت کبھی لائے کہ وہ مالک کل پوچھے بولو کیا چاہیے تو اس وقت یہی زبان سے ادا ہوکہ مالک تیرا قرب اسکے علاوہ مجھے کچھ چاہیے جب مل جائے تو پھر کس چیز کی کمی رہ جائے گی۔ تمنا اور خواہش سے دامن چھڑاؤ ،حاصل کے اندر رہو جتنا اس نے عطا کردیا اس پر شکر کرو خواہشات کو سمیٹو پھر آپ حاصل سے بڑھنے کی تمنا کم سے کم کرتے جاؤ طلب کم ہوگی تو حاصل کا شکر ہوگا۔ دعا کرنا فرض ہے اور جو شعور میں ذہن میں آتا ہے جس کا علم ہے وہی مانگا جاتا ہے جس کے بارے میں علم ہی نہ ہو اسے طلب کے دائرے میں نہیں لایا جاتا اللہ سے اللہ کو مانگو اس کے محبوبؐ کی محبت مانگو جو مانگنے والی چیز ہے اسے تم محسوس نہیں کرتے اسکے علاوہ لمبی لسٹیں تیار کی ہوئی ہوتی ہیں ۔ انسان کی آنکھ میں جب بے ساختہ آنسو آنے لگ جائیں تو دعا کا سلیقہ بتایا یا سکھایا نہیں جاتا۔ کسی کا ماں کا بچہ خدانخواستہ بیمار ہو جائے تو ماں خودبخود اللہ کے حضور پہنچ جاتی ہے دعا کا سلیقہ اسے خود بخود آجاتا ہے۔ دعا مانگنا بھی بہت صحیح ہے اور ایک مقام آتا ہے جب دعا نہ مانگنا بھی درست ہوتا ہے وہ مقام ان کیلئے ہے جو اپنا سب کچھ اللہ کے سپرد کردیتے ہیں اس مالک کل کے حوالے کردیا اتا اپنا سب کچھ۔ اپنا عمل دخل نہ ہونے کے برابر ہوجاتا ہے وہ سکھی رکھے تب خوش وہ ہم دے تب مطمئن وہ سب کچھ عطا کرکے واپس لے لے پھر بھی اسکا شکر وہ نہ دے کر خوش تب بھی کوئی فکر نہیں وہ ایک دن کی بادشاہت بھی عطا کردے تو اسکی کائنات اسی طرح اس کے حوالے نہ طلب اورنہ ہی ضرورت بس اسکی اور اس کے محبوبؐ کی محبت حاصل زندگی ۔ سب کچھ چھوڑ کر چلے جانا ہے بہت بڑا مکان بنالو بڑی گاڑی لے لو اربوں، کھربوں روپے جمع کرلو چھن تو سب کچھ جائے گا بیوی بچے عزیز، اقارب ، بہن ، بھائی ،دوست احباب سب سے بچھڑ جانا ہے دنیا کا مال و متاع یہیں رہ جانا ہے اور خالی ہاتھ آئے اور خالی ہاتھ واپس یہاں کا جمع کیا ہوا سب کچھ یہیں رہ جاتا ہے ساتھ صرف اور صرف اعمال جاتے ہیں اس جانب کتنی محنت کی ہے وہاں حساب تو اپنا اپنا ہی دینا ہے کوئی کسی کے کام نہیں آئے گا کوئی سفارش نہیں چلے گی ، دولت کام نہیں آئے گی صرف سرکارؐ کا سہارا ہوگا ان کی سفارش بگڑی بنائے گی ان کی خوشنودی کیلئے کیا کچھ کیا ۔ ا یک بھی بات ان کی پسند کی ہوئی۔ اللہ نے کہا میں اور میرے فرشتے سرکارؐ پر درود بھیجتے ہیں اے مومنو تم بھی ان پر درودو سلام بھیجو، یہ اللہ کاحکم ہے کیا ہم اس مالک کے حکم کی تعمیل کرتے ہیں کیا چوبیس گھنٹوں میں کچھ وقت اس قادر مطلق کے حکم کی تعمیل میں صرف ہوتا ہے ۔ ہم تو انواع ، اقسام کے کھانے تناول فرمانے دور دور کا سفر نئے نئے ہوٹلوں کی کھوج میں خر چ کرتے ہیں لیکن تنہائی میں بیٹھ کر اللہ کے حکم کی تعمیل کیلئے وقت صرف نہیں ہوتا ۔ اپنی زندگی معاشرے اور اپنے بھائی بندوں پر نگاہ ڈالیں کیا ہمارا کوئی عمل سرکارؐ دوعالم کو خوش کرنے کیلئے ہوا۔ کسی یتیم مسکین بیوہ معذور محتاج کی مدد کی۔ آج کی خوشیاں ہی کل کا غم بنتی ہیں۔ غم ہوتا کیا ہے خوشی کے رخصت ہونے کا نام غم ہے ۔ بیٹی پیدا ہوتی ہے اور غم دے کر رخصت ہو جاتی ہے خوشی بھی بیٹیوں کی طرح ہوتی ہے۔ ہم سب اشیاء کے حصول کے دام میں گرفتار ہیں۔ لذت وجود کے ساتھ کام ، دہن کی لذت کا شکار ہیں مال کی گنتی میں لگے ہوئے ہیں۔ بھئی ہمیں اتنا حاصل کرنا چاہیے جسے چھوڑنے کا غم نہ ہو۔ اللہ سے و ہ چیز مانگو جو اسے پسند ہو ہماری پسند ہمیں نقصان دتی ہے، خواہشات کی لوڈشیڈنگ کرتے رہو زندگی آسان ہو جائے گی حاصل پر اطمینان سے شکر کرو زندگی بہت آسان ہو جائے گی ۔ سرکارؐ سے مبت کرتے ہو لیکن ویسی زندگی گزارنا مشکل لگتا ہے چلو اتنا تو کرو کہ آپؐ نے اپنی بیٹی بی بی فاطمہ زہرہ کو شادی پر جو سامان عطا فرمایا اتنا بھی اپنی بیٹیوں کو رخصت کرتے و قت دو۔ ایسا نہیں کرسکتے دعوے زیادہ عمل کم۔ تقلید مغرب کی آخرت مشرقی اور اسلامی ۔ ہم کیا کررہے ہیں سوچنے کا مقام ہے اللہ اپنی رحمت سے کسی کو اگر توبہ کی توفیق عطا فرمائے تو یہ خوش نصیبی ہے۔ ان بزرگ کی باتیں سن کر میں اپنے آپ کو کوسنے لگا کہ میں کیا کررہا ہوں زندگی کے شب و روز کیسے گزررہے ہیں اس کے حکم کی بجائے ضرورتوں کے تابع ہوچکے ہیں۔

*****