- الإعلانات -

پلوامہ دہشت گردی کا پس منظر کیا ہے؟

rana-biqi

بھارتی میڈیا کے مطابق گزشتہ دنوں مقبوضہ کشمیر کے علاقے پلوامہ میں بھارتی سنٹرل ریزرو سیکورٹی فورس کے بڑے کانوائے پر جس میں ڈھائی ہزار سے زیادہ اہلکار ،ستر سے زیادہ فوجی گاڑیوں اور بسوں میں سوار تھے، دہشت گردوں کے حملے میں درجنوں بھارتی فوجی اہلکار ہلاک اور بہت سے زخمی ہوگئے ہیں ۔یہ کہا گیا ہے کہ بارود بھری ایک کار نے کانوائے کی بس پر خودکش حملہ کرکے اِس بھیانک کاروائی کا ارتکاب کیا ہے جبکہ دہشت گردوں کی جانب سے دستی بموں کے استعمال کی بات بھی کی گئی ہے ۔ حیرت کی بات ہے کہ جگہ جگہ چیک پوسٹوں اور سیکیورٹی بیرئیرز کی موجودگی میں کنٹرول لائین سے تقریباً سو کلو میٹر دوراتنی بھاری مقدار میں دھماکہ خیز مواد کس طرح پہنچ گیا اور کیونکر ہائی سیکیورٹی کانوائے کو نشانہ بنا لیا گیا؟ دنیا بھر کے سیکیورٹی ادارے اِس اَمر سے اچھی طرح واقف ہیں کہ امن اور حالت جنگ کے دوران جب بھی بڑے پیمانے پر سیکیورٹی یا فوجی کانوائے متاثرہ علاقے میں چلتے ہیں یا موو کرتے ہیں تو علاقے سے متعلقہ سٹرکوں کو دیگر ٹریفک کیلئے بند کر دیا جاتا ہے۔سوال یہ بھی ہے کہ مقبوضہ جموں و کشمیر میں کنٹرل لائین پر چپہ چپہ پر پھیلی ہوئی بھارتی فوج، رینجرز ، ریزرو سیکیورٹی پولیس اور مانیٹرننگ کیمروں کی موجودگی میں اتنا بڑا دھماکہ خیز مواد کس طرح ہائی پروفائل سیکیورٹی ذون میں پہنچ گیا؟ حیرت ہے کہ اِس ریڈی میڈ حملے کے فواً بعد ہی کالعدم نام نہاد تنظیم جیش محمد جس سے پاکستان کا کوئی تعلق نہیں ہے کی جانب سے ذمہ داری قبول کرانے کے اعلان کیساتھ ہی اِس حملے کے فوراً بعد بھارت نے اسلام آباد سے اپنے ہائی کمشنر کو واپس نئی دہلی بلا لیا ہے جبکہ سفارتی قوانین کی خلاف ورزی کرتے ہوئے نئی دہلی میں پاکستانی ہائی کمشنر کو طلب کرکے کسی ثبوت کے بغیر پاکستان پر بے بنیاد الزامات لگائے گئے ہیں۔لہٰذا ایک ایسے وقت جبکہ حکومت پاکستان بھارت سے تعلقات بحال کرنے کیلئے پاکستان میں سکھوں کے مقدسہ مقام کو عام سکھ زائرین کیلئے کھولنے کیلئے کرتار پور کوریڈور پر معاہدے کیلئے بھی گفتگو میں مصروف ہیں بھارت نے پاکستان کے خلاف ایک مرتبہ پھر معاندانہ پروپیگنڈا شروع کر دیا ہے۔چنانچہ پاکستانی وزارت خارجہ نے بھارتی ڈپٹی ہائی کمشنر کو وزارت خارجہ میں طلب کرکے بغیر تحقیقات کے الزامات لگانے پر بھارت سے شدید احتجاج کیا ہے۔ نام نہاد پلوامہ دہشت گردی کے حوالے سے بھارتی انتہا پسند وزیراعظم نریندرا مودی اور وزیر داخلہ راجناتھ سنگھ نے اِس قدر بوکھلاہٹ کا شکار ہیں کہ اُنہوں نے ایک اور غیرر سفارتی دھمکی آمیز بیان میں کہا ہے کہ پڑوسی ملک (پاکستان) کو سزا بھگتنی ہوگی جس کیلئے بھارتی فوج کو کھلی چھٹی دے دی گئی ہے۔ حیرت ہے کہ بھارت ایک جانب تو کشمیر کنٹرول لائین اور سیالکوٹ ورکنگ باؤنڈری پر روزمرہ کی خلاف ورزی میں مصروف ہے تو دوسری جانب پاکستان کے صوبہ بلوچستان اور سابق فاٹا کے علاقے میں دہشت گردی میں ملوث ہے جس کی ایک ٹھوس شہادت بھارتی ایکسٹرنل انٹیلی جنس RAW سے منسلک بھارتی سروننگ نیوی کمانڈرکل بھشن جادیو کی جعلی نام سے سفری دستاویزات کیساتھ بلوچستان میں رنگے ہاتھوں گرفتاری عمل میں آ چکی ہے جس کی آزادی کیلئے بھارتی سیکیورٹی ایڈوائزر اجیت کمار ڈوّل اور بھارتی وزیراعظم نریندرا مودی سخت مضطرب ہیں اور جس کی سماعت اب بھارتی درخواست پر بین الاقوامی کورٹ آف جسٹس میں ہونے والی ہے۔ چنانچہ کسی معقول ثبوت کے بغیر بھارت اقوام متحدہ کی عدالت کی توجہ کل بھشن کیس سے ہٹانے کیلئے پلوامہ دہشت گردی کو پاکستان کے خلاف استعمال کرنے میں مصروف ہے۔اِسی دوران کالعدم تنظیم جیش محمد جس کا پاکستان سے کوئی تعلق نہیں ہے، کی جانب سے یہ اعلان بھی سامنے آیا ہے جس میں اُنہوں نے ایسے کسی بھی حملے کی ذمہ داری قبول کرنے سے انکار کیا ہے جبکہ مقبوضہ کشمیر حریت کانفرنس نے وضاحت سے کہا ہے کہ پلوامہ حملہ کشمیریوں کی آزادی کی تحریک کو کچلنے کی سازش کا حصہ ہے ۔ سابق کشمیری لیڈر شیخ عبداللہ مرحوم کے صاحبزادے سابق وزیراعلی مقبوضہ کشمیر فاروق عبداللہ جنہیں بھارت میں سابق مرکزی کانگریس حکومت کا حامی سمجھا جاتا ہے، نے اِس واردات کے بعد بھارتی چینل پر انٹرویو کے دوران کہا ہے کہ اِس نوعیت کے حملوں سے پاکستان کا کوئی تعلق نہیں کیونکہ موجودہ تحریک آ زادئ کشمیر بھارتی ظلم و تشدد کے خلاف کشمیری نوجوانوں نے شروع کی ہے۔ جب بھارتی اینکر نے اُن سے بھارتی تھیم کے مطابق پاکستان کے خلاف کچھ کہلوانے کی کوشش کی تو فاروق عبداللہ نے لائیو انٹرویو کے دوران واک آؤٹ کرنے سے بھی گریز نہیں کیا۔ درج بالا تناطر میں جمہوری دنیا اِس اَمر سے اچھی طرح واقف ہے کہ امن و امان قائم کرنا ہر جمہوری ریاست کی آئینی ذمہ دار ی میں شامل ہے جبکہ پلوامہ دہشت گردی جس میں اِس اَمر کا ابھی تک تعین نہیں ہوسکا ہے کہ آیا دہشت گردی کا یہ واقعہ بھارت میں پھیلی ہوئی متعدد مقامی عسکریت پسند تنظیموں کاکام ہے یا اِسے بھارتی الیکشن 2019 میں بھارتی وزیراعظم نریندرا مودی کی گرتی ہوئی ساکھ کو بچانے کیلئے آر ایس ایس کی جانب سے کیا گیا ہے ، کیونکہ دہشت گردی کے اِس حملے کے فوراً بعد آر ایس ایس اور ہندو توا تنظیموں سے منسلک انتہا پسند ہندوؤں نے مقبوضہ کشمیر کے ضلع جموں اور دیگر ہندو اکثریتی علاقوں میں کشمیری مسلمانوں کی پچاس سے زیادہ مقبوضہ کشمیر نمبر پلیٹ والی گاڑیوں کو چن چن کر نذر آتش کرنے کے علاوہ کشمیری مسلمانوں کی جان و مال کو نقصان پہنچایا ہے۔ یہ طریقہ کار وہی ہے جس طرح سابق وزیر اعلی گجرات احمد آباد نریندرا مودی (موجودہ وزیراعظم بھارت) کے زمانے میں ہندو یاتریوں کی چلتی ٹرین کے ایک ڈبے میں آگ لگنے پر دیگر ڈبوں تک پھیل گئی جس کے نتیجے میں پچاس کے قریب ہندو یاتری ہلاکت کا شکار ہوئے جس کا الزام گجرات احمد آباد کے مسلمانوں پر لگا کر سابق وزیراعلی نریندرا مودی کے اشارے پر گجرات ، احمد آباد میں ہزاروں مسلمانوں کے قتل عام کے ذریعے لیا گیا جبکہ اُن کی مساجد اور رہائشی مکانوں اور تجارتی دکانوں کو آگ لگا کر تباہ و برباد کر دیا گیا تھا ۔ س اَمر کے خدشات کا اظہار بھی کیا جا رہا ہے کہ پلوامہ دہشت گردی کا ملبہ بھارتی مسلمانوں پر ڈالنے کیلئے بھی آر ایس ایس چیف ڈاکٹر موہن بھگوت کی مشاورت سے بی جے پی اور آر ایس ایس کے مسلح رضاکار ایک مرتبہ پھر سے بھارت میں فرقہ وارانہ فسادات کے ذریعے بھارتی مسلمانوں کو انتقام کا نشانہ بنا سکتے ہیں کیونکہ بھارت میں مسلم ووٹ بھارتی الیکشن 2019 میں نیریندرا مودی کی اینٹی اسلام الیکشن مہم جوئی کے بعد دیگر بھارتی سیاسی جماعتوں کو ووٹ دینے پر متفق ہوتے جا رہے ہیں۔ اندریں حالات یہی محسوس ہوتا ہے کہ گزشتہ ہفتے بھارتی وزیراعظم نریندرا مودی کے آر ایس ایس کے انتہا پسند کارکنوں کے ہمراہ سری نگر کے دورے میں حریت کانفرنس کی اپیل پر سری نگر میں مکمل شٹر ڈاؤن ہڑتال اور نریندرا مودی کے خطاب کا بائیکاٹ ہونے پر آر ایس ایس چیف ڈاکٹر موہن بھگوت کی مشاورت سے بظاہر دو مقاصد کیلئے یہ حملہ انجینئرڈ کیا گیا تھا، ایک تو یہ کہ نریندرا مودی کی بھارت میں گرتی ہوئی ساکھ کوسہارا دیا جائے اور دوسری جانب پاکستان پر الزامات کا بوجھ منتقل کرکے پاکستان کی جانب سے بابا گرونانک دربار تک حالیہ رسائی دینے پر بھارتی سکھوں اور پاکستانیوں کے درمیان کرتار پور کوریڈور کھولنے کے حوالے سے پیدا ہونے والے محبت کے جذبات کو نہ صرف معدوم کیا جائے بلکہ دنیا بھر میں پاکستان کے خلاف ایک دہشت گرد ریاست ہونے کے پروپیگنڈے کو مہمیز دی جاسکے۔ جبکہ قرائین یہی کہتے ہیں کہ پاکستان پر الزام لگانے کیلئے ہندو انتہا پسندوں نے بھارتی فوج کی اعانت سے محدود دہشت گردی کا مظاہرہ کرنے کا فیصلہ کیا تھا لیکن سازش سے منسلک متعلقہ افراد کی غفلت کے باعث یہ اَمر ممکنات میں شامل ہے کہ حملے میں استعمال کی گئی کار مقررہ بس کے بجائے بھارتی ایمونیشن سے لیس بس سے ٹکرا کر بڑے نقصان کا سبب بن گئی ۔ چنانچہ یہ دعویٰ کرنا کہ خود کش حملے کیساتھ ہی دستی بموں سے بھی کانوائے پر حملہ کیا گیا حقائق کے منافی ہے جس کیلئے فکری تھنک ٹینک حلقوں کو ماضی میں بھارتی ایجنٹوں کے طریقہ واردات سے متعلق مزید پرت کھولنے کی ضرورت ہے ۔(۔۔۔جاری ہے)