- الإعلانات -

پلوامہ دھماکہ۔مودی اجیت کا تیار کردہ الیکشن سلوگن

مجھ پر بھروسہ رکھو میں ہی وہ ‘منش’ہوں، جس کی جنونی’متشدد اورہیجانی قیادت میں مسلم ملک بنگلہ دیش سے مسلم ملک افغانستان کے پرے وسطی ایشیائی ریاستوں کی سرحدوں تک اور لداخ سے اْوپرچینی سرحد کے ساتھ ساتھ بھوٹان’ مالدیپ اورسری لنکا تک پورے جنوبی ایشیا پر نئی دہلی کا ترنگا لہراتا ہوا میں دیکھ رہا ہوں، میں مودی آپ کا پردھان منتری ہوں، آپ کا دھیان اپنی جانب کرارہا ہوں سنومیری ہی ہندو تواکی بھاچپائی قیادت میں مسلم ملک ایران کی بندرگاہ چا ہ بہارتک ہمارا دیش بھارت پہنچ چکا ہے’ چندماہ بعد دیش میں آنے والے چناؤ میں بھارتی عوام کسی اورسیاسی جماعت کو ووٹ نہ دیں، صرف مجھ پر ہی بھروسہ رکھیں،ہندوتوا کے پرچارکو ذرا تصورکرو جب ہم ہندو ایشیا کے وسیع خطہ پر نئی دہلی سے بیٹھ کر حکومت کریں گے تو اس خطہ کے تمام مالیاتی اورغیر مالیاتی شعبہ ہائے زندگی کے اداروں کے علاوہ زرکی تمام منڈیاں ہمارے اپنے تسلط میں ہونگیں’ یہ ہیں بے لگام خواہشات کے خواب جو اقتدار اور ہر قیمت پر اقتدار کے حصول میں گم مدفن شخصیات نے ہر عہد میں دیکھے اور غرقاب ہوئے، بھارتی وزیر اعظم مسٹرمودی اور اْن کے قومی سلامتی کے مشیر اجیت ڈوال کی ٹیم آج کل ایسے خواب دیکھنے میں مگن اپنی عقلوں سمیت اپنی آنکھوں پر پٹیاں باندھے ہوئے اجتماعی خودکشیاں کرنے آمادہ نظرآتی ہے، خوابوں اور سرابوں کے ان اسیروں سے کوئی ذرا پوچھے کہ وہ حقیقتوں کی دنیا میں واپس کب پلٹیں گے؟ کبھی نہ کبھی تو اْن کی آنکھیں کھلیں گی نا ہمیشہ تو وہ سوتے نہیں رہیں گے’مودی ڈوال گٹھ جوڑ’ کی خواہشات نے کسی اور کو تو کیا کہیں بھارتی عوام کے ایک بڑے حصہ کو کسی حد تک نفسیاتی پاگل پن کا مریض ضرور بنادیا ہے 14 فروری کے بعد جب ‘پلوامہ دھماکہ‘ سامنے آیا تو پتہ چلا کہ بھارتی اقتدار کی لابیوں میں پاگل پن کی کیسی جنونی گفتگوؤیں ہوتی ہونگی کیا وہاں یہی باتیں ہوتی ہیں اور یہی منصوبے بنتے ہیں مانتے ہیں چند ماہ بھارت میں اگلے پانچ برس کیلئے نئے چناؤ ہونے والے ہیں یہ بھی مانتے ہیں بھارت کے ہر عام انتخابات میں الیکشن جیتنے کیلئے پاکستان مخالفت کا نعرہ گونجتا ہے اب بھی وہ ایسا کرسکتے تھے، مگر ماضی کے مقابلے میں اب جدید معلوماتی ٹیکنالوجی نے عوامی شعور کو بہت حد تک بیدار کردیا ہے مطلب یہ کہ پرانے لولی پاپ اب بھارتی عوام اتنی اسانی سے قبول نہیں کریں گے، لہٰذا مودی کے اجیت ڈوال جیسے مکار صفت صلاح کار نے’پلوامہ دھماکہ’کی صلاح اپنے ‘باس’ وزیراعظم مودی کو دی، پلوامہ دھماکے کی ذرا ٹائمنگ ملاحظہ فرمائیں چند روز پیشترپیرس میں ‘ایف اے ٹی ایف’ کا بڑا اہم اجلاس ہوا غالباً14 فروری سے ایک روز قبل پیرس میں ایف اے ٹی ایف کا اجلاس جاری تھا اس موقع پر پہلے سے سوچے سمجھے مذموم مقاصد کو سامنے رکھ کر ‘پلوامہ بم بلاسٹ’ کرانے کے پیچھے یہی اہم سازش تھی کہ’ایف اے ٹی ایف’کی توجہ اس جانب مبذول کرائی جائے تاکہ مقبوضہ کشمیر کی جدوجہد آزادی کو صرِیحاً ‘دہشت گردی’سے جوڑا جاسکے ہی نہیں بلکہ اس سے بھی آگے بڑھ کر بھارت کے حمایتی حلقے ‘ایف اے ٹی ایف’ سے منسلک دنیا کے دیگر اہم ممالک پر اپنا پریشر بڑھاسکیں کہ ‘مقبوضہ کشمیر کی تحریک آزادی اصل میں ایک دہشت گردی ہے؟‘ اْس دہشت گردی کو پاکستان کی ریاست انسپانسرڈ کررہی ہے؟’ایف اے ٹی ایف’جیسے اہم ادارے کی اہمیت وافادیت جاننے والے آگاہ ہیں کہ اس فورم کے ذریعے سے ‘پاکستان کو دہشت گردی کا انسپانسرڈ کرنے والا ملک’قرار دلوانا جتنا آسان بھارت سمجھ رہا تھا وہ اْس کی انتہائی احمقانہ سوچ تھی عالمی دنیا کا ایک اہم حصہ جس میں بقدرجسہ خود بھارت کاآقا ملک سپرپاو امریکا شامل ہے وہ پاکستان جیسے ملک جس ملک نے دہشت گردی کے خلاف عملاً دس پندرہ برس باقاعدہ جنگ لڑی ہے پاکستان اور افغانستان کی سرحدی علاقوں میں امن قائم کیا ہے، امریکا کو افغانستان سے نکلنے میں اْس کی درخواست پر مدد کی ہے، امریکا طالبان مذاکرات کا ماحول بنایا ہے اْسے ‘ایف اے ٹی ایف’ کے فورم ممالک کیسے اور کیونکر بھارتی ناجائز خواہش پر کوئی ایسی رپورٹ دیں جو نئی دہلی چاہے؟ہاں یہاں ہم بات صرف اجیت ڈوال کی کریں گے ’ ایک بار مودی اگر وزیراعظم بن جائیں تو اجیت ڈوال کے علاوہ اُن کی قومی سلامتی کا مشیر اور کون بن سکتا ہے یہ بات اجیت ڈوال بھی خود جانتا ہے وہ تو چاہتا ہے مودی 15۔10 برس مزید دیش کا وزیراعظم رہے میں اْن کا مشیر رہوں گا زندگی کے جو مزے آج ہیں آسانی سے کیسے جانیں دیں، ایک مرکزی وزیر کا عہدہ اور کیا چاہیئے ،ایسی ہی خواہشات کا لامتناہی سلسلہ ضرورتوں کا نقاب اْوڑھے ڈوال کے تعاقب میں ہے خود مسٹرمودی بھی کسی سے کیا کم ہیں دوسروں کو وہ کچھ سمجھتے ہی نہیں ہیں ،بھارت میں ایک خاموش مگر نہایت خطرناک فکر پروان چڑھنے لگی ہے کیونکہ بھارتی سیاست کے میدان میں ‘ہندوتوا’ کی جنونیت کو جس طرح سے پروان چڑھایا جارہا ہے، اڑی حملہ کیس میں بھی بھارتی فوج کا بھارتی آئی بی اور را نے بے حد جانی نقصان پہنچایا بعد کی تحقیقات نے ثابت کردیا کہ اڑی حملہ کیس ‘را’ کا ہی کیا دھرا تھا ،اب حالیہ ‘پلوامہ حملہ ‘دیکھ لیں جس میں 44 ۔42 کے لگ بھگ بھارتی فوج کے جوان مارے گئے بھارتی فوجی حلقوں میں خوف کی ایک لہر دوڑ گئی ہے سبب اب سامنے آیا ہے کہ بھارتی فوج میں خود کشیوں کی تعداد میں کمی بجائے اضافہ کی وجوہ کیا ہوسکتی ہے ایک بات یہاں یہ واضح کردینی ہوگی کہ ایک نہیں بلکہ دوریٹائرڈ بھارتی آرمی چیفس یہ چتونی دے چکے ہیں کہ ‘کشمیر کے مسئلہ کا کوئی فوجی حل نہیں ہے نئی دہلی سرکار کو فی الفور کشمیر کا سیاسی حل ہرصورت نکالنا پڑے گا دوسرا یہ نکتہ اْڑی حملہ کیس اور حالیہ پلوامہ حملہ کیس کے بعد بھارتی فوجی حلقوں میں اْن کی نجی محفلوں میں زیر بحث ہے بھارتی ملٹری انٹیلی جنس بھی چوکنا ہوگئی ہے کہ کنٹرول لائن پر تعینات بھارتی فوجیوں کی اتنی لاشیں نہیں آتیں جتنی یک بیک ایک حملہ میں کبھی اڑی میں اور کبھی پلوامہ میں بھارتی فوجیوں کو اپنے ہی ساتھیوں کی لاشیں اْٹھانی پڑ رہی ہیں اس کا سبب آخر کیا ہے؟بھارتی خفیہ ایجنسی’رایا آئی بی’ کیسے اپنی مشکوک گاڑی کو پلوامہ فوجی کانوائے میں شامل کرنے میں کامیاب ہوگئی اور بھارتی ملٹری انٹیلی جنس دیکھتی کی دیکھتی ہی رہ گئی؟ مگر! جس کے نتیجے میں دیش کے نئے الیکشن کیلئے نیا اور نہایت ہی جذباتی سلوگن بھارت میں زیر بحث ہے کہ ’’بدلہ ‘بدلہ اور مودی ہی چاہیئے‘‘ ۔