- الإعلانات -

پلوامہ واقعہ کے بعد مودی کی دھمکیاں

پلوامہ خود کش حملہ کے بعدجہاں بھارتی حکومت کو کشمیریوں کے ساتھ روا رکھنے جانے والے رویے پر نظر ثانی کی ضرورت ہے وہیں وادی میں موجود اپنی آٹھ لاکھ فوج اور انٹیلی جنس ایجنسیوں کی اصلاح کی بھی ضرورت ہے۔ مگر بھارتی وزیر اعظم نریندرا مودی یہ اہم نکتے نظرانداز کر کے صرف پاکستان کے خلاف ہرزہ سرائی اور دھمکیاں دیتے چلے آرہے ہیں۔ مودی کا دھمکی آمیز لہجے میں کہنا ہے کہہندوستان کی تقسیم کے بعد وجود میں آنے والا ملکدہشت گردوں کی پناہ گاہ اور دہشت گردی کا دوسرا نام بن چکا ہے۔ یہ ملک دیوالیہ ہونے کے دہانے پر ہے اور اس کے منصوبوں کو ہم کسی طور کامیاب نہیں ہونے دیں گے۔سیکیورٹی فورسزکی یہ قربانی رائیگاں نہیں جائے گی اور اس کے قصوروار چاہے جتنا بھی چھپ جائیں، ان کو اس گناہ کی سزا ضرور ملے گی۔بھارتی سرکار نے ہندوستانی فوج کو اجازت دے دی ہے پلوامہ کے قصورواروں کو کیسے، کہاں، کب، کونسی اور کس طرح کی سزا دی جائے گی؟اس کا تعین ہمارے جوان کریں گے۔ بھارت کے وزیر اعظم نریندر مودی کا کہنا ہے کہ پلوامہ کے حملے کے ساتھ بات چیت کا وقت ختم ہو گیا اور اب دہشت گردی کے خلاف ٹھوس قدم اٹھانے کی ضرورت ہے۔ کارروائی سے ہچکچانہ بھی دہشت گردی کو فروغ دینے کے برابر ہے۔جہاں تک پاکستان کے دہشت گرد ملک ہونے کی بات ہے تویہ ساری دنیا جانتی ہے کہ پاکستان خود کئی عشروں سے دہشت گرد ی کا شکار ملک ہے۔ وطن عزیز میں دہشت گردی کے ہر واقعے کے ڈانڈے براہ راست بھارت، را اور افغانستان میں موجود بھارتی قونصل خانوں سے ملتے ہیں۔ اس کے علاوہ بھارت براہ راست کراچی اور بلوچستان میں مداخلت کا مرتکب بھی پایا گیا ہے۔شاید کلبھوشن یادیو بھارتی حاضر سروس جاسوس کے اقبالی بیا ن بھارتی وزیر اعظم مودی نے پڑھے نہیں۔ اسی کلبھوشن کے خلاف مقدمہ عالمی عدالت انصاف میں آج کل چل رہا ہے جس میں بھارت کلبھوشن کی بیگناہی ثابت کرنے میں کلی طورپر ناکام رہا۔ دوسرا طعنہ پاکستان کے دیوالیہ ہونے کا دیا گیا تو اس ضمن میں عرض ہے کہ پاکستانی معیشت اڑان بھر رہی ہے۔ سی پیک اور حالیہ سعودی ولی عہد کا دورہ پاکستان اور 20 ارب ڈالر کے منصوبے انشاء اللہ پاکستان کو کہا ں سے کہاں پہنچادیں گے۔ دوسری طرف بھارت میں کونسامعاشی استحکام ہے۔ بے روزگاربھارتی جوان حکومت کے خلاف احتجاج کررہے ہیں۔ مودی حکومت کے آنے کے بعد مہنگائی میں اضافہ ہوگیا ہے۔ بھارت میں انتہا پسندی حد سے بڑھ گئی ہے۔ اقلیتوں کے ساتھ ساتھ نچلی ذات کے ہندو بھی عدم تحفظ کا شکار ہیں۔بھارتی وزیر اعظم کی دھمکیوں اور جھوٹی الزام تراشیوں پر وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے سیکرٹری جنرل اقوام متحدہ کو فوری اقدام کیلئے خط لکھ دیا ہے جس میں کہا گیا ہے بھارت تحقیقات کے بغیر پلوامہ حملے کا الزام پاکستان پر لگا رہا ہے۔ حملہ آور کشمیری تھا لیکن الزام پاکستان پر دھر دیا۔ بھارت داخلی مقاصد کے تحت پاکستان دشمن بیانات خطے کا ماحول کشیدہ بنارہا ہے۔بھارت نے جہاں پاکستان پر الزامات کی بوچھاڑ کی اور دھمکیاں دیں وہیں اپنے ملک میں پاکستان اور مسلمانوں کے خلاف اقدامات سے اپنے گھٹیا پن کا ثبوت بھی دیا۔پلوامہ کے بعد مودی سرکار نے پاکستان میں تعینات بھارتی ہائی کمشنر کومشاورت کیلئے واپس بلا لیا تھا اور بھارتی ہائی کمشنر بھارت چلے گئے تھے۔ دوسری طرف پاکستان نے بھی بھارت میں تعینات اپنے ہائی کمشنر سہیل محمود کو واپس بلا لیا ہے ترجمان دفتر خارجہ ڈاکٹر محمد فیصل کا کہنا ہے کہ پاکستان نے بھارت میں تعینات اپنے ہائی کمشنر سہیل محمود کو مشاورت کیلئے طلب کیا ہے اور وہ نئی دلی چھوڑ چکے ہیں ۔ بھارتیوں کی طرف سے ان ہی بے سرو پا بیانات میں آل انڈیا سنیما ورکرز کے اعلان کا اضافہ ہوگیا ہے۔بھارتی سینما انڈسٹری سے وابستہ فنکاروں اور دیگر تمام عملے پر مشتمل آل انڈیا سِنے ورکرز ایسوسی ایشن نے پلوامہ حملے کے بعد پاکستانی فنکاروں اور اداکاروں پر مکمل طور پر پابندی لگانے کا اعلان کیا ہے۔ایسوسی ایشن کے مطابق پاکستانی فنکاروں کے ساتھ کام کرنے والوں کے خلاف سخت کاروائی کی جائے گی۔ پلوامہ واقعہ کے بعد انتہا پسند ہندوؤں نے پورے بھارت میں مسلمانوں پر حملے کرکے ان کی املاک اور جان کو نقصان پہنچانا شروع کر دیا ہے۔ جموں میں باقاعدہ طور پر گھروں اور گاڑیوں کو نذرآتش کیا گیا جبکہ بھارت کے شہروں میں گھروں اور راہ جاتے مسلمانوں پر حملے کئے جا رہے ہیں۔ جموں میں شہری بھنڈر مکہ مسجد میں پناہ لئے ہوئے ہیں۔ یہاں قریباً دو ہزار افراد موجود ہیں اور مزید پناہ کے لئے آ رہے ہیں۔ ہندوؤں نے اس مسجد کو چاروں طرف سے گھیرا ہوا ہے اور ان کو پولیس کی معاونت حاصل ہے۔بھارت میں تو پہلے بھی کسی نہ کسی عذر کی بنا پر اقلیتوں پر مظالم ڈھائے جاتے ہیں۔ مسلمان اور عیسائی ان کا نشانہ بنتے ہیں اور دلت بھی روندے جاتے ہیں۔ ہندو شدت پسند تعصب کی انتہا پر ہیں اور اپنا قصد پورا کرنے کو پھرتے ہیں۔ افسوس تو اس بات کا ہے کہ اقوام عالم بھی بیدار نہیں ہو پا رہیں۔ ایسے میں بعض بھارتی دانشوروں نے یہ بھی کہا ہے کہ ایسے مظالم سے بھارت میں ایک اور پاکستان کے بیج بوئے جا رہے ہیں کہ قائداعظم محمد علی جناحؒ نے بھی ایسے تعصب ہی کے باعث علیحدہ وطن کا مطالبہ کیا اور پاکستان حاصل کیا تھا۔

*****