- الإعلانات -

سعودی ولی عہدکادورہ پاکستان۔۔۔بے مثل استقبال، تاریخی معاہدے

adaria

سعودی شہزادہ محمدبن سلمان کی آمد اوران کے پاکستان کے دورے کودنیابھرکے میڈیا نے انتہائی اہم کوریج دی۔ چونکہ پاکستان خطے میں ابھرتی ہوئی نئی معیشت ہے اور سعودی عرب کی جانب سے اربوں روپے کی سرمایہ کاری اس بات کی غمازی کرتی ہے کہ خطے میں معاشی اعتبار سے پاکستان کامستقبل انتہائی روشن ہے ۔ پاکستان اور سعودی عرب تعلقات ہمیشہ بہترین رہے ہیں اورسعودی عرب پرجب بھی کوئی مشکل وقت آیا ہمیشہ پاکستان اُس کے ساتھ کھڑا ہوا۔اسی طرح سعودی عرب نے بھی ہرآڑے وقت میں پاکستان کاساتھ دیا۔ خصوصی طورپر ایٹمی دھماکوں کے بعد جب پاکستان کو مسائل درپیش ہوئے تو سعودی عرب ہی تھا جس نے پاکستان کی ہرممکن مددکی۔اب جبکہ پاکستان کومعاشی بحران درپیش تھا ایسے میں بھی سعودی ولی عہد کادورہ اور تاریخی سرمایہ کاری پاکستان کی معیشت کے لئے ریڑھ کی ہڈی ثابت ہوگا۔گوادر میں سعودی عرب دنیاکی سب سے بڑی آئل ریفائنری لگانے جارہاہے ۔اہم بات یہ ہے کہ جوبیس ارب ڈالر کے ابھی معاہدے ہوئے ہیں سعودی عرب اس میں مزید سرمایہ کاری کرے گا۔ان معاہدوں سے جہاں پاکستان میں روزگارکے مواقع پیدا ہوں گے وہاں پر درپیش مسائل بھی حل ہونا شروع ہوجائیں گے جس میں خصوصی طورپر توانائی بحران کوحل ہونے میں مددملے گی۔دنیابھرمیں پاکستان کاامیج مثبت انداز میں ابھرے گا۔سی پیک کے حوالے سے چین کی سرمایہ کاری اور پھر سعودی عرب کی سرمایہ کاری پاکستان کے لئے ایک نیایوٹرن ثابت ہوگا ۔اب دیکھنایہ ہے کہ پاکستان اس سے کہاں تک فائدہ اٹھاتاہے ۔ پاکستان آمد پر سعودی ولی عہد محمد بن سلمان نے وزیراعظم عمران خان سے ون آن ون ملاقات کی۔ ملاقات میں پاک سعودی تعلقات اور باہمی دلچسپی کے امور پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے سعودی ولی عہد شہزاد ہ محمد بن سلمان نے کہا کہ پاکستان زبردست قیادت کے باعث روشن مستقبل رکھتا ہے۔ 20ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کے معاہدے پہلا مرحلہ ہے۔پاکستان سے مزید سرمایہ کاری کریں گے۔ تقریب سے وزیراعظم عمران خان نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پاکستانیوں کیلئے آج ایک عظیم دن ہے۔ سعودی ولی عہد اور ان کے وفد کا پاکستان میں خیرمقدم کرتے ہیں۔ سعودی عرب ہمیشہ سے پاکستان کا دوست اور بھائی رہا ہے، سعودی قیادت اور عوام ہمارے دلوں میں رہتے ہیں ۔ سعودی عرب پاکستانی حجاج کو پاکستان میں امیگریشن کی سہولت دے۔ سعودی عرب میں 25لاکھ پاکستانی مقیم ہیں۔ وزیراعظم نے سعودی عرب میں معمولی جرائم میں قید تین ہزار پاکستانیوں کی رہائی کی درخواست کی جس پر خوش آئندبات یہ ہے کہ اس پر عملدرآمدبھی ہوگیاہے اور2107پاکستانی قیدی جلدانشاء اللہ پاکستان پہنچ جائیں گے۔سعودی ولی عہد نے قیدیوں کی رہائی کیلئے جویقین دہائی کرائی وہ پوری ہوگئی ہے۔پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان معاہدوں اور مفاہمت کی یادداشتوں پر دستخط کی تقریب منعقد ہوئی جس میں وزیراعظم عمران خان اور سعودی ولی عہد بھی موجود تھے۔ دونوں ممالک نے بجلی کی پیداوار کے شعبے اور معدنی وسائل کے شعبے میں ایم او یوز پر دستخط کئے جبکہ ریفائنری پیٹرو کیمیکل پلانٹ کے قیام اور متبادل مصنوعات کی ترقی کیلئے 20 ارب ڈالر کے معاہدوں پر دستخط کئے گئے۔پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان سٹینڈرڈائزیشن کے شعبہ میں تعاون کے معاہدے پر سعودی عرب کے وزیر تجارت ڈاکٹر ماجد القاسمی اور وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے دستخط کئے۔ کھیلوں کے شعبہ میں تعاون کے معاہدے پر سعودی عرب کے وزیرخارجہ عادل الجبیر اور وفاقی وزیر برائے بین الصوبائی رابطہ ، امور نوجوان و کھیل ڈاکٹر فہمیدہ مرزا نے دستخط کئے، سعودی اشیاکی درآمد سے متعلق مالیاتی معاہدہ پر وزیر خزانہ اسد عمر اور سعودی عرب کے وزیر خارجہ عادل الجبیر نے سعودی فنڈ برائے ترقی کی جانب سے دستخط کئے۔ دونوں ممالک کے درمیان معدنی وسائل کی ترقی میں تعاون کی مفاہمت کی یادداشت پر بھی دستخط کئے گئے۔ سعودی وزیر توانائی خالد الفالح اور وفاقی وزیر برائے پٹرولیم غلام سرور خان نے معاہدے پر دستخط کئے۔ دونوں ممالک کے درمیان قابل تجدید توانائی کے شعبہ میں تعاون اور سرمایہ کاری کا معاہدہ طے پایا جس پر سعودی وزیر توانائی خالد الفالح اور وزیر توانائی عمر ایوب خان نے دستخط کئے۔ ان معاہدوں سے دونوں ممالک کے درمیان تعلقات مزید مستحکم ہوں گے۔ اس سے قبل سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان دو روزہ دورے پر اسلام آباد پہنچے تو ان کا شاندار استقبال کیا گیا۔ وزیراعظم عمران خان نے کابینہ ارکان کے ہمراہ معزز مہمان کا نور خان ایئربیس پر استقبال کیا۔ اس موقع پر جے ایف 17 تھنڈر اور ایف 16 طیاروں نے سعودی ولی عہد کو سلامی پیش کی۔ 21 توپوں کی سلامی بھی دی گئی۔ معزز مہمان کو وزیراعظم ہاؤس میں گارڈ آف آنر بھی پیش کیا گیا۔ وزیراعظم نے معزز مہمان کے اعزاز میں عشائیہ بھی دیا۔

کلبھوشن کیس۔۔۔آئی سی جے سے انصاف کی توقع
کلبھوشن کیس کی سماعت آج عالمی عدالت انصاف میں ہونے جارہی ہے ۔برطانوی ادارے نے کلبھوشن کے پاسپورٹ کو اصلی قراردیدیاہے ۔ پاکستان نے اس حوالے سے تمام تر ثبوت عالمی عدالت انصاف میں جمع کرادیئے ہیں چونکہ بھارت کاہمیشہ سے وطیرہ رہا ہے کہ اس نے بغیر کسی ثبوت کے پاکستان پر الزام تراشیاں کیں حالیہ پلوامہ واقعہ کے بعد اس نے جیسے ہرزہ سرائی کا بازارکاہی گرم کردیا مودی کی اونٹ پٹانگ حرکتوں کو اب اس کی عوام بھی جان چکی ہے ۔بھارت کے سیکیورٹی ادارے ،سابقہ دفاعی قیادت اور عوام یہ سمجھ چکے ہیں کہ مودی یہ تمام ترڈرامہ انتخابات کے لئے رچارہاہے ۔حیف ہے بھارت پر کہ اس کے میڈیا نے ایک خبرچلوائی جس میں اس نے کہاکہ عبدالرشید نے پلوامہ حملے کے حوالے سے لوگوں کو بھرتی کیا اور تربیت کی جبکہ عبدالرشید ایک جھڑپ میں مارے جاچکے ہیں۔ سونے پہ سہاگہ یہ کہ عادل نامی نوجوان جس کے حوالے سے پلوامہ حملے کی ذمہ داری قبول کی ہے وہ بھی بھارتی سیکیورٹی فورسز کی حراست میں تھا۔ زبردستی اس سے ذمہ داری کابیان دلوایاگیا۔یہ بھارتی اقدامات کوئی نئے نہیں اڑی حملہ ہو،سمجھوتہ ایکسپریس حملہ ہو ان سب کے ڈانڈے بھارت ہی سے جاکرملتے ہیں۔ چونکہ مودی گجرات کاقصاب ہے اس کے منہ کو خون لگ چکا ہے اسی وجہ سے پلوامہ میں بھی خود ہی حملہ کراکے اورالزام پاکستان پر تھوک رہاہے۔ مزید برآں اس نے حریت قیادت کی سیکیورٹی بھی واپس لے لی ہے ۔پی ایس ایل کے میچ بھی بھارت نے اپنے ملک میں دکھانابند کردیئے ہیں ۔ان اقدامات سے اس کامکروہ چہرہ عیاں ہوچکا ہے۔ دفترخارجہ نے پلوامہ حملے کے حوالے سے بھارتی الزامات مسترد کردیئے ہیں۔ بھارت کو اپنی انٹیلی جنس کی ناکامی پر توجہ دینی چاہیے، پاکستان بھارت کے ساتھ معمول کے تعلقات کی بحالی چاہتا ہے۔ نیز سیکرٹری خارجہ نے بھی دیگرممالک کے سفراء کو بھارت کی مذموم کارروائیوں کے حوالے سے بریفنگ دی ۔