- الإعلانات -

بھارت کی جنگی تیاریاں کس کے خلاف؟

بھارت کے زیر قبضہ مقبوضہ کشمیر کا بیشتر علاقہ ہمالیہ کے پہاڑی سلسلے پر پھیلا ہوا ہے۔ جموں و کشمیر کی سرحدیں جنوب میں ہماچل پردیش، مغرب میں پاکستان اور شمال اور مشرق میں چین سے ملتی ہیں۔ یہ علاقہ پاکستان اور بھارت کے درمیان ایک متنازعہ حصہ ہے۔ ریاست میں مسلمانوں کی اکثریت ہے تاہم ہندو، بدھ اور سکھ بھی بڑی تعداد میں رہتے ہیں۔ پاکستان کا موقف ہے کہ مسلم اکثریتی ریاست ہونے کے باعث تقسیم ہند کے قانون کی رو سے یہ پاکستان کا حصہ اور شہہ رگ ہے جب کہ بھارت اسے اپنا اٹوٹ انگ قرار دیتا ہے۔ علاقہ عالمی سطح پر متنازعہ قرار دیا گیا ہے۔

کشمیر کو اپنے زیر نگین رکھنے کیلئے بھارت ہر غیر قانونی طریقہ استعمال کر رہا ہے جس میں نہتے کشمیریوں پر ظلم وستم، عملاً مارشل لاء اور دوسرے پرتشدد طریقے شامل ہیں۔ ریاستی دہشت گردی کے ذریعے بھارت کشمیریوں کی تحریک آزادی کا گلا گھوٹنے کی ناکام کوشش کر رہا ہے۔ مقبوضہ کشمیر میں نہتے عوام بھارتی فوج کی فائرنگ کا نشانہ بن رہے ہیں۔کشمیریوں پرٖ ظلم و تشدد کے نت نئے طریقے استعمال کیے جارہے ہیں۔ روایتی اسلحہ کے ساتھ ساتھ پیلٹ گنز ، مرچی بم اور دیگر دھماکہ خیز اسلحہ کا استعمال کیا جارہا ہے۔ اسی پر بس نہیں ، بھارت دوسرے ممالک سے مہلک اسلحہ ، کیمیائی بم اور ڈرون منگوائے جارہے ہیں۔
بھارت اسرائیل سے 110 جدید ہاروپ ڈرونز خرید رہا ہے۔ یہ ڈرونز کسی بھی ہدف کو تباہ کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ دونوں ممالک کے درمیان ڈرونز کی خریداری کیلئے معاہدے پر دستخط ہو گئے ہیں۔ مزید دو اقسام کے ڈرونز کی خریداری کیلئے دونوں ممالک کے درمیان بات چیت جاری ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ بھارت نے امریکہ سے ہنگامی بنیادوں پر 72 ہزار خود کار رائفلز اور 93 ہزار کاربین رائفلز خریدنے کی منظوری دے دی۔ بھارت امریکہ کی اسلحہ ساز کمپنی سیگ سیوگر نامی کمپنی سے فاسٹ ٹریک پروکیورمنٹ (ایف ٹی پی) کے تحت 70 ارب روپے مالیت کی رائفلز خریدے گا۔ محکمہ ڈیفنس کے مطابق مذکورہ رائفلز مقبوضہ کشمیر میں مختلف حساس محاذ میں فرنٹ لائن فوجیوں کو فراہم کی جائیں گی۔ 72 ہزار 200 ایس آئی جی 716 جدید رائفلز میں سے 66 ہزار 400 بری، 2 ہزار بحری اور 4 فضائیہ کو فراہم کی جائیں گی۔ امریکہ سے خریدی جانے والی ایس آئی جی 716 رائفلز پانچ سو میڑ کی دوری پر موجود اپنے ہدف کو ٹھیک نشانہ بنانے کی صلاحیت رکھتی ہے اور تین کلوگرام سے کم وزن کی حامل ہے۔ معاہدے کی رو سے تمام رائفلز 12 مہینے کے اندر فراہم کی جائیں گی۔ گزشتہ برس اکتوبر میں اسرائیل کی اسلحہ ساز کمپنی ایئرو اسپیس انڈسٹری (آئی اے آئی) کا کہنا تھا کہ وہ بھارتی بحری جنگی جہازوں میں 1 کھرب 38 کروڑ روپے مالیت کا زمین سے فضا میں مار والے میزائل ڈیفنس سسٹم (ایل آر ایس اے ایم) نصب کرے گا۔ بھارت کی سرکاری کپمنی بھارت الیکڑونک لمیٹڈ (بی ای ایل) کے ساتھ معاہدہ طے پا چکا ہے اور اس معاہدے میں بی ای ایل مرکزی فریق ہے۔ اس سے قبل فرانس کے سابق صدر فرینکوئس ہولاندے کے انکشافات کے بعد بھارت کی مرکزی اپوزیشن جماعت کانگریس کی جانب سے نریندر مودی پر طیاروں کے معاہدے میں سرکاری کمپنی کے بجائے نجی کمپنی کو ترجیح دینے کا الزام عائد کیا گیا تھا۔
بھارت کی طرف سے یہ کہنا خلاف حقیقت ہے کہ بحیرہ چین میں چین کے عزائم نے کئی ممالک کو تشویش میں مبتلا کر دیا ہے۔ ایسی بیان بازی چین کا جارحانہ چہرہ دنیا کو دکھا کربھارت ہمدردیاں اورمزید دفاعی قوت حاصل کرنا ہے۔ امریکہ بھارت کو چین کے مقابل لانے کیلئے اس کو تھپکی اور جدید دفاعی ٹیکنالوجی بھی دے رہا ہے۔ بھارت کے ایک سابق آرمی چیف جنرل دیپک کپور نے جنگی جنون اور دفاعی ٹیکنالوجی اور روایتی و غیرروایتی ہتھیارات کے انباروں کے زعم میں دم پر کھڑے ہو کر چین اور پاکستان کو للکارتے ہوئے کہا تھا کہ اس کی فوج بیجنگ اور اسلام آباد کو 96گھنٹے میں زیر کر سکتی ہے۔ موجودہ آرمی چیف جنرل پین رادت بھی پاکستان اور چین کا مقابلہ کرنے کی بڑھک مار چکے ہیں حالانکہ چین اور پاکستان کے مشترکہ تو کیا انفرادی طور پر بھی کسی ملک کے خلاف کبھی جارحانہ عزائم نہیں رہے البتہ جارحیت مسلط کرنے میں دونوں ممالک نے اپنے اپنے طور پرسخت جواب ضرور دیا ہے۔بھارت امریکہ و عالمی طاقتوں کی ہمدردیاں اور امداد حاصل کرنے کیلئے چین کو ہّوا بنا کر پیش کرتا ہے۔ اس کا دراصل ٹارگٹ چین سے زیادہ پاکستان ہے۔