- الإعلانات -

پلوامہ۔۔ بلی کے بھاگوں چھینکا ٹوٹا

فروری کو مقبوضہ کشمیر کے اہم علاقے پلوامہ میں بھارتی فوجی دستے پر علیحدگی پسندوں کے حملے اور بعد ازاں وزیر اعظم نریندر مودی کے اشتعال انگیز آگ اگلتے بیانات نے بھارت بھر میں پاکستان مخالف جذبات کو عروج پر پہنچا دیا ہے۔’’مودی دول‘‘ شیطانی گٹھ جوڑ حریت پسندوں کے اصل مطالبے سے توجہ ہٹا کر اسے پاکستان کی کارستانی قرار دلوانے میں مصروف ہے۔ان کی یہ کوشش ایک ایسے ماحول میں جب چند ماہ بعدبھارت میں الیکشن ہونے جا رہے ہی کسی حد تک کامیاب بھی دکھائی دیتی ہے کہ سارا بھارت سیخ پا اور ہندو انتہا پسند حلقوں میں پاکستان کو سبق سکھانے کا موقع غنیمت سمجھا جا رہا ہے۔بی جے پی کو’’ بلی کے بھاگوں چھینکا ٹوٹا‘‘ کے مصداق یہ ایک سنہری موقع مل گیا ہے کہ اس طرح وہ پاکستان اور اسلام مخالف جذبات کو ہوا دے کر اپنے بکھرتے ووٹ بنک کو اکٹھا رکھ سکتی ہے۔بی جے پی کی یہ چال کانگریس کے لیے بھی لمحہ فکریہ ہونی چاہیے کہ جس نے حالیہ ریاستی انتخابات میں پانچ ریاستوں میں شاندار کامیابی حاصل کی ہے۔اگر لبرل اور معتدل مزاج جماعت ’’مودی دوول‘‘ چال کا شکار ہو گئی تو پھر وہ اپنا سیاسی مستقبل تاریک سمجھے۔یہ بات دیگر بھارتی سیاسی جماعتوں کو بھی سمجھنی چاہیے کہ مسئلہ کشمیر ایک حقیقت اور اقوام متحدہ کی قرار دادوں کے تحت ابھی حل طلب ہے۔ کشمیر کی لوکل سیاسی و مذہبی جماعتیں بھارتی قبضے کو اول روز سے مسترد کرتی آ رہی ہیں۔یہ مسئلہ نہ پاکستان کا پیدا کردہ ہے نہ کسی اور پڑوسی ملک کا بلکہ تقسیمِ ہندکے فارمولے کی خلاف ورزی کی وجہ سے یہ تنازعہ پیدا ہوا اور پھرخود بھارت ہی اسے یواین میں لے گیا تھا۔اس حقیقت سے روگردانی ہی فساد کی اصل جڑ ہے۔ہندوستانی حکمران اگر اپنے گریبان میں جھانکتے تو یقیناًیہ حالات پیدا نہ ہوتے اور مقبوضہ وادی میں بھارت اور سکیورٹی فورسز کی یوں روز چھترول نہ ہوتی۔اپنی ناکامیوں کا ملبہ پاکستان پر ڈالنے والے یہ کیوں بھول جاتے ہیں کہ اصل فتح دلوں کی ہوتی ہے جغرافیہ کی نہیں ۔کشمیری نوجوان، بچے اور بوڑھے اگر بھارت کے قبضے کو قبول کرنے والے ہوتے تو پون صدی کے بعد وہاں جے ہند کے نعرے لگ رہے ہوتے اور ترنگے کی حرمت کی خاطر وہ جان دے رہے ہوتے لیکن آج وہاں سب برعکس ہورہا ہے۔ترنگا پیروں تلے روندا جا رہا ہے جبکہ سبز ہلالی پرچم سینوں پر سجایا جاتا ہے، عقل مندوں کیلئے اتنا ہی کافی ہے۔ جہان تک پلوامہ حملے اور مودی کی دھمکیوں کا تعلق ہے تو پاکستان نے دو ٹوک الفاظ میں اسے مسترد کرتے ہوئے تحقیقات میں مکمل تعاون کی پیشکش کی ہے مگر ساتھ ہی اسے یہ بھی باور کرادیاہے کہ اگر بھارت نے کوئی حرکت کی تو پھر پاکستان سوچے گا نہیں جواب دے گا۔پاکستان کی طرف سے ایسا سخت جواب اس لیے بھی ضروری ہو گیا تھا کہ گزشتہ ایک ہفتے سے مودی حکومت اپنے عزائم کا کھل کر اظہار کر چکی ہے۔14فروری سے اب تک سامنے آنے والے حقائق سے یہ بات کھل کر سامنے آ چکی ہے کہ ماضی کے واقعات کی طرح پلوامہ کا واقعہ بھی ’’مودی دوول‘‘ منظم پلان ہے۔اس پلان کا بھانڈہ اس وقت پھوٹتا ہے جب اتنے بڑے واقعہ کے بارے اس کے ماسٹر مائنڈ جلد بازی میں الزامات کا سلسلہ شروع کرتے ہیں۔حیران کن حد تک جلد بازی کی گئی کہ اگلے پانچ منٹ میں سوشل میڈیا پر حملہ آور کی ویڈیو اور تصویر لوڈ کر دی گئی۔اس سے بھی بڑی ششدر کردینے والی بات یہ سامنے آئی ہے کہ اگلے ہی پانچ منٹ میں اتنی بڑی تعداد میں ایمبولینس جائے وقوعہ پر پہنچ گئیں انہیں کس نے الرٹ رکھا تھا ۔اسی طرح اگلے پانچ منٹ میں یہ بھی معلوم ہو گیا کہ350 کلو بارودی مواد استعمال ہوا۔ تحقیق کیے بغیر اگلے پانچ منٹ پاکستان پر الزام دھر دینے سے واضح ہوتا ہے کہ پلان بنانے والے کچھ زیادہ جلدی میں تھے۔اس کے علاوہ بھی درجنوں سوال مودی سرکار کے شور شرابے کا منہ چڑھا رہے ہیں۔سب سے اہم سوال تو یہ ہے کہ جائے وقوعہ لائن آف کنٹرول سے150 کلو میٹر اندر واقع ہے جبکہ ہر سات کشمیریوں پر ایک بھارتی فوج مسلط ہے پھر بھی ایک اکیس سالہ نوجوان350 کلو بارودی مواد گاڑی پر لیے پھرتارہا اور فوجی کانوائے کی اس گاڑی کو جا ہٹ کیا جس میں صرف عام سکھ سپاہی تھے۔کس نے سکھ سپاہیوں کو ایک بس میں بٹھادیا تھا کوئی تو بتائے۔پاکستان کے سابق وزیر داخلہ رحمان ملک نے بھی اگلے روزبہت سے سوالات اٹھائے کہ واقعہ میں ہلاک ہونے والے 44 سپاہیوں میں سے زیادہ تر غریب سکھ تھے، کس نے ان سب کو ایک گاڑی میں سوار کیا؟ سب سکھ سپاہیوں کو ایک ہی وین میں سوار کرنا کہیں سازش تو نہیں۔کہیں کرتارپور بارڈر کے کھلنے سے بھارتی حکومت پریشان تو نہیں ہے ۔ کیا بھارتی اسٹیٹ ایکٹرز نے کرتارپور بارڈر کو سبوتاژ کرنے کیلئے پلوامہ حملہ تو نہیں کیا۔بھارت کے سنجیدہ حلقوں کو ان سوالوں پر غورکرنا ہوگا۔کرتار پور راہدری کا اعلان عالمی سطح پر بھارت کیلئے جگ ہنسائی کا باعث بن ہوا ہے۔اس اعلان سے سکھوں کی طرف سے پاکستان کیلئے دادِ تحسین کا نہ ختم ہونے والا سلسلہ مودی سرکار کو ہضم نہیں ہورہا ۔ بھارت کا یہ ڈرامہ بابا گرو نانک کی پچاسویں یوم پیدائش کی تقریبات کو سبو تاژ کرنے کی کوشش بھی لگتی ہے۔یہ بہت اہم پوائنٹ ہیں کہ جو سارے کھیل کو طشت از بام کر رہے ہیں۔سیدھی سی بات ہے کہ جس جوان عادل ڈار کا نام لیا جا رہا ہے وہ گزشتہ ڈیڑھ سال سے حراست میں تھا۔جیش محمد ہو یا لشکر طیبہ انکے نعرے وادی میں بچے بچے کو یاد ہیں۔ایسے میں جعلی ویڈیو بنانا بعید از قیاس نہیں ہے۔دوسری طرف عادل ڈار کے والدغلام حسن ڈار نے پاکستان پر الزام لگانے والی بھارتی حکومت کے پروپیگنڈے کو ناکام بنا تے ہوئے کہا کہ ہم بھی ایسی ہی تکلیف سہتے ہیں،عادل ڈار کو 2016 میں قابض فوجیوں نے سکول سے واپسی پر روکا،تشدد کیا، اس سے ناک زمین پر رگڑوائی تھی،شاید اُس کا اُس نے بدلہ لیا۔ عادل کے والدین کے بیان کے بعد تو یہ ثابت ہو گیا ہے کہ نہ وہ پاکستان گیا اور نہ ہی پاکستانی زمین استعمال ہوئی ہے ۔بھارت کے خلاف بغاوت مقامی کشمیری نوجوانوں کا کیا دھرا ہے۔ایسے نوجوان کشمیریوں کے ہیرو ٹھہرتے ہیں۔سوچنے والی بات یہ بھی ہے کہ بھارت میں انتخابات سر پر ہیں، پاکستان کے سفارتی تعلقات پوری دنیا سے بحال ہو رہے ہیں، ایسے میں پلوامہ حملہ جیسے واقعات کس کو فائدہ پہنچا سکتے ہیں۔اس واقعے سے بھارت کو سمجھ لینا چاہیے کہ یہ اسکی اپنی لگائی ہوئی آگ ہے جس میں وہ خودجل رہا ہے اگر وہ اس آگ کو روکنا چاہتاہے تو کشمیریوں کو انکا حق خود ارادیت دے بصورت دیگر بھارتی فوج پر مقبوضہ کشمیر میں حملوں میں کمی کی بجائے شدت آئے گی۔

*****